مرکزی اسکیموں سے محروم مسلم طلباء

Share Article

وسیم راشد 
p-3تعلیمی پسماندگی کا گراف دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے۔ بڑے بڑے دعوے، جو مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لیے کیے جارہے ہیں، وہ سب بے بنیاد ہیں۔ زمینی سطح پر مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا جارہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ نہ تو مسلم بچوں کو تعلیمی قرض مل رہا ہے نہ ہی مڈل، سکنڈری اور سینئر سکنڈری سطح پر جو اسکالر شپ ملنی چاہیے، وہ مل پا رہی ہیں اور یہ حال پورے ہندستان کا ہے۔ حالت یہ ہے کہ اگر ہم 1983 سے 2004 تک کے 11 ریاستوں کے تقریباً ً246,398 بچوں کے اعدا دو شمار پر نظر ڈالیں، تو دوسرے مذاہب کے مقابلے میں ان بچوں کا اسکولوں میں داخلہ بہت ہی کم ہے اور اگر ہم 2004-10 کی بات کریں، تو یہ فاصلہ بڑھتا ہی گیاہے۔ مسلم اکثریتی ریاستوں، جیسے یو پی، مدھیہ پردیش، بہار وغیرہ میں تو یہ اور بھی زیادہ ہے۔ اسکول میں داخلہ کے علاوہ اگر پاس کرنے والے طلباء کا جائزہ لیں، تو فاصلہ اور بھی زیادہ ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی بچے کا مستقبل اس کے اسکول مکمل کرنے اور آگے کی پڑھائی کرنے سے ہی عبارت ہے۔
دہلی کی اگر بات کریں، تو پسماندہ طبقات کے محکمہ فلاح و بہبود کی وزارت دیکھ رہے راجکمار چوہان کے عہد میں اقلیتوں کی تعلیم و ترقی کے لیے کچھ خاص کام نہیں ہوا ہے۔ ستم یہ ہے کہ جو اسکیمیں مائنارٹی کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے بنائی گئی تھیں، انہیں بھی ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے مرکزی حکومت کے ذریعہ چلنے والے قومی اقلیتی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کی ایجوکیشن لون اسکیم کو کبھی لاگو ہی نہیں کیا گیا۔ حال ہی میں شائع ایک تازہ رپورٹ کے مطابق دہلی میں سال 2003-04 سے لے کر 2012-13 تک ایجوکیشن لون اسکیم کا فائدہ ہی نہیں مل پایا ہے۔ اسی وجہ سے مسلم طلباء کو لے کر سچر کمیٹی اپنی سفارشات پیش کرتی رہے، جب تک رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ اور سچر کمیٹی رپورٹ کو لاگو نہیں کیا جاتا، تب تک ویسے بھی مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی حالت سدھرنے کے امکانات کم ہی ہیں۔ ایسے میں جب سرکاری اسکیموں کا فائدہ بھی نہیں مل پائے تو آخر مسلم بچوں کا مستقبل کیسے بہتر ہو؟ کیسے ان کا تعلیمی اور اقتصادی گراف بڑھے؟
اگر ایجوکیشن لون کا فائدہ مسلم بچوں کو پوری طرح مل جاتا، تو یقینا آج سرکاری نوکریوں اور ٓئی اے ایس اور پولس و دیگر شعبوں میں مسلم بچوں کی نمائندگی بہتر ہوتی۔ مرکزی حکومت کی ایک خاص اسکیم مائکرو فائنانس اسکیم کا بھی یہی حشر ہوا۔ یہ اسکیم سیلف ہیلپ گروپ کے ممبران کے لیے تھی اور اسے قومی مالیاتی کارپوریشن نے 1998 میں لاگو کیا تھا، جو کہ گرامین بینک آف بنگلہ دیش اور راشٹریہ مہیلا کوش بنگلہ دیش، جومحکمہ بہبودگی اطفال و خواتین ہندوستان کی طرز پر بنائی گئی تھی۔ یہ ایک غیر رسمی لون اسکیم تھی۔ اس اسکیم کے تحت 2500 سے 50 ہزار تک کا لون دیا جاتا تھا اور یہ NGOs کے تحت ایک فیصد سود پر تھا، جو بعد میں 5 فیصد کردیا گیا تھا۔ اس کی ادائیگی کی مدت 36 ماہ تھی۔ یہ مائکرو فائنانس اسکیم گائوں دیہاتوں اور چھوٹے سے چھوٹے قصبے، دیہاتوں تک پہنچنی تھی، لیکن اس اسکیم کا حشر بھی دوسری اسکیموں کی طرح ہوا۔ پورے ہندوستان میں جو بھی حشر ان اسکیموں کا ہوا ہے، دہلی میں اقلیتوں کو ان اسکیموں سے محروم کرنے کی پوری ذمہ داری اقلیتی بہبود کے وزیر راجکمار چوہان کو جاتی ہے۔ وہ برسوں سے وزارت برائے ترقیات درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیت کا قلمدان سنبھال رہے ہیں۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے 1994 میں قومی اقلیتی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا تھا، جس نے متعدد اسکیمیں بنائیں، جن میں سے ایک ٹرم لون اسکیم بھی ہے، جو کسی بھی طالب علم کو انفرادی طور پرلون مہیا کراتی ہے۔ اس میں 5 لاکھ کے پروجیکٹ تک پر لون دیا جاتاہے اور قومی مالیاتی کارپوریشن 85 فیصد کسی بھی پروجیکٹ کو قرض دیتی ہے، لیکن اس میں زراعت، میکینیکل، چھوٹے چھوٹے بزنس ، ٹرانسپورٹ اور سروسز سینٹر شامل ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ ٹرم لون کتنے لوگوں کو دیا گیا، کیونکہ نہ تو اس لون کے بارے میں کوئی معلومات ہے، نہ ہی اس کا فائدہ اقلیتوں کو مل پایا ہے۔ تعلیمی لون اسکیم کا مقصد بھی طالب علم کو لون دے کر اس کو نوکری پیشہ کورسیز میں داخلہ دلانا اور بہتر مستقبل دینا ہے۔ اس ایجوکیشن لون کا مقصد ایسے طلباء کو لون دینا ہے، جو ٹیکنیکل اور پروفیشنل ایجوکیشن حاصل کرنا چاہتے ہوں۔ اس اسکیم کے تحت الگ الگ زمروں کے لیے تقریبا ً 10 لاکھ تک کا لون دیا جاتا ہے۔ یہ لون ایس سی اے کو ایک فیصد کی شرح سود پر دیا جاتاہے، تاکہ ضرورت مند اقلیتی طلباء اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

پوسٹ میٹرک اسکالر شپ میں سرکاری یا پرائیویٹ اسکول، کالج، یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو دی جانی تھی، جن کے والدین کی سالانہ آمدنی 2 لاکھ روپے سے کم ہو۔ ان میں تکنیکی کورس اور پیشہ وارانہ کورس کی تربیت بھی شامل ہے۔ اس میں 30 فیصد اسکالر شپ لڑکیوں کے لیے مختص کی گئی تھی۔ یہ اسکالر شپ بھی پورے کورس کے لیے دی جانی تھی۔ اس کے لیے طالب علم کو سرٹیفکٹ پیش کرنا تھا کہ اس نے گزشتہ امتحان میں کم سے کم 50 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس اسکالرشپ کے بارے میں بھی کسی اقلیتی طبقے کو علم نہیں ہے۔ نہ تو ان اسکالر شپ کے بارے میں صحیح تشہیر کی جاتی ہے، نہ ہی اخباروں اور دوسرے ذرائع سے ان کی معلومات مل پاتی ہیں۔ مہاراشٹر حکومت نے بھی او بی سی کے ایسے طلباء کو اسکالر شپ دینے کی راہ ہموار کی تھی، جو 2011-12-13 اور دسویں کے امتحان کے فارم میں انہوں نے او بی سی کالم کو پُر نہیں کیا تھا، مگر ان کا نام عام کیٹگری میں شامل تھا۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس اسکیم کے بارے میں مہاراشٹر کے طلباء کو بہت فائدہ نہیں مل پایا، کیونکہ اس کی تشہیر نہیں ہوپائی۔

ایجوکیشن لون اسکیم پورے ملک میں اگر صحیح طرح پر لاگو ہوجاتی، تو آج مسلم طلباء کی حالت ہی دوسری ہوتی۔ پورے ملک کے ساتھ اگر دہلی میں ہی اس کو صحیح طرح سے لاگو کردیا جاتا تو یہ بے حد کارگر ثابت ہوتی۔ حالانکہ اقلیتی کمیشن کی ان اسکیموں کو لاگو کرنے کے لیے کئی چینلز بنائے گئے ہیں۔ ان میں ایس سی اے، یعنی اسٹیٹ چینلائز ایجنسیز بہت اہم ہیں اور اسی کے ذریعہ مرکزی حکومت کی اسکیمیں براہ راست لاگو کی جاتی ہیں، مگر ایس سی اے کی جانب سے ان اسکیموں کو نافذ کرنے میں بہت کوتاہی ہوئی ہے۔ یوں سمجھئے کہ یہ اسکیمیں نہ تو اشتہار کے ذریعے لوگوں تک پہنچائی گئی ہیں اور نہ ہی ان کو نافذ کیا گیا ہے ۔
ہم بار بار مسلمانوں کی حالت کو دلتوں سے بھی بد تر تو بتا رہے ہیں۔ سچر کمیٹی بھی اپنی سفارشات کے ذریعہ یہ باور کرا رہی ہے کہ یہاں مسلمان تعلیمی لحاظ سے بہت پچھڑے ہوئے ہیں، مگر ہم یہاں یہ سوال کرتے ہیں کہ صدر جمہوریہ ہند نے 25 فروری، 2005 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ حکومت اقلیتوں کی بہبود کے لیے 15 نکاتی پروگرام کی تشکیل کرے گی، مگر ان کے بارے میں عام لوگوں کو کوئی علم نہیں ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ وزیر اعظم نے 2005 کے یوم آزادی کے موقع پر اپنے خطبہ میں بھی اعلان کیا تھا کہ اقلیتوں کے پندرہ نکاتی پروگرام میں ترمیم اور اس کی تشکیل نو کریں گے۔ اسی وجہ سے اس پروگرام کا نام اقلیتوں کی بہبود کے لیے وزیر اعظم کا نیا 15 نکاتی پروگرام رکھا گیا، جس کا اعلان جون 2006 میں ہوا اور جس کے تحت اقلیتوں کو اسکولی تعلیم میں بہتری، پرائمری سکنڈری اور گریجویشن لیول تک کے لیے اسکالر شپ فراہم کرنے کی بات کہی گئی۔ اس کے تحت مولانا آزاد ایجوکیشن فائونڈیشن کی بھی بات ہوئی تھی کہ حکومت اس کو سبھی طرح کی مدد فراہم کرے گی۔ ساتھ ہی اگر ہم تعلیمی فرقوں سے تعلق رکھنے والی اسکیموں کو میٹرک، سکنڈری اور سکنڈری زمرہ میں لیں، تو کئی اسکالر شپ 2008 سے نافذ کرنے کی بات کہی گئی تھی اور اس میں میٹرک سے قبل بھی اسکالر شپ دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اس میں وہ طلباء شامل ہیں، جو پہلی سے دسویں کلاس سرکاری یا پرائیویٹ اسکولوں میں حاصل کر رہے ہیں اور جن کے والدین کی آمدنی ایک لاکھ روپے سالانہ سے کم ہے۔ یہ اسکالر شپ بھی پورے کورس کے لیے دی جانی تھی، مگر افسوس اس اسکالر شپ کے بارے میں مسلم طلباء کو پتہ ہی نہیں ہے اور آج بھی خود ہم نے ایسے مسلم والدین کو اس اسکیم کے بارے میں جانکاری دی ہے، جو تعلیم کا خرچ نہ اٹھاپانے کی وجہ سے اپنے بچوں کو اسکول سے اٹھا لینا چاہتے تھے۔
پوسٹ میٹرک اسکالر شپ میں سرکاری یا پرائیویٹ اسکول، کالج، یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو دی جانی تھی، جن کے والدین کی سالانہ آمدنی 2 لاکھ روپے سے کم ہو۔ ان میں تکنیکی کورس اور پیشہ وارانہ کورس کی تربیت بھی شامل ہے۔ اس میں 30 فیصد اسکالر شپ لڑکیوں کے لیے مختص کی گئی تھی۔ یہ اسکالر شپ بھی پورے کورس کے لیے دی جانی تھی۔ اس کے لیے طالب علم کو سرٹیفکٹ پیش کرنا تھا کہ اس نے گزشتہ امتحان میں کم سے کم 50 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس اسکالرشپ کے بارے میں بھی کسی اقلیتی طبقے کو علم نہیں ہے۔ نہ تو ان اسکالر شپ کے بارے میں صحیح تشہیر کی جاتی ہے، نہ ہی اخباروں اور دوسرے ذرائع سے ان کی معلومات مل پاتی ہیں۔ مہاراشٹر حکومت نے بھی او بی سی کے ایسے طلباء کو اسکالر شپ دینے کی راہ ہموار کی تھی، جو 2011-12-13 اور دسویں کے امتحان کے فارم میں انہوں نے او بی سی کالم کو پُر نہیں کیا تھا، مگر ان کا نام عام کیٹگری میں شامل تھا۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس اسکیم کے بارے میں مہاراشٹر کے طلباء کو بہت فائدہ نہیں مل پایا، کیونکہ اس کی تشہیر نہیں ہوپائی۔
یہ سب تو تعلیمی قرض اسکیم اور لون کی بات تھی، مگر اس کے ساتھ ساتھ، جو دیگر دشواریاں اقلیتی فرقہ کے طلباء کو ہیں، وہ بھی اس قرض کا فائدہ نہ اٹھا پانے کی اہم وجوہات ہیں۔ ظاہر ہے، پہلی وجہ تو یہی ہے کہ ان کی تشہیر بہت اچھے طریقے سے نہیں کی گئی۔ مسلم طلباء زیادہ تر پورے ہندوستان میں گائوں، دیہاتوں، قصبوں میں اور اندرونی بستیوں میں رہتے ہیں۔ ان کے والدین زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔ ان قصبوں دیہاتوں میں گائوں کے پردھان یا مقامی ایم ایل اے یا مائنارٹی سیل وغیرہ کا فرض ہے کہ ان اسکیم کے بارے میں والدین کو معلومات فراہم کریں۔ اس کے علاوہ آج کل اخبار ہر جگہ جاتا ہے۔ اخباروں میں اشتہار بہت ضروری ہے۔ علاقہ کے کیبل ٹی وی پر بھی اس کی معلومات دی جاسکتی ہے۔ بڑے شہروں میں یقینا اخبار اس معلومات کو اقلیتی طلباء تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ اخبار ہر گھر میں جاتاہے۔ مسلم بچوں کے والدین اردو پڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اردو اخبارات میں بھی ان کی معلومات ضرور ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ ہندی، انگریزی اخبار کے ذریعہ بھی ان اسکیموں اور اسکالر شپ کی تشہیر کا کام ہونا چاہیے۔
اسکالر شپ کا فارم بھی آسان ہونا چاہیے اور اخباروں میں بھی یہ فارم ضرور دیا جانا چاہیے اور انٹر نیٹ کے ساتھ ساتھ ڈاک سے بھی اس کو وصول کرنے کا بندوبست ہونا چاہیے۔ ہمیں یاد ہے کہ مہاراشٹر میں اقلیتی طبقہ کو دی جانے والی میٹرک اسکالر شپ اسکیم میں طلباء کو فارم بھرنے میں بے حد دشواری ہوئی تھی۔ سال 2012-13 کے لیے مرکزی سرکار نے جو 6 لاکھ 88 ہزار 6 سو 43 روپے اسکالر شپ کے منظور کیے تھے، ان میں فارم جمع کرنے کے لیے آن لائن درخواستیں منگائی جارہی تھیں، لیکن ریاستی حکومت یہ بھول گئی کہ ریاست کے 90 فیصد اسکولوں میں انٹر نیٹ کی سہولت نہیں تھی۔ اگر انٹرنیٹ کی سہولت تھی بھی، تو بجلی کا مسئلہ تھا۔ شہروں میں بھی انٹرنیٹ سے درخواست دینے اور فارم بھرنے میں 40 سے 50 منٹ لگتے ہیں، لیکن سائٹ انتہائی سست رفتاری سے کام کر رہی تھی۔ اسی لیے اس اسکیم کے لیے مشکل سے 250 درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس کے لیے یہی کہا جاتا ہے کہ اسکیم سے متعلق افسران اسکولوں میں یہ فارم مہیا کراتے اور والدین اس کو بھر تے، پھر اسکول کے پرنسپل سب کو جمع کرکے خود بھیجتے۔
دہلی جیسے شہر میں بھی طلباء کو ان اسکیموں کے بارے میں پتہ نہیں ہے۔ گورمنٹ جتنا پیسہ دکھاتی ہے، اس میں شفافیت نہیں ہے۔ ابھی تک اگر آپ مسلم اقلیتی طلباء سے سوال کریں کہ کسی کو یہ اسکالر شپ ملی ہیں، تو شاید کوئی نہیں کہے گا کہ اس کو اسکالر شپ کا فائد ملا ہے۔ اگر ایمانداری سے دیکھیں، تو ان اسکالر شپ کی وصولیابی ایک فیصد بھی نہیں ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور بھی بات ہے کہ مسلم طلباء کو ان اسکالر شپ کے بارے میں پتہ نہیں چلتا ہے، اگر پتہ چل بھی جائے اور وہ اپلائی بھی کریں، تو ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ ان تمام مشکلات سے نمٹنے اور اقلیتی طلباء کو تعلیمی سطح پر اونچا اٹھانے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ایک تو ان تک ان اسکیموں کی اطلاع دوسرے فارم بھرنے کا طریقہ انتہائی آسان ہو۔ آن لائن کے ساتھ ساتھ ڈاک سے بھی وصولیابی ہو، ساتھ ہی ہر ریاست یا شہر کے مائنارٹی سیل میں بھی یہ فارم وصول کیے جائیں۔
افسوس کا مقام ہے کہ آج بھی مسلم طلباء جو بے حد غریب ہیں، تعلیم کی لگن رکھنے کے باوجود تعلیم حاصل نہیں کرپاتے اور ہوٹلوں ، دکانوں، چائے خانوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ انہیں ان کو اسکولوں میں داخلہ نہیں مل پاتا ہے، نہ ہی وہ بہتر نوکری حاصل کر پاتے ہیں۔ ظاہر ہے، لڑکیوں کی حالت تو اور بھی خراب ہے۔
آج بھی مسلم لڑکیاں بیچ میں ہی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں اور چھوٹی عمر میں ان کی شادی کردی جاتی ہے۔ رپورٹ 10 سالوں کی ہے، جس میں 10 سال سے اقلیتوں کو تعلیمی قرض نہیں مل پارہا اور ظاہر ہے ان دس سالوں میں اگر تعلیمی گراف نیچے آیا ہے، تو اس کی وجہ بھی صرف اور صرف سرکار ہے۔

بی جے پی اور مودی دونوں ہی کمیونل ہیں: انا ہزارے
گزشتہ 19 جولائی کو انا ہزارے نے نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک پریس کانفرنس بلاکر مودی کے تعلق سے بعض اخباروں میں اپنے بیان کو غلط ڈھنگ سے شائع کیے جانے پر وضاحت پیش کی۔ انہوں نے ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کے تقریباً پچاس نامہ نگاروں کے سامنے کہا کہ ’’وہ بھلا مودی کو کمیونل نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ کیسے دے سکتے ہیں؟‘‘
پریس کانفرنس میں انا ہزارے کے ذریعے دیے گئے دستخط شدہ بیان کا اقتباس درج ذیل ہے:’’صحافیوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں نریندر مودی کو کمیونل مانتا ہوں یا نہیں؟ میں نے فوراً ہی جواب دیا کہ ان کے خلاف میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لیے میں اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔لیکن کچھ اخباروں نے لکھا کہ ’انا ہزارے نے کہا ہے کہ مودی کمیونل نہیں ہیں‘، یہ غلط ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ سیکولر ہیں یا غیر سیکولر ہیں۔ ان کا تعلق ایک ایسی پارٹی سے ہے، جو صرف ایک ہی کمیونٹی سے ہمدردی رکھتی ہے، اور جو دوسری کمیونٹیز کے خلاف ہے۔ یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ وہ ایک مخصوص کمیونٹی کے پوری طرح خلاف ہے۔
جہاں تک میرے بیان کا تعلق ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں نکالا جانا چاہیے کہ میں نے یہ سرٹیفکیٹ دے دیا ہے کہ فلاں شخص کمیونل نہیں ہے، اور اس قسم کا سرٹیفکیٹ دینے والا میں کون ہوتا ہوں۔ ہندوستان کا آئین سیکولر ہے اور ہر سیاسی پارٹی کو اس پر عمل کرنا ہوگا۔ وہ سیاسی پارٹیاں، جو اس اصول پر عمل نہیں کرتیں، انہیں کبھی بھی اکثریت حاصل نہیں ہوگی۔
ایک مخصوص سیاسی پارٹی کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کمیونل ہے۔ میں کسی فردِ واحد کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا، کیو ںکہ یہ اس کی سیاسی پارٹی کا معاملہ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے نریندر مودی کو اپنی انتخابی مہم کمیٹی کا چیئرمین بنایا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جو کچھ ہے، وہ اسی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی لیے میں فردِ واحد کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔
میں حقیقی جمہوریت کو قائم کرنے، بدعنوانی کے خلاف، جن لوک پال کے لیے اور سی بی آئی اور دیگر تحقیقی ایجنسیوں کی خود مختاری کے لیے مہم چلا رہا ہوں۔
آئندہ انتخابات کے بعد جو بھی اقتدار میں آئے، وہ نان کمیونل ہو اور ابھی اس وقت ہمارے سامنے جو موجود ہے، اس سے بہتر گورننس فراہم کرائے۔ میں ایک ایسی جمہوریت چاہتا ہوں، جس کا ذکر ہمارے آئین میں کیا گیا ہے۔ ہندوستان میں اس کے عوام کی حکومت ہونی چاہیے نہ کہ سیاسی پارٹیوں کی، کیوں کہ ہمارے آئین میں سیاسی پارٹیوں یا کسی جماعت کی حکومت کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔
جہاں تک میں جانتا ہوں، مودی نے اب تک گودھرا اور اس کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت نہیں کی ہے۔ ایسے میں بھلا میں انہیں یہ سرٹیفکیٹ کیسے دے سکتا ہوں کہ وہ کمیونل نہیں ہیں؟
میں ہمیشہ سے کمیونل ازم کے خلاف رہا ہوں، کیو ںکہ اس سے ہندوستان کے بکھر جانے کا خطرہ لاحق ہے۔‘‘

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *