وسیم احمد
p-8افریقی ملکوں سے ہندوستان کا رشتہ قدیم ہے ۔افریقی خطہ اس معنی میں زرخیز ہے کہ اس سرزمین میں قدرتی وسائل کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔گیس،آئل،گولڈ ، سلور،کوپر آئرن،یورانیم اور ڈائمنڈ کو اس سرز نے بڑی تعداد میں اپنے اندر محفوظ کر رکھا ہے۔اس ذخیرے سے فائدہ اٹھانے کے لئے یوروپ سے لے کر ایشائی ممالک تک سب ہی افریقہ کا رخ کرتے ہیں۔چونکہ ہندوستان کا رشتہ افریقی ملکوں سے قدیم ہے اور افریقی ممالک ہندوستان کے باصلاحیت افرادسے متعدد میدانوں میں استفادہ کرتے ہوئے آئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ افریقہ کی سیاسی سرگرمی کا اثر ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر پڑتا ہے۔ دونوں میں مضبوط رشتے کی وجہ سے ہی ہندوستان نے افریقہ میں 50 بلین روپے سے زیادہ سرمایا کاری کر رکھی ہے۔ ہندوستان کا یہ ایک اچھا قدم ہے ۔کیونکہ کسی بھی ملک میں سرمایا کاری کرنے اور اس کے قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے سے ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے۔
چونکہ افریقہ سے ہندوستان کا رشتہ قدیم ہے یہی وجہ ہے کہ افریقی ممالک سے رشتوں کو مزید مستحکم کرنے اور ان سے قربت کا اظہار کرنے کے لئے ہندوستان کی مرکزی حکومت اور گاہے بگاہے ریاستی سرکاریں بھی افریقی سفارت کاروں سے ملاقات کرتی رہتی ہیں۔ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اپنے اقتدار کے آخری ہفتے میں افریقی ممالک کے 30 سفیروں اور ہائی کمشنروں سے ملاقات کی تھی ۔ملاقات کے دوران سفیروں کو خطاب کرتے ہوئے کجریوال نے کہا تھا کہ دہلی آپ کا گھر ہے ۔انہوں نے ہندوستان اور بر اعظم افریقہ کے ممالک کے مابین رشتوں کی کثیر جہتی نوعیت کا خاص طور پر تذکرہ کیا تھا۔
کجریوال دہلی کی سیاست میں کامیاب ہو ئے یا نہیں یہ ایک الگ موضوع ہے اور ویسے بھی ان کی حکومت بیساکھی کے سہارے چل رہی تھی ۔با لآخر ایک ایشو کو لے کر انہوں نے استعفیٰ پیش کردیا۔ لیکن افریقی سفراء سے ملاقات کے دوران انہوں نے جو باتیں کیں ، اس سلسلے میں ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ ہماری مرکزی سرکار ہو یا ریاستی سرکار خاص طور پر ہندوستان کی راجدھانی دہلی کے وزیر اعلیٰ، اگر افریقی ممالک کے سفراء اور ہائی کمشنروں سے ملاقات کرتے ہیں تو انہیں ہندوستان اور افریقی ممالک کے باہمی رشتوں کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں برسوں سے چلی آرہی روایت کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اگر چہ کسی ملک کے اندرونی معاملوں میں دخل اندازی کو پسند نہیں کرتا ہے مگر اس ملک کی ایک روایت رہی ہے کہ اگر کسی ملک میں حقوق انسانی کی پامالی ہو رہی ہو تو ہندوستان اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ ہمارے سامنے ملک شام، فلسطین اور پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی مثال موجود ہے۔ شام میں بر سراقتدار اور اپوزیشن میں جنگ بندی پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں ہندوستان نے فوری طور پر ثالثی کے لئے اپنی خدمات پیش کردی تھی۔اسی طرح اسرائیل کے ساتھ مضبوط رشتے ہونے کے باجوود ہندوستان نے فلسطین کی زمین پر اسرائیلی نو آبادکاری کی مخالفت کی ۔ ادھر حال ہی میں بنگلہ دیش میں ہوئے عام انتخابات میں اپوزیشن کے شریک نہ ہونے کو ہندوستان نے افسوسناک قرار دیتے ہوئے کھل کر کہا کہ عوام کے جذبوں کا خیال رکھنا حکمراں پارٹی کی ذمہ داری ہے۔افغانستان میں حقوق انسانی کی بحالی کے لئے ہندوستان نے زبردست سرمایا خرچ کیا اور مالدیپ کے اندر امن برقرار رکھنے کے لئے بھی ہندوستان کے کردار کی ایک لمبی فہرست ہے۔ غرض ہندوستان کسی بھی ملک کے اندرونی معاملوں میں مداخلت سے گریز کرتا ہے مگر جب حقوق انسانی کی بات آتی ہے تو چپ نہیں رہتا ہے۔ یہ ایک اچھی پالیسی ہے اور اس کا خیال مرکزی اور ریاستی دونوں سرکاروں کورکھنا چاہئے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے افریقی سفراء سے جب ملاقات کی تھی تو انہیں ہندوستانی روایت کا لحاظ رکھتے ہوئے ان سفارت کاروں کوسینٹرل افریقہ میں ایک خاص طبقے پر ہورہے مظالم کی طرف بھی دھیان دلانا چاہئے تھا ۔تاکہ یہ سفراء یہ محسوس کرسکیں کہ اگر ان کے ملکوں میں حقوق انسانی کی پاسداری نہیں کی گئی تو ہندوستان جیسا مضبوط اور مخلص دوست ان سے ناراض ہوسکتا ہے۔
گزشتہ کچھ ماہ سے سینٹرل افریقن ریپبلک سے یہ اطلاع موصول ہورہی ہے کہ سینٹرل افریقہ جمہوریہ میں عیسائی فرقہ کے مسلح گروپ چن چن کر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سینٹرل افریقہ جمہوریہ ایک چھوٹا سا ملک ہے جو انگولا،کیمرون، جمہوریہ چاڈ،جمہوریہ کانگو،گینیاور گیبون سے ملا ہوا ہے۔ اس خطے میں ہیرے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اس کی کل آبادی 45 لاکھ ہے جن میں15 فیصد یعنی ساڑھے سات لاکھ مسلمان ہیں۔یہاں مسلمانوں کا ایک ملیشیائی گروپ ’’ سیلیکا ‘‘ ہے ۔یہ گروپ مسلمان اور فرنسو بو زیزی ،جس نے سینٹرل افریقہ پر 2003 سے 2013 تک یعنی 10 سال حکومت کی،کے مخالفین پر مشتمل ہے۔ اس گروپ نے 2012 میں کچھ چھوٹے چھوٹے گروپ سے مل کر وزیر اعظم نکولس تیوگے کی حکومت گرا کر مسلم لیڈر مشیل جوتودیا کی قیادت میں ایک حکومت قائم کردی تھی۔لیکن ان کی حکومت زیادہ دنوں تک نہیں چل سکی۔کیونکہ عیسائی جنگجو گروپ ’’ اینٹی بلاکا‘‘ جو عیسائیوں کا مسلح گروپ ہے ،نے حکومت کے خلاف نہ صرف سازش شروع کی، بلکہ مسلمانوں پر حملے بھی کرنے لگے۔اینٹی بلاکا جنگجو گروپ مسلم علاقوں پر حملے کرتا ہے اور انہیں شہر چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ جنگجو گروپ راجدھانی بانگی کے اطراف میں موجود گائوں پر بھی حملے کرتا ہے اور قتل و غارت کے بعد روپوش ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ملک کے حالات اتنے خراب ہوگئے کہ تقریبا ً10 ماہ میں ہی انہیں استعفیٰ دینا پڑا اور ان کی جگہ کیتھرین سامبا بنزا نام کی خاتون کی نگرانی میں حکومت بنا دی گئی۔ لیکن کیتھرین کی حکومت بننے کے باجود حالات نہیں سدھرے۔ ملک کی اندرونی حالات تیزی سے خراب ہوتے گئے اور ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھنے لگا ۔اس صورت حال پر قابو پانے کے لئے اقوام متحدہ نے فرانس کی فوج سینٹرل افریقہمیں بھیجنے کا ارادہ کیا۔ اقوام متحدہ کے اس فیصلے پر مسلم ملکوں سمیت سینٹرل افریقہ میں رہنے والے مسلمانوں نے بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس کی فوج عیسائی مذہب کی پیروکار ہے ۔ لہٰذا وہ اپنے ہم مذہب کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا قتل عام کرے گی۔ لیکن ان کے خدشات کو نظر انداز کرکے فوج بھیج دیا گیا۔ نتیجہ وہی ہوا جس کا خوف تھا۔فرانس کی فوج نے عیسائی گروپ کو ڈھیل دے دی اور مسلم ملیشیا گروپ سیلیکا پر لگام کسنا شروع کردیا۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ عیسائی جنگجوئوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام ہونے لگا۔مارچ 2013 سے اب تک کئی ہزار افراد مارے جاچکے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے اندر ایک ہزار سے زیادہ شہری قتل کیے گئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ بھاگ کر پڑوسی ملکوںمیں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
اگر دیکھا جائے تو جمہوریہ سینٹرل افریقہ میں مسلمانوں کا قتل عام فرانسی فوج کی وجہ سے ہوا ہے۔ملک کے حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ تشدد کی وجہ سے خوارک کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، ایک اندازے کے مطابق جمہوریہ کی 90 فیصد آبادی دن میں صرف ایک وقت کا کھانا کھا رہی ہے۔خوراک کی ترسیل خطرناک ہوچکی ہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ جس نے فرانسی فوج کو بھیجنے کی اپیل کی تھی اب وہی اس بات کو قبول کر رہا ہے کہ فوج کی کوتاہیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی نسل کشی ہورہی ہے۔ مسلمانوں کے قتل عام کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سینٹرل افریقہ میں فوجی کیمپوں کے قریب بڑی تعداد میں مسلمانوں کی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔امنیسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ تشدد کے باعث لاکھوں مسلمان ہمسایہ ریاستوں کیمرون اور چاڈ کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ ہزاروں مسلمان ملک کے اندر ہی خمیہ بستیوں میں مقیم ہیں۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں جمہوریہ سینٹرل افریقہ سے لاکھوں افراد کی نقل مقانی کو ‘مسلمانوں کا تاریخی انخلا’ قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جمہوریہ سینٹرل افریقہ کی موجودہ صورت حالت نتہائی خطرناک ہوچکی ہے اورپر تشدد کارروائیوں کی وجہ سے ملک مذہبی بنیادوں پر تقسیم کی جانب بڑھ رہا ہے۔ان تمام اعترافات کے باجوود سچ تو یہ ہے کہ نہ تو اقوام متحدہ اور نہ ہی مسلم ممالک اس طرف کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کے موڈ میں نظر آرہے ہیں۔ کاغذی بیان بازی کاسلسلہ جاری ہے اور اسی بیچ فرانس نے سینٹرل افریقہ میں مزید فوج بھیجنے کا اعلان کردیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنے والا وقت مسلمانوں کے لئے مزید آزمائش کا دور ہوگا۔ فرانس کے فوجی قائد ویلب بونٹی نے اگلے چھ ماہ میں راجدھانی بانگی کو یوروپ اتحادی فوج کے تعاون سے مسلح افراد سے پاک صاف کرنے کا اشارہ دیا ہے۔سینٹرل افریقہ میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے ۔انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں مگر ہمارے ملک کے لیڈر افریقہ کے سفارت کاروں سے مل کر ان کی ستائش کر تے ہیں۔ظاہر ہے یہ ہماری تاریخ اور روایت کے خلاف ہے۔ حکومت چاہے مرکز کی ہو یا ریاست کی، اگر افریقی ممالک کے سفیروں سے ملتے ہیں تو انہیں افریقہ میں ہو رہی حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے بارے میں بھی بات کرنی چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here