بنگال میں ووٹنگ کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد

Share Article

 

تیسرے مرحلے کی پولنگ کے دوران مغربی بنگال کی 5 نشستوں پر ہو رہی ووٹنگ کے آغاز ہوتے ہی تشدد کی خبریں آنے لگی تھیں۔ مالدہ شمال، مالدہ جنوب، جنگیپور، مرشدآباد اور بالورگھاٹ لوک سبھا سیٹ پرتیسرے مرحلے کے تحت پولنگ ہوئی ۔ صبح سات بجے سے پولنگ عمل شروع ہوئی اور آدھے گھنٹے بعد ہی پتہ چلا ہے کہ مرشدآباد کے ڈومکل پولنگ مرکز میں گھس کر بوتھ لوٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مارپیٹ ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ مالدہ کے کالیاچک میں کانگریس کے دفتر میں بم سے حملہ کیا گیا ہے۔ اس میں تین کانگریس کارکن زخمی ہوئے ہیں۔

 

 

مرشدآباد کے ڈومکل پولنگ مرکز پر ترنمول کونسلر کے شوہر کو لوگوں نے مارا پیٹا ہے۔ الزام ہے کہ وہ پولنگ کے لئے نکل رہے لوگوں کو دھمکی دے رہا تھے اور ایک پولنگ اسٹیشن کے اندر گھس کر بوتھ کیپچر کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے بعد لوگوں نے اسے پیٹ دیا۔ حالانکہترنمول نے الزام لگایا ہے کہ سی پی ایم اور کانگریس کے لوگوں نے مل کر اس کے ساتھ مارپیٹ کی ہے۔ دونوں پارٹیوں نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لوگوں کو دھمکی دے رہا تھا، تو لوگوں نے اسے مارا پیٹا ہے۔ اس کے علاوہ مالدہ کے کالیاچک میں کانگریس کے دفتر میں بم سے حملہ کیا گیا ہے۔ تین کانگریس کارکن زخمی ہیں۔

 

Image result for Mass violence during voting in Bengal

مرشدآباد کے ایک پولنگ ا سٹیشن پر کانگریس کے پولنگ ایجنٹ کی بھی پٹائی کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ جب اسے مارا پیٹا جا رہا تھا تو مرکزی فورس کے جوان موقع پر موجود تھے، لیکن وہ خاموش تماشائی بنے رہے۔ اس کے علاوہ صبح ووٹنگ شروع ہونے کے 10 منٹ بعد ہی مالدہ کے مورچا میں ایک پولنگ ا سٹیشن کے اندر بوتھ کیپچرنگ کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ میڈیا کے کیمرے میں بوتھ کے اندر ٹوپی پہنے کئی لوگ نظر آ رہے ہیں جو ایک ساتھ ووٹ دے رہے ہیں۔ پریزائڈنگ افسر غیر فعال حالت میں بیٹھ کر سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ اس پولنگ اسٹیشن میں مرکزی فورسز کی تعیناتی نہیں تھی۔ فوٹو سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے اس سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے اور یہاں کے پریزائڈنگ افسر کو معطل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے مرشدآباد اور مالدہ میں مارپیٹ اور بمباری کا واقعہ سے متعلق رپورٹ بھی ضلع انتظامیہ سے مانگی ہے۔

 

Image result for Mass violence during voting in Bengal

اس کے علاوہ منگل کی صبح سات بجے کے قریب مرشدآباد کیہری ہر پاڑا واقع کماری پور گاؤں میں کانگریس رہنماؤں اور ایجنٹ کو نشانہ بناکر گولی چلائی گئی ہ۔ گولی چلانے کا الزام ترنمول کانگریس کے کارکنوں پر لگا ہے۔
پولنگ ا سٹیشن -105 کماری پورپر ہائی اسکول میں منگل کی صبح ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے کانگریس کے ایجنٹ بیٹھنے کے لئے اپنے دوسرے رہنماؤں کے ساتھ جا رہے تھے، تبھی ترنمول کے کچھ لوگوں نے گولی چلا دی۔ حالانکہگولی کسی کو نہیں لگی، لیکن اس سے علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول بن گیا ہ۔ خاص بات یہ ہے کہ جس پولنگ اسٹیشن پر گولی چلی ہے وہاں مرکزی فورسز کی تعیناتی نہیںتھی۔ریاستی پولیس کے مسلح افواج تعینات تھے۔گولی چلنے کے بعد سے لوگ ڈرے سہمے ہوئیتھے اور چاہتے ہوئے بھی ووٹنگ کے لئے گھروں سے باہر نہیں نکل رہے تھے۔
تیسرے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل پیر کی رات جنوبی دیناج پور ضلع کے اٹاہار تھانہ کے تحت چانکلا گھاٹ علاقے میں ہوئی بمبازی کے معاملہ میں دو بی جے پی کارکن زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو مقامی لوگوں کی مدد سے رائے گنج سپر اسپیشلٹاسپتال میں داخل کروایا گیا۔ زخمی بی جے پی کارکن للن چودھری نے بتایا کہ پیر کی رات وہ اپنے گھر واپس آ رہے تھے۔ اسی دوران ان کے ساتھ دیگر بی جے پی کارکن بھی تھے۔ اسی وقت ترنمول کانگریس کے غنڈوں نے ان لوگوں پر بم پھینک دیا۔ وہیں مقامی ترنمول کانگریس قیادت کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی انتخابات کے دن لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے لئے اپنے کارکنوں سے بمبنوارہی تھی۔ اسی وقت دھماکے ہو گیا اور بی جے پی کارکن زخمی ہوئے۔

 

Image result for Mass violence during voting in Bengal

منگل کو ڈومکل واقع میونسپلٹی میں بمبازی ہوئی ہے۔ اس واقعہ میں ترنمول کانگریس کے تین کارکنشدید طور پر زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ ایک اور واقعہ میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
الزام ہے کہ ووٹنگ کے عمل میں خلل ڈالنے کے لئے ترنمول کے ورکر یہاں جمع ہو رہے تھے۔ بعد میں نامعلوم افراد نے بمبازی کی۔ الزام بی جے پی پر لگا ہے، لیکن پارٹی نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے تمام الزامات سے انکار کر دیا ہے۔ ایک اور واقعہ کے تحت اسی ضلع کے مومن پور میں گھر میں گھس کر لوگوں کے ساتھ مارپیٹ کرنے کا الزام ریاست کی حکمران جماعت ترنمول کانگریس پر لگا ہے۔ دعویٰ ہے کہ ترنمول کارکنوں نے بی جے پی حامی ساس بہو کو گھر میں گھس کر مارا پیٹا ہے۔ دونوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس میں مجموعی طور پر پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *