یوم شہادت : ہنستے ہنستے پھانسی کے پھندے کو چومنے سے پہلے بھگت سنگھ نے اپنے آخری خط میں کیا لکھا تھا

Share Article

bhagat-singh

نئی دہلی: ملک اور دنیا کی تاریخ میں یوں تو کئی اہم واقعات 23 مارچ کی تاریخ کے نام درج ہیں، لیکن بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی راج گرو اور سکھ دیو کو پھانسی دیا جانا ہندوستان کی تاریخ میں درج سب سے بڑے اور اہم واقعات میں سے ایک ہے ۔سال 1931 میں ہندوستانی تحریک آزادی کے دوران انقلابی بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو 23 مارچ کو ہی پھانسی دی گئی تھی۔ 23 مارچ کو یوم شہید کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

بھگت سنگھ (Bhagat Singh) آزادی کی تحریک کے ایسے سپاہی رہے ہیں، جن کاذکر آتے ہی جسم میں جوش دوڑ جاتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔خود کو محب وطن کے جذبے سے بھرنے کے لئے ان کا نام لینا ہی کافی ہے۔ بھگت سنگھ نے انگریزوں سے لوہا لیا اور اسمبلی میں بم پھینک کر انہیں سوتی نیند سے جگانے کا کام کیا تھا، اسمبلی میں بم پھینک کے بعد وہ بھاگے نہیں اور جس کے نتیجے میں انہیں پھانسی کی سزا ہو گئی۔

bhagat-singh

جس دن بھگت سنگھ اور باقی شہیدوں کو پھانسی دی گئی تھی، اس دن لاہور جیل میں بند تمام قیدیوں کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ یہاں تک کہ جیل کے عملے اور افسران کے بھی ہاتھ کانپ گئے تھے دھرتی(زمین) کے اس لال کے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈالنے میں۔

جیل کے قوانین کے مطابق پھانسی سے پہلے تینوں محب وطن کو نہلایا گیا تھا۔پھر انہیں نئے کپڑے پہناکر جلاد کے سامنے کیا گیا۔ جس نے ان کا وزن لیا۔ پھانسی دیے جانے سے پہلے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو سے ان کی آخری خواہش پوچھی گئی۔ تینوں نے ایک آواز میں کہا کہ ہم آپس میں گلے ملنا چاہتے ہیں۔
bhagat-singh-shaheed

بھگت سنگھ نے پھانسی سے پہلے اپنے آخری خط میں لکھا، ’ساتھیوں نیچرل ہے جینے کی خواہش مجھے بھی ہونی چاہئے۔ میں اسے چھپانا نہیں چاہتا ہوں، لیکن میں ایک شرط پر زندہ رہ سکتا ہوں کہ قید ہوکر یا پابند ہوکر نہ رہوں۔ میرا نام ہندوستانی انقلاب کی نشان بن چکا انقلابی جماعتوں کے آدرشوں نے مجھے بہت اونچا اٹھا دیا ہے، اتنا اونچا کہ زندہ رہنے کی صورت میں میں اس سے بلند نہیں ہو سکتا تھا۔ میرے ہنستے ہنستے پھانسی پر چڑھنے کی صورت میں ملک کی ماؤں اپنے بچوں کے بھگت سنگھ کی توقع کریں گی۔ اس آزادی کے لئے قربانی دینے والوں کی تعداد اتنی بڑھ جائے گی کہ انقلاب کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔ آج کل مجھے خود پر بہت فخر ہے۔ اب تو بڑی بے تابی سے آخری امتحان کا انتظار ہے۔ خواہش ہے کہ یہ اور قریب ہو جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *