مرنے کے لئے جی رہے ہیں لوگ

Share Article

سنتوش بھارتیہ
پھرچھتیس گڑ ھ میں سی آر پی ایف کے جوان مارے گئے۔ دہلی میں بیٹھے ٹی وی چینل اور کچھ اخبار منمنائے کہ حد ہو گئی، اب مائونوازوں پر کارروائی ہونی چاہئے۔ نہیں بولے تو چدمبرم۔ بی جے پی کے جاوڑیکر کا پہلی مرتبہ سمجھداری والا رد عمل سامنے آیا۔ انھوں نے کہا کہ ترقی کے بغیر نکسلی مسئلہ حل نہیں ہونے والا۔
ایسا لگتا ہے کہ وزیر داخلہ پی چدمبرم کو حقیقت کا کچھ احساس ہواہے۔ اس مسئلہ کے کئی پہلو ہیں۔ پہلا تو یہی ہے کہ جہاں مائونواز ہیں وہاں ترقیاتی اسکیمیں نہیں چلائی جا رہی ہیں، جو چل رہی ہیں وہ کاغذوں میں چل رہی ہیں۔ ان علاقوں کے افسر، لیڈر نما ٹھیکیدار دن دونی اور رات چوگنی کی رفتار سے پھل پھول رہے ہیں۔ نہ سڑکیں ہیں اور نہ ہی روزی روٹی کمانے کے مواقع ہیں۔ وہاں رہنے والے صرف مرنے کے لئے جی رہے ہیں۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ جہاں نکسلی  نہیں ہیں، وہاں کیسی ترقیاتی اسکیمیں چل رہی ہیں۔
مگر ابھی تو آوازملک کے 260اضلاع سے اٹھ رہی ہے۔ یہاں رہنے والے عوام کے ایک بڑے حصہ کا جمہوریت سے بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ان کی نظر میں جمہوریت اور اسے چلانے والے لوٹ کھسوٹ کے پہریدار ہیں۔ میں گزشتہ دنوں جے پور گیا، جہاں ایک اجلاس تھا۔اس میں جے پور کے سینئر صحافی، مصنف اورڈرامہ آرٹسٹ شامل تھے۔سبھی فکرمند تھے کہ ملک میں نہ ترقی ہو رہی ہے اور نہ اس کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ ان کو فکر تھی کہ مہنگائی ، بدعنوانی اور لوٹ جیسے زندگی کا حصہ بن گئی ہے اور شہری کوئی ردعمل نہیں دے رہا ہے۔میں نے ان سے کہا کہ یہ جزوی حقیقت ہے۔ شہروں میں اور گائوں میں رہنے والا مہذب سماج کے نام سے جانا جانے والا متوسط طبقہ لازمی ردعمل نہیں دے رہا  ہے مگر ملک کے 260اضلاع میں رہنے والے لوگ، جو اس مبینہ مہذب سماج کے نہیں ہیں، ردعمل ضرور دے رہے ہیں اور پر تشدد ردعمل دے رہے ہیں۔ پر تشدد ردعمل اس لئے کیونکہ حکومت اور سماج نے عدم تشدد کی آواز سننی بند کر دی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے مسائل پر آواز بلند کرنا تو دور، بات تک کرنا بند کر دی ہے۔ اپوزیشن پارٹیاںہونے کا دعویٰ کرنے والی اپوزیشن پارٹیاں ہونے پر شرمارہی ہیں۔ مہذب سماج سے وابستہ لوگ کبھی کبھی لکھ ، پڑھ اور بول لیتے ہیں مگر ان کی آواز حواس باختہ حکومت  اور سماج کو سنائی نہیں دیتی۔ تاہم وہ لوگ جومہذب سماج کا حصہ نہیں ہیں، جن کے لئے ترقی کی بات کبھی ہوتی ہی نہیں، جنہیں سڑک پر چلنے کے قابل نہیں مانا جاتا، یہاں تک کہ اگر وہ دو پیسے کمانے کے لئے، جس سے ان کا کنبہ ایک وقت کی روٹی کھا تاہے جنگل سے لکڑیاں لاتے ہیں تو انہیں جیل بھیج دیا جاتا ہے، ایسے لوگ آخر کریں تو کیا کریں۔ یہ لوگ دو لکڑی کاٹنے کے الزام میں جیل جاتے ہیں، جبکہ اسی علاقہ میں جنگل کی ناجائز کٹائی کرنے والے افسران اور لیڈران سے ساز باز کر کے کروڑوں اربوں روپے کما رہے ہیں۔ یہ وہ کھاد ہے جس سے مائو نواز جیسا نظریہ جنم لیتا ہے۔مگر حکومت صرف یہیں ناکام نہیں ہے۔ وہ اپنی فورس کو ، نہ صحیح ہتھیاردے پا رہی ہے اور نہ صحیح ٹریننگ۔ سی آر پی ایف کو بنا ٹریننگ، بنا جنرل ٹریننگ کے جنگل میں بھیج دیا جاتا ہے اور جب وہ اپنی غلطی سے اپنی جان گنوا دیتے ہیں تو ہمیں دکھ ہوتا ہے۔ کتنے پولس کے سپاہی ہیں جنہیں ٹریننگ کی یا فائرنگ کی 6مہینے میں بھی مشق کرائی جاتی ہے۔نہ ہماری پولس کے پاس کوئی مقصد ہے اور نہ عام آدمی کا ساتھ دینے کا جذبہ۔حکومت نے ان کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ سی آر پی ایف اور پولس کے سپاہی جب بیس میں بھی رہتے ہیں تب بھی ان کے کھانے اور معمول کے کاموں سے نمٹنے کی کتنی سہولیات میسر ہیں یہ رپورٹ کا موضوع ہے۔ انہیں ذہنی تنائو سے نجات دلانے کے لئے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
چھتیس گڑھ میں سی آر پی ایف کے جوانوں کی مڈ بھیڑمیں موت ہو نے کے بعد چھتیس گڑھ کے ڈی جی پی وشورنجن نے بیان دیا ہے کہ سی آر پی ایف کو چلنا تو سکھایا نہیں جا سکتا۔ مقامی پولس ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہے بلکہ کئی جگہوں پر تو اس کا سپلائی سسٹم ہی مائونوازوں کو بھی رسد اور ہتھیار دیتا ہے۔ یہ کیسی حکومت اور پولس ہے جو مائونوازوں کو ملنے والے ہتھیاروں کی سپلائی لائن کا پتہ نہیں لگا پا رہی ہے۔ الٹے بے وقوفی سے بھری کہانیاں چینلوں پر لائی جا رہی ہیں، مثلاً چینی ہتھیار اور گولہ بارود ہیں اور لٹے کے لوگ ٹریننگ دے رہے ہیں۔ آپ کے پاس انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ ہے، پولس ہے، خفیہ سسٹم کے کئی حصے ہیں، سیٹلائٹ ہے، نئے اسرائیل کے جاسوسی سیٹلائٹ ہیں، تب کیوں آپ پتہ نہیں لگا پا رہے ہیں۔ اگر نہیں لگا پا رہے ہیں تو حکومت میں کیوں ہیں؟ ان باتوں سے ایک بات اور جھلکتی ہے کہ مائونوازوں کی ٹریننگ پولس کی یا سی آر پی ایف کی ٹریننگ سے اچھی ہے۔ یہ دلیل احمقانہ ہے، کیونکہ مائونوازوں کے پاس کوئی ٹریننگ ہے ہی نہیں۔ ان کے پاس ہے تو صرف جذبہ۔جب مرنا ہی ہے تو مار کر مرو۔حکومت کی سب سے بڑی غلطی تو یہ ہے کہ وہ صحیح رپورٹ کرنے والوں کو ان علاقوں میں جانے نہیں دے رہی ہے۔اس سے نہ عوام کو کوئی جانکاری حاصل ہو رہی ہے اور نہ حکومت کو ۔
ان لوگوں کے لئے ہم نے کوئی متبادل نہیں چھوڑا ہے۔ انہیں متبادل دیجئے اور پھر دیکھئے ، یہ اپنے ہی ملک کے لوگ ملک کے دوست کیسے بنتے ہیں۔ ان کے دل سے یہ جذبہ نکالنا ہوگا کہ جس ملک میں یہ رہتے ہیں وہ ملک ہی ان کا دشمن ہے۔ حکومت ،سیاسی جماعتوں اور میڈیا کو بیٹھ کر فوری سوچنا ہوگا کہ موثر طریقہ سے منصوبوں پر عمل درآمد ہواور جذباتی طور سے انہیں ساتھ لانے کی کوشش ہو۔
حکومت اور سیاسی جماعتیں اپنی بے وقوفی اور کاہلی سے ملک میں مہذب سماج کہے جانے والے طبقہ میں بھی ان مائونوازوں کا حامی طبقہ تیار کرنے میں مدد کر رہی ہیں۔شاید ابھی ان کے پاس سوچنے کے لئے وقت نہیں ہے۔ انہیں پیٹ کی بھوک کی بڑھتی ہوئی یہ آگ دکھائی نہیں دے رہی ہے۔انہیں اس کی کوئی فکر نہیں ہو رہی ہے کہ سیاسی نظام خراب ہو رہا ہے ۔ یہ ڈر نہیں رہے کہ ان کی بے وقوفی کی صلاح کو فوج ماننے سے انکار کر رہی ہے۔
چھتیس گڑھ، اڑیسہ ، بنگال اور آندھرا پردیش چھوٹی ریاستیں نہیں ہیں اور ان میں بڑھتے نکسل مسائل بھی چھوٹے نہیں ہیں۔ بیٹھئے اور سوچئے ، آج نہیں بیٹھے تو نہ کل بیٹھنے کا وقت ہوگا اور نہ سوچنے کا موقع۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *