مندر داخلہ تنازع میں سرکار کی مداخلت غیر مناسب

Share Article
گزشتہ دنوں میڈیا میں ایک خبر اہمیت کے ساتھ چھائی رہی۔ یہ خبر تھی مختلف خواتین تنظیموں کے ذریعہ سبری مالا مندر میں داخلہ کولے کر کیے جارہے آندولنوں کے بارے میں۔ ا س مندر میں 10 سے 60 سال کی عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ پونے کے نزدیک شنی مندر کے گربھ گرہ میں بھی عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے۔ ایک سیکولر سماج میں کسی سرکار کے لیے قطعی غیر مناسب ہے کہ وہ مذہبی رواجوں اور عمل پر تبصرہ یا مداخلت کرے، جیسا کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ نے خواتین تنظیموں کو حمایت دینے کی بات کہی ہے۔حمایت یا مخالفت کرنا ان کا کام نہیں ہے۔ یہ ایک خطرناک ٹرینڈ شروع ہوا ہے،جس میں سرکار اگر ایک دھرم کے معاملوں میں مداخلت کرے گی، تو دوسرے مذہبوں کے معاملوں میں بھی مداخلت کرنے سے اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔ یہ ایک خطرناک شروعات ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
اسی طرح سپریم کورٹ نے سبری مالا مندر کوایک نوٹس جاری کیا ہے، جو پوری طرح غلط ہے۔ عدالت عظمیٰ کے طور پر سپریم کورٹ کو اندھ وشواس کو فروغ دینے والا کام نہیں کرنا چاہیے۔دراصل اسے ان عورتوں سے پوچھناچاہیے کہ وہ اس مندر میں کیوں جانا چاہتی ہیں، جو نہیں چاہتا کہ وہ وہاں جائیں؟ وہ کہتی ہیں کہ وہاں بھگوان رہتا ہے۔ یہ ایک نجی مذہبی وابستگی ہے۔ میں اپنے بارے میں بول سکتا ہوں کہ اس مذہبی مقام پر نہیں جاؤں گا،جہاں مجھے لگے کہ وہاں کی رسمیں ٹھیک نہیں ہیں۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ بھگوان یا اس کے ایجنٹ کی اجارہ داری ہے یا میری قسمت کسی خاص مندر میں جانے ، نہ جانے سے جڑی ہوئی ہے۔مجھے حیرت ہے کہ مبینہ ماڈرن عورتیں اسے جنسی عدم مساوات کا موضوع مان رہی ہیں ۔ ہاں کسی سرکاری ادارے میں کوئی جنسی بھید بھاؤ نہیں ہونا چاہیے۔ سبری مالا یا شنی شنگنا پور مندر کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر ضروری تنازع ہے اور خطرناک بھی۔
آر ایس ایس ابھی تو چپ ہے، لیکن ایک بار اگر سرکار کو ہندو اقدار، رسم و رواج میں دخل دینے کی اجازت دی جاتی ہے، تو پھر کل وہ مسلم سول کوڈ میں بھی دخل دینے کے لیے سرکار پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیں گے۔ اسے ختم کیا جانا چاہیے۔ یہ اس آزاد اور جدید ہندوستان کے لیے ایک خطرناک صورت حال ہوگی،جو ترقی یافتہ ملکوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ میں بھی کئی طرح کے چرچ ہیں، جہاں ایسی رسمیں ابھی بھی جاری ہیں، جنھیں جدید نہیں کہا جاسکتا۔ امریکہ میں کئی طرح کی اقدار کے چرچ موجود ہیں، جن میں سے کچھ کی رسمیں کسی بھی طرح سے جدید نہیں ہیں۔ لیکن وہاں سرکار یا عدالت کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ ایک نجی مسئلہ ہے۔ کون کہاں جارہا ہے، یہ اس کی پسند اور اس کی آستھا سے جڑی بات ہے۔ میں امید کرتاہوں کہ اس طرح کے مضحکہ خیز طرز عمل کو فوراً روکا جائے گا۔
ایک دوسری خبر ہے، جو آج کل اخباروں کی سرخیاں بن رہی ہے۔ خبر ہے ، امریکہ کی سیاست میں ڈونالڈ ٹرمپ کا تیزی سے ابھرنا۔ وہ جو کچھ بول رہے ہیں،وہ ایسی باتیں ہیں، جو کسی بھی صحیح آدمی کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتیں۔ایسے شخص کا امریکہ کا صدر بن جانا خطرناک ہے۔ اگر وہ صدر بن جاتے ہیں ، تو کیا کریں گے؟ وہ امریکہ سے مسلمانوں کو بھگانے کی بات کرتے ہیں۔ ان کی اصل سوچ یہ ہے کہ آخر عدم مساوات میں غلط کیا ہے؟ یہ بھی بہت خطرناک سوچ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک جمہوری سرکار چنی کیوں جاتی ہے؟ اس کا اصل کام ہوتا ہے کہ وہ عدم مساوات دور کرے ور نچلے طبقے کے لوگوں اور محرومین کو اپنی زندگی بہتر بنانے کا موقع دے۔ جب ٹرمپ کہتے ہیں کہ عدم مساوات میں غلط کیا ہے، تو پھر بادشاہت اور فیوڈلزم میں کیا غلط تھا؟ کچھ نہیں۔ وہ عدم مساوات میں یقین کرتے ہیں۔ یقینی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ امریکی عوام ڈونالڈ ٹرمپ کو نہیں چنیں گے۔ میرا خیال ہے کہ رپبلکن پارٹی انھیں اپنا امیدوار بھی نہیں بنائے گی۔ لیکن اخباروں کی رپورٹس ان کی وسیع مقبولیت دکھا رہی ہیں، جو بہت تشویشناک ہے۔ آخر کار بالغ رائے دہی یعنی ایک شخص ایک ووٹ کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کی بھلائی ہے۔ اگر یہ بھی تھوڑے سے لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرنے لگے، تو پھر جمہوریت کس کام کی؟ لبرلائزیشن، نجکاری او ربازار ی نظام نے دولت چند ہاتھوں تک محدود کردی ہے، جس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ یہاں ڈونالڈ ٹرمپ جیسے لوگ بالکل دوسری سمت میں جانے کی بات کرتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اگلے کچھ مہینوں میں کیا ہوتا ہے۔ لیکن، میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ کے لوگوں کا جھکاؤ ان کی طرف ہو رہا ہے۔
ارونا چل پردیش میں مناسب عمل مکمل کیے بغیر اچانک صدر راج کی سفارش کر دی گئی۔اگر برسر اقتدار کانگریس نے اکثریت کھو دی تھی، تو اسے ایوان کے ٹیبل پر ثابت کرنا تھا۔گورنر اسمبلی کی تاریخ نہیں طے کرسکتے،نہ اس کا ایجنڈا طے کرسکتے ہیں اور نہ ہی یہ طے کرسکتے ہیں کہ اس کی صدارت کون کرے گا؟ یہ جانبدارانہ رویہ کی انتہا ہے۔یہ اسی وقت ہوتا ہے،جب کسی نارتجربہ کار شخص کو صرف آر ایس ایس سے متعلق ہونے کے سبب گورنر بنایا جاتا ہے اور اسے یہ ثابت کرنے کی جلدی ہوتی ہے کہ ارونا چل پردیش جیسی ریاست میں بھی بی جے پی کی سرکار بن سکتی ہے۔ کرن رجیجو ، جو مرکز میں وزیر مملکت برائے داخلہ ہیں اور جن کا تعلق ارونا چل پردیش سے ہے، نے اس پورے معاملہ کا رول تیا رکیا تھا، وہ خود تو بدنام ہوئے، ساتھ ہی انھوں نے اپنی پارٹی کو بدنام کیا اور ارونا چل پردیش کو بھی۔سپریم کورٹ معاملے کی سنوائی کررہا ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ وہ اس معاملے کا کوئی اچھا حل تلاش کرلے گا۔ گورنر ہمیشہ سے تنقید کے دائرے میںآتے رہے ہیں، لیکن اب تک بہت کم گورنروں نے اپنی مریادہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ 1983-84 میں آندھر ا پردیش کے گورنر رہے ٹھاکر رام لال ان میں سے ایک تھے۔ایک ڈرامہ کے بعد ہی سہی، انھیں ہٹادیا گیا تھا۔ لیکن،اس طرح کے بے تکے فیصلے کو کبھی منظور نہیں کرنا چاہیے، جس میں آئین ہی خطرے میںآجائے اور وہ بھی ارونا چل پردیش جیسی حساس ریاست میں، جس کی سرحد چین سے ملی ہوئی ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ سپریم کورٹ اس معاملے کو بہتر انجام تک پہنچائے گا۔ لیکن، یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ اگر ارونا چل پردیش میں صدر راج لگانا ہی ہے، تو کسی سمجھدار شخص کو وہاں کا گورنر بنایاجانا چاہیے، جو آئین کی جانکاری کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کا بھی تجربہ رکھتا ہو۔ آخر ارونا چل پردیش کی سرحد چین سے ملی ہوئی ہے، جہاں اس طرح کی نااہلی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ عقل آئے گی اور سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *