p-3جمہوریت میں جب کوئی شہری سسٹم سے مایوس ہو، تو اس کے پاس بہت محدود متبادل ہوتے ہیں۔ وہ اپنی مانگوں کو لے کر دھرنا، بھوک ہڑتال یا ستیہ گرہ کرتا ہے، لیکن کیا اسے اس طرح انصاف مل پاتا ہے۔ ملک کی جمہوری سرکار نے 16 سال سے بھوک ہڑتال کررہی ایروم شرمیلا کی مانگیں نہیں سنیں۔ ان 16 سالوں میں سرکار نے شرمیلا سے بات تک کرنے کی ضرورت نہیںمحسوس کی۔ اب شرمیلا بھوک ہڑتال چھوڑ کر انتخاب لڑیںگی۔ ایسے میںاس ملک میںکسی عدم تشدد کی تحریک کی کیا اہمیت رہ جائے گی اور ایروم شرمیلا سیاست کے ذریعہ کتنی تبدیلی لاپائیں گی؟ یہ ایسے سوال ہیں، جو عام لوگوں کو اندر تک کریدرہے ہیں۔
منی پور کی آئرن لیڈی کے نام سے مشہور ایروم شرمیلا نے 9 اگست کو 16 سال سے جاری انشن توڑ دیا۔ جیل سے چھوٹنے کے بعد شرمیلا نے میڈیا سے کہا کہ لوگ ان کو سنت یا دیوی مان بیٹھے ہیں، میںایک عام عورت ہوں۔ ایروم کو لگتا ہے کہ لوگ ان کو شہید ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں، ا س لیے وہ ان کے آندولن کا طریقہ بدلنے سے اتفاق نہیںرکھتے۔ شرمیلا، منی پورکی وزیر اعلیٰ بننا چاہتی ہیں تاکہ افسپا کے مدعے کو زندہ رکھ سکیں۔ ان کا ماننا ہے کہ لوگ سیاست سے نفرت کرتے ہیں،لیکن سماج بھی تو گندا ہے۔ انھوںنے کہا کہ 20 آزاد نمائندے ان کے ساتھ آئیں اور انتخاب کے بعد سی ایم ایبوبی کا اقتدار پلٹ دیں۔ ان کا آندولن جاری ہے،وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹیںگی۔
شرمیلا، منی پور سے آرمڈ فورسیز اسپیشل پاور ایکٹ 1958- (افسپا) ہٹانے کی مانگ کررہی تھیں۔ 2017 کو ریاست میںہونے والے اسمبلی انتخاب میںشرمیلا آزاد امیدوار کے طور پر وزیر اعلیٰ ایبوبی کے خلاف الیکشن لڑیںگی۔ ریاست کے لوگ ان کے اس قدم کی مخالفت کررہے ہیں۔ زیر زمین تنظیموں نے بھی شرمیلا کو خط لکھ کر اس کی مخالفت کی۔ ہر طبقے سے مخالفت کی آواز اٹھی۔ سب کو معلوم ہے کہ شرمیلا نے 2 نومبر 2000 سے اس وقت بھوک ہڑتال شروع کی تھی،جب امپھال سے نو کلومیٹر دور مالوم نام کے مقام پر آسام رائفلز کے جوانوں نے 10 لوگوں کو ماردیا تھا۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔
شرمیلا کا ماننا ہے کہ وہ انشن سے تبدیلی نہیں لاپائیں۔ ان 16 سالوں میںان کی لڑائی سے سرکار کے کانوںپر جوںتک نہیںرینگی۔ اب وہ ایک نئے طریقے سے جدوجہد کریںگی۔انھوں نے کہا کہ سنگھرش وہی ہے،صرف حکمت عملی بدلی ہے۔ شرمیلا کو اس بات سے بے حد افسوس ہے کہ منی پور میں ہوئی ایک فرضی مڈبھیڑ میںشامل ہیڈ کانسٹبل ہیروجیت کے ذریعہ کورٹ کے سامنے اپنی غلطی قبول کیے جانے کے بعد بھی ریاست کے عوام خاموش ہیں۔ ہیروجیت نے کورٹ کے سامنے کہا کہ افسروںکے آرڈر پر ہی انھوں نے گولی ماری تھی۔ اس کے بعد افسپا کی مخالفت میںچاروںطرف سے آواز اٹھنی چاہیے تھی۔ انھیںسب سے زیادہ مایوسی اس بات سے ہے کہ اس آندولن میںوہ اکیلی ہوگئی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک عوام اپنے سچے نمائندے نہیں چنیں گے، تب تک سماج میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس لیے انھوںنے افسپا کو مدعا بنا کر آزاد انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ انھوںنے کھرائی اسمبلی حلقے سے الیکشن لڑنے اور گرہستی کی زندگی میںداخل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ شرمیلا کسی سیاسی پارٹی کا مکھوٹا بننا نہیں چاہتی ہیں۔کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے انھیں پہلے بھی الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا، لیکن انھوںنے انکار کردیاتھا۔
شرمیلا افسپا کی مخالفت میں ہوئے سنگھرش کی’ نائیکا ‘ رہی ہیں۔ 16 سال کی بھوک ہڑتال کے بعد شرمیلا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بحث کے مرکز میں لائیں۔ یہ 16 سال ہندوستانی جمہوریت کے لیے اہم ہیں۔ یہ ان ہی کی کوششوں کی جیت ہے کہ سپریم کورٹ نے 1500 فرضی مڈبھیڑ کے معاملوں میں سنتوش ہیگڑے کمیٹی کی تشکیل کی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ مقامی سیاسی پارٹیوں نے ان کی حمایت کبھی نہیں کی۔
شرمیلا کے اس اعلان سے وزیر اعلیٰ اوکرم ایبوبی سنگھ اور ان کی سرکار کو سب سے زیادہ راحت ملی ہے۔ اگر ان 16 سالوں میں شرمیلا کو جیل وارڈ میںکچھ ہوجاتا، تو شاید منی پور کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا۔ سرکار نے نہ جانے ان 16سالوں میں شرمیلا کو زندہ رکھنے کے لیے کتنے پیسے خرچ کیے؟ سرکار میں شرمیلا کو لے کر سپورٹ کم دباؤ زیادہ تھا۔ شرمیلا کے اس خاموش انشن کے سبب ہی امپھال میونسپل ایریا سے افسپا ہٹانا پڑا تھا۔ ان 16 سالوں میں شرمیلا کی حمایت اور افسپا کی مخالفت میں کئی عوامی تنظیمیں تو بن گئیں، پھر بھی یہ عوامی تحریک کی شکل اختیارنہیں کرپائی۔ شرمیلا کی اس لڑائی میں کوئی تنظیمی طاقت نہیں ہے۔ وہ ہاسپٹل جیل کے ایک وارڈ میں بیٹھ کرچپ چاپ انشن کرتی رہیں۔ مہاتما گاندھی نے انشن کیا تھا، تو ان کے پیچھے پورے ملک کی طاقت تھی، لیکن شرمیلا کے انشن کے ساتھ نہ تو شروع میں کوئی تنظیم تھی اور نہ ہی اب ہے۔ شروع میں طلبہ تنظیم بھی ان کے انشن میںشامل ہونے سے کتراتی تھی۔
2004کے بعد شرمیلا کے انشن پر لوگوں کی حمایت ملنے لگی۔ تب تک گوانجو ہیومین رائٹس ایوارڈ اور رویندر ناتھ ٹیگور پیس ایوارڈ شرمیلا کو مل چکا تھا۔ 2007 تک آتے آتے لوگوں کی حمایت ملنے لگی۔ اسی دوران شرمیلا کو ایک غیر ملکی سے پیار ہوا، تو لوگوںمیںاسے لے کر مخالفت اور غصہابھرا۔اس بات پر منی پور کی ایما یعنی خواتین سے بھی شرمیلا کے اختلاف ہوگئے تھے۔ ان کے اس نجی فیصلے سے لوگ دلبرداشتہ تھے۔ شرمیلا اپنے آپ کو آندولن کا لیڈر ماننے سے انکار کرتی رہیں۔ شرمیلا کے انکار کی وجہ سے فیسٹیول آف ہوپ جسٹس اینڈ پیس کیمپین آگے نہیںبڑھ سکی۔شرمیلا سے لوگ پیار کرتے ہیں اور ان کی حمایت بھی کرتے ہیں، لیکن وہ اسے ایک سیاسی آندولن میںبدلنے میںناکام رہیں۔
ایسے میںشرمیلا اگر سیاست میںآئیں، تو ان کوسیاست کی سچائیوںسے روبرو ہونا پڑے گا۔ ایک طرف شرمیلا کا نجی فیصلہ پیار، شادی اور انتخاب لڑنا ہے، دوسری طرف فوج ہے۔ فوج ہمیشہ سے افسپا کی حمایت میں ہے۔ فوج کی مرضی کے خلاف سرکار بھی افسپا نہیں ہٹا سکتی۔ انتخابی میدان میںشرمیلا کتنی کامیاب ہوں گی یا اپنی مانگ کو لے کر کتنا آگے جاپائیںگی،یہ ابھی کہنا مشکل ہے۔لیکن یہ سچ ہے کہ ان کے لیے سیاست کی ڈگر اتنی آسان نہیںہے۔ وہ کسی سیاسی پارٹی کی نمائندہ نہیں ہیں۔ وہ اکیلی آزاد الیکشن لڑیں گی۔ الیکشن میں وہ ہار جیت کا سامنا تو کریںگی ہی، لیکن ان کی دوسری چنوتی یہ ہوگی کہ وہ افسپا کے مدعے کو اسمبلی میںزوردار طریقے سے اٹھاپاتی ہیںیا نہیں۔ایسا بھی ہوا تھا کہ ناگالینڈ اسمبلی نے افسپاہٹانے کا فیصلہ اتفاق رائے سے پاس کیا ، لیکن مرکزی سرکار نے ناگالینڈ کے ایوان کے فیصلے کو خارج کردیا۔ ایسے میںشرمیلا کے سیاست میںآنے کا فیصلہ کتنا کارگر ہوگا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
ریاست کی ایماندارانہ کوشش سے ہی ہٹے گا افسپا
رکن پارلیمنٹ سی این جیدیوان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو نے کہا کہ منی پور میں افسپا ریاستی سرکار کی وجہ سے لاگو ہے۔ منی پور کو’ ڈسٹرب ایریا ‘ کا اعلان ریاستی سرکار نے ہی کیا ہے۔ افسپا کے مدعے پر ریاستی سرکار وقتاً فوقتاً سیکورٹی ایجنسیوںکے ساتھ مل کر جائزہ لیتی ہے ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ کے اس بیان کے بعد عوام نے سوشل میڈیا پر ایک مہم چھیڑی۔ انھوںنے مانگ رکھی کہ وزیر اعلیٰ ایبوبی سنگھ کو اس معاملے میں اہم فیصلہ لینا چاہیے۔ پھر بھی ابھی تک سرکار کی طرف سے کوئی بیان نہیںآیا ہے۔ تری پورہ جیسی ریاست میں مضبوط مقامی سرکار کی وجہ سے مئی 2015 کو افسپا ہٹالیا گیا تھا۔ ریاست کا لاء اینڈ آرڈر درست ہونے پر ریاستی سرکار نے افسپا ہٹانے کا فیصلہ لیا تھا، لیکن ناگا لینڈ، منی پور، ارونا چل پردیش،آسام، میزورم اور میگھالیہ کے شورش زدہ حالات کو دیکھتے ہوئے اب بھی افسپا نافذ ہے۔ ناگا لینڈ اسمبلی نے اتفاق رائے سے فیصلہ لے کر افسپا ہٹانے کی تجویز مرکز کو بھیجی تھی، پھر بھی مرکزی سرکار نے اسے خارج کردیا تھا۔ ناگالینڈ ڈسٹرب ایریا ڈکلیئر ہے۔ ناگالینڈ میںاین ایس سی این (آئی ایم) کے ساتھ مرکزی سرکار سے مذاکرات چل رہے ہیں، اس لیے وہاں کا سیاسی منظرنامہ الگ ہے۔ منی پور میںبھی 16 سال سے ایروم شرمیلاحکومت سے یہ مانگ کرتی رہی ہیں۔ لیکن ریاستی سرکار نے اس میںکوئی خاص دلچسپی نہیںلی۔ یہ سچ ہے کہ ریاست کے لاء اینڈ آرڈر کے مدنظر مرکزی سرکار افسپا کو لے کر ریاستی سرکا ر کے فیصلے پر مداخلت کرسکتی ہے۔ مرکز کی منظوری کے بغیر کسی بھی ریاست سے افسپا ہٹانا ممکن نہیںہے۔
آخر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے اس بیان سے پوری طرح سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اسے لے کر منی پور ریاستی سرکار نے لاپرواہی برتی ہے۔ اتنے طویل عرصہ سے افسپا کو لے کر لوگ مررہے ہیں، کئی ناخوشگوار تشدد ہوئے۔ 2004 میں ہی منورما کے قتل کے خلاف پیبم چترنجن نے اپنے اوپر تیل چھڑک کر آگ لگا کر خودکشی کرلی۔ آسام رائفلز کے گیٹ پر منی پور کی عورتوں نے ننگامظاہرہ کیا۔ بینر میںلکھا تھا، ’ انڈین آرمی ریپ اَس‘۔ یہ ہندوستانی سیاست کی تاریخ میںایک سیاہ باب ہے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی ریاستی سرکار 16 سال سے خاموش ہے۔ ایسے میں کرن رجیجو کا بیان غلط نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ الیکشن کے مدنظر یہا ں کے عوام اسے ایک سیاسی بیان بازی مانیں، لیکن یہ بھی اتناہی سچ ہے کہ صرف سول آرگنائزیشنس اور شرمیلاکے چلّانے سے مرکزی سرکار بھلا کیا کرے گی۔ مرکزی سرکار کتنی مدد کرتی ہے، یہ تو ریاستی سرکار کی ایماندارانہ کوشش پر منحصر ہے۔
آسام میںامن کی چنوتی
آسام کے کوکراجھار میں5 اگست کو دہشت گردوں کے حملے میں14 لوگ مارے گئے اور 20 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ اس حملے کے پیچھے نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ ، این ڈی ایف بی (ایس) کا ہاتھ مانا جارہا ہے۔ یہ واقعہ کوکراجھار کے ایک بھیڑ بھاڑ والے بازار میںانجام دیا گیا تھا۔ سیکورٹی فورس نے بھی جوابی حملے میںایک دہشت گرد کو مار گرایا۔ یہ واقعہ بوڈو اکثریتی علاقوںمیں گزشتہ دو سالوں کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آسام کے اس واقعہ کی مذمت کی۔ نومنتخب آسام کے وزیر اعلیٰ سونووال کا ماننا ہے کہ کوکراجھار حملے میں باہری طاقت شامل ہوسکتی ہے۔ اس کی جانچ جاری ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغی لوگ حملہ کرکے سستی شہرت حاصل کرنا بند کریں۔ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ (این ڈی ایف بی ) ایک مسلح علیحدگی پسند تنظیم ہے،جو 1986 میں تشکیل کی گئی تھی۔اس کی کئی شاخیںہیں این ڈی ایف بی(آر)، این ڈی ایف بی (پی)۔ یہ تنظیم بوڈو آدیواسی علاقوں میں سرگرم سب سے بڑی اور طاقتور تنظیم ہے۔ بوڈو عسکریت پسند آسام میں الگ بوڈو ریاست بوڈو لینڈ کی مانگ کررہے ہیں۔ اسی وجہ سے باہری لوگ جیسے سنتھال، منڈا اور اوراؤن آدیواسی، جو انگریز سرکار کے دور میںآسام کے چائے باغان میں مزدوری کے لیے لائے گئے تھے، کو بھگانا چاہتا ہے۔ ای ڈی ایف بی تارکین بنگالی مسلمانوں پر بھی نشانہ لگائے ہوئے تھے۔ تنازع کی جڑ میںمقامی آدیواسی اور درانداز مسلمان ہیں۔ دراصل بوڈولینڈ آٹونومس کونسل علاقے کے تحت آنے والی غیر بوڈو کمیونٹیز نے پچھلے کچھ عرصہ سے بوڈو کمیونٹی کی الگ ریاست بنانے کی کئی دہائی پرانی مانگ کی کھل کر مخالفت شروع کردی ہے۔ اس مخالفت میںغیر بوڈو سرکشا منچ اور آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن بوڈولینڈ کا اہم کردار رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ پہل ہندو، عیسائی اور بوڈو آدیواسیوں کو راس نہیں آرہی ہے۔ ان آبائی باشندوںکی ناراضگی کا سبب یہ بھی ہے کہ سرحد پر سے دراندازی کرنے والے مسلمان ان کی زندگی کے اہم وسائل کو لگاتار ہتھیا رہے ہیں۔ یہ سلسلہ 1950 سے جاری ہے۔ اس لیے ریاستی سرکار کی مخالفت میںوہ وقتاً فوقتاً اس طرح کے حملے کرکے احتجاج کرتے رہے ہیں۔ بوڈو لینڈ ٹیریٹوریل کونسل کے لیڈر ہگراما موہیلاری نے تو گزشتہ اسمبلی انتخاب میںبی جے پی سے اتحاد کرکے الیکشن لڑا تھا۔
آسام ، منی پور سمیت شمال مشرقی ریاستوں میں 15 اگست اور 26 جنوری کا وہاں کے دہشت گرد گروپ ہمیشہ مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے سیکورٹی فورسیز اور خفیہ ایجنسیاں پہلے سے ہی محتاط ہیں، اس کے باوجود حملہ ہوا۔ مرکز اور ریاست میں ایک ہی پارٹی کی سرکار ہے، اس لیے یہ بہانہ نہیں چل سکتا کہ ریاست اور مرکزکے خفیہ اداروںکے بیچ تال میل کی کمی تھی۔
ٓ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here