مسجدوں اور بستیوں کو بچانے میں ناکام وقف بورڈ

Share Article

فیروز بخت احمد
ہند پیمانہ پر وقف کی چار لاکھ ایکڑ سے بھی زیادہ زمین ہے اور تین لاکھ سے بھی زیادہ وقف املاک کی کاغذات میں رجسٹری موجود ہے۔ علاوہ ازیں اگر ہم انٹرنیٹ پر جائیں تو پتہ چلے گا کہ ہندوستان میں وقف کی 375 ہزار کروڑ (اصل اعداد و شمار اس سے کم سے کم دس گنا زیادہ ہوںگے) املاک موجود ہے جس کو مختلف انداز سے خورد برد کیا جا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں دہلی کے ایک انگریزی جریدہ نے اپنے ایک مفصل مضمون میں اس بات کا انکشاف کیا کہ وقف کی جائداد جو غرباء یتامیٰ و مساکین کی جائداد ہے، اللہ کی جانب سے دی گئی جائداد ہے، اس کا بڑی بے رحمی سے تیا پانچہ کیا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر اگر ہم ممبئی میں دیکھیں تو جہاں مکیش امبانی کی لاکھوں کروڑ کی 27منزلہ عمارت بن رہی ہے، وہ بھی مہاراشٹر وقف بورڈ کی املاک ہے اور 4,532 مربع میٹر جگہ کو وہاں کے وقف بورڈ نے محض 1.6 لاکھ روپے میں الٹا ماؤنٹ روڑ پر خورد برد کر دیا۔ اسی طرح سے مدراس میں 1997میں تمل ناڈو وقف بورڈ کی مہربانی سے 1,710 مربع فٹ زمین ٹِرپلی کین ہائی اسٹریٹ پر محض تین لاکھ روپے میں فروخت کر دی گئی۔ اسی طرح سے وقف بورڈ کی بربادی کا ایک قصہ بنگلور کا بھی ہے جہاں پر پانچ ایکڑ زمین جو کہ تقریباً 700کروڑ کی لاگت کی وقف املاک ہے، محض 12ہزار روپے ماہانہ پر ونڈسر مینر ہوٹل کو نذر کر دی گئی۔ اسی طرح سے ہریانہ وقف بورڈ نے فرید آباد میں پانچ ایکڑ سے بھی زیادہ زمین کو 500سے 1500روپے ماہانہ پر مضحکہ خیز طور پر کرائے پر دے رکھا ہے۔
رہی بات دہلی کی تو وقف اور گزٹ ریکارڈز کے مطابق اس دار الخلافہ کی تقریباً 80 فیصد زمین وقف کی املاک ہے اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ جہاں پر ہمارے معزز صدر کا مکان ہے، وزیر اعظم کا مکان ہے، منسٹروں و ممبران پارلیمنٹ کے مکانات و دفاتر ہیں، سپریم کورٹ و دہلی ہائی کورٹ ہیں، میڈیا کی دھڑکن بہادر شاہ ظفر روڑ ہے، ہندوستان ٹائمز اخبار کا دفتر ہے، محکمۂ آثار قدیمہ ہے ، نیشنل میوزیم ہے، دہلی کے نامی گرامی اسکول و یونیورسٹیاںاور نہ جانے کیا کیا ہے، یہ سبھی وقف کی املاک ہیں اور نہ جانے کاغذات میں کس طرح ہیر پھیر کیا گیا ہے اور نہ جانے کیسے کیسے بیچارے وقف کو لوٹا گیا ہے، یہ جان کر ہمارے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔
بقول چیئرمین راجیہ سبھا، جناب کے۔رحمان خان ، انہوںنے تقریباً سال بھر پہلے ایک جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی بنا کر وقف املاک کا سروے کیا تو پتہ چلا کہ تقریباً 70فیصد سے بھی زیادہ وقف کی پراپرٹی پر ناجائز قبضے ہیں اور یہ کہ اگر اس املاک کا صحیح طریقہ سے مینجمنٹ کر لیا جائے تو ہندوستانی مسلمانوں کی کایا پلٹ ہو سکتی ہے، لاکھوں بچے انجینئر، ڈاکٹر، پروفیسر بن کر نکل سکتے ہیں۔ وزارت برائے اقلیتی امور کے منسٹر اور نئے وزیر قانون جناب سلمان خورشید افسوس ظاہر کرتے ہیں کہ وقف ایک ایسا شعبہ ہے کہ جہاں ذمہ داری کو اکاؤنٹ ایبل نہیں بنایا گیا ہے یعنی متعین نہیں کیا گیا ہے۔ ہمارا کہنا یہاں پر یہ ہے کہ سلمان صاحب اب تک جو ہوا سو ہوا، آپ سے پہلے انتولے صاحب نے جو غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا، سرد مہری اختیار کی اور ملّی مفادات سے منھ موڑے رکھا، وہ سب تو کل کی باتیں تھیں مگر اب تو آپ ان تمام معاملات کو صحیح پٹری پر لاکر ڈالیں۔ آپ کی وزارت قائم کرنے کا مقصد یہی تھا کہ آپ ملّی معاملات میں دلچسپی لیں۔
وقف کے معاملات جب تک صحیح ڈھرے پر نہیں آئیں گے، جب تک اس کی ذمہ داری ملت کے پڑھے لکھے لوگوں کو نہیں دی جاتی۔ جب تک یہ قانونی شکنجہ میں ہے، کچھ نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین چودھری متین احمد سے وقف جائداد پر قبضوں کے بارے میں ان کی کارکردگی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوںنے ٹکا سا جواب دیا کہ ان کے ہاتھ کٹے ہوئے ہیں اور وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے اور دیگر یہ کہ مسلمانوں کی کوئی بھی مدد نہیں کر سکتا اگر وہ خود اپنی مدد آپ نہ کریں۔ جب ان سے مساجد و مدارس کے انتظام، معزز ائمہ و مؤذن حضرات کی تنخواہوں کے بارے میں پتہ کیا گیا تو انہوںنے کہا کہ محض 500 روپے ماہانہ سے انہوںنے یہ تنخواہیں 5000 تک لا دی ہیں۔ اس کے علاوہ وقف بیواؤں کو بھی کچھ وظیفہ دیتا ہے، جس کے بارے میں پتہ چلا کہ اس میں خواتین کو بڑی ایڑیاں رگڑنی پڑتی ہیں، اوقاف دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور تب جا کر یہ معمولی سی رقم ملتی ہے۔
در اصل وقف بورڈ کا خاکہ اسلام سے قبل عربوں کے قبیلوں نے دیاتھا۔لوگ اپنی جائدا د کا کچھ حصہ بیواؤں، طلاق شدہ عورتوں، یتیموں، معصوموںاور دیگر ضرورت مند لوگوں کے لیے اسے قبیلہ کے سردار کے حوالے کر دیا کرتے تھے۔ یہ ایک غیر تحریر شدہ قانون تھا جس کی وجہ سے مستحقین کو ان کا حق مل جا یا کرتا تھا۔ ان قبیلوں میں اس بات کی شہادت بھی موجود ہے کہ اگر کو ئی سردا رقوم کی اس امانت کو خورد برد کرتا تھا تو بطور سزا اس کے پورے خاندان سے سرداری چھین لی جا تی تھی۔ اسلام نے وقف کو ایک با معنی ومنظم نظام کے طور پر آگے بڑھایا۔ وقف کے اسی اسلامی تصور کی روشنی میں دنیا کے ہر ملک میں اوقاف بنائے گئے۔ حضرت ابو حنیفہ ؒنے اوقاف کے سلسلہ میں کہا تھا کہ ان کی ملکیت زمین میں نہیں اللہ کے پاس ہے ۔
حکومت کی جانب سے جو زیادتی ہے، وہ تو ہے ہی مگر وقف بورڈ کی بے حسی بھی اس بات کی ذمہ دار ہے کہ نہ تو ہماری مساجد کا کوئی تحفظ ہے ، نہ ہی مدارس کا،نہ خانقاہوں کا اور نہ ہی دیگر تعلیمی اداروں اور وقف کی اراضی کا۔ ایک دور تھا کہ ہندوستان کی 77فیصد زمین وقف بورڈ کی ملکیت تھی مگر اسے خود مختلف ادوار میں وقف بورڈ کے افسران و ذمہ داران نے خورد برد کر دیا ۔ اگر ہمارے اوقاف کے افسران ذمہ داری ، ایمانداری اور قوم کا درد دل میں لیے کام کرتے تو آج نہ صرف ہماری مساجد، ہمارے آثار قدیمہ و دیگرادارے محفوظ ہوتے بلکہ تعلیمی اداروں کا ایک جال کل ہند پیمانہ پر پھیلا ہوتا اور ملت تعلیم و تربیت کے میدان میں سر فہرست ہوتی ۔
صحیح معنوں میں جو حالت موجودہ دور کے اوقاف کی ہے، وہی حالت مسلمانان ہند کی ہے ۔ آج اغیار کے درمیان مسلمانوں کی کوئی قدر نہیں۔ اس کے لیے نہ صرف حکومت اور سیاسی جماعتیں ذمہ دار ہیں بلکہ خود مسلمان بھی ذمہ دار ہے۔ آج مسلمانوں میں نہ تو ڈھنگ کی قیادت ہے اور نہ ہی قوم کسی کی قیادت کو تسلیم کرنے کے موڈ میں ہے ۔ مسلمانان ہند کی حالت بنا بادبان والی کشتی جیسی ہے کہ جس کی کوئی سمت نہیںاور جس جانب ہوا اسے بہا لے جاتی ہے ، وہ بہہ جاتی ہے۔ ہندوستانی مسلمان تبھی تو کبھی اس کشتی کی طرح، تو کبھی ریوڑ کی طرح کسی بھی سمت میں بہہ جاتے ہیں۔
آج ان کی حالت یہ ہے کہ شر پسند عناصر کبھی بھی ان کی مساجد، مدارس، خانقاہوں ومکانوں میں گھس جاتے ہیں، ان کے ساتھ ظلم و جبر کرتے ہیں ، ان کی کالونیوں پر بلڈوزر چلا دیے جاتے ہیں،جیسا کہ دہلی میں اوکھلا کے علاقہ میں ہوا ہے۔ نہ جانے کتنے عاطف و ساجد بٹلہ ہاؤس دہلی، کتنے سہراب الدین و اس کی بیوی اور کتنی عشرت جہاںوغیرہ انکاؤنٹر کے نام پر شہید کر دیے جاتے ہیں۔ وہ جان سے ہاتھ دھوتے ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج مسلمانان ہند مکمل طور سے غیر متحد ہیں اور اگر ملک یا شہر کے کسی کونے میں کچھ مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو دوسرے کونے کے زیادہ تر مسلمان تماشائی بنے خاموشی اختیار کرتے ہیں۔
مگر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب جب مسلمان اس قسم کے ظلم کے خلاف متحد ہوئے، تب تب مثبت نتائج سامنے آئے ۔ مثال کے طور پر کچھ عرصہ قبل کلکتہ کے قریب مدنا پور میں ایک نہایت ہی غریب بستی کی سِدّھا مسجد کو اس بہانے منہدم کرنے کی سازش تھی کہ اس کا ایک بڑا حصہ ہائی وے کوچوڑا کرنے کے راستہ میں آرہا تھا، لیکن نہ صرف مغربی بنگال کے مسلمان بلکہ کئی دیگر صوبوں کے مسلمان بھی اس بات کے لیے متحد ہوئے کہ اس مسجد کو منہدم ہونے سے بچایا جائے۔ دراصل یہ مسجد ہائی وے کے راستے میں نہیں آرہی تھی بلکہ کلکتہ روڈ اتھارٹی کے ایک افسر کا مکان ہائی وے کو چوڑا کرنے کی راہ میں روڑا اٹکا رہا تھا۔ اس نے نقشہ کو اس طرح سے بدلا کہ ہائی وے کو، اپنے گھر کو بچاتے ہوئے آگے نکال دیا اور مسجد کو راستہ میں دکھا دیا۔ اس کے لیے داد دینی ہوگی روزنامہ ’’آزاد ہند‘‘، کلکتہ کے مدیر جناب احمد سعید ملیح آبادی و دیگر ذی شعور مسلمانو ں کی کہ انہوں نے دہلی سے بنگال تک کوئی مہرہ ایسا نہ چھوڑا کہ مسجد کو بچانے کے لیے ان کی تحریک میں کوئی کمی رہ جائے۔ سڑکوں پر اترنے سے لے کر مختلف وزراء کے پاس یہ لوگ مختلف وفود کی صورت میںگئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سِدّھا مسجد بچ گئی اور ہائی وے بھی چوڑا ہوگیا۔
بسا اوقات ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر سرکار کی نظر میں مساجد و مدارس و مسلم بستیاں کیوں کھٹکتی ہیں ۔ آئے دن ہم لوگ یہ قصے سنتے چلے آئے ہیں کہ کبھی دہلی میں، کبھی لکھنؤ میں ، بھوپال میں، کبھی حیدرآباد، کبھی ممبئی میں، کبھی پنجاب میں، الغرض ہندوستان میں کہیں بھی مساجد و مدارس کا تقدس محفوظ نہیں۔ شرپسند عناصر تو یہ کرتے ہی رہے ہیں مگر اب کچھ عرصہ سے یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ حکومت اب مساجد کو نوٹس بھی دینے لگی ہے یعنی مکمل قانونی چارہ جوئی بھی کی جارہی ہے کہ کس طریقہ سے مساجد و مدارس کو ہتھیایا جائے ۔   کانگریس یا کسی بھی دیگر پارٹی کی سرکار سے کیا شکایت کی جائے، ہم لوگ خود ہی حد درجہ بے حس اور لاپرواہ ہیں ۔ بقول سراج پراچہ، سابق سکریٹری دہلی وقف بورڈ، ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود ہی اوقاف کی املاک کے امین بن جائیں۔‘‘g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *