loksabha
پارلیمنٹ کا مانسون سیشن جاری ہے۔بہارکے مظفرپورشیلٹرہوم میں بچیوں کے ساتھ عصمت دری معاملے پرآج بھی لوک سبھا میں ہنگامہ ہوا۔بہارسے کانگریس رکن پارلیمنٹ رنجیت رنجن اورآرجے ڈی کے جے پی یادونے آج یہ معاملہ اٹھایا۔الزام لگایاہے کہ سی بی آئی جانچ سے پہلے ثبوت مٹائے جارہے ہیں۔اس پرخوب ہنگامہ ہوا،جس کے بعد ایوان کی کارروائی کچھ دیرکیلئے روکنی پڑی۔ دونوں نے الزام لگایا کہ مظفر پور عصمت دری سانحہ کے ثبوت و شواہد مٹائے جا رہے ہیں۔ دونوں پارٹیوں کے ممبران اس معاملہ پر وزیر داخلہ کے بیان کی مانگ کرنے لگے۔ جب اسپیکر نے ان کی بات نہیں سنی تو دونوں پارٹیوں کے رکن اسپیکر کی چیئر کے قریب آکر ہنگامہ کرنے لگے۔
اسپیکرنے کہا کہ مرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی) معاملہ کی تفتیش کر رہی ہے۔ اس لئے وہ کسی کو ہنگامہ نہیں کرنے دیں گی۔ اس کے بعد کانگریس کی رنجیت رنجن نے اسپیکر کی میز پر سے کتابیں نیچے پھینک دیں۔ انہوں نے لوک سبھا سکریٹری جنرل کی میز پر سے بھی کاغذات نیچے گرا دیئے۔یادرہے کہ قفہ صفر شروع ہوتے ہی اسپیکر نے اس معاملہ پر کانگریس کی رنجیت رنجن اور راشٹریہ جنتا دل کے جے پرکاش نارائن یادو کو بولنے کا موقع دیا۔جس کے بعد خوب ہنگامہ ہوا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here