ممتا کی مسلم نوازی کی سچائی کیا ہے؟

Share Article

وسیم راشد
مغربی بنگال میں 34 برسوں تک کمیونسٹ پارٹی کی حکومت کے بعد ترنمول کانگریس کی حکومت بنی ،تو مسلمانوں نے بہت سی توقعات اس نئی حکومت سے وابستہ کرلیں۔ انہیں لگا کہ ان کے ووٹ پر ریاست میں جیت درج کرنے والی ممتا بنرجی ان کی خستہ حال زندگی میں خوشیوں کا رنگ بھرنے کے لئے کچھ کریں گی۔ ممتا نے بھی مسلمانوں کے لئے پر کشش اعلانات کرنے میں دل کھول دیا۔مسلمانوںکے لئے او بی سی کوٹے میںدس فیصد ریزرویشن ،سرکاری نوکریوں میں آبادی کے حساب سے نوکری، دینی مدارس کا الحاق،امام اور موذنین کے لئے تنخواہیں اور جن اضلاع میں مسلم اکثریت میں ہیں ،وہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت دینے،75 ہزار طلبا کو وظائف اور تعلیمی قرض دینے،30000 بے گھر اماموں کو ’’ اپنی زمین اپنا گھر‘‘ پالیسی کی بنیاد پر زمین الاٹ کیے جانے اور مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے ایک اسٹینڈنگ کمیٹی کی تشکیل دی ۔ممتا کے پے در پے اعلانات اور مسلمانوں کے لئے مسلل خوش آئند بیانات سے ایسا لگا کہ تین دہائیوں تک مایوسی کی تاریکی میں پھنسے رہنے والے ریاست کے مسلمانوں کے لئے نئی صبح نمودار ہورہی ہے۔مگر کیاواقعی ریاست کے مسلمانوں کی زندگی میں خوشحالی کی صبح نمودار ہورہی ہے ،یا پھر ایک سراب ہے ،جس کو میٹھا چشمہ سمجھ کر سپنے سجائے جا رہے ہیں؟ ممتا کی سرکار کو بنے ایک سال سے زیادہ ہوچکا ہے۔ اس دوران اعلانات تو خوب ہوئے ،مگر عملی طور پر انجماد طاری ہے۔ریاست میں 30 فیصد مسلم آبادی ہے اور مسلمانوں نے اپنا یکطرفہ ووٹ ممتا کو دے کر انہیں کامیاب کیا ہے،جس سے خوش ہوکر ممتا نے کئی دل لبھانے والے وعدے کیے ، مگر ان وعدوں کو نبھانے میں سست روی برتی جارہی ہے۔اگر دیکھا جائے تو کمیونسٹ حکومت سے نجات پانے کے بعد بھی ریاست کے مسلمان کو ایسا کچھ نہیں ملا ہے ،جس کی وجہ سے یہ کہا جا سکے کہ اب مسلمانوں کے دن پھرنے والے ہیں ۔ ممتا بنرجی کی طرف سے سبز باغ خوب دکھائے گئے ، خوش کرنے والے اعلانات بھی ہوئے ، مگر یہ سب صرف کاغذوں پر ہی ہوا، عملی طور پر بہت کم ہوا۔ اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی جس کی تشکیل مسلمانوں کے حالات پر نظر رکھنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے امکانات پر غور کرنے کے لئے ، نصیر احمد ایم ایل اے کی زیر سرپرستی تشکیل دی گئی تھی ،نے تقریباً دو ماہ پہلے اپنی ایک رپورٹ اسمبلی میں پیش کی ہے کہ مسلمانوں کو سرکاری نوکری میں مناسب نمائندگی دینے کے لئے سرکار کے تمام ریکروٹمنٹ بورڈ میں کم سے کم ایک مائنارٹی کا آدمی ہونا چاہئے ،تاکہ چیف منسٹر ممتا بنرجی کے اس علان کی تکمیل ہوسکے ،جس میں انہوں نے مسلمانوں کی سرکاری نوکری میں کمی کو دور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔بورڈ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہاکہ فی الوقت ایسا ممکن نہیں ہے ،کیونکہ ریاست میں سرکاری نوکریوں میں مائنارٹی کی تعداد بہت ہی کم ہے اور ایسی صورت میں تمام کمیٹیوں اور ریکروٹ منٹ بورڈ میں مسلمانوں کی نمائندگی ممکن نہیں ۔ ظاہر ہے جب تک اس کمی کو دور نہ کیا جائے گا، اس وقت تک کمیٹی کی سفارش پر عمل در آمد نا نہیں ہوسکتا۔ مسلمانوں کی اس کمی کو دور کرنے کے لئے کچھ سیاسی افراد کی طرف سے یہ بات کہی گئی کہ مسلم ریٹائرڈ افسروں کو بورڈ میں شامل کرلیا جائے تاکہ ہر کمیٹی اور بورڈ میں مسلم چہرہ موجود ہو،مگر اس مشورے کو مسترد کر دیا گیا ،کیونکہ ایسی صورت میں مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی جو بات کہی گئی ہے اس پر عمل نہیں ہوسکتا ، اسی وجہ سے کمیٹی نے یہسفارش کیکہ نئے تعلیم یافتہ مسلمانوں کو از سر نو بحال کیا جائے اور ان میں سے ہی قابل افراد کو ریکروٹ منٹ بورڈ اور کمیٹیوں کے لئے منتخب کیا جائے۔یہ ایک دانشمندانہ مشورہ تھا اگر اس پر عمل کیا جاتا تو سرکاری اداروںمیں مسلمانوں کو مناسب نمائندگیملسکتی تھی۔ اس سفارش کو پیش کیے ہوئے بھی کئی ماہ ہوچکے ہیں مگر اس پر اب تک سنجیدگی سے نہیںسوچا گیا ہے ۔بلکہ اس سفارش کو کس طرح نظر انداز کیا گیا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ماہ ویسٹ بنگال پبلک سروس کمیشن نے حکومت کے مختلف شعبوں میں ہوئی 651 تقرریوں کی لسٹ جاری کی ہے جس میں صرف 23 مسلمانوں کا نام ہے ،یعنی صرف 3.5 ٖ فی صد نام ۔جبکہ حکو مت نے اعلان کیا تھا کہ او بی سی کوٹے میں مسلمانوں کو 10فیصد ریزرو یشن دیا جائے گا۔اس سے بھی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ممتا نے جو کچھ بھی اعلان کیا تھا وہ محض ایک الیکشن اسٹنٹ تھا اور مسلمانوں کو بہلانے کا ایک ہتھکنڈہ۔ کمیٹی نے او بی سی کوٹے کو مینٹین کرنے کی بھی سفارش کی تھی ،مگر تمام سفارشوں کو نظر انداز کرکے تقرریوں میں وہی روش اپنائی گئی جو کمیونسٹ حکومت کے دور میں قائم تھی۔ اور محض صرف ساڑھے تین فیصد پر ہی اکتفا کیا گیا۔جس سے اس بات کا اشار ملتا ہے کہ سابق اور حالیہ حکومت میں فرق صرف لفظوں کا ہے ،عمل کرنے کے میدان میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔خاص طور پر جب معاملہ مسلم کا ہو ،پھر تو ایسے وعدے صرف وعدے ہی رہ جاتے ہیں ، جنھیں کبھی نبھایا نہیں جا سکتا۔
ممتا بنرجی نے ریاست میں 10 ہزار دینی مدارس کو سرکار سے ریکوگنائز کرنے کی بات کہی تھی ۔ اس الحاق کا مقصد یہ بتایا گیا کہ اس طرح ان مدارس کو مالی تعاون مل سکے گا تاکہ تعلیم کی راہ میں جو دشواریاں پیش آرہی ہیں ان دشواریوں کو ختم کیا جا سکے۔مگر ممتا کے رویے کو دیکھ کر مسلمانوں کا بھروسہ حکومت سے اٹھتا جارہا ہے۔ایک تو اس لئے کہ اب تک جتنے بھی وعدے ہوئے ،ان پر عمل نہیں ہوا، دوسرے مدارس کے الحاق کیے جانے کے اعلان کے بعد تقریباً2 ہزار مدرسوں کا معائنہ کیا گیا اور ان کی لسٹیں تیار ہوئیں ،مگر ان لسٹوں پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوسکی ہے ،دوسری بات یہ کہ ان مدارس کے ذمہ داروں کا ماننا ہے کہ مدرسوں کو ریکوگنائز کرنے والی بات صرف ایک چھلاوہ ہے۔ اگر حکومت واقعی ان مدارس کے حالات میں سدھار لانا چاہتی ہے تو اسے الحاق کے بعد وہ تمام سہولتیں دینی چاہئیں، جو ایک ریکوگنائز ادارے کو دی جاتی ہیں مگر ایسا نہ کرکے ممتا سرکار مسلمانوں کو صرف بیوقوف بنا رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ باقی بچے 8 ہزار مدرسوں کے ذمہ داروں نے اب تک بورڈ سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی مدرسے کی تفصیلات جمع کرائی ہیں۔ممتا نے 30 ہزار اماموں کو ’’ اپنی زمین اپنا گھر‘‘ پالیسی کی بنیاد پر زمین الاٹ کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس کے بارے میں اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔جہاں تک مؤذنوں کی تنخواہ ایک ہزار اور اماموں کو 2500 دینے کی بات ہے تو اس پر عمل تو ہورہا ہے مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ اتنی قلیل تنخواہ سے نہ تو پیٹ بھرا جاسکتا ہے اور نہ ہی تن ڈھکا جا سکتا ہے۔بلکہ اب ان کی زندگی پہلے سے بھی خراب گزرنے لگی ہے کیونکہ پہلے جب انہیں سرکاری تنخواہ نہیں ملتی تھی تو لوگ اپنے امام کی بھرپور مدد کرتے تھے۔ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ ان کا کوئی مستقل ذریعہ آمدنی نہیں ہے۔ لہٰذا وہ ہدیہ و تحائف کی شکل میں اتنا دے دیا کرتے تھے، جس سے ان کا گزر بسر آرام سے ہوجایا کرتا تھا۔ مگر اب تو مقتدی یہ سوچ کر کہ انہیں سرکاری تنخواہ ملتی ہے ہدیہ و تحائف کم دے رہے ہیں ۔ظاہر ہے اس صورت حال نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا ،نہ سرکار ان کی پوری کفالت کر رہی ہے اور نہ ہی مقتدی ان کی طرف دھیان دے رہے ہیں ۔ ہوسکتا ہے اس اعلان کے پیچھے ممتا کی نیت صاف ہو اور وہ یہ سب اعلانات مسلمانوں کی بھلائی کے لئے کر رہی ہوں ،مگر اس کے ساتھ ہی انہیں اس بات کا دھیان رکھنا ہوگا کہ وہ جو کچھ اعلان کر رہی ہیں اس پر عمل بھی ہورہا ہے یا نہیں۔ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ممتا کی طرف دیکھتے ہوئے مسلمانوں کی آنکھیں پتھرانے لگی ہیں۔اب تو ریاست کے مسلمانوں نے دبی زبان میں یہ بولنا شروع کردیا ہے کہ ممتا کو 30 فیصد آبادی سے چشم پوشی کا خمیازہ آنے والے پارلیمانی انتخاب میں بھگتنا پڑسکتا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *