منموہن سنگھ کی 15اگست کی تقریر کوئی چھاپ نہیں چھوڑ پائی

Share Article

سنوش بھارتیہ
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے لال قلعہ سے پندرہ اگست کو ملک سے خطاب کیا۔ خطاب سے پہلے لوگ امید کر رہے تھے کہ وہ ان سارے سوالوں کا جواب دیں گے، جو سوال آج ملک کو درپیش ہیں یا جنہیں ان کے سامنے اٹھایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں تو کوئی سوال اٹھا ہی نہیں رہی ہیں، سوال صرف انا ہزارے اور بابا رام دیو اٹھا رہے ہیں۔ ان سوالوں کو عوام کی حمایت بھی ملی ہے۔ ان سوالوں کا جواب وزیر اعظم کو لال قلعہ سے دینا چاہیے تھا۔ لیکن وزیر اعظم نے ان سوالوں کا جواب لال قلعہ سے شاید اس لیے نہیں دیا، کیوں کہ انہیں لگا ہوگا کہ یہ سوال ایسے ہیں، جن کا جواب نہ دیا جائے تو بہت اچھا رہے گا۔ تاہم، انہوں نے یہ اشارہ ضرور دے دیا کہ سرکار کے کام کرنے کا طریقہ بدلے گا نہیں اور جیسے سرکار چلتی آئی ہے، ویسے ہی آگے بھی چلتی رہے گی۔ مثال کے طور پر وزیر اعظم کی بجلی سے متعلق تقریر کو لیں۔ منموہن سنگھ جب وزیر اعظم بنے تھے، تب انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کے ہر گاؤں میں بجلی پہنچائی جائے گی اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اگلے پانچ سالوں میں وہ ہر گھر میں بجلی پہنچائیں گے۔

جس ملک میں اپوزیشن اپنی ذمہ داری بھول گیا ہو، اس ملک میں ایسے وزیر اعظم کی ضرورت ہے جو بغیر کسی کے آگاہ کیے، ملک کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو لے کر خود جاگ جائے۔ پر شاید وزیر اعظم منموہن سنگھ نے نہ جاگنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اسی لیے ان کی پندرہ اگست کی لال قلعہ کی تقریر اس ملک میں کوئی چھاپ ہی نہیں چھوڑ پائی۔ کانگریس نے ہی پنڈت جواہر لعل نہرو، لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی جیسے وزیر اعظم دیے ہیں۔ یہ جب لال قلعہ سے بولتے تھے، تو ان کا پورے سال کا ایجنڈا ملک کے لوگوں کے سامنے آ جاتا تھا۔ لوگوں میں ایک امید جگتی تھی کہ چلو کچھ ہے جو ہونے والا ہے۔ پر نرسمہا راؤ اور منموہن سنگھ کانگریس کے ایسے وزیر اعظم رہے ہیں، جن کی تقریروں نے نہ امید جگائی اور نہ خواب دکھائے۔

وزیر اعظم یہ بتانا بھول گئے کہ بجلی پہنچانے سے ان کا مطلب کیا ہے، گاؤں میں یا گھروں میں کھمبے لگا دینا، بجلی کے تار لگا دینا اور ان تاروں سے لٹکا ہوا ایک بلب لگا دینا؟ یا بجلی سے مطلب ہے بجلی کی پیداوار بڑھانا، جس سے ہر گاؤں اور ہر گھر میں چوبیس گھنٹے روشنی ہو سکے یا پیداوار ہو سکے۔ گزشتہ سات سالوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بجلی کی پیداوار بڑھی نہیں ہے اور ملک میں بجلی کی دستیابی لگاتار کم ہوتی جا رہی ہے۔ سرکار کی ترجیح بجلی ہے ہی نہیں۔ پچھلے سات، یا دس، یا پندرہ سالوں میں جتنے معاہدوں پر دستخط ہوئے، ان میں بہت کم پیداوار کے عمل میں پہنچ پائے ہیں۔ بجلی پیدا کرنے کی موجودہ صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت کا اوسطاً تیس فیصد ہی پیدا کر پا رہی ہیں، لیکن اس کی فکر سرکار کو نہیں ہے۔ شاید سرکار چاہتی ہے کہ بجلی کی پیداوار اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچ جائے، تاکہ اسے دو کاموں کو کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے۔ پہلا کام، پورے پاور سیکٹر کو نجی ہاتھوں میں سونپ دینا؛ اور دوسرا، پاور سیکٹر میں تیزی کے ساتھ نیوکلیئر انڈسٹری کو گھسانا، یعنی نیوکلیئر پاور پروجیکٹ کی تعمیر میں اضافہ کرنا۔ پوری دنیا میں نیوکلیئر پاور پلانٹ بند ہونے کے مرحلے میں پہنچ گئے ہیں، کیوں کہ وہاں کی حکومتوں کو لگتا ہے کہ اس سے لوگوں کی جان و مال کو خطرہ ہو سکتا ہے، اس لیے وہ اپنی برسوں پرانی تکنیک کو ہمیں بیچ دینا چاہتے ہیں۔ ہمارا ملک نیوکلیئر کچرے کا گودام بن جائے، اس کا منصوبہ غیر ملکی طاقتوں نے بنایا ہے۔
منموہن سنگھ جیسا ماہر اقتصادیات کیوں یہ نہیں سمجھ پا رہا ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو فوری طور پر یہ سوچنا چاہیے کہ 1991 سے نافذ ہوئی اقتصادی پالیسیاں اس ملک کے لیے کتنی کارگر رہی ہیں۔ کیا ہمارے ملک کے لوگوں کے پیٹ میں روٹی گئی ہے، کیا ہاتھوں کو کام ملا ہے اور کیا بیماری سے لڑنے کے لیے اسپتال اور ناخواندگی سے لڑنے کے لیے اسکولوں کی تعداد میں اور ان کے معیار میں کوئی اضافہ ہوا ہے؟ نہ ملک میں پینے کے لیے پانی ہے، نہ سینچائی کے لیے پانی ہے، نہ پڑھنے کے لیے اسکول ہیں اور جو ہیں بھی، وہ اس طرح چل رہے ہیںگویا ہم افریقہ کا کوئی غریب ملک ہوں۔ صحت کے مراکز تو صرف کہنے کے لیے ہیں۔ پڑھائی مہنگی، علاج مہنگا، روزگار کے وسائل نہیں، تو کس کام کے آپ ملک کے نیتا ہیں، ماہر اقتصادیات ہیں اور وزیر اعظم ہیں؟ جس ملک میں اپوزیشن اپنی ذمہ داری بھول گیا ہو، اس ملک میں ایسے وزیر اعظم کی ضرورت ہے جو بغیر کسی کے آگاہ کیے، ملک کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو لے کر خود جاگ جائے۔ پر شاید وزیر اعظم منموہن سنگھ نے نہ جاگنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اسی لیے ان کی پندرہ اگست کی لال قلعہ کی تقریر اس ملک میں کوئی چھاپ ہی نہیں چھوڑ پائی۔ کانگریس نے ہی پنڈت جواہر لعل نہرو، لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی جیسے وزیر اعظم دیے ہیں۔ یہ جب لال قلعہ سے بولتے تھے، تو ان کا پورے سال کا ایجنڈا ملک کے لوگوں کے سامنے آ جاتا تھا۔ لوگوں میں ایک امید جگتی تھی کہ چلو کچھ ہے جو ہونے والا ہے۔ پر نرسمہا راؤ اور منموہن سنگھ کانگریس کے ایسے وزیر اعظم رہے ہیں، جن کی تقریروں نے نہ امید جگائی اور نہ خواب دکھائے۔
منموہن سنگھ کو وزیر اعظم کے ناطے شاید ایک اور بدنامی ملنے والی ہے۔ منموہن سنگھ سے پہلے کے سارے وزیر اعظم جمہوری آوازوں کو سنتے تھے، ان کا جواب دیتے تھے، لوگوں کو لگتا تھا کہ جمہوریت میں اگر وہ اپنی تکلیف کو لے کر کچھ کہیں گے تو سرکار ان کا مذاق نہیں اڑا پائے گی۔ پر منموہن سنگھ کی سرکار نے تو یہ کمال کا کام کیا ہے کہ جمہوری طریقے سے اٹھائی گئی اناہزارے اور رام دیو کی آواز کا مذاق اڑایا۔ دوسری طرف انہوں نے یہ کہنے کی کوشش کی کہ ہمارے لیے پرامن اور جمہوری آوازوں کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ بالفاظِ دیگر، انہوں نے عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر آپ ریل روک لیں، اگر آپ سڑکوں پر آگ زنی کریں تو ہم آپ کی بات سنجیدگی سے سنیں گے اور ان پر عمل کرنے کا وعدہ کریں گے، اور یہ بھی بتا دیا کہ اگر آپ آئی اے ایس افسر کا اغوا کرلیں تو ہم آپ کی بات اور جلدی سنیں گے۔ پچھلے دنوں ایسا ہوا بھی۔ ان دونوں ہی طرح کے واقعات پر سرکار نے رسپانس دیا، لیکن پر امن تحریک یا آندولن کی باتوں پر بالکل دھیان نہیں دیا۔ ہم جانتے ہیں کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ہماری باتیں اچھی نہیں لگیں گی، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے ارد گرد گھوم رہے صلاح کاروں میں ایسے لوگ زیادہ بھرے ہیں، جن کا ماننا ہے کہ میڈیا کی بات پر دھیان مت دو، بلکہ انہیں خرید کر اپنا بھونپو بنا لو۔ میڈیا کو بلا کر یہ پیغام دو کہ اگر وہ کرائم سے جڑے سوالوں پر زیادہ وقت دیں تو سرکار کو کوئی پریشانی نہیں، سرکار ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ شاید اسی لیے میڈیا لوگوں کی تکلیفیں، لوگوں کی تشویش، لوگوں کے دکھ اپنی ترجیحات میں نہیں رکھتا، بلکہ منموہن سنگھ کے صلاح کاروں کا ایک گروپ انہیں یہ سمجھانے میں کامیاب ہو گیا ہے کہ ایسے اخباروں اور ایسے صحافیوں کا، جو صحیح بات لکھتے ہیں، پورا دھیان رکھنا چاہیے۔ اس پورے دھیان کا مطلب ہے، ان کی فون کال نگرانی پر رکھی جائے، ان کی آمد و رفت پر نظر رکھی جائے، کیوں کہ یہ ان سے زیادہ خطرناک ہیں جو بدعنوانی کرتے ہیں، جو ملک کو لوٹتے ہیں، اور جو ملک میں لوٹ مار کی صورتِ حال پیدا کرنے میں لگے ہیں۔
اس کے باوجود وزیر اعظم منموہن سنگھ سے کہنے کی خواہش ہوتی ہے کہ اگر آپ میں تھوڑی سی خواہش اس بات کی بچی ہے کہ آپ کو لوگ اچھے اور سرگرم وزیر اعظم کے طور پر یاد کریں، تو آپ کو کچھ تو ملک کے 70 فیصد لوگوں کے لیے کرنا ہوگا۔ اور اس کا فارمولہ مہاتما گاندھی کا دیا ہوا ہے جو منموہن سنگھ کو بتاتے ہیں، کیوں کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ منموہن سنگھ جی نے شاید گاندھی جی کی کوئی کتاب نہیں پڑھی ہے۔ فیصلہ کی جانچ کے لیے گاندھی جی نے کہا تھا کہ جب بھی کوئی فیصلہ کرو تو اُس آدمی کو دھیان میں رکھو، جو تمہاری نظر میں سب سے غریب اور آخری آدمی ہے۔ اگر تمہارے فیصلہ کا فائدہ اُس آدمی کو ہوتا ہے تو فیصلہ صحیح ہے، ورنہ وہ فیصلہ نہ کرنے لائق ہے۔ ایک بار منموہن سنگھ اپنے فیصلوں کو اس کسوٹی پر کسیں تو انہیں پتہ چلے گا کہ انہوں نے کتنے صحیح فیصلے کیے اور کتنے غلط فیصلے کیے۔ تاریخ میں درج ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وزیر اعظم کے بارے میں یہ نہ لکھا جائے کہ وہ اتفاق سے بنے وزیر اعظم ہیں، بلکہ یہ لکھا جائے کہ وہ ملک کے چہیتے وزیر اعظم ہیں۔
اپوزیشن کی غیر حاضری میں منموہن سنگھ کا پھونک پھونک کر قدم رکھنا ضروری ہے، ورنہ یہ ملک ناامیدی کی طرف بڑھتا جائے گا۔ اس پندرہ اگست کی تقریر منموہن سنگھ کی کوئی تصویر نہیں بناتی۔ اگر کوئی تصویر بنتی ہے تو وہ اتفاق سے بنے وزیر اعظم کی تصویر بنتی ہے، چہیتے وزیر اعظم کی نہیں۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ منموہن سنگھ ملک کے چہیتے وزیر اعظم بنیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *