مرکز میں کانگریس کا مستقبل یو پی الیکشن طے کرے گا

Share Article

روبی ارون
یہ سودے بازی ہے اقتدار کی۔ یہ ہوس ہے ہندوستان کی سیاست پر قبضہ کرنے اور اپنے اپنے وارثوں کے پھلنے پھولنے اور راج کرنے کی۔ اور یہ سازش ہے عام شہریوں کو فریب دینے کی۔ اس مقصد میں کامیاب ہونے کے لیے سماجوادی پارٹی اور کانگریس کو ہر نسخہ قبول ہے۔ لہٰذا، سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے جگل بندی کر لی ہے۔

سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے جگل بندی کر لی ہے۔ مرکز اور اتر پردیش کی گدی پر قابض ہونے کی خاطر یہ دونوں پارٹیاں اب ایک راہ پر چل پڑی ہیں۔ ان دونوں کے درمیان یہ قرار ہو چکا ہے کہ اتر پردیش میں دونوں ہی پارٹیاں مل جل کر حکومت بنائیں گی۔ اس معاہدہ کے مطابق مرکزی وزیر بینی پرساد وَرما اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ بنیں گے اور سماجوادی پارٹی کے صوبائی صدر اکھلیش یادو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالیں گے۔

مرکز اور اتر پردیش کی گدی پر قابض ہونے کی خاطر یہ دونوں پارٹیاں اب ایک راہ پر چل پڑی ہیں۔ ان دونوں کے درمیان یہ قرار ہو چکا ہے کہ اتر پردیش میں دونوں ہی پارٹیاں مل جل کر حکومت بنائیں گی۔ اس معاہدہ کے مطابق مرکزی وزیر بینی پرساد وَرما اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ بنیں گے اور سماجوادی پارٹی کے صوبائی صدر اکھلیش یادو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالیں گے۔ حالانکہ اکھلیش نے صوبے کے وزیر اعلیٰ بننے کا خواب پال رکھا ہے، لیکن انہیں اپنے والد کا بھی خیال رکھنا ہے،اور کانگریس نے اکھلیش یادو کو اُن کی قربانی کا خوب صلہ دیا ہے۔ کانگریس اعلیٰ کمان نے یہ وعدہ کیا ہے کہ اتر پردیش کے اسمبلی انتخاب کے بعد سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو ہندوستان کے نائب وزیر اعظم ہوں گے۔ صلح صفائی لالو پرساد یادو کے ساتھ بھی ہوئی ہے۔ طے یہ ہوا ہے کہ اتر پردیش انتخاب کے بعد کابینہ میں جو توسیع ہوگی، اس میں ملائم سنگھ کے ساتھ ساتھ لالو پرساد یادو کو بھی جگہ دی جائے گی، تاکہ بہار میں کانگریس کو ایک بنا بنایا ووٹ بینک مل جائے۔ چونکہ لالو یادو کی حالت ابھی کمزور ہے، لہٰذا کانگریس اُن سے اپنی مرضی کے مطابق برابری کا سمجھوتہ کر سکتی ہے۔ ویسے بھی کانگریس کو مخالفین کے وار سے بچانے کے لیے لالو ٹائپ کے ماؤتھ پیس کی بے حد ضرورت ہے۔ کانگریس ملائم اور لالو سے سودے بازی کرکے کئی مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اتر پردیش انتخاب کے بعد اس کے سر پر لوک سبھا الیکشن کا بھوت سوار ہوگا۔ اگر یہ کرشمہ ہوتا ہے کہ کانگریس سماجوادی پارٹی کے ساتھ مل کر اتر پردیش میں حکومت بنا لیتی ہے، تب اس کی نگاہ اتر پردیش کی 80 لوک سبھا سیٹوں پر ہوگی۔ اتر پردیش سے لوک سبھا کی زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کی خاطر کانگریس کو کچھ چارے بھی ڈالنے ہوں گے۔ ظاہر ہے، وہ یہ کام ملائم سنگھ کو نائب وزیر اعظم بنا کر پورا کر لے گی۔ اس گٹھ جوڑ میں ملائم سنگھ کے لیے وہ لیڈر کارگر ہو سکتے ہیں، جو کبھی ملائم کے ساتھ تھے، بعد میں کانگریس کے ساتھ ہوگئے۔ ان میں بینی پرساد وَرما، راج ببر، رشید مسعود جیسے لوگ شامل ہیں۔ ان لیڈروں کی ملائم کے ساتھ کبھی کوئی رنجش نہیں رہی، لیکن ابھی تک یہ صاف نہیں ہو پایا ہے کہ ملائم سنگھ کے ساتھ ہوئے کانگریس کے سمجھوتے کو یہ لیڈر کس شکل میں لیں گے۔ ملائم اور لالو سے سمجھوتے کی ایک دوسری اہم وجہ بھی ہے۔ یو پی اے کو مرکز میں اپنی حکومت بھی بچانی ہے۔ حلیف پارٹی ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی مغربی بنگال کے بلدیاتی انتخابات کے وقت سے ہی کانگریس کو لگاتار دباؤ میں لیے ہوئی ہیں، بار بار دھمکیاں دے رہی ہیں اور اب تو کھل کر کہنے لگی ہیں کہ مرکزی حکومت چاہے تو اُن سے اپنا ناطہ توڑ سکتی ہے۔ مرکز کی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کے باوجود ان کی پارٹی اتر پردیش میں اتحاد سے الگ ہو کر، اکیلے انتخاب لڑ رہی ہے۔ اس لیے کانگریس کو ممتا بنرجی کے متبادل کی تلاش ہے۔ ملائم کے 22 اور لالو کے 4 ممبرانِ پارلیمنٹ ہیں۔ راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے 5 ایم پی مرکزی سرکار میں شامل ہو ہی چکے ہیں۔ اب ملائم- لالو کے یو پی اے اتحاد کا حصہ بننے سے مرکزی حکومت کا ممتا بنرجی کے اوپر سے انحصار کم ہو جائے گا۔ حالانکہ پارٹی کے اندر لالو کے خلاف بھی کچھ لوگ ہیں، لیکن کانگریس اعلیٰ کمان نے انہیں نفع نقصان کا حساب سمجھا کر خاموش کرادیا ہے، اور جو لوگ ملائم اور لالو سے ہمدردی رکھتے ہیں، انہیں اتر پردیش اسمبلی انتخاب تک انتظار کرنے کو کہا گیا ہے۔ پر ہاں، اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ اگر، اتر پردیش میں کانگریس کی ’ایکلا چلو رے‘ کی حکمت عملی کامیاب ہو جاتی ہے، تو کانگریس کو ملائم اور لالو سے دوری بنانے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔ ایسے میں کانگریس کے جنرل سکریٹری، اتر پردیش کی حکمت عملی کو بہار میں دہرائیں گے۔ لیکن اگر پارٹی بہار کی طرح اتر پردیش میں چوتھے نمبر پر آتی ہے، تب اِن 26 اراکین پارلیمنٹ کا سرکار میں شامل ہونا طے ہے۔ حالانکہ، کانگریس نے لالو – ملائم سے سودے بازی کا یہ سلسلہ کافی پہلے ہی شروع کر دیا تھا، لیکن منھ مانگا قلم دان نہ ملنے کی وجہ سے بات ٹھنڈے بستے میں ڈال دی گئی۔ پچھلی دفعہ اس سلسلے میں آخری مرتبہ 14 مئی 2010 کی رات کو بات ہوئی تھی، جب راہل گاندھی کی طرف سے مرکزی وزیر سشیل کمار شندے نے لالو یادو کی رہائش گاہ، 25 تغلق روڈ پر جاکر اُن سے ملاقات کی تھی۔ طے یہ ہوا تھا کہ ممتا بنرجی کی روز کی چک چک بازی سے نجات پائی جائے اور لالو – ملائم- اجیت سنگھ سرکار میں ہو جائیں۔ اسی وقت رام وِلاس پاسوان کو راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کرنے کی بات بھی پکی ہو چکی تھی۔ چونکہ مواصلات کے سابق وزیر اے راجا الزاموں کے گھیرے میں آ چکے تھے، لہٰذا کانگریس ان کی بھی چھٹی کرنے کے موڈ میں تھی۔ ساتھ ہی وزیر دفاع اے کے انٹونی کے متبادل پر بھی غور کیا جا رہاتھا۔ اس طرح اجیت سنگھ کو شہری ہوابازی کی وزارت، لالو یادو کو مواصلات (ٹیلی کام) یا وزارتِ دفاع اور ملائم سنگھ یادو کو وزارتِ ریل دینے کا منصوبہ بنا تھا۔ سب کچھ حسب معمول چل رہا تھا، اسی درمیان لالو یادو نے چالاکی دکھانی شروع کردی، جب کہ وہ پہلے سے اس معاملے میں رہنمائی کر رہے تھے۔ راہل گاندھی نے جب ان سے وجہ جاننی چاہی تو پتہ چلا کہ لالو یادو کو وزارتِ ریل چاہیے۔ دلیل یہ تھی کہ انہوں نے ہندوستانی ریلوے کے لیے بطور وزیر ریل بہت کام کیا ہے اور اس دفعہ اگر انہیں یہ وزارت مل جائے تو وہ ہندوستانی ریلوے کو دنیا کی نمبر وَن ریلوے بنانے کا اپنا وعدہ اور خواب دونوں پورا کر سکیں گے، ساتھ ہی ممتا بنرجی کو منھ توڑ جواب بھی دے پائیں گے، کیو ںکہ ممتا بنرجی نے وزارتِ ریل سنبھالتے ہی اپنی ساری توانائی لالو یادو کو گھوٹالے باز اور جھوٹا ثابت کرنے میں لگا دی تھی۔ لالو یادو اس بات سے بھی کافی غم زدہ تھے کہ ممتا بنرجی نے ان کے ذریعے شروع کیے گئے غریب رتھ کا نام بدل کر دورنتو ایکسپریس کر دیا۔ لیکن راہل گاندھی کی منشا یہ تھی کہ عوامی خدمت کے لحاظ سے ریلوے جیسی سب سے اہم وزارت کو اتر پردیش کے حوالے کرکے وہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھا سکیں۔ راہل نے لالو کو سمجھانا بھی چاہا، لیکن وہ اپنی بات پر بضد رہے۔ بات یہیں بگڑ گئی اور راہل گاندھی لالو پرساد یادو سے اتنے ناراض ہوگئے کہ ان سے بات تک کرنی بند کردی، کیو ںکہ راہل کو ایسا لگا کہ لالو نے اپنی حرکتوں سے ان کے مشن 2012 کے خواب کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راہل نے بہار کے اسمبلی انتخاب میں کانگریس کی کمزور حالت کے بارے میں جانتے ہوئے بھی لالو کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کیا۔ دوسری جانب رام وِلاس پاسوان نے کانگریس اعلیٰ کمان سونیا گاندھی سے اپنے اچھے رشتوں کی بدولت صلح کروانے کی بھی کوشش کی، لیکن راہل نہیں مانے۔ بہرحال، بہار کے اسمبلی الیکشن نے جب لالو کو ان کی اوقات بتا دی، تب انہوں نے کانگریس کا حمایتی بننے کا موقع تلاش کرنا شروع کردیا۔ ایف ڈی آئی کے ایشو پر جب کانگریس پر چوطرفہ وار ہونے لگے، تب لالو اپنے بڑبولے پن اور مسخرے پن سے اس کی ڈھال بن گئے، وہ بھی تب، جب راہل گاندھی لگاتار اتر پردیش کے دورے پر تھے۔ ماں سونیا گاندھی تو ہمیشہ سے ہی لالو یادو کی قائل رہی ہیں، لہٰذا اب راہل گاندھی کو بھی لگا کہ جس طرح ان کی سرکار الزامات سے گھر رہی ہے، اس میں لالو جیسے لیڈر کی انہیں بے حد ضرورت ہے، چار ممبرانِ پارلیمنٹ کی طاقت بڑھے گی سو الگ۔
خیر، فی الحال اتر پردیش میں جو چنوتیاں راہل گاندھی اور کانگریس کے سامنے ہیں، اُن میں سر فہرست راہل گاندھی کے یو پی کے دو سپہ سالاروں بینی پرساد وَرما اور پی کے پنیا کے درمیان رنجش ہے۔ بینی پرساد کانگریس کے لیے پچھڑوں کے ووٹ بینک کا ہتھیار ہیں تو پنیا دلت ووٹ بینک کا۔ ویسے دونوں ہی پوری طرح راہل کے ساتھ ہیں، لیکن راہل کے لیے ان دونوں کو ایک ساتھ ہموار کرنا دشوار ہو رہا ہے، ایک کو مناتے ہیں تو دوسرا روٹھ جاتا ہے۔ بحث اس بات کی بھی ہے کہ اتر پردیش میں راہل کی عوامی ریلیوں میں جو ہجوم اکٹھا ہوتا ہے، وہ کس کی وجہ سے ہے۔ کانگریس مانتی ہے کہ یہ سب راہل گاندھی کا کرشمہ ہے، پر بینی پرساد کے لوگ یہ پرچار کرتے ہیں کہ یہ بینی ورما کا زور ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بینی خیمہ کی اس حرکت سے راہل گاندھی بے خبر ہیں یا اس حرکت سے کانگریسیوں میں ناراضگی نہیں ہے، لیکن بات یہاں بینی حامیوں کے ووٹوں کی ہے، جسے راہل گاندھی کسی بھی قیمت پر گنوانا نہیں چاہتے۔ خاص کر سیاست میں سب کچھ لٹانے کے بعد بینی پرساد نے کانگریس کا ہاتھ پکڑا اور کانگریس نے بھی انہیں عزت بخشتے ہوئے نہ صرف انہیں گونڈا کا ٹکٹ دیا، بلکہ دیوی پاٹن کی تقریباً سات سیٹوں پر بھی ان کی ہی صلاح سے ٹکٹ دیا۔ بینی ورما خود تو جیتے ہی، فیض آباد، بہرائچ، شراوستی، سلطانپور اور مہاراج گنج پر بھی کانگریس کو جیت دلائی۔ ظاہر ہے، ایسے میں راہل گاندھی ان کے بڑ بولے پن کو نظر انداز بھی کریں گے اور ان کی شان و عظمت بھی بنائے رکھیں گے، سوال اتر پردیش کے اقتدار پر قبضہ کرنے کا جو ہے، اور بینی کانگریس کے لیے دیوریا، بنارس، جونپور وغیرہ کے کرمی برادری کی اکثریت والے حلقے کی سیٹیں جیتنے میں بے حد معاون ثابت ہو ںگے۔ اتر پردیش میں اس وقت جس قسم کے سیاسی حالات دکھائی دے رہے ہیں، یا ووٹروں کا جو رجحان ہے اس کے مطابق، صوبہ میں کوئی بھی پارٹی کانگریس یا بی جے پی کی حمایت کے بغیر سرکار بنا لے گی، ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ انتخابی تجزیہ کے مطابق، مایاوتی حکومت کو لے کر عام لوگوں کے درمیان نہ تو کوئی حمایت کا جذبہ نظر آرہا ہے اور نہ ہی مخالفت کا۔ مخالف پارٹیاں بھی مایاوتی سرکار کے خلاف تحویل اراضی، قانون اور نظم و نسق کی صورت حال، بدعنوانی جیسے مدعوں کو صحیح طریقے سے اٹھانے میں ناکام ہی ثابت ہوئی ہیں۔ ابھی تک اتر پردیش کے عوام یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ انہیں کس پارٹی کو ووٹ دینا ہے۔ ابھی وہاں کے لوگ سیاسی ہوا کا رخ بھانپنے میں لگے ہوئے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کے انتخاب سے قبل اتحاد میں ذات پر مبنی کیا منظر نامہ سامنے آتا ہے۔ اس کے علاوہ ترقی اور بدعنوانی جیسے مدعے بھی بااثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ جولاہوں کو پیکیج، قرض سے معافی وغیرہ کا دانہ ڈال کر کانگریس نے مئو، اعظم گڑھ، جونپور، بھدوئی وغیرہ میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ اِن ضلعوں میں پاسی برادری کی اکثریت ہے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں منریگا کارڈ نے اس علاقے میں کانگریس کو بڑا ووٹ بینک دیا تھا۔ اس کے علاوہ اِس وقت جو رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے، اس سے لگتا ہے کہ اِس بار بی ایس پی کو زبردست نقصان ہونے والا ہے، جس کا سیدھا فائدہ دلت ووٹوں کی شکل میں کانگریس کو ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی سیٹ 2007 میں 97 تھی ، جو اِس دفعہ 135 سے 140 تک پہنچنے کی بات سیاسی تجزیہ نگاروں کی طرف سے کہی جا رہی ہے۔ اجیت سنگھ کے ساتھ کا بھی فائدہ کانگریس کو ملے گا۔ میرٹھ، بلند شہر، باغپت، غازی آباد وغیرہ علاقوں میں کانگریس اتحاد کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ کانگریس نے پہلے بھی اپنے مفادات کے مطابق مختلف پارٹیوں سے اتحاد کرکے اپنی تعداد بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس کی سیاسی چال اور راج کاج میں تقریباً ڈیڑھ دہائی سے علاقائی اور کچھ قومی پارٹیاں اہم کردار نبھا رہی ہیں۔ ان پارٹیوں نے اپنی شرطوں کے مطابق کانگریس سے گٹھ جوڑ کرکے اقتدار کا بھرپور لطف بھی اٹھایا ہے، لیکن جب بھی انہیں لگا ہے کہ یہ اقتدار کے توازن کا محور بن گئے ہیں، تب اپنی سیاسی خود غرضی کے لیے سودے بازی کرنے میں سرکار کو ڈانوا ڈول کرنے سے بھی باز نہیں آئے ہیں۔ دراصل، ان کے سامنے یہ مسئلہ بھی ہوتا ہے کہ انہیں اپنی اہمیت بھی برقرار رکھنی ہوتی ہے، لہٰذا ٹکراؤ شروع ہوتا ہے، تب گٹھ جوڑ کا ایک اور نیا سلسلہ جنم لیتا ہے۔ انہی حالات میں اتر پردیش انتخاب میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے درمیان پنپنے والا گٹھ جوڑ اور اقتدار کی اس سودے بازی سے کیا یوراج راہل گاندھی کو ہندوستان کی سلطنت حاصل ہو پائے گی؟g
……..  ساتھ میں لکھنؤ سے اجے کمار

کانگریس اور سماجوادی پارٹی کا سمجھوتہ رہ پائے گا؟
کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے درمیان یہ تو قرار ہو گیا کہ نتیجہ آنے کے بعد بینی پرساد ورما کو وزیر اعلیٰ کی کرسی ملے گی اور سماجوادی پارٹی کے صوبائی صدر اکھلیش یادو کو نائب وزیر اعلیٰ کی۔ لیکن یہ ہوگا کیسے، اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تبھی ممکن ہو سکے گا جب کانگریس کے حق میں 100 سے زیادہ سیٹیں آئیں۔ اگر سماجوادی پارٹی کی کانگریس سے زیادہ سیٹیں آ گئیں، تو اکھلیش وزیر اعلیٰ کیوں نہیں بننا چاہیں گے؟ ایسے میں کیا کانگریس اور ایس پی کے درمیان کا قرار قائم رہ پائے گا؟ کانگریس نے بینی پرساد کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا دعویدار تو بنا دیا، پر بینی بابو کو وزیر اعلیٰ کے طور پر کانگریس کے پرانے لیڈر اور ان کے دوسرے معاون، مثلاً پی کے پنیا اور رشید مسعود تبھی قبول کریں گے، جب بینی پرساد کے پسندیدہ امیدوار سب سے زیادہ تعداد میں جیت کر آئیں۔ کانگریس بینی پرساد کو پچھڑوں کے مسیحا کے طور پر پیش کر رہی ہے، دوسری طرف پی کے پنیا  کانگریس کے لیے دلت ووٹوں کا انتظام کرنے والے ہیں۔ میدان میں ان کے بھی کئی امیدوار اپنی آزمائش میں لگے ہیں۔ اگر پنیا کے قریبی امیدواروں کی جیت میں زیادہ حصہ داری رہی تو کیا پنیا، یا ان کے حامی، یا پھر اتر پردیش کا دلت طبقہ یہ نہیں چاہے گا کہ پنیا ہی صوبے کے وزیر اعلیٰ کی باگ ڈور سنبھالیں؟ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اتر پردیش میں رشید مسعود صاحب بھی ہیں، جن کے پسندیدہ امیدوار بھی خاصی تعداد میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ رشید مسعود اتر پردیش میں کانگریس کا مسلمان چہرہ بن کر ابھرے ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ان کے حمایتی امیدواروں کی جیت کی تعداد پنیا اور بینی پرساد کے خیمے کے امیدواروں سے زیادہ ہوئی، تو پھر کیا رشید مسعود اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ بننا نہیں چاہیں گے؟ ایسی حالت میں مسلمانوں کی زبردست حمایت کرنے کا دعویٰ کرنے والی کانگریس کیا کرے گی؟ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کا رخ کیا ہوگا؟ چونکہ بینی پرساد ورما کو اس وقت اگلے وزیر اعلیٰ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اگر نتائج آنے کے بعد تصویر کا رخ کچھ اور ہوتا ہے، تب کیا بینی پرساد اتنی آسانی سے اپنی دعویداری چھوڑ پائیں گے؟ ایسے میں کانگریس پارٹی شاید اتر پردیش میں ٹوٹ کے دہانے پر پہنچ جائے، اور سماجوادی پارٹی کے ساتھ ہوئے قرار کا کوئی مطلب ہی نہ رہ جائے۔ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر سماجوادی پارٹی بھلا کیوں کر کانگریس کے امیدوار کو وزیر اعلیٰ کے طور پر قبول کرے گی؟g

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *