مشرق نہ جانا سیّاں۔۔۔نوکری نہیں ہے

Share Article

بمل رائے
وہ دور 30-40سال قبل کا تھا، جب بہار اور یو پی میں مہندر مشرا کا ایک گانا بہت گایا جاتاتھا، رقص یا نوٹنکی میں اس طرح کے گانے چلتے تھے۔ ان کی خوب فرمائش بھی ہوتی تھی۔ اس زمانہ میں کمائی کے لئے مشرق کا کریز تھا اور پردیس میں رہنے والے  مزدور محنت مزدوری کرنے کے لئے بوریا بستر لے کر نکل پڑتے تھے۔ان کا رخ مشرق کی جانب یعنی آسام اور مغربی بنگال کی جانب ہوتا تھا۔ آسام میں خاص طور سے اینٹ بھٹوں اور چائے کے باغات میں بہاری مزدور ہی کام کرتے تھے۔ بھوجپوری گانوں کے ایماسے تو مزدور میانمار کے مورنگ تک پہنچ جاتے تھے۔حالانکہ بیشتر مزدوروں کا پسندیدہ مقام مغربی بنگال ہی رہا ہے۔اس زمانہ میں جب مہذب لوگ جوٹ ملوں میں تانت کے ریشے سے بچنے کے لئے علاقہ سے الگ رہنا ہی پسند کرتے تھے تب ان محنتی پردیسی مزدوروں کو جوٹ ملوں کے مالکان ہاتھوں ہاتھ لیا کرتے تھے۔شمالی بنگال میں تو چائے کے باغات کے لئے سنتھال قبائلیوں کو جھارکھنڈ کے علاقہ سے لے جانے کا سلسلہ انگریزوں نے ہی شروع کر دیا تھا۔ حالانکہ تب بہار اور بنگال کی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔مگر اس سی مزدوروں کے لئے غیر منقسم بہار کی مزدور طاقت کی دلچسپی تو ظاہر ہو ہی گئی۔امریکن انڈین فائونڈیشن کے ڈیولپمنٹ گروپ کے صدر شنکر وینکٹیشورن کے مطابق ہر سال بہار کے تقریباً دو لاکھ لوگ دوسری ریاستوں میں بہتر روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں۔2001کی مردم شماری کے مطابق گزشتہ دس سالوں میں 22 لاکھ بہاری باشندوں نے دوسری ریاستوں کی طرف  ہجرت کی ہے،نتیش کمار کے دور حکومت میں باہر جانے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔بہرحال ان کی نقل مکانی جاری ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ مشرق کی جانب نہیںبلکہ مغرب کی جانب ہے۔
تب سے لے کر اب تک حالات بے حد تبدیل ہو گئے ہیں۔اس زمانہ میں حسینہ رو رو کر خط لکھواتی تھی، ڈاک سے یا دستی خط بھجواتی تھی اور بے صبری سے جواب کی منتظر رہتی تھی۔مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ اب کوئی بھی حسینہ اپنے دلبر سے سیدھے موبائل سے بات کرتی ہے، ایس ایم ایس بھیجتی ہے۔ یہ سب پردیسیوں کا مشکل سے مشکل حالات میں محنت کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اگر بہار میں لالو ، رابڑی کا جنگل راج نہیں ہوتا توگزشتہ دو دہائیوں میں حالات اور بھی بہتر ہو جاتے۔
ان پر دیسیوں کی بنگال کے تئیں دلچسپی بے وجہ یا پڑوسی ریاست ہونے کی وجہ سے ہی نہیں تھی۔ ہندوستان کے آزاد ہونے کے وقت مغربی بنگال ملک کے صنعتی لحاظ سے خوشحال اور ترقی پذیر ریاستوں میں سے ایک تھا۔قدرتی وسائل سے مالامال بنگال میں کوئلا، انجینئرنگ ، جوٹ، چائے اور کپڑا جیسی روایتی صنعتوں نے خوب فروغ پایا۔ برطانوی ہندوستان کی راجدھانی اور بندرگاہ ہونے کے سبب گھریلواور بین الاقوامی تجارت کا بھی یہ بڑا مرکز بنا رہا۔
آزادی  کے بعد بنگال کی صنعتی صحت میں گراوٹ آنے لگی۔مرکزی حکومت کی پالیسیوں کا برا اثر دکھائی دینے لگا۔ خاص طور سے کوئلہ کی فریٹ اکولائزیشن پالیسی سے بنگال مقامی منافع سے محروم ہو گیا۔آزادی کے بعد درگاپور اسٹیل کمپنی کو چھوڑ کرعام آدمی کے لئے کسی بھی صنعت کا قیام عمل میں نہیں آیا۔علاوہ ازیں سدھارتھ شنکر رائے کے وقت نکسلی تشدد نے بنگال کو اور تباہ کر دیا۔ایمر جنسی کی زیادتیوں کے ساتھ مقامی اسباب نے ریاست میں کمیونسٹوں کی آمد و رفت کا راستہ صاف کر دیا۔ بعد ازیں مرکزی اوریاستی حکومت کے درمیان ٹکرائو کے سبب صنعتوں کے فروغ پانے کے راستہ میں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی ہو گئی۔مرکز نے صنعتوں کو لائسنس دینے کے اختیار کو ایک سیاسی ہتھیار کی شکل میں استعمال کیا۔1991کی نرسمہا رائو کی حکومت میں وزیر خزانہ کے طور پر منموہن سنگھ کے ذریعہ کئے گئے فراخدلانہ عمل سے تقریباً دو دہائیوں میں مہاراشٹر، تمل ناڈو اور گجرات کے مقابلہ میں مغربی بنگال کی مجموعی گھریلو پیداوار اور فی کس آمدنی دونوں کی اضافی شرح کم ہو گئی۔
مغربی بنگال میں حکومت ہند کی سیکڑوں کمپنیاں بند پڑی ہیں، جن میں نیشنل جوٹ مل کارپوریشن ، نیشنل ٹیکسٹائل کارپوریشن اور کرشنا سلی کیٹ اینڈ گلاس کمپنی بھی شامل ہے۔گزشتہ سال ایک تقریب میں وزیر اعلیٰ بدھا دیب بھٹا چاریہ نے کہا تھا کہ مرکز اگر ان کی زمین دے دے، تو ان پر نئی صنعتیں لگائی جا سکتی ہیں۔ ظاہر ہے سنگور اور نندی گرام کی دودھ سے جلی حکومت کو بغیر جھنجھٹ والی زمین چاہئے، تاکہ وہ اپنی صنعتکاری کی گاڑی دوڑا سکے۔تاہم اپوزیشن کے اور دوسرے لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ نئے سرے سے زمین ایکوائر کر کے صنعت لگانے سے آسان ہے کہ بند کارخانوں کی ایکوائرنگ کی جائے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کارخانوں کی ایکوائرنگ اور بھی مشکل ہے۔بیشتر کارخانوں کو لے کر عدالتوں میں مقدمے چل رہے ہیں۔مالکان نے پی ایف گریجوٹی اور مزدوروں کے دیگر بقایاجات کی ادائیگی نہیں کی ہے اور فرار ہو گئے ہیں۔کولکاتہ، ہوڑہ، ہگلی اورشمال24پرگنہ میں 66صنعتیں بند پڑی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پورے بنگال میں تقریباً500صنعتیں یا تو بیمار ہیں یا بند پڑی ہیں، جن میں سے 334معاملے صنعتی اور مالی تعمیر نو کے لئے بورڈ میں زیر غور ہیں۔کانگریس کی مزدور یونین انٹک کے مطابق مرکزی حکومت کے ٹائر کارپوریشن آف انڈیا میں2005میں مزدوروں کی تعداد 1200تھی، جو 2007میں گھٹ کر 350پر آ گئی۔1800ملازمین والی اس کی ٹینگرا یونٹ پوری طرح بند ہو گئی ہے۔ انٹک کے مطابق 2005سے 2007تک ریاست میں14ہزار مزدوروں کو اپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا۔نیشنل سیمپل سروے کے مطابق 1993-94سے 1999-2000کے درمیان بنگال میں 0.76فیصد کی شرح سے روزگار میں اضافہ ہوا ،جو پہلے کے مقابلہ 2.44فیصد کی شرح سے  کم تھا۔اس کی وجہ صنعتوں کا بند ہونا اور نئی صنعتوں کانہ کھلنا ہے۔
این ایس ایس کے مطابق 2006میں بنگال میں77لاکھ لوگ روزگار دفتروں میں بے روزگار کے طور پر درج تھے، جن میں سے 4.1چودہ سال سے 24 سال کی عمر کے تھے۔ان میں سے 12فیصدبے روزگار گریجویٹ تھے۔حالانکہ 77لاکھ بے روزگاروں میں زیادہ تعداد ان نوجوانوں کی تھی، جو نوکری میں تھے، مگر بہتر روزگار کی تلاش میں تھے۔ این ایس ایس کے اعداد و شمار کے مطابق2005-06میں مغربی بنگال کی 8کروڑ 30لاکھ کی آبادی میں بے روزگاروں کی حقیقی تعداد 10438000سے 3217000کے درمیان تھی۔ اس طرح آبادی کے تناسب سے 3.8فیصد سے 11.2فیصد کے درمیان لوگ بے روزگار ہیں۔ علاوہ ازیں ہر سال چار سے پانچ لاکھ نئے گریجویٹ بے روزگار لوگ دفتر میں رجسٹرڈ ہو رہے ہیں، جبکہ ہر سال نوکری پانے کی شرح8سے15ہزارکے درمیان ہے۔
2005میں انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں نوبل انعام جیتنے والے وی ایس نیپال نے کہا تھا کہ کمیونزم سے متاثر ہونے سے پہلے تک مغربی بنگال ہندوستان کا اقتصادی اور ذہنی لیڈر تھا۔اس نے کمیونزم کو اپنا کر ایک طرح سے خود کشی کر لی، جیسا کہ 1917میں روس نے کیا تھا۔ نیپال کمیونسٹ مخالف ہیں، مگر تب ان کی رائے کا ایک حصہ ہی سچ ثابت ہوا۔بنگال میں مشتعل مزدور تحریک بایاں بازو کی ہی دین تھی، حالانکہ اس کی بنیاد 1967سے 1970کے درمیان کی نکسلی تحریک اور مشتعل مزدور تحریکوں کی شکل میں پڑ چکی تھی۔اعداد و شمار کے مطابق تو 1993-94کے بعد مغربی بنگال کی ترقیاتی شرح 7.2فیصد رہی اور اس سے آگے صرف کرناٹک 8.1ہی تھا۔یہ بھی سچ ہے کہ اس دوران پورے ہندوستان کی ترقیاتی شرح6.3فیصد درج کی گئی تھی۔1993-94کے بعد مغربی بنگال نے 5.5فیصد کی ترقیاتی شرح حاصل کی، جبکہ ملک کی ترقیاتی شرح 4.3فیصد تھی۔ مگر اس ترقیاتی شرح کو آبادی کے اضافہ نے کم کر دیا اور سب سے بڑی وجہ رہی بنگلہ دیشی دراندازی۔آزادی کے ساتھ ہی سابق پاکستان (بعد میں بنگلہ دیش) سے تقریباًپر 2کروڑ لوگ ہندوستان میں آئے، جن میں سے اچھی خاصی تعداد میں لوگوں نے مغربی بنگال میں سکونت اختیار کی۔1971تک بڑے پیمانہ پر پناہ گزینوں اور دراندازوں کی آمد ورفت جاری رہی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1997میں بنگال میں فی ایکوائرکلومیٹر علاقہ کی کثافت 906ہو گئی،جبکہ فی ایکوائر کلومیٹر علاقہ میں قومی کثافت کی اوسط 323تھی۔ مغربی بنگال ہندوستان کے رقبہ کے2.7حصے میں ہے، جبکہ یہ کل آبادی کا 7.8فیصد وزن ڈھو رہا ہے۔1984سے سن 2000کے درمیان مغربی بنگال میں صنعتی سرمایہ کاری میں صرف چار گنا اضافہ ہوا۔ جبکہ باقی ہندوستان میں یہ اضافہ سات گنا کی شرح سے ہوا۔اس کے ساتھ ہی بنگال میں صنعتوں کی ویلیو ایڈیشن میں بھی کمی درج کی گئی اور یہ 1984-85کے 8.8فیصد سے گھٹ کر 2000-01میں4.0فیصد ہو گی۔
جہاں تک چھوٹی صنعتوںکا سوال ہے تو اس شعبہ میں بھی گزشتہ تین دہائیوں سے پسماندگی آئی ہوئی ہے۔ کولکاتہ کے بیرک پور میں بی ٹی روڈ پر ہی 218فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔ بنگال میں ہڑتال اور لاک آئوٹ کے سبب بند کارخانوں کی فہرست کے لئے باکس کے اعداد و شمار دیکھ سکتے ہیں۔
صنعتکاروں کے ذریعہ مبینہ طور پر استحصال کئے جانے کے خلاف 1993میں وکٹوریہ جوٹ مل اور 2001میں بارانگر جوٹ مل اور گنگیج جوٹ مل میں شدید مزدور تحریکیں ہوئیں۔اس کے بعد کنوڑیا جوٹ میں تو مزدوروں نے ٹریڈ یونینوں کے خلاف ہی بغاوت کر دی ۔
اس کے ساتھ ہندوستان لیور،گارڈن رچ شپ بلڈرس، بوریا، کاٹن اور ہندوستان موٹرس میں بھی مزدوروں کی بدامنی سے کافی وقت تک پیداوار متاثر رہی۔برلائوں کی ہند موٹرس میںبھی ٹریڈ یونینوں کی داداگیری کے خلاف الگ مزدور یونین قائم ہوئی۔ اس کے ساتھ ڈنلپ کے بندہونے سے بڑی تعداد میں ہندی بھاشیوںکو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا یا خود رٹائرمنٹ لینا پڑا۔ وقت کی ضرورت کو بھاپنتی ہوئے اس وقت کے وزیر اعلیٰ جیوتی باسو نے 1993میں ریاست کی نئی صنعتی پالیسی کا اعلان کیا اور اس عمل میں کمیونسٹ اصولوں سے  بھی سمجھوتہ کیا گیا۔ بدھ دیب کے کرسی سنبھالنے تک صنعتکاری کی گاڑی تیز رفتار سے دوڑتی رہی، مگر کاغذ کے نقشے جب زمین پر اترنے لگے تو ممتا بنرجی کی شکل میں اوتار دکھائی دیا، نینو کی وداعی ہو گئی اور اس طرح سارا گڑ گوبر ہو گیا۔صنعتوں کو فروغ دینے کے لئے جس سیاسی استحکام کی ضرورت ہوتی ہے، اس کا بنگال میں کبھی بھی فقدان نہیں رہا۔بائیں بازو کے اقتدار میں علاقہ پرستی کو کبھی بڑھنے کا موقع نہیں ملا۔ظاہر ہے روزگار کی کمی نے پردیسیوںکو مشرق سے منھ موڑنے پر مجبور کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حسینہ اب گاتی ہے: مشرق نہ جانا سیاّں ، نوکری نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *