ڈاکٹر منیش کمار
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن گڈکری پارٹی کارکنوں کے درمیان تھے۔ بے تکلف ماحول تھا اور وہ ملک کے مستقبل پر بات چیت کر رہے تھے۔ اچانک اُن کے منھ سے ایک تلخ سچائی نکل گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کی بنے، ملک کی حالت سدھرنے والی نہیں ہے۔ عوام کو خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ اگر ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کے صدر ایسا نظریہ رکھتے ہیں تو واقعی ملک کا مستقبل خطرے میں ہے۔ یہ خطرہ اس لیے پیدا ہوا ہے، کیوں کہ ہندوستانی سیاست سے آئڈیالوجی معدوم ہو چکی ہے۔ ملک کے عوام کے سامنے صرف دو متبادل ہیں یعنی یو پی اے یا این ڈی، نظریاتی اختلاف نہ کے برابر ہے۔ ایک کی سرکار دوسرے کے چھوڑے ہوئے کاموں کو پورا کرتی ہے، اور اگر مستقبل میں یو پی اے کی حکومت اقتدار سے باہر جاتی ہے، تو این ڈی اے انہی پالیسیوں کو آگے بڑھائے گی جسے یو پی اے نے آدھا چھوڑ دیا ہے۔ یہ اس لیے کہا جاسکتا ہے، کیوں کہ بدعنوانی کا ریکارڈ ہو، یا پھر ایف ڈی آئی کا مسئلہ ہو، اقتصادی پالیسی ہو یا خارجہ پالیسی، سب ایک جیسی ہے۔ سرکار کوئی بھی ہوتی ہے، امریکہ کے ساتھ رشتہ ویسا ہی رہتا ہے۔

 ممتا بنرجی اور نتیش کمار کو دیکھ کر امید جگتی ہے۔ دراصل، اس عوامی لیڈروں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ ایک طرف کانگریس اور بی جے پی ہے تو دوسری طرف ممتا اور نتیش کھڑے ہیں۔ ان کے بیچ کی لڑائی آنے والے وقت میں اور بھی تیز ہوگی، کیوں کہ ممتا اور نتیش کمار جیسے لیڈر اور ان کی سیاست آئین میں بتائے گئے اصولوں کی پابندی کرتے ہیں۔ وہ سماجی ترقی کے راستے اقتصادی ترقی اور برابری کی سیاست کرتے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس اور بی جے پی ہے جو سیاست کو محض اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ اسلحہ کے سودے کو دونوں ہی یکساں اہمیت دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں ہی ایک دوسرے کی بی ٹیم بن گئی ہے۔ نظریاتی اختلاف نہیں رہ گئے ہیں، اس لیے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بحث نہیں ہوتی ہے، صرف ہنگامہ ہوتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ خمیازہ ایسی پارٹیوں کو ہوتا ہے، جن کی آئڈیالوجی تو الگ ہے، لیکن مخلوط حکومت کے ضابطوں کی پابندی کی مجبوری نے انہیں بے اثر بنا دیا ہے۔ یہی ہندوستانی جمہوریت کے لیے آج سب سے بڑا خطرہ ہے۔
جب سے ملک میں نیو لبرل ازم کی پالیسی نافذ کی گئی، تب سے سیاست کی حالت اور سمت بدل گئی۔ ہندوستان کی سیاست دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک طرف وہ کھڑے ہیں جو سیاست کو محض اقتدار پانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور دوسری طرف وہ ہیں جو سیاست کو سماجی اور اقتصادی ترقی کا ذریعہ مانتے ہیں۔ ایک طرف مرکز کی حکومت ہے، دوسری طرف آئین کا جذبہ ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں مرکز میں جس کسی گٹھ بندھن کی سرکار بنی انہوں نے آئین کی روح کو ہی دفنا دیا۔ پتہ نہیں ملک کے کتنے وزیروں اور لیڈروں نے آئین میں دیے گئے ڈائریکٹیو پرنسپل کو پڑھا ہو۔ اگر پڑھا بھی ہوگا تو بھول گئے ہوں گے۔ گزشتہ 20 سال سے ملک چلانے والوں کے سامنے دو راستے موجود ہیں۔ پہلا راستہ غریبوں، پچھڑوں، کسانوں اور مزدوروں کی ترقی کے ذریعے اقتصادی ترقی کا راستہ ہے اور دوسرا ملک کے صنعت کاروں اور غیر ملکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچا کر اعداد و شمار کا مایا جال بچھانا اور ترقی کا بھرم پھیلانا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ گزشتہ بیس سالوں سے مرکز کی سرکاروں نے دوسرا راستہ اپنایا۔ ترقی کا بھرم پھیلایا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں آدیواسیوں کو زمین سے بے دخل کیا جاتا ہے، کسانوں کے کھیت کم قیمت میں خرید کر بلڈروں کو بیچ دیا جاتا ہے۔ کبھی ایس ای زیڈ تو کبھی ڈیم یا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نام پر غریب کسانوں کو ان کی زمین سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ترقی کا کیسا ماڈل ہے اور اس سے کس کی ترقی ہوگی۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پچھلے 20 سالوں میں غریب پہلے سے زیادہ غریب اور امیرپہلے سے کئی گنا امیر ہو گئے ہیں۔ یو پی اے اور این ڈی اے کی مخلوط حکومتوں نے ملک کے عوام کو یہی تحفہ دیا ہے۔
ہندوستان کی سیاست میں یہ سمندر منتھن کا وقت ہے۔ ایک طرف انڈسٹری کو فائدہ پہنچانے والی مرکز کی سرکار ہے، تو دوسری طرف کسانوں کے حق کے لیے لڑنے والی بنگال کی دیدی ہے۔ ایک طرف عوام کے ساتھ مل کر زمین پر سیاست کرنے والی بے داغ شبیہ والی ماس لیڈر ہے، تو دوسری طرف دہلی کی وزارتوں میں بیٹھے بنا ملک کے وکیل ہیں، جنہوں نے غریبوں، اقلیتوں، پچھڑوں، کسانوں اور مزدوروں کو بھلا دیا ہے۔ پھر بھی وہ کیا مجبوری ہے کہ دونوں ساتھ ساتھ یو پی اے گٹھ بندھن میں ہیں۔ کانگریس گٹھ بندھن کی آئڈیالوجی اور ممتا کے تیور کا فرق اتنا گہرا ہے کہ کبھی پیٹرول کے دام پر، کبھی رٹیل میں ایف ڈی آئی پر، تو کبھی لوک پال قانون یا پھر تیستا جل بٹوارے کا معاملہ ہو، ممتا کا سامنا کانگریس پارٹی سے ہو جاتا ہے۔ دونوں پارٹیوں میں اتنا اختلاف ہے کہ ممتا نے اندرا بھون کا نام ہی بدل دیا۔ ہر بار ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی نے کانگریس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کب تک چلتا رہے گا۔ اب تو ممتا بنرجی نے یو پی چناؤ میں اکیلے اترنے کا اعلان بھی کردیا۔ ترنمول اور کانگریس کے بیچ کھٹاس یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو نیا حلیف تلاش کرنے کی نصیحت تک دے رہے ہیں۔ کانگریس کے مظاہروں او بیانوں کے جواب میں کولکاتا کی سڑک پر ترنمول کے حامی بھی اتر آئے۔ ترنمول لیڈروں نے صاف کر دیا کہ مغربی بنگال میں کانگریس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اور کانگریس چاہے تو گٹھ بندھن سے باہر نکل سکتی ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ یو پی اے گٹھ بندھن میں کانگریس کی سب سے بڑی معاون پارٹی کا ایسا رخ کیوں ہے۔
ممتا بنرجی کے سامنے کئی چنوتیاں ہیں۔ ایک تو انہیں مغربی بنگال کا کایا کلپ کرنا ہے، لیکن آج پورا ملک ان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ مرکزی حکومت کی پالیسیاں کسی بھی معنی میں عوام کے حق میں نہیں ہیں۔ لوگوں کی نظر میں مرکزی حکومت بدعنوانی کا مرکز ہے۔ وزیروں پر گھوٹالے کرنے سے لے کر مہنگائی کرنے کا الزام ہے۔ اور جب بدعنوانی کے خلاف لوک پال قانون بنایا جاتا ہے تو اس میں ممتا بنرجی سے کوئی پوچھتا تک نہیں ہے، اور جب وہ اس کی مخالفت کرتی ہیں تو انہیں کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ پٹرول کے دام جب بڑھتے ہیں یا مہنگائی کو لے کر جب وہ مخالفت کرتی ہیں تب بھی انہی پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ گٹھ بندھن درھم کا پالن نہیں کرتی ہے۔ جن لوگوں نے آئین بنایا، انہوں نے ہندوستان کو ایک ملٹی پارٹی سسٹم کا روپ دیا۔ مطلب یہ کہ الگ الگ سیاسی پارٹیوں کو جگہ دی، تاکہ الگ الگ آئڈیالوجی کو جگہ مل سکے۔ اب سرکار بجٹ لانے والی ہے۔ اس بجٹ کی شکل و صورت کیا ہوگی، یہ کون طے کرے گا۔ منموہن سنگھ اور ان کے ماہر اقتصادیات دوستوں کی ٹولی، جن کا مقصد صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اگر سرکار ترجیحی طور پر اقتصادی اصلاحات کو لاگو کرتی ہے تو ممتا بنرجی کی کریں گی، وہ گٹھ بندھن دھرم نبھائیں گی یا پھر عوام کے ساتھ کھڑی ہوں گی، یہ فیصلہ تو ممتا بنرجی کو ہی کرنا ہے۔
ہندوستانی جمہوریت آئڈیولوجیکل سپرمیسی کے چنگل میں پھنس گئی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ملک کی سیاست ایسی راہ پر گامزن ہے، جہاں سرکار کسی بھی پارٹی کی نے، لیکن پالیسیاں نہیں بدلتیں، صرف وزیروں کے چہرے بدل جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرکزی حکومت دو ایسے سیاسی محور میں سمٹ گئی ہے جس کی چال، کردار اور چہرہ ایک جیسا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکار کسی بھی گٹھ بندھن کی ہو، چاہے وہ یو پی اے ہو یا پھر این ڈی اے، ان سے عوام کو کوئی امید نہیں ہے۔ لیکن جب ہم بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار جیسے لیڈروں کو دیکھتے ہیں تو ایک امید جگتی ہے، ایک ایماندار لیڈر نظر آتا ہے، عوام کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ دکھائی دیتا ہے۔ بہار میں وہ تبدیلی کی مثال قائم کر رہے ہیں۔ سماجی ترقی کے ساتھ اقتصادی ترقی کا نعرہ بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہندو مسلم، سکھ عیسائی بھائی چارے کو بڑھانے والے ایک رہنما نظر آتے ہیں۔ شرد یادو جب پارلیمنٹ میں بولتے ہیں، تو لگتا ہے لوک سبھا میں ایسا لیڈر آج بھی بچا ہے جو غریبوں کی طرف سے بولتا ہے، جو کسانوں کی آواز سرکار تک پہنچاتا ہے۔ لیکن جب مرکز کے اقتدار میں ان کی حصہ داری پر نظر ڈالتے ہیں تو مایوسی ہوتی ہے۔ دونوں ہی لیڈر جنتا دل یونائٹیڈ پارٹی کے ہیں جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی این ڈی اے گٹھ بندھن میں ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بہار کے باہر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے جنتا دل یونائٹیڈ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش الیکشن میں بی جے پی – جے ڈی یو کا برسوں پرانا گٹھ بندھن ٹوٹ گیا۔ عجیب و غریب صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ این ڈی اے کے دو بڑے وزرائے اعلیٰ نتیش کمار اور نریندر مودی آمنے سامنے ہوں گے۔ این ڈی اے گٹھ بندھن بھی یو پی اے کی طرح ایک تناؤ کے دور سے گزر رہی ہے۔ نظریاتی اختلاف اور ایک دوسرے پارٹی لیڈروں کو نیچا دکھانے کا دور یہاں بھی جاری ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جب سرکار میں رہتی ہے تو اس کی اقتصادی پالیسی کانگریس کی اقتصادی پالیسی سے الگ نہیں ہوتی۔ سرکار چلانے کا انداز کانگریس اور بی جے پی کا ایک ہی جیسا ہے۔ سوال نتیش کمار کے لیے ہے کہ کیا وہ ان پالیسیوں کی حمایت کریں گے جس کی وہ مخالفت کرتے رہے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوستان کی سیاست میں اچھوت مانا جاتا تھا۔ خاص کر بابری مسجد کے گرائے جانے کے بعد سے تو ہر پارٹی بی جے پی سے دور ہی رہی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس آج بھی ایسے لیڈر ضرور ہیں جو دوسری پارٹیوں سے بات کرکے کوئی کارگر گٹھ بندھن بنا سکے۔ بی جے پی جب بھی مرکز کے اقتدار پر قابض ہوئی، اس نے جے ڈی یو کے سہارے گٹھ بندھن تیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ این ڈی اے گٹھ بندھن کا کنوینر ہمیشہ جنتا دل یونائٹیڈ کے ہی لیڈر رہے۔ جب پہلی بار این ڈی اے گٹھ بندھن کی سرکار بنی تھی تب جارج فرنانڈیز صاحب نے اہم رول نبھایا تھا۔ وہ آج کل بیمار ہیں، لیکن ان کی جگہ شرد پوار بخوبی نبھا رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل یونائٹیڈ کی آئڈیالوجی کہیں گم ہو جاتی ہے۔ جس طرح یو پی اے گٹھ بندھن میں دوسری پارٹیوں کی آئڈیالوجی ختم ہو جاتی ہے، وہی حال این ڈی اے کا بھی ہوتا ہے۔
یو پی اے کی پالیسیوں میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا دخل نہیں ہے اور این ڈی اے سرکار میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی کوئی سننے والا نہیں ہے۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ مرکزی حکومت کی اقتدار کی کنجی صنعت کاروں اور بڑی بڑی کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے۔ جو بھی پالیسیاں بنتی ہیں، ان میں ان کے فائدہ کو پہلے سے ہی یقینی کر دیا جاتا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے سرکار کے نمائندے گھوٹالہ کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں ہندوستان میں ایسی کوئی سرکار بن سکتی ہے، جو ملک کے دلتوں، غریبوں، اقلیتوں، پچھڑوں، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل کو ترجیح دے اور اس میں ممتا بنرجی اور نتیش کمار کا کیا رول ہو سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں ممتا بنرجی اور نتیش کمار کو دیکھ کر امید جگتی ہے۔ دراصل، اس عوامی لیڈروں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ ایک طرف کانگریس اور بی جے پی ہے تو دوسری طرف ممتا اور نتیش کھڑے ہیں۔ ان کے بیچ کی لڑائی آنے والے وقت میں اور بھی تیز ہوگی، کیوں کہ ممتا اور نتیش کمار جیسے لیڈر اور ان کی سیاست آئین میں بتائے گئے اصولوں کی پابندی کرتے ہیں۔ وہ سماجی ترقی کے راستے اقتصادی ترقی اور برابری کی سیاست کرتے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس اور بی جے پی ہے جو سیاست کو محض اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں جمہوریت کو مستحکم بنانا ہے تو کیا ممتا بنرجی اور نتیش کمار جیسے لیڈر ایک ساتھ مل کر سماجی ترقی کی سیاست کو مضبوط کریں گے۔ آئین کی روح کو سرکاری پالیسیوں میں شامل کریں گے۔ یا پھر کانگریس اور بی جے پی جیسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر ایک خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ ایسا موقع بار بار نہیں آتا، جب وقت آپ کو تاریخ رقم کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ وقت ایسا ہے، جو ایماندار، زمین سے جڑے لیڈروں کے لیے موقع فراہم کرتا ہے۔g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here