ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کے لیے ماسٹر پلان کی ضرورت بھی الیکشن کا ایجنڈاہونا چاہئے

Share Article

 

اپریل اور مئی میں ہندوستان میں انتخابات ہونے ہیں۔ یہ الیکشن اس لیے بہت ہم ہے کیونکہ ماحولیات کی تبدیلی ملک کو نکلتی جارہی ہے۔ بہت سارے لوگوں کا ماننا ہے کہ آب و ہوا کی اس حد تک تبدیلی کے پس پردہ ملک میں ماحولیات کی خراب صورت حال ہے۔ اور یہ بات صحیح بھی ہے۔ گرچہ اس میں معیشت اور رائے دہندگان سمیت کئی دیگر عوامل بھی کار فرما ہیں۔ اگر ہندوستان ترقی پذیر ملک سے ترقی یافتہ ملک بننے کی راہ میں گامزن رہنا چاہتا ہے اور اگلی دہائی میں اپنا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے تو ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ان تینوں میدانوں کے مسائل کا فوری حل ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی صرف ہندوستان میں وقوع پذیر ہورہی ہے۔ بلکہ دنیا کے 196عالمی رہنمائوں نے دسمبر2015میں اقوام متحدہ کے 21ویں فریم ورک کنونشن میں پیرس معاہدہ پر دستخط کر کے گلوبل وارمنگ کو ایک بین الاقوامی مسئلہ قرار دیا ہے۔

 

 

گزشتہ سال اکتوبر میں اقوام متحدہ کے ایک داخلی پینل برائے تبدیلی آب وہوا UNIPCCنے متنبہ کیا کہ ماحولیات کے تباہ ہونے کے بارے میں جو کچھ اندازے لگائے جارہے ہیں اس کے کہیں زیادہ تیزی سے وہ تباہ ہوری ہے اور اگر اس حوالے سے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا گیا تو سال 2040تک اس کے خطرناک نتائج بر آمد ہوں گے۔
ماحولیات کی تبدیلی کے حوالے نئی ٹائم لائن دنیا کے لیے بہت خوف ناک ہے اور ہندستان کے لیے تو یہ کچھ زیادہ ہی خوف ناک ہے۔ ورلڈ بینک کا مشاہد ہے کہ ماحولیات کی تبدیلی کے حوالے سے ہندوستان ان ممالک میں سے ہے جن کی حالت زیادہ تشویس ناک ہے۔ اس کا ماننا ہےکہ سال2020تک ہندوستان کے پانی، ہوا، زمین اور جنگلات پر ماحولیات کی تبدیلی کا اثر دنیا میں سب سے زیادہ دیکھنے کو ملے گا۔ یہ تصویر کافی ڈرائونی ہے۔ عوام اور اس کی معیشت پر اس کا اثر مزید خوف ناک ہوگا۔ ورلڈ بینک کی جون 2018میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ماحولیات کی تبدیلی سے ہندوستانی کی جی ڈی پی 2.5فیصد تک گھٹ سکتی ہے اوراس کی وجہ سے سال 2050تک ملک کی نصف آبادی کا معیار زندگی گھٹ جائے گا۔ UNIPCCکی رپورٹ کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں 1.5ڈگری سلیسیس کے اضافہ سے پسماندہ اور کمزور طبقات پر خوارک کی کمی، روزگار کے مواقع کا ختم ہونا اور خراب صحت جیسے منفی اثرات منتج ہوں گے۔

 

ہندوستان میں پسماندہ اور کمزور طبقات ایک بڑی تعداد میںپائے جاتے ہیں۔ یہ طبقات بالخصوص اور عام ہندوستانی بالعموم اس کے بد اثرات کو پہلے سے ہی جھیل رہے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کا اندازہ سر گنگا رام اسپتال کے سرجن ڈاکٹر اروند کمار کے بیان کے لگایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’نوزائیدہ بچے ملک کے کئی شہروں میں اپنی پہلی سانس سے ہی تمباکو نوش قرار پاتےہیں۔‘‘ سیلاب اور سوکھے کی وجہ سے بہت سارے غریب کسانوں کے پاس کھیتی کے قابل زمین بھی نہیں بچی ہے جہاں وہ محنت اور جانفشانی کے ذریعہ اپنی خوراک کا انتظام کرسکیں۔ ہندوستان میں کام کرنے والوں کی نصف تعداد اپنا ذاتی کاروبار کرتی ہے اور 80فیصد سے زیادہ کام غیر رسمی شعبہ میںہوتا ہے جس میںملازمت کبھی بھی ختم ہوسکتی ہے اور اگر ماحولیات کی وجہ سے آمدنی ضائع ہوجائے تو کسی طرح کا کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔

 

 

اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہندوستان کے ماحولیات اور معیشت کا مستقبل ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ کچھ سال پہلے تک ہندوستانی معیشت وسیع پیمانے پر استحکام اور کامیابی کے ساتھ نشو نما پارہی تھی۔ گرچہ معیشت کافی حد تک سست رفتاری کا شکار ہے لیکن اس سے غریبوں پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑا ہے۔
یہ اور اس کے علاوہ دیگر عوامل کی وجہ سے اقوام متحدہ کے حالیہ ورلڈ ہیپی نیس انڈیکس میں 156ممالک میں سے ہندوستان کا مقام 133واں ہے اور یہ مقام سال 2017کے مقابلہ میں 11پوائنٹ کم ہے۔
موجودہ معیشت اور دیہی اور غریب علاقوں جہاں تقریباً دو تہائی ہندوستانی رہتے ہیں ۔ عمومی ناگواری بھی کہیں نہ کہیں جزوی طورپر اس سال کےکشاکش والے انتخابی ماحول کے لیے ذمہ دار ہے۔ سال 2014میں جب وزیراعظم نریندر مودی نے واضح اکثریت سے جیت درج کرائی تھی تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مستقبل میں وہ ناقابل شکست ہوں گے۔ اس سوچ کو اس وقت اور تقویت ملی جب ریاستی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے سال 2014سے 2018کے اوائل تک کل29ریاستوں میں سے 21ریاستوں میں اپنی حکومت بنالی۔ حالانکہ پہلے اس کی حکومت محض 6ریاستوں میں تھی۔ پھر دسمبر2018کے ہونے والے ریاستی انتخابات میں کانگریس نے تین اہم ریاستوں پر جیت درج کرائی۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم کی کرسی کے لیے مقابلہ آرائی جاری ہے لیکن ملک کی ماحولیات، معیشت اور الیکشنی ماحول میں دوررس تبدیلی لانے کے لیے ایک ماسٹر پلان بنانے کی جانب کوئی مسابقت نہیں ہورہی ہے۔
جو بھی الیکشن میںکامیاب ہو اس کی سب سے اہم ترجیحات میں اس کو شامل ہونا چاہئے۔ اس لیے کہ یہ اس وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے لیے فی الفور ماسٹر پلان کی تیاری انتہائی ضروری ہے۔ خوش قسمتی سے یہاں پر ایسے افراد اور آئیڈیا کی کمی نہیں ہے جن سے ماسٹر پلان کی تیاری میں مدد لی جاسکتی ہے۔

 

 

میں مدرجہ ذیل پانچ طرح کےمواقع کو جس کومک کینسی گلوبل انسٹی ٹیوٹ نے 2016میں جاری کیا تھا ہندوستان میں بہتر تبدیلی اور ترقی کے لیے سب سے بہتر پاتاہوں۔

1 تمام افراد کے لیے مناسب اور قابل قبول معیار زندگی
2 پائیدار شہریت کا عمل
3 ہندوستان کے لیے ہندوستان ہی میں صنعت کاری
4 ڈیجیٹلائزیشن کا بھر پور استعمال
5 ہندوستانی عورتوں کے ممکنہ صلاحیتوں کے اظہار کےمواقع دینا اس کے ساتھ ہندوستان کے لیے ایک ایسے مستقبل کی تعمیر جس میں صاف ستھری توانائی سماج کی ہر سطح پر میسر ہو بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر ایسا ممکن ہو سکا تو ہندوستان میں ماحولیات کے مسئلے کو بہت جلد بہتر انداز سے حل کرنے میں مدد ملے گی۔ گرین پیس انڈیا کے ترجمان پجارنی سین کہتےہیں کہ ’’یہ سوال بھی حل طلب ہےکہ ایا ہندوستان میں صحت کے حوالے سے جو ایمرجنسی صورت حال پیدا ہوئی ہے اس کاجنگی پیمانہ پر تصفیہ کرنے کے لیے اور آلودگی پھیلانے والے ایندھنوں اور طریقوں کو ختم کرنے کے لیے قابل قدر سیاسی عزم پایا جاتا ہے۔‘‘
(فرینک ایف اسلام امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک کامیاب ہند نژاد تاجر، مخیر اور مصنف ہیں۔ ان سے ان کے ای میل کے ذریعہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ffislam@verizon.net

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *