وسیم راشد
p-3ایک وقت تھا جب سرزمین ہند پر مغربی بنگال کو وہی اہمیت حاصل تھی جو عالمی نقشے پر سوویت یونین کی تھی۔دونوں ہی جگہ سرخ پرچم لہراتا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ یہ کبھی سرنگوں نہیں ہوگا ۔لیکن انقلاب زمانہ ہے ۔اقتدار کبھی کسی ایک کے ہاتھ میں نہیں رہتا۔ روس میں بھی ایک وقت ایسا آیا جب سرخ پرچم سرنگوں ہوگیا اور گوربا چیوف کے ہاتھ سے اقتدار چلا گیا۔ مغربی بنگال میں بھی ایسا ہی ہوا۔ آزادی کے بعد شروع کے 30 برسوں تک کانگریس کی حکومت رہی اور اگلے 34 برسوں تک کمیونسٹ پارٹی یعنی بایاں محاذ کا اقتدار رہا اور مغربی بنگال کے مسلمان گزشتہ 34 برس تک سی پی ایم کو ووٹ دیتے رہے اور اس پر بھروسہ کرتے رہے۔ مگر 2005 میں مرکزی حکومت کے ذریعہ سچر کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے پر وہ دنگ رہ گئے۔وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ مسلمانوں کی پسماندگی کا گراف اتنا نیچے گرا ہوا ملے گا۔ پہلی بار انہیں احساس ہوا کہ کمیونسٹ پارٹی نے انہیں بری طرح ٹھگا ہے اور ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ کیونکہ مغربی بنگال کے مسلمان یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ جو پارٹی برابری ، مساوات اور اقتصادی ترقی کا دم بھرتی رہی ہے ۔ وہ پارٹی مسلمانوں کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کرسکتی ہے۔ یقینا یہ حیرانی کی بات تھی۔سچر کمیٹی نے جہاں پورے ملک کے مسلمانوں کی بد تر حالت کا ذکر کیا تھا ،وہیں مغربی بنگال کے مسلمانوں کو بے حد پسماندہ اور پچھڑا ہوا دکھایا تھا اور خاص طور پر مغربی بنگال کے مسلمان باقی ملک کے مسلمانوں کے مقابلے بھی بے حد پچھڑے ہوئے تھے اور غر بت کی زندگی گزار رہے تھے ۔
یہ حقیقت بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں تھی کہ ہندوستان میں جموں و کشمیر اور آسام کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی مغربی بنگال میں بستی ہے اور مغربی بنگال کی تقریباً ساڑھے چھ کروڑ کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد دو کروڑ کے قریب ہے مغربی بنگال کا مسلمان بھی محنت و مزدوری کرکے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ کھیتی باڑھی، دستکاری، کڑھائی ،بنائی کے کام، رکشہ چلانا، فیکٹریوں میں کام کرنا،ہوٹلوں میں کھانا پکانا، برتن دھونا ، بوجھ ڈھونا یہ سب کام مسلمان کرتا ہے اور یقینا یہ سب کام کرنے والے غریبی کی سطح سے نیچے کے ہی لوگ ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی نے ان کی بہتری کے لئے 34 سالوں میں کچھ نہیں کیا ۔ جیوتی باسو نے مغربی بنگال پر لگاتار 25 سال حکومت کی ۔ پانچ بار وہ وہاں کے وزیر اعلیٰ رہے۔لیکن نہ تو انہوں نے مغربی بنگال کے مسلمانوں پر کوئی توجہ دی اور نہ ہی ان کے لئے ریزرویشن کا کوئی حل نکالا۔ 2000 تک جیوتی باسو بنگال کے وزیر اعلیٰ رہے۔ بیماری کی وجہ سے ان کے استعفیٰ کے بعد بدھا دیپ بھٹا چاریہ وہاں کے وزیر اعلیٰ بنے جو 13 مئی 2011 تک رہے۔
جیوتی باسو جب تک وزیر اعلیٰ رہے ،وہ ریزرویشن کی سخت مخالفت کرتے رہے۔ مگر 2011 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے تھے اور بدھا دیپ کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ جس طرح وہ اب تک بنگال کے 27 فیصد مسلمانوں کو نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں۔اب وہ سب نہیں چل سکتا اور مسلمانوں کو ساتھ لئے بغیر اقتدار میں آنا مشکل ہے۔ اس لئے بدھادیپ بھٹاچاریہ نے 2010 میں مسلم او بی سی کے لئے 10فیصد ریزرویشن کا اعلان کیا۔ بدھا دیپ بھٹاچاریہ ممتا کی بنگال میں بڑھتی مقبولیت سے بھی پریشان تھے۔ کیونکہ ممتا مغربی بنگال کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کی رہنما کے طور پر سامنے ڈٹی ہوئی تھیں اور ان کے عزائم سے یہ بات صاف ہو چکی تھی کہ وہ اب کمیونسٹ پارٹی کے سامنے نہیں جھکیں گی۔
بنگال کی تاریخ میں نیا موڑ آیا اور2011 کے اسمبلی انتخاب میں ممتا کی ترنمول کانگریس کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی۔ ممتا کی اس جیت میں مسلمانوں کا بہت بڑا رول تھا۔ممتا کو سب سے زیادہ طاقت بھی مسلمانوں سے ہی ملی۔ مسلمان بھی کسی ایسے رہنما کی تلاش میں تھے جو انہیں کمیونسٹوں سے نجات دلا سکے۔ ممتا نے وعدہ بھی کیا تھا کہ ان کی حکومت بننے پر وہ مسلمانوں کی تعلیمی ، سماجی اور اقتصادی ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گی۔ہوا بھی یہی۔ممتا بنرجی نے مسلمانوں سے جو بھی وعدے کیے وہ سبھی پورے کیے ۔انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی مغربی بنگال میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنائیں گی اور مئی 2011 میں انہوں نے ریاستی اسمبلی میں ایک بل پاس کراکے اسے پورا کیا۔ انہوں نے ان تمام ضلعوں میں جہاں مسلمانوں کی تعداد دس فیصد یا اس سے زیادہ ہے وہاں انہوں نے اردو کو دوسری سرکاری زبان بنادیا۔ اسی طرح مغربی بنگال کے کل 18 ضلعوں میں سے تین یعنی بنکورہ، پرولیا اور دارجلنگ کو چھوڑ کر 15 ضلعوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملنا ممتا کا ہی کرشمہ ہے۔
ظاہر ہے جن ضلعوں میں اردو دوسری سرکاری زبان بنائی گئی وہاں اسکولوں، کالجوں اور سرکاری دفتروں ، اداروں میں اردو جاننے والوں کی تقرری بھی ہوئی اور اسکولوں میں اساتذہ کا بھی تقرر ہوا جس سے مسلمانوں کو تیزی سے روزگار ملا اور اردو زبان کو بھی فروغ ہوا۔ اقتدار سنبھالتے ہی ممتا نے اپنی ریاست کے 78 ہزار مسلم بچوں کو ایجوکیشن لون اور وظیفہ دینے کا بھی اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے پسماندہ طبقوں کی فلاح کے وزیر اوپندر ناتھ بسواس کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ ایک ماہ کے اندر حکومت کو یہ رپورٹ سونپیں کہ مسلم او بی سی کے اندر ایسے کتنے لوگ ہیں جن کو سرکاری نوکریوں میں پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیا جاسکتا ہے۔بدھادیپ بھٹاریہ کی حکومت نے مسلم او بی سی کے لئے دس فیصد ریزرویشن کا اعلان تو کردیا تھا لیکن قانونی طور پر اسے نافذ کرنا مشکل تھا۔اسی لئے انہوں نے اپنے وزیر کو ہدایت دی کہ مسلم او بی سی کی صحیح صورت حال کا جائزہ لے کر رپورٹ ان کو سونپی جائے۔ تاکہ اس بل کو ریاستی اسمبلی میں پیش کرکے پاس کرایا جاسکے اور قانونی طور پر ریاست کے پچھڑے ہوئے مسلمانوں کو سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن دیاجاسکے۔کیونکہ آزادی کے بعد سے بایاں محاذ کی حکومت آنے تک سرکاری ملازمتوں اور پولیس محکمہ میں مسلمانوں کی نمائندگی دس فیصد تھی جو لیفٹ حکومت کے دوران گھٹ کر 5.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
ممتا نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی مغربی بنگال کی 30 ہزار مسجدوں کے اماموں کو اعزازیہ ماہانہ ڈھائی ہزار روپے اور مؤذنوں کو ماہانہ ایک ہزار روپے ادا کرنے کا اعلان کیا اور اس کے لئے انہوں نے وقف بورڈ اور مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے بجٹ میں سے 90 کروڑ روپے مختص کیے۔حالانکہ بعد میں ہائی کورٹ نے اس فیصلہ پر اسٹے لگا دیا ۔مگر بنگال امام ویلفیئر ایسوسی ایشن کی مانیں تو ممتا ائمہ اور موذنین کی کفالت اور ان کے وظیفہ کے لئے بے حد فکر مند ہیں اور ہائی کورٹ میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے مقدمہ کے باوجود وہ وظیفہ روکنے پر رضامند نہیں تھیں۔شاہی امام مولانا نور الرحمن برکتی اور عطّار عباس رضوی دو اہم مسلم رہنما ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ممتا صرف مسلمانوں کی ترقی کے لئے ہی نہیں وہ ہندوئوں کی ترقی کے لئے بھی کوشاں ہیں۔ اور خواتین کے لیے بھی وہ برابر کام کررہی ہیں۔ 64مہیلا پولیس اسٹیشن قائم کرنا بھی ممتا کا ہی کارنامہ ہے۔ جس طرح ائمہ اور مؤذن کو وظیفہ دینے کے حق میں ہیں ،اسی طرح وہ گنگا ساگر کی ترقی کا بھی کام کررہی ہیں۔ وہ تو ترقی کی علامت ہیں۔ ریاستی وزیر فرہاد حکیم نے بھی یہی کہا کہ ممتا ائمہ اور موذن کو وظیفہ دینا چاہتی ہیں ۔ اپوزیشن اس میں رخنہ ڈال رہا ہے۔ یہی بیان ترنمول مائنارٹی سیل کے چیئر مین ادریس علی ایڈوکیٹ کا بھی ہے۔ مغربی بنگال بار کونسل کے چیئر مین انصار علی اور مغربی بنگال وقف بورڈ اور ٹاسک فورس کے رکن عطار عباس رضوی نے بھی ممتا کی مسلمانوں کے تئیں ہمدردی اور فکرمندی کو بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ائمہ اور مؤذن مسلم طبقہ کی آبرو ہیں ۔وہ جو کہتی ہیں وہ کرتی ہیں۔یعنی بنگال کے مسلمان بھی ممتا کی خود اعتمادی اور جو صحیح ہو وہ کر گزرنے کی طاقت کو مانتے ہیں۔اس کا ثبوت بھی جلد ہی مل گیا، 7 اپریل 2012 کو کولکتا کے نیتا جی انڈور اسٹیڈیم میں ممتا بنرجی نے مسجدوں کے اماموں اور موذنوں کے لئے ینجو بھومی ،ینجو گرہ ( اپنی زمین، اپنا گھر) اسکیم کا اعلان کر ڈالا۔یعنی اگر وہ وظیفے نہیں دے سکیں تو انہوں نے سرکار کی طرف سے اماموں اور مؤذنوں کو زمین دینے کا اعلان کیا۔جہاں وہ اپنا گھر بناسکیں۔
ممتا نے مسلمانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے سرکاری لون فراہم کرنے اور ہر ضلع میں امپلائمنٹ بینک بنانے کا بھی اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے ریاست کے دس ہزار مدرسوں کو بھی سرکار ی مراعات دینے کا اعلان کیا۔
مارچ 2012 میں ریاستی اسمبلی میں پیش کیے گئے اپنے پہلے بجٹ میں ممتا حکومت نے اقلیتی اداروں کو ملنے والے سرکاری فنڈ میں 73 فیصد اضافہ کا اعلان کیا۔ کمیونسٹ دور حکومت میں سال 2011-12 میں اقلیتوں کے لئے مخصوص 330کروڑ روپے کا بجٹ بڑھا کر سال 2012-13 میں 570 کروڑ روپے کردیا گیا اور 2013-14 میں انہوں نے اسی بجٹ کو بڑھا کر 859 کروڑ روپے کردیا تھا اور اب اس سال یعنی سال رواں سال میں اقلیتوں کے لئے اس بجٹ میں دو گنا اضافہ کرکے اسے 1737 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔
مرکزی حکومت سے اگر بجٹ کا موازنہ کریں تو ممتاکا اقلیتی بجٹ مرکزی حکومت سے بھی زیادہ ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے بھی ممتا بنرجی کی حکومت نے 235.19 کروڑ روپے مختص کیے ہیں ۔کسی بھی یونیورسٹی کے لئے اتنی کثیر رقم کا بجٹ دینا پہلا واقعہ ہے۔ جو ممتا کی مسلم نوازی ،مسلم دوستی اور فراخدلی کا ثبوت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی بجٹ میں وزیر فنانس پی چدمبرم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے صرف 100 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ ریاستی حکومت کا بجٹ مرکز کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہے۔
ممتا بنرجی نے سچر کمیٹی کی سفارشات پرعمل کرتے ہوئے مسلمانوں کے لئے روزگار کو یقینی بنایا اور مائنارٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریشن کے اشتراک سے عالیہ یونیورسٹی میں 61,918مسلم لڑکے اور لڑکیوں کو ہنر مندی کی ٹریننگ دی گئی اور اس طرح مسلم نوجوانوں کو روزگار بھی ملا۔
پولیس اور تعلیمی اداروں میںمسلم نوجوانوں کو روزگار دلانے کے لئے مئی 2011 سے اب تک اسی کارپوریشن کے ذریعہ تقریباً 2 لاکھ مسلم لڑکے لڑ کیوں کو ٹریننگ دی گئی اور اسی طرح کاریشن کے مالی تعاون سے متعلق اسکیموں کے تحت اسی مدت میں 2,50,667 مسلم لڑکے لڑکیوں کو سیلف امپلائمنٹ سے جوڑا گیا۔
ممتا کا ایک بڑا کام بایاں محاذ کی حکومت کے بعد 1978 سے1995 وقف کی تقریباً 495 جائدادوں پرغیر قانونی طریقے سے ہوئے قبضہ کا انکشاف تھا۔ حالانکہ ممتا کی ہی مانگ پر مغربی بنگال کے عام مسلمانوں کی شکایات پر ممتا نے چیف جسٹس آف انڈیا کے نام مغربی بنگال وقف بورڈ میں ہونے والی بد عنوانیوں پر سی بی آئی انکوائری کی جانچ کی تھی اور ریاست کی لیفٹ حکو مت نے ایک کمیشن بنا کر اس پر جانچ بھی کی جس میں وقف بورڈکی بد عنوانیوں کا پردہ فاش ہوا اور کئی اہم لوگوں کے نام منظر عام پر آئے۔ لیکن اس کمیشن نے لیفٹ کو بچا لیا اور لیفٹ کے قریبی بہت سے بڑے بڑے ناموں کا انکشاف نہیں کیا۔ اس پر ممتا نے جولائی 2007 میں ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں کافی ہنگامہ بھی کیا۔ مگر خود مسلمانوں کے کچھ لیڈر جو لیفٹ حکو مت کے دوران مسند اقتدار پر تھے وہ سی بی آئی انکوائری پر راضی نہیں تھے اور اس طرح ابھی تک پوری طرح اس بد عنوانی کا پردہ فاش نہیں ہو پایا۔
16ویں لوک سبھا انتخاب کے لیے بھی ممتا نے42سیٹوں میں سے 7ٹکٹ مسلمانوں کے دیئے ہیں یعنی17فیصد مسلمانوں کو ٹکٹ دیئے ہیں۔
ممتا بنرجی بنگال میںمسلمانوں کیلئے بے تحاشہ کام کیے ۔شاہی امام جناب احمد بخاری کو ان تمام کاموں کا علم ہے ۔ ممتا کا رپورٹ کا رڈ ان کے پاس ہے تبھی انہوں نے ممتا کو سپورٹ کرنے کی بات کہی ہے۔ انا ہزارے ایک سادھو سنت ہیں ۔وہ اچھے اور برے کی تمیز کرنا جانتے ہیں۔ اسی لئے وہ اروند کجریوال کے ساتھ نہ جاکر ممتا کے ساتھ کھڑے ہو ئے۔تاکہ ممتا کو اقتدار میں لایا جاسکے اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو بی جے پی اور کانگریس کے وعدوں اور امیدوں سے بچایا جاسکے۔خود ممتا اب کسی بھی پارٹی کے ساتھ جانے کو تیار نہیں ہیں۔کیونکہ وہ سبھی کو آزما چکی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے ممتا ایک مسیحا ثابت ہوسکتی ہیں ۔کیونکہ بنگال کے مسلمان انہیں آزما چکے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here