پربھات رنجن دین
03اترپردیش اسمبلی میں ہورہی غیر قانونی تقرریوں سے اس آئینی بینچ کی مریاداٹوٹ رہی ہے ۔اسمبلی اسپیکرماتا پرساد پانڈے کے دو دامادوں اور سابق اسمبلی اسپیکر سکھ دیو راج بھر کے داماد کی غلط تقرریوں سے اسمبلی کا مذاق پہلے ہی اڑ چکا ہے۔ اسمبلی کا آخری سیشن اختتام پذیر ہوچکا ہے۔ انتخاب کے بعد نئی اسمبلی کی تشکیل ہوگی۔ جاتے جاتے اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے نے ’اپنے آدمی‘ کو غلط طریقے سے اسمبلی کا انفارمیشن افسر مقرر کردیا۔ اب قریب ڈیڑھ سو ریویوافسروں کو مقرر کرنے کے لیے وہ نامناسب طریقہ اختیار کررہے ہیں۔ اس سے اس آخری دور میںان کی اپنی اور ان کی سماج وادی پارٹی کی عوام میں شدید فضیحت ہورہی ہے۔
مقننہ کی بینچ میں ہورہی تقرریوں میںقاعدے قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ اترپردیش سرکار کے ذریعہ کی گئیں تمام تقرریاں ہائی کورٹ سے منسوخ ہورہی ہیں، لیکن ریاستی اسمبلی میںقانون کو طاق پررکھ کر دھڑلے سے تقرریاںہورہی ہیں۔ اسمبلی میںہورہیںغیر قانونی تقرریوں کے بارے میںنہ تو گورنر کوئی کارگر نوٹس لے رہے ہیں اور نہ ہی عدالت کی توجہ اس طرف جارہی ہے۔اترپردیش کے اسمبلی اسپیکر ماتاپرساد پانڈے ابھی کچھ ہی دن پہلے اپنے دو دامادوںکو اسمبلی میںغلط طریقے سے مقرر کرنے کی وجہ سے سرخیوںمیں رہے۔ اب انھوں نے بڑے ہی خفیہ طریقے سے اسمبلی میں انفارمیشن افسر کی تقرری کردی۔ اسمبلی میںمقرر کیے گئے انفارمیشن افسر کی اہلیت یہ ہے کہ وہ اسمبلی اسپیکر کا اتنا قریبی ہے کہ انھوںنے اسمبلی کے دستور العمل کی ان دفعات کو بھی ترمیم کردیا،جنھیںترمیم کرنے کا حق اسمبلی اسپیکر کو ہے ہی نہیں۔اس کے باوجود دستورالعمل میں ترمیم کیگئی اور انفارمیشن افسر کی تقرری پر اس کی رازداری بنائے رکھنے کی سخت ہدایت جاری کردی گئی۔
رول کے مطابق کسی بھی تقرری کے بارے میںاسمبلی سکریٹریٹ کی طرف سے گزٹ شائع ہوتا ہے، لیکن ایسا نہیںکیا گیا، کیونکہ ’اہل‘ شخص کی تقرری کا بھانڈا پھوٹنے کا خطرہ تھا۔ حالانکہ بھانڈاتو پھوٹا، لیکن انفارمیشن آفیسر کی تقرری اور اس کی جوائننگ کے بعد۔ اب اسمبلی میں تقریباً ڈیڑھ سو ریویو افسروں کی تقرریاںکی جارہی ہیں۔ ریویو افسروں کی تقرری کے نام پر تو جیسے قاعدے قانون اور خزانے سے کبڈی کھیلی جارہی ہے۔ آئیے اس بڑے کھیل کو دیکھنے سے پہلے انفارمیشنافسر کی تقرری کی چھوٹی، لیکن سنگین کارگزاری دیکھتے چلیں۔۔۔
اترپردیش اسمبلی میںانفارمیشنافسر کی تقرری کے لیے گزشتہ سال 28 مئی کو ہی اشتہار شائع کیا گیا تھا۔ انفارمیشنافسر کے عہدے کے لیے مقرر کی گئی اہلیت ہندی میںگریجویٹ کے ساتھ ساتھ صحافت میں ڈپلومہ یا پانچ سال کا صحافتی تجربہ لازمی ہے۔ سات مہینے بعد 28 دسمبر 2015 کو چنے گئے امیدواروںکو انٹرویو کے لیے اسمبلی سکریٹریٹ بلایا گیا۔ امیدواروںکا انٹرویو لینے کے لیے اسمبلی کے چیف سکریٹری پردیپ کمار دوبے کی صدارت میںافسروںکا باقاعدہ ایک پینل تشکیل کیا گیا تھا۔ امیدواروںکے انٹرویو ہوئے اور انھیں’مطلع کیا جائے گا‘ کا دائمی ڈائیلاگ سنا کر بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد اسمبلی سکریٹریٹ نے خاموشی اختیار کرلی۔ امیدواروںکو کوئی اطلاع بھی نہیںدی گئی۔ یہاںتک کہ اس بارے میں’حق اطلاع‘(آر ٹی آئی) کے تحت جانکاری مانگنے والے شرد منی ترپاٹھی سے 10 روپے کی مقررہ فیس وصول کرنے کے بجائے ان سے پانچ سو روپے وصول کیے گئے، لیکن انھیں کوئی اطلاع نہیںدی گئی۔
امیدواروںکو اب جاکر اچانک پتہ چلا کہ 14 جولائی 2016 کو کرمیش پرتاپ سنگھ عرف پنٹو سنگھ نام کے شخص کی انفارمیشنافسر کے عہدے پر تقرری ہوگئی اور اس نے اپنا چارج بھی سنبھال لیا۔اس سلسلے میں نہ تو کوئی رزلٹ جاری ہوا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی رسمی اطلاع جاری ہوئی۔
جب اس بارے میں چھان بین کی گئی، تب اسمبلی سکریٹریٹ نے انتہائی رازداری برتتے ہوئے اسمبلی کی ویب سائٹ پر افسروںکی لسٹ میںانفارمیشنافسر کے طور پر کرمیش پرتاپ سنگھ کا نام شامل کردیا۔ پتہ چلا کہ اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے نے اسمبلی مینوئل کو طاق پر رکھتے ہوئے اپنے خاص ’گرگے‘کو انفارمیشنافسر مقرر کردیا۔اس تقرری کے لیے اسمبلی اسپیکر نے انفارمیشن افسر کے عہدے کی مقررہ اہلیت کے قاعدے کو ڈھیلا کردیااور کرمیش پرتاپ سنگھ کی تقرری کا فرمان جاری کردیا۔ اسمبلی اسپیکر کو تقرری کے لیے مقررہ اہلیت کو لوز کرنے یا ترمیم کرنے کاکوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ اترپردیش اسمبلی سکریٹریٹ سروس (بھرتی اور سروس کی شرائط) دستورالعمل کا آرٹیکل 49-(صفحہ23-) بھی کہتا ہے کہ اسمبلی اسپیکر تقرری کے لیے مقررہ عمر اور تعلیمی اہلیت کو چھوڑ کر کسی دیگر اہلیت کو ہی لوز کرسکتے ہیں۔ اس کے باجود اسمبلی اسپیکر نے قانون کی کوئی پرواہ نہیںکی اور قاعدے قانون کو لوز کرتے ہوئے اپنے خاص آدمی کو اسمبلی کا انفارمیشنافسر مقرر کردیا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ
اسمبلی سکریٹریٹ میں’حق اطلاع‘ کے عہدے پر کرمیش پرتاپ سنگھ کو مقرر کیے جانے سے متعلق اس خبر میںکرمیش کو اسمبلی اسپیکر ماتاپرساد پانڈے کا ’گرگا‘لکھا گیا، اس کی ’چوتھی دنیا‘ کے پاس قانونی بنیاد ہے۔ بستی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (اس وقت کے) آنند کلکرنی نے 27 مئی 2013 کو اسمبلی اسپیکر ماتاپرساد پانڈے کو سرکاری طور پر یہ مطلع کیا تھا کہ اسمبلی اسپیکر کا پی آر او بتانے والے شخص کرمیش پرتاپ سنگھ پسر مہیش پرتاپ سنگھ، گرام ببھنگواں، تھانہ گور، ضلع بستی کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ملزم کا باپ اپنے بیٹے کرمیش کو اسمبلی کا ریویو افسر اور کرمیش خود کو اسمبلی اسپیکر کا پی آر او بتاتا ہے۔ یعنی اسمبلی اسپیکر جس شخص کو اسمبلی کا انفارمیشنافسر مقرر کرنے جارہے تھے، اس کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے کہ اس پر مجرمانہ مقدمہ درج ہے اور اس پر غیر سماجی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام ہیں ۔ لکھنؤ کے گوتم پلّی تھانے میں بھی کرمیش پرسدھیر کمار یادو نام کے شخص پر جان لیوا حملہ کرنے اور مارپیٹ کرکے زخمی کرنے کا معاملہ (جرم نمبر 40/2016) درج ہے۔ لکھنؤ کے کرشنا نگر علاقے کے رہنے والے سدھیر کمار یادو کا الزام ہے کہ کرمیش کی غیر سماجی سرگرمیوں کی اسمبلی اسپیکر سے شکایت کرنے کی کوشش پر کرمیش اور اس کے لوگوں نے اسمبلی اسپیکر کی رہائش کے نزدیک ہی اسے لاٹھی ڈنڈوںسے بری طرح پیٹا اور شکایت کرنے کی دوبارہ کوشش کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے شخص کو انفارمیشن افسر مقرر کرتے وقت اس کے اس پس منظر کو نظر انداز کردیا گیا۔
ریویوافسروں کی تقرری
اسمبلی میںتقریباً ڈیڑھ سو ریویوافسروں کی تقرری کے لیے امتحان ہورہے ہیں، پھر اسے منسوخ کیا جارہا ہے۔ پھر امتحان ہورہے ہیں اور اسے پھر منسوخ کیا جارہا ہے۔ آپ اس جملے میں ہی الجھ گئے ہوں گے۔ تب آپ تصور کریں کہ کروڑوں روپے کی فیس بھر کے تقرری کے لیے درخواست دینے والے ہزاروں ہزار امیدوار خود کو کتنا پھنسا ہوا محسوس کررہے ہوں گے۔ ان امیدواروں کا توکوئی محافظ ہے ہی نہیں۔
ریویوافسروں کی تقرری کے لیے 12 جون 2015 کو مختلف اخبارات میں اشتہار شائع کیے گئے تھے۔ اس میں قریب 75 ہزار امیدواروں نے فارم بھرا تھا۔ اسمبلی نے ان سے فیس کے طور پر کل تین کروڑ روپے وصول کیے تھے۔تقرری کے لیے امتحان کرانے کی ذمہ داری ٹاٹا کنسلٹنسی سروس (ٹی سی ایس) کو دی گئی تھی۔ اس کے لیے ٹی سی ایس کو ایک کروڑ 52 لاکھ 33 ہزار 700 روپے فیس کے طور پر دیے گئے۔ ٹی سی ایس نے 29/30 دسمبر 2015 کو 11 ضلعوں میں بنائے گئے مراکز پر آن لائن امتحان لیا۔ اس امتحان کے رزلٹ کا لوگوں کوانتظار تھا، لیکن سات مہینے کے طویل انتظار کے بعد امیدواروں کو پتہ چلا کہ وہ امتحان تو اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ رد کیا جاچکا ہے۔ اس اطلاع پر افراتفری مچ گئی۔ 27 جولائی 2016 کو اسمبلی کے نوٹیفکیشن کے ذریعہ اسپیشل سکریٹری پرمود کمار جوشی نے ٹی سی ایس کا آن لائن امتحان رد کیے جانے اور دوبارہ امتحان میں شامل ہونے کے لیے ان ہی امیدواروں سے پھر درخواست داخل کرنے کا فرمان جاری کردیا۔ امتحان رد کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔
اس نوٹیفکیشن میںیہ بات بھی گول کردی گئی کہ اب کون سی کمپنی امتحان کرائے گی۔ ملک و ریاست سے درخواست دینے والے امیدواروں میں بھگدڑ جیسی صورت حال بن گئی۔ہزاروں امیدواروں کو تو دوبارہ امتحان کی جانکاری ہی نہیںمل پائی۔ ان کی فیس کا پیسہ ڈوب گیا۔ امتحان رد ہونے اور اسے دوبارہ کرنے کے بارے میں رول کے مطابق اشتہار شائع کرایا جاناچاہیے تھا، لیکن اسمبلی نے ایسا نہیںکیا۔ کہیںکوئی شفافیت نہیںبرتی گئی۔ دوبارہ امتحان دینے کے لیے 60 ہزار امیدوار ہی درخواست داخل کرپائے۔ امیدوار اور ان کے گارجین پریشان اور بے چین تھے، لیکن اسمبلی کے اندر سازش کا کھیل بڑی تسلی سے کھیلا جارہا تھا۔ اس بار امتحان کرانے کا ٹھیکہ گپ چپ طریقے سے ’ایپ ٹیک‘ کو دے دیا گیا۔ گزشتہ 14 اگست کو محض چھ ضلعوںمیںبنائے گئے مراکز پر آن لائن امتحان کرایا گیا۔ اس میںاو ایم آر شیٹ پر جواب کے خانوں میںپینسلیں گھسوائی گئیں، تاکہ آسانی سے ہیرا پھیری کی جاسکے۔
امیدوار تذبذب میں ہیں۔ انھیںیہ پتہ نہیںکہ اسمبلی میں ریویو افسروں اور اسسٹنٹ ریویو افسروں کو مقرر کرنے کا ماتا پرساد پانڈے کا ہدف سال 2006 سے ہی زیر التوا ہے۔ اس وقت بھی ملائم کے دور حکومت میں ماتا پرساد پانڈے ہی اسمبلی اسپیکر تھے اور انھوںنے 50 ریویوافسروں اور 90 اسسٹنٹ ریویوافسروں کی تقرری کے لیے 12 مارچ 2006 کو امتحان کرایا تھا۔ تقرریوں میںتاخیر ہوئی اور 2007 میں حکومت بدل گئی۔ بی ایس پی سرکار نے آتے ہی سارے امتحانات رد کردیے۔ بی ایس پی کے دور حکومت میںاسمبلی اسپیکر رہے سکھ دیو راج بھر نے ریویوافسروں کی تقرری کے لیے 14 اپریل 2011 میں پھر سے امتحان کرایا۔ بی ایس پی کے اسمبلی اسپیکر نے وہ امتحان اترپردیش ٹیکنیکل یونیورسٹی (یو پی ٹی یو) سے کرایا۔ اس میں 48 لاکھ 50 ہزار روپے خرچ ہوئے۔ اس خرچ کا حساب آج تک شعبہ مالیات کے پاس جمع نہیں کیا گیا ہے۔ خیر 2012 میںپھر حکومت بدل گئی اور ماتا پرساد پانڈے پھر سے اسمبلی اسپیکر بن گئے۔ پانڈے نے پھر بی ایس پی کے دور حکومت کے امتحان رد کردیے اور اسے ٹی سی ایس سے کرایا۔ پھر امتحان ردکیا گیاار اسے پھر ’ایپ ٹیک‘ سے کرایا۔ اب لوگوںکو ’پھر‘ کے بجائے آخری نتیجے کا انتظار ہے، چاہے اس میںکتنی ہی دھاندلی کیوںنہ ہو۔
باکس:
دباؤ بنانے کی ٹیکٹس رشوت خوری کے لیے
اسمبلی ریویوافسروں کی تقرری کے لیے دوبارہ امتحان دینے آئے کئی امیدواروں نے راقم الحروف سے کہا کہ اس طرح امتحان رد کرکے دوبارہ امتحان کرانے کے پیچھے امیدواروں پر دباؤ بنانے کی ٹیکٹس ہے۔ امیدواروں نے کہا کہ آن لائن امتحان میں ہیراپھیری کی گنجائش نہیںکے برابر ہوتی ہے، اسی لیے اسے رد کرکے آف لائن امتحان کرایا گیا۔ او ایم آر شیٹ پر جواب کے خانوں کو پینسل سے بھرنے کا پروویژن رہتاہے، لیکن اس میںہیراپھیری کی پوری گنجائش رہتی ہے۔ جن امیدواروںنے رشوت دی، ان کی آنسر شیٹ کے خانوںکو ربر پینسل کااستعمال کرکے درست کردیا جائے گا۔امیدواروں کا صاف الزام تھا کہ ریویوافسروں اور اسسٹنٹ ریویوافسروں کی تقرری کے نام پر کروڑوں کے وارے نیارے کیے جانے کی تیاری ہے۔
باکس:
دامادوں کو تال ٹھوک کر دی گئی نوکری
اسمبلی اسپیکر ماتاپرساد پانڈے نے اپنے دو دامادوں پردیپ کمار پانڈے اور نریندر شنکر پانڈے کو تال ٹھوک کر اسمبلی میںنوکری دی تھی۔ اس تقرری میںسارے قوانین ادھر اُدھر کردیے گئے تھے۔ دامادوں کا مسئلہ تھاتو گورنر رام نائیک نے بھی کچھ نہیںکہا اور سرکار تو آنکھ بند کیے ہوئے ہے ہی۔ اسمبلی اسپیکر نے اپنے بڑے داماد پردیپ کمار پانڈے کا 22 مارچ 2013 کو اسمبلی میںایڈیٹر کے عہدے پر اور چھوٹے داماد نریندر شنکر پانڈے کا 12 مئی 2015 کو او ایس ڈی کے منصب پر تقرر کردیا تھا۔
باکس:
اسمبلی کے چیف سکریٹری بھی سوال کے گھیرے میں
اترپردیش اسمبلی میں ریویو افسروں کی تقرری کے لیے چل رہے گورکھ دھندے ، انفارمیشنافسر کی تقرری میںقاعدے قانون کے ساتھ ہی بدسلوکی، دامادوں کی غیر قانونی تقرری کی اسمبلی اسپیکر کی روایت کے بیچ ہی ہم اسمبلی کے چیف سکریٹری کی تقرری کا متنازعہ سیاق و سباق بھی جھانکتے چلیں۔ اسمبلی سکریٹریٹ کے چیف سکریٹری پردیپ کمار دوبے کی تقرری پر بھی یہ سوال اٹھا تھا کہ تقرری کے وقت وہ مقرر کی گئی عمر پار کرچکے تھے۔ ان کی تقرری کمیشن سے نہ ہوکر سیدھی بھرتی کے ذریعہ کی گئی تھی، جو سکریٹریٹ سروس کے دستورالعمل کی خلاف ورزی ہے۔ اترپردیش اسمبلی سکریٹریٹ سروس (بھرتی اور سروس کی شرائط) کے دستورالعمل کے مطابق اسمبلی میںسکریٹری کے عہدے پرتقرری کمیشن سے ہی کی جاسکتی ہے، لیکن پردیپ کمار دوبے کی تقرری میںفورتھ کلاس ملازمین کی بھرتی والا عمل اپنایا گیا تھا۔ سیدھی بھرتی کے لیے 25 جنوری 2012 کو اشتہار شائع ہوئے تھے۔ اس کے مطابق امیدواروں کی زیادہ سے زیادہ عمر 52 سال ہونی چاہیے تھی، جبکہ دوبے کی عمر 52 سال سے زیادہ تھی،اس کے باوجود بی ایس پی سرکار میں ان کی چیف سکریٹری اسمبلی کے عہدے پر تقرری کر دی گئی تھی۔
پردیپ کمار دوبے کا 13 جنوری 2009 کو پارلیمانی امور کے محکمہ میںچیف سکریٹری کے عہدے پر تقرر کیا گیا تھا۔ چھ دن بعد ہی 19 جنوری کو ایک نئے آرڈر کے ذریعہ انھیں اسمبلی کے چیف سکریٹری کی ذمہ داری بھی ادا کرنے کو کہا گیا۔ بی ایس پی سرکار نے دوبے کو چیف سکریٹری کے عہدے پر منتقل دکھاتے ہوئے آخرکار جنوری 2012 کو شائع اشتہار کے ذریعہ اسمبلی کے چیف سکریٹری کے عہدے پر پردیپ کمار دوبے کی تقرری مستقل کردی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here