منموہن سنگھ صدر اور راہل گاندھی وزیراعظم بنیں گے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان کے ایک طاقتور وزیر نے سی بی آئی کے ڈائریکٹر کو ملنے کے لیے بلایا۔ جب وہ ملنے آئے تو اس وزیر نے چائے منگوائی۔ جب چائے کا پہلا گھونٹ وزیر اور سی بی آئی ڈائریکٹر نے لے لیا تو وزیر نے کچھ کہنا چاہا۔ سی بی آئی ڈائریکٹر نے انہیں روکتے ہوئے بڑے ادب سے کہا کہ وزیر صاحب، آپ نے بلایا، میں پروٹوکول کے تحت آپ سے ملنے چلا آیا۔ پروٹوکول کہتا ہے کہ جب بھی کوئی مرکزی وزیر بلائے، مجھے جانا چاہیے۔ لیکن اب جو بھی آپ مجھے کہیں گے یا حکم دیں گے، اسے مجھے سپریم کورٹ کو رپورٹ کرنا پڑے گا۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر کی بات سنتے ہی اُن مرکزی وزیر کے ہاتھ کی پیالی کانپ گئی اور چائے چھلک گئی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذرائع کچھ عدالتوں کا حوالہ دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ حزب اختلاف کی لیڈر سشما سوراج کچھ پریشانی میں پڑنے والی ہیں۔ وہ پریشانی میں پڑیں یا نہ پڑیں، لیکن منڈے کا معاملہ ملک کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں چل رہے اندرونی جھگڑوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر گیا ہے۔ اسی گہما گہمی میں انّا ہزارے اور بابا رام دیو اپنے اپنے کو تول رہے ہیں۔ انّا ہزارے شمالی ہند کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ان کے دورہ میں کتنے لوگ اکٹھے ہوں گے، طے کرے گا کہ ان کی اور لوک پال بل کی کتنی کشش بچی ہے۔ ملک کی سیاست میں ایک تیسرا واقعہ اور ہونے والا ہے۔ نئے سرے سے پارٹیوں کے تعلقات بننے اور بگڑنے والے ہیں۔ ہماری پختہ جانکاری کے حساب سے مہاراشٹر میں شو سینا، دلت لیڈر رام داس اٹھاولے اور شرد پوار کا گٹھ جوڑ بننے والا ہے۔ شرد پوار کی طرف سے یہ پیش کش شو سینا کے پاس گئی ہے کہ شو سینا بھارتیہ جنتا پارٹی کو چھوڑے، اس کے بعد شرد پوار کانگریس کو چھوڑ دیں گے اور یہ تینوں مل کر مہاراشٹر میں ایک ساتھ مہم چلائیں گے اور سرکار بنائیں گے۔ اگر رام داس اٹھاولے، شیو سینا اور شرد پوار کا گٹھ جوڑ مہاراشٹر میں بنتا ہے تو مہاراشٹر کا مستقبل آئینہ کی طرح صاف ہے۔ پھر مہاراشٹر میں اُدھو ٹھاکرے کی قیادت میں نئی سرکار بنے گی۔ راج ٹھاکرے کو جتنے ووٹ ملنے تھے یا جتنی حمایت ملنی تھی، وہ پچھلی بار پوری طرح مل گئی۔ اب راج ٹھاکرے کو اس سے زیادہ حمایت نہیں ملنے والی۔ یہی سوچ کر شرد پوار، اُدھو ٹھاکرے اور رام داس اٹھاولے تینوں مل کر ایک نئے گٹھ جوڑ کی تشکیل کی تیاری کر رہے ہیں، جو ملک میں بہت بڑی تبدیلی بھی لا سکتا ہے۔ لیکن اس حالت میں اور بدعنوانی کی نئی کھلتی کہانیوں کے درمیان مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ نے مانگ کر ڈالی ہے کہ راہل گاندھی کو وزیر اعظم بننا چاہیے۔ دو دن بعد انہوں نے کہا کہ ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ منموہن سنگھ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ دگ وجے سنگھ کی اس اہم مانگ کے پیچھے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔
ملک کو سمجھ لینا چاہیے کہ کانگریس پارٹی اور کانگریس سرکار دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ان دنوں دونوں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ کانگریس پارٹی میں سونیا گاندھی سمیت احمد پٹیل، موتی لال ووہرا، جناردن دویدی اور دگ وجے سنگھ اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو شاید کانگریس دوبارہ اقتدار میں نہیں آ پائے گی۔ ان دنوں کانگریس پارٹی کے کور گروپ میں دگ وجے سنگھ کا غلبہ ہے۔ احمد پٹیل اور موتی لال ووہرا اکثر خاموش رہتے ہیں اور دگ وجے سنگھ اور جناردن دویدی مدلل بحث کرکے حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ میٹنگ کے بعد احمد پٹیل اور سونیا گاندھی کی پھر بات ہوتی ہے۔ موتی لال ووہرا تبھی اپنی رائے دیتے ہیں، جب سونیا گاندھی ان سے پوچھتی ہیں۔ ایک آدمی اور ہے جس سے سونیا گاندھی رائے لیتی ہیں، ان کا نام ہے پُلک چٹرجی۔
کانگریس سرکار کی کارکردگی، اپوزیشن پارٹیوں کے ایک ہونے کی بے چینی اور انّا ہزارے اور رام دیو کی ممکنہ منصوبہ بندی کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی دگ وجے سنگھ نے بنائی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی پارٹی میں ان دنوں اتحاد نہیں ہے۔ سبھی آپس میں لڑ رہے ہیں اور عوام ان سے خوش نہیں ہیں۔ اتنا ہی نہیں، کسی بھی سیاسی پارٹی میں نوجوانوں کی قیادت نہیں ہے اور ملک کا نوجوان ایک موزوں لیڈر اور موزوں پارٹی کی تلاش میں ہے۔ یہی صحیح وقت ہے کہ ملک کی سرکار کی قیادت بدلی جائے اور راہل گاندھی کی قیادت میں ایک نوجوان حکومت بنائی جائے۔ راہل گاندھی ایک نئے پروگرام کا اعلان کریں۔ شاید دگ وجے سنگھ کے دماغ میں اندرا گاندھی رہی ہوں گی۔ اندرا گاندھی نے پہلے بینک نیشنلائزیشن اور بعد میں غریبی ہٹاؤ کا خوبصورت نعرہ دیا تھا اور ملک میں ایک نئی امید پیدا کی تھی۔ اب دگ وجے سنگھ چاہتے ہیں کہ پورے کانگریس کا بھلا ہو، اس کی شروعات دہلی کی حکومت سے ہو۔
راہل گاندھی کے وزیر اعظم بننے کی امید سے صرف اپوزیشن پارٹیاں ہی حیران نہیں ہوئی ہیں، بلکہ کانگریس کے اندر بھی بھنبھناہٹ شروع ہوگئی ہے۔ کانگریس کے اندر تقریباً اس بات پر ایک رائے ہے کہ لوک سبھا کا انتخاب ان کے لیے ٹیڑھی کھیر ہونے والا ہے۔ حالانکہ انہیں اس بات سے آرام بھی ملتا ہے کہ بی جے پی کا بھی گراف بن نہیں رہا ہے۔ لیکن کانگریسی قیادت اتر پردیش ، گجرات اور آندھرا پردیش کی نزاکت کو سمجھ رہی ہے۔ کرناٹک میں بھی وہ دیو گوڑا سے نزدیکی بنانا چاہتی ہے، لیکن اس کی شروعات دہلی سے ہو، اس پر ایک رائے بن گئی ہے۔ اترپردیش کے ساتھ دوسری ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کا سامنا نئے وزیر اعظم کے چہرے سے ہو، اس پر ایک رائے بن گئی ہے۔ سونیا گاندھی اس پر خاموش ہیں، لیکن انہیں بھی لگتا ہے کہ دوبارہ مرکز میں سرکار بنانے کے لیے جو بھی کیا جا سکتا ہے، کرنا چاہیے۔ ایک اور پیچ بیچ میں پھنسا ہوا ہے۔ سبرامنیم سوامی پر سیاسی حلقوں میں بھروسہ نہیں تھا، لیکن وہ ٹو جی معاملے پر اعتماد میں تھے اور ان کی کڑی محنت سے اس معاملے میںاے راجا، کنی موئی سمیت کئی بڑے نام تہاڑ میں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سی بی آئی کی ایف آئی آر میں دو بڑے صنعت کاروں کے نام بھی آ سکتے ہیں۔ اب سوامی کہہ رہے ہیں کہ ٹو جی کی آنچ ٹیڑھے ڈھنگ سے دس جن پتھ تک پہنچ سکتی ہے۔
ایسے ماحول میں راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کا پلان ماسٹر پیس پلان ہے۔ راہل گاندھی کو سیاسی تربیت دگ وجے سنگھ دے رہے ہیں۔ راہل گاندھی کی پریشانی یہ ہے کہ ہندوستان، ہندوستان کے مسائل، یہاں کے اختلافات اور یہاں کے سماجی تناؤ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہے۔ کبھی ان کا سامنا ہی ایسے سوالوں سے نہیں ہوا۔ یہاں کے ذات پر مبنی ڈھانچے، سماجی ڈھانچے کا سیاست پر اثر اور سیاست پر فرقوں اور ذاتوں کے مجموعوں کے نتیجہ میں اس کے بدلتے چہرے کا سامنا کبھی راہل گاندھی نے کیا ہی نہیں ہے۔ شمال مشرقی علاقوں کے مسائل، کشمیر، چین کا ہمارے اقتصادی نظام پر حملہ جیسے سوال راہل گاندھی کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، مسلمانوں کی پریشانیاں اور ہندوؤں کے جذبات کا کیسے انتہا پسند استعمال کرتے ہیں، اسے راہل گاندھی جانتے ہی نہیں ہیں۔
راہل کے ساتھ ایک مسئلہ اور بھی ہے، وہ علم کی جگہ اطلاعات کے ذریعہ متحرک ہوتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال ہے بھٹہ پارسول، جہاں کسانوں کے درمیان راہل بیٹھے تھے۔ انہوں نے دہلی آکر کہا کہ بہت سے کسانوں کو اتر پردیش پولس نے مار کر جلا دیا ہے۔ اُس گاؤں کا کوئی آدمی غائب نہیں ہے، کوئی مارا نہیں گیا۔ لیکن جو شخص ہندوستان کے وزیر اعظم کے عہدہ کا ممکنہ دعویدار ہے، وہ ایسے بیان دے دے، تو اسے کیا کہیں گے۔ راہل گاندھی نے ایسا بیان صرف چھوٹے کارکنوں کے حد سے زیادہ جوش اور بچوں جیسی اطلاعات کی بنیاد پر دیا۔ اگر انہیں وزیر اعظم بننا ہے تو حقائق کی جانچ کرنے کے بعد بولنے کے بنیادی اصول کی پیروی کرنی ہوگی۔
راہل گاندھی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پرنانا پنڈت جواہر لال نہرو کی کچھ کتابیں ضرور پڑھیں، جن میں ’ہندوستان ایک کھوج‘ (Discovery of India) اور ’والد کا خط بیٹی کے نام‘ اہم ہیں۔ انہیں مہاتما گاندھی کی ’ہند سوراج‘ اور کارل مارکس کی ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ ضرور پڑھنی چاہیے۔ ہندوستان کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی کتاب کا مطالعہ کرنا ان کے لیے ضروری ہے، جس کے بارے میں جناردن دویدی سے زیادہ انہیں آج اور کون بتا سکتا ہے۔ راہل گاندھی کو علم اور اطلاع کا فرق سمجھنا چاہیے۔ اگر علم کی جانب مائل آدمی نہیں ہوگا تو وہ لوجک یا دلیل پر مبنی ہوگا اور اس سے ہمیشہ غلطیاں ہوں گی۔ دلیل یا لوجک یا اطلاع کو کسوٹی پر کسنے کا کام نالیج یا علم کرتا ہے۔ یہی دگ وجے سنگھ کی بڑی کمزوری اور چنوتی بھی ہے کہ وہ راہل گاندھی کو کیسے اس کے لیے تیار کرتے ہیں۔ آنے والا وقت خطرناک ہے۔ دگ وجے سنگھ راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ تو کر سکتے ہیں، لیکن کامیاب ہونے کا راستہ تو راہل گاندھی کو ہی تلاش کرنا ہوگا۔ اگر راہل گاندھی وزیر اعظم بنتے ہیں تو انہیں تاریخ کے سب سے ناکام وزیر اعظم کا لقب نہ مل جائے، اس خطرہ سے بچنے کا علاج ابھی سے تلاش کرنا ہوگا۔
راہل گاندھی کے اوپر پارٹی کے اندر بھی حملے ہو رہے ہیں، لیکن وہ سیدھے نہیں ہیں۔ ان کا نشانہ کیئر آف ( معرفت) دگ وجے سنگھ ہیں۔ دگ وجے سنگھ پر بی جے پی سے زیادہ وار کانگریس کے لوگ کر رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں دو واقعات پیش آئے۔ دگ وجے سنگھ کی اعظم گڑھ پر مبنی مہم کو برباد کرنے کی کوشش ہوئی۔ وہیں رام دیو کے خلاف دگ وجے سنگھ کی حکمت عملی کا مذاق سب سے پہلے کانگریس کے ایک طاقتور گروپ نے اڑایا۔ انہوں نے سونیا گاندھی تک سے کہا کہ رام دیو کے خلاف بولنے سے دگ وجے سنگھ کو روکنا چاہیے، لیکن دگ وجے سنگھ نے راہل گاندھی اور پھر سونیا گاندھی کو سمجھا لیا کہ رام دیو سے سیاسی لڑائی لڑنی چاہیے۔ آج کانگریس…
ایک ادھ کچری ہی سہی، لیکن ایک سیاسی لڑائی لڑ رہی ہے۔ راہل گاندھی اتر پردیش میں کانگریس کی حالت سدھارنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے امیدوار پر مبنی تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلع کے سارے اسمبلی امیدوار بوتھ سطح تک کی کمیٹی بنائیں گے اور انہی پر مبنی ضلع کمیٹیاں اور بعد میں صوبائی کمیٹی بنے گی۔ یہ حکمت عملی دگ وجے سنگھ کی ہے، جسے راہل گاندھی کے نام سے پارٹی میں بھیجا گیا ہے۔ لیکن دگ وجے سنگھ بھول جاتے ہیں کہ ذات پر مبنی کوئی تنظیم کبھی مضبوط نہیں ہوتی۔ سب سے بڑا سوال آئڈیالوجی کا ہے۔ کانگریس کی آئڈیا لوجی ہے کیا، اسے کانگریس ہی نہیں جانتی۔ کانگریس کے پاس اب آئڈیالوجی پر مبنی کتابیں نہیں ہیں۔ مختلف سوالوں پر رائے بتانے والا لٹریچر نہیں ہے۔ اس کے لیے کسی کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ دگ وجے سنگھ کے ذریعہ تجویز کردہ کانگریس کی راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کی حکمت عملی میں چھوٹی موٹی کمیاں ہیں، جنہیں کانگریس ٹھیک کر سکتی ہے۔ وہ راہل گاندھی کو سامنے رکھ کر مخالفین کو الجھا سکتی ہے، لیکن خود کانگریس کے اندر پیچ ہے۔ خیالی سوال ہے کہ کیا وزیر اعظم منمو ہن سنگھ اس پلان کا ساتھ دیں گے۔ سونیا گاندھی کا کور گروپ انہیں صدر بنانے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔
اگر منموہن سنگھ نہ مانے،کیونکہ وہ وزیر اعظم بن چکے ہیں اور یہ ہندوستان کا سب سے طاقتور عہدہ ہے۔ اگر انہیں لگے کہ عوام کو ساتھ لے کر کچھ نیا کیا جا سکتا ہے تو کیا ہوگا۔ ایسی خبریں سرکاری ملازمین بتا رہے ہیں کہ منموہن سنگھ نے اب سونیا گاندھی کی، ان کے کور گروپ کی باتیں سننا کم کر دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، جن اہل کاروں کے ریٹائرمنٹ میں سال یا دو سال رہ گئے ہیں، انہوں نے تو کام کرنا ہی بند کر دیا ہے۔ ایک طرف سونیا گاندھی کا نام لے کر کام کرنے کا دباؤ تو دوسری طرف کسی اہل کار کا بچاؤ منموہن سنگھ سرکار نہیں کر رہی ہے۔ ٹیلی کام اسکینڈل میں کئی بڑے اہل کار جیل میں ہیں، جب کہ ان کا جرم اتنا ہی ہے کہ انہوں نے بڑے سیاسی لوگوں کی بات مان کر فائلیں کلیئر کر دی تھیں۔
سونیا گاندھی کا کور گروپ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ ان کی سرکار زوال کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان کی فکر ہے کہ حزب اختلاف کمزور ہے، عوام میں اس کی پکڑ نہیں ہے، تب بھی سرکار کے کام کرنے کے طریقے کی وجہ سے پارٹی اپنی ساکھ کھوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں ہوا بازی وزیر رہتے ہوئے پرفل پٹیل کا کوئی بڑا گھوٹالہ سامنے آ جائے یا پھر وزیر برائے تیل مرلی دیوڑا کا کوئی کارنامہ سامنے آ جائے تو کیا ہوگا۔ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس کے دوران سی اے جی کی رپورٹ ان دونوں کے خلاف آنے والی ہے۔ انّا ہزارے کی ممکنہ بھوک ہڑتال، اس کے پہلے ان کا کئی ریاستوں کا دورہ اور اب سرکار کے کئی وزیروں کی قلعی کھلنے کا ڈر۔ اس میں بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اندرا گاندھی کی طرح ایک نیا خواب ملک کو دکھایا جائے۔
نیا وزیر اعظم، نیا چہرہ، نئے وعدے اور نوجوانوں کو اقتدار میں آنے کی دعوت، اس کے ارد گرد حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے نہ صرف اتر پردیش میں ان کی پارٹی فعال ہو جائے گی، بلکہ گجرات میں بھی نئی امید کانگریس کو لے کر پیدا ہوگی۔ لیکن اس کے لیے راہل گاندھی کو کالی داس کی امیج سے باہر نکلنا ہوگا۔ ابھی تو مانا جا رہا ہے کہ وہ دگ وجے سنگھ کی زبان بول رہے ہیں۔ آپ کو کالی داس کی کہانی یاد ہوگی کہ وہ جس شاخ پر بیٹھے تھے، اسی کو کاٹ رہے تھے۔ وِدّیوتّما کو ہرانے کے لیے پنڈتوں نے انہی کو منتخب کیا۔ کانگریس کا کور گروپ حزب مخالف کو شکست دینے کے لیے جو حکمت عملی تیار کر رہا ہے، وہ کامیاب نہیں ہوگی، کیوں کہ اب سینکڑوں سال بعد کا زمانہ ہے۔
اب جسے وزیر اعظم بننا ہے، اسے اہلیت کی بنیاد پر اپنا دعویٰ ٹھونکنا ہوگا۔ راہل گاندھی کو ملک کے سوالوں کے جواب کھل کر اخبار والوں کے توسط سے دینے ہوں گے۔ سوالوں کے جواب اور انہیں دیکھنے کا طریقہ ہی ملک کے لوگوں کے دل میں ان کے لیے حمایت کی تعمیر کرے گا۔ چہرہ راہل گاندھی کا اور زبان دگ وجے سنگھ کی، یہ اب زیادہ دن نہیں چلنے والا ہے۔ آخر میں پھر منموہن سنگھ کی بات بتانا چاہتا ہوں۔ دولت مشترکہ کھیلوں کی جانچ کرنے والی شنگلو کمیٹی نے سریش کلماڑی کے ساتھ دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت پر پھر انگلی اٹھائی ہے۔ شنگلو کمیٹی کی رپورٹ کے اگلے حصوں میں کچھ ایسے بھی نام ہیں، جو سونیا گاندھی کے لیے پریشانی پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک خیالی سوال ہے کہ منموہن سنگھ اگر وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑ کر بدعنوانی کا نام لے کر ملک میں نکل پڑتے ہیں تو ملک کی تاریخ بدل جائے گی۔ وہ عظیم انسان بن جائیں گے۔ ان کا نام نہرو کے ہم پلہ لکھا جائے گا۔ لیکن منموہن سنگھ ایسا کریں گے نہیں، کیوں کہ وہ ہی ہیں جنہوں نے ملک میں امریکی مفاد کو بھرپور بڑھاوا دیا اور ملک کو غیر اعلانیہ غلامی کی حالت میں پہنچا دیا ہے۔ لیکن سیاست ایک ایسی چیز ہے، جس میں مدلل بحث کی بہت کم گنجائش ہوتی ہے۔ راہل گاندھی کا وزیر اعظم بننا اور منموہن سنگھ کے لیے بدعنوانی کے خلاف تحریک کرنا ایسے ہی سوال ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ منموہن سنگھ ملک کے ایسے پہلے وزیر اعظم ہیں، جو ہمیشہ لوک سبھا کا انتخاب ہارے اور راجیہ سبھا میں رہتے ہوئے انہوں نے اپنی وزیر کے عہدہ کی پوری مدت کاٹ دی۔ انہوں نے خواہش بھی ظاہر نہیں کی کہ وہ لوک سبھا کا انتخاب لڑیں گے، جب کہ اندرا گاندھی وزیر اعظم بنی تھیں تو وہ راجیہ سبھا میں آئی تھیں، لیکن انہوں نے بہت جلد راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے کر لوک سبھا کا انتخاب لڑا۔ اور اصول یہی ہے کہ ملک کا وزیر اعظم لوگوں کے ذریعہ منتخب ہونے کے لائق یا ان کا اعتماد پانے کے لائق کوئی آدمی ہونا چاہیے۔
ایک نئی پریشانی ملک کے سامنے کھڑی ہونے والی ہے۔ ہندوستان کے آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کی یومِ پیدائش کا تنازع سرکار حل نہیں کرنا چاہتی۔ ہندوستان کے سپریم کورٹ کے تین سابق جج، چیف جسٹس کھنہ، چیف جسٹس لہوٹی اور چیف جسٹس جے ایس ورما نے اپنی تحریری رائے جنرل وی کے سنگھ کے حق میں دی ہے۔ نیرا راڈیا کے رابطے میں رہے ہندوستان کے اٹارنی جنرل واہنوتی نے جنرل وی کے سنگھ کے خلاف رائے دی ہے۔ جنرل وی کے سنگھ کی عمر کیا ہے، یہ تنازع تب کھڑا ہوا ہے، جب وہ ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔ اس تنازع کو بڑھانے میں فوج کے دوسرے نمبر کے جنرل اور خود وزیر اعظم کی رہائش گاہ میں رہنے والی ایک خاتون ہیں۔ جنرل وی کے سنگھ کے حق میں اگر فیصلہ نہیں ہوتا ہے تو انہیں مجبوراً خود کو سچ ثابت کرنے کے لیے سپریم کورٹ جانا پڑے گا۔ مانا جا رہا ہے کہ یہ ملک کا پہلا ایسا معاملہ ہوگا اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد سرکار کو شرمندگی جھیلنی پڑ سکتی ہے۔ تکنیکی طور پر ہندوستان کی صدر فوج کی سپریم کمانڈر ہیں اور فیصلہ انہیں ہی لینا ہے۔ ہندوستان کی حکومت کیسے مسائل پیدا کرتی ہے اور انہیں بڑھاتی ہے، آرمی چیف کی عمر کا سوال اس کی زندہ مثال ہے۔
لیکن ایسے سوالوں سے راہل گاندھی کو دو چار تو ہونا ہی پڑے گا، اگر کانگریس انہیں وزیر اعظم بنانے کے لیے پارلیمانی پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیتی ہے تو۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی میں اگست سے شروع ہونے والے اجلاس میں ایک بڑی دستخط مہم بھی چلائی جانے والی ہے، جس میں راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے والے ممبران پارلیمنٹ کے دستخط ہوں گے۔ اگر دو سو دستخط ہو جاتے ہیں تو منموہن سنگھ کے سامنے کیا راستہ رہ جائے گا، یہ سوال آج بھی کھڑا ہے، کل بھی کھڑا رہے گا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *