مسائل بہت سے، حل صرف ایک

Share Article

آج ملک کے اندر ایک عام تصور یہ پایا جانے لگا ہے کہ کسی بھی سرکاری دفتر میں رشوت دیے بغیر کوئی کام نہیں کرایا جاسکتا۔ بہت حد تک یہ رائے صحیح بھی ہے کیوں کہ بدعنوانی یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک ایماندار آدمی کا ایماندار بنا رہنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ لیکن بد عنوانی کے اس دور میں بھی اگر آپ چاہیں تو اپنا کام بغیر رشوت دیے بھی کرا سکتے ہیں۔ اس کے لیے تھوڑی ہمت کی ضرورت ہوگی اور حق اطلاعات قانون کا استعمال کرنا ہوگا۔ ہر خاص و عام آدمی کا واسطہ کبھی نہ کبھی کسی سرکاری محکمہ سے پڑتا ہی ہے۔ چاہے راشن کارڈ بنوانا ہو یا پاسپورٹ، آپ چاہے شہر میں رہتے ہوں یا گاؤں میں، فائل دبانے یا آگے بڑھانے کے لیے سرکاری بابوؤں کی رشوت کی مانگ سے آپ سبھی کا واسطہ ضرور پڑا ہوگا۔ گاؤں میں بڑھاپے کا پنشن پانے کے لیے بزرگوں کو کتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ شہروں میں بھی لوگوں کو عمر/پیدائش، موت/ رہائشی سرٹیفکیٹ بنوانے یا انکم ٹیکس ریفنڈ کے لیے ناکوں چنے چبانے پڑتے ہیں، اس کے علاوہ رشوت الگ سے دینی پڑتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جو آدمی رشوت دینے کی حالت میں نہیں ہے تو کیا اس کا کام نہیں ہوگا۔ ایسا نہیں ہے۔ کام ضرور ہوگا، وہ بھی بغیر رشوت کے۔ ضرورت ہے صرف اپنے حق کو استعمال کرنے کی اور وہ ہے حق اطلاعات۔ یہ حق ایک قانون ہے۔ محض ایک درخواست دے کر آپ رشوت خور افسروں کی نیند حرام کر سکتے ہیں۔ یہ آزمایا ہوا اور کامیاب نسخہ ہے۔ جیسے ہی آپ اپنے کسی زیر التوا کام سے متعلق ایک آر ٹی آئی درخواست دیتے ہیں، بدعنوان اور رشوت خور افسروں اور بابوؤں کی سمجھ میں آ جاتا ہے کہ جس کو وہ پریشان کر رہے ہیں، وہ عام آدمی تو ہے ، لیکن اپنے حقوق اور اصولوں کے تئیں بیدار ہے۔ طے مانئے، سرکاری محکموں میں عام طور پر انہی لوگوں کو زیادہ پریشان کیا جاتا ہے، جنہیں اپنے حقوق کی جانکاری نہیں ہے۔ حق اطلاعات قانون میں اتنی طاقت ہے کہ چھوٹے موٹے کام تو درخواست دینے کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے حق کا استعمال کریں بجائے اس کے کہ آپ رشوت دیں۔ ’چوتھی دنیا‘ آپ کے ہر قدم پر آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہے۔ کوئی بھی مسئلہ ہو، کوئی مشورہ چاہیے یا آپ اپنا تجربہ ہم سے بانٹنا چاہتے ہوں تو خط لکھیں یا ای میل کریں۔ ہم آپ کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔

درخواست کا خاکہ

کسی بھی سرکاری محکمہ میں زیر التوا کام یا راشن کارڈ، پاسپورٹ، بڑھاپے کا پنشن، عمر؍پیدائش؍ موت؍ رہائش کا سرٹیفکیٹ بنوانے یا انکم ٹیکس ریفنڈ میں ملنے میں دیری ہونے، رشوت مانگنے یا بلا وجہ پریشان کرنے کی حالت میں درج ذیل سوالوں کی بنیاد پر آپ حق اطلاعات کی درخواست تیار کر سکتے ہیں
بخدمت جناب،
پبلک انفارمیشن آفیسر
(محکمہ کا نام)
(محکمہ کا پتہ)
موضوع : حق اطلاعات قانون 2005 کے تحت درخواست
جناب،
میں نے آپ کے محکمہ میں… … … … …تاریخ کو…… … … … … کے لیے درخواست دی تھی (درخواست کی فوٹو کاپی منسلک ہے)، لیکن اب تک میری درخواست پر اطمینان بخش قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ برائے کرم اس سلسلے میں درج ذیل اطلاعات فراہم کرائیں :
.1  میری درخواست پر کی گئی ہر دن کی کارروائی یعنی روزانہ کی پیش رفت رپورٹ فراہم کرائیں۔ میری درخواست کن کن افسران کے پاس گئی اور کس افسر کے پاس کتنے دنوں تک رہی، اس دوران ان افسروں نے اُس پر کیا کارروائی کی؟ پوری تفصیل فراہم کرائیں۔
.2  محکمہ کی پالیسیوں کے مطابق میری درخواست پر زیادہ سے زیادہ کتنے دنوں میں کارروائی پوری ہو جانی چاہیے تھی؟ کیا میرے معاملہ میں درج بالا اصول کی پیروی کی گئی؟
.3  برائے کرم ان افسروں کے نام اور ان کے عہدے بتائیں، جنہیں میری درخواست پر کارروائی کرنی تھی، لیکن انھوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
.4  اپنا کام ٹھیک سے نہ کرنے اور عوام کو پریشان کرنے والے ان افسروں کے خلاف کیا کا رروائی کی جائے گی؟ یہ کارروائی کب تک کی جائے گی؟
.5  اب میرا کام کب تک پورا ہوگا؟        (بقیہ سوال، اگر ضروری ہوں)
.6  برائے کرم مجھے تمام درخواستوں؍رٹرن؍ اپیل؍ شکایت کی فہرست فراہم کرائیں، جنہیں میری درخواست؍رٹرن؍اپیل؍ شکایت کے بعد جمع کیا گیا۔ فہرست میں درج ذیل اطلاعات ہونی چاہئیں:
.1  درخواست کرنے والے؍ٹیکس دینے والے؍ اپیل کرنے والے؍ متاثر شخص کا نام        .2  رسید نمبر
.3  درخواست؍ رٹرن؍ اپیل؍ شکایت کی تاریخ                .4  کارروائی کی تاریخ
.7  برائے کرم ریکارڈ کے اُس حصے کی فوٹو کاپی دیں، جو درج بالا درخواست؍ رٹرن؍ اپیل؍ شکایت کی رسید کا بیورا رکھتے ہوں۔
.8  میری درخواست کے بعد اگر کسی درخواست؍ رٹرن؍ اپیل؍ شکایت کو نمبر آنے سے پہلے مسترد کیا گیا ہو تو اس کی وجہ بتائیں؟
.9  اس درخواست؍ رٹرن؍ اپیل؍ شکایت کے نمبر آنے سے پہلے اس پر عمل آوری کے معاملہ میں، اگر کوئی ہو تو، پوری پوچھ گچھ کب کی جائے گی؟
میں درخواست کی فیس کی شکل میں ………………………………… روپے الگ سے جمع کر رہا؍ رہی ہوں۔
درخواست دہندہ
نام ………………………………            پتہ ……………………………………………………

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *