ششی شیکھر
p-4قومی گیت میں بھلا کون وہ/ بھارت بھاگیہ ودھاتا ہے/ پھٹا ستھنا پہنے جس کا/ گن ہر چرنا گاتا ہے/ مخمل ٹم ٹم بلم تُرہی/ پگڑی چھتر چنور کے ساتھ/ توپ چھڑا کر ڈھول بجا کر/جے جے کون کراتا ہے/ پورب ، پچھم سے آتے ہیں/ ننگے بوچے نرکنکال/ سنہاسن پر بیٹھا/ ان کے تمغے کون لگاتا ہے….
رگھوویر سہائے
یہ صرف ایک گیت نہیں ہے ، بلکہ موجودہ جمہوریت کا ایک خاکہ ہے ، جسے سہائے جی نے اپنے لفظوں میں کھینچا ہے۔موجودہ جمہوریت میں ہر چرنا جس سے مراد عوام ہیں ،اس کی عادت ہی بن چکی ہے خوبیاں بیان کرنے کی۔ ہر چرنا ہر بار کسی بھارت بھاگیہ ودھاتا کے ذریعہ دکھائے گئے خواب کے عوض ان کی تعریف اور خوبیاں بیان کرتا ہے اور پھر ہر بار پانچ سال کے لئے ہر چرن پھٹا پرانا پہننے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے۔ بہر حال ایک بار پھر انتخاب کی تاریخ طے ہو چکی ہے، سیاست کے ماہرین میدان میں پہلے سے ہی ڈٹے ہوئے تھے اور اب مزید دم خم کے ساتھ میدان میں آگئے ہیں۔ وعدوں او ردعووں کا دور شروع ہو چکا ہے۔ ہندوستان کی تعمیر سے لے کر ہندوستان کو گجرات بنانے کے دعوے ہور ہے ہیں ۔خود کو عوامی خواہش و عوامی جذبات کے سب سے بڑے ٹھیکہ دار بتانے کی زور آزمائی ہورہی ہے، لیکن سب سے بڑا سوال؟کیا ان میں سے کسی نے بھی ہرچرنا یعنی عوام سے پوچھا کہ اسے کیا چاہئے؟ ادھار کے ماہرین اقتصادیات سے اپنا ویژن ڈاکومنٹ بنوانے والے راہل گاندھی یا نریندر مودی نے کیا کبھی عوام سے جاننے کی یہ کوشش کی کہ عوام کس طرح کی ترقی چاہتے ہیں؟بڑے مال، چمکتی سڑکیں،فلائی اُووَر،کسانوں کی زمین پر بنتے کارخانے یا پھر اپنی زمین پر کھیتی کرکے روزگار پیدا کر کے ایک مطمئن زندگی۔
بہر حال اس انتخاب میں ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹی، خاص طور پر بی جے پی بد عنوانی کو ایشو بنا رہی ہے۔ حالانکہ اس کے لئے بد عنوانی کا مطلب صرف کانگریس کی بد عنوانی ہی ہے۔ نریندر مودی گجرات کی ڈیولپ ماڈل کو پورے ملک میں نافذ کرنے کے سنہرے خواب دکھا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ خود گجرات کا ڈیولپ ماڈل گجرات کے بیشتر لوگوں کے لئے نہیں ہے۔ راہل گاندھی یا کانگریس کی حالت ایسی ہے کہ آخر وہ بولیں تو کیا بولیں۔لیکن چونکہ سیاست کا تقاضہ ہے کہ کچھ بولیں، اسی لئے وہ بھی ترقیات اور بد عنوانی پر زیرو ٹولیرینس کی بات کرر ہے ہیں۔لیکن ان سب کے بیچ عوام کیا چاہتے ہیں۔ اس پر کسی کو غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ملک کا خوشحال طبقہ بھی ظاہری طور پر ایسی کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ہے، جس سے اس کی خوشحالی متاثر ہو۔ مثلاً اس کی فکر اپنے مکان اور گاڑی کی قسط کے بارے میں ہے۔ اس کی فکر اپنے بچوں کے اسکول کی بڑھتی فیس اور مہنگائی، بجلی اور پانی کے تعلق سے ہے۔
لیکن اس کا کیا جس کے پاس گاڑی تو دور، نہ گھر ہے ،نہ پینے کا صاف پانی ۔جسے روزی روٹی کے لئے ہزاروں کلو میٹر دور اپنا گھر چھوڑ کر جانا پڑتا ہے۔ اس 70فیصد آبادی کا کیا جو روز 20 روپے سے کم کی آمدنی پر جینے کے لئے مجبور ہے۔ان کا کیا جن کے پاس کھیتی کے لئے زمین تک نہیں ہے؟ظاہر ہے، جمہوری ہندوستان کے ان کروڑوں ہرچرنا (عوام) کی ضرورت کیا ہے۔ ان ضرورتوں کو کیسے پورا کرنا ہے۔ اس پر نہ تو نریندر مودی بات کر رہے ہیں اور نہ ہی راہل گاندھی۔1991 سے شروع ہوئی اقتصادی پالیسی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ آخر اس پر مودی یا راہل کیوں نہیں بولنا چاہتے ہیں ۔ پچھلے 24 سالوں میں ملک نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ ملک کے تمام مسائل کے پیچھے ہماری موجودہ اقتصادی پالیسی ہی ذمہ دار ہے۔ سرکار چاہے کسی کی بھی آئے۔ وہ اسی اقتصادی پالیسی کو نافذ کرتے ہیں، جسے منموہن سنگھ نے وزیر خزانہ رہتے ہوئے 1991 میں نافذ کیا تھا۔ نتیجتاً کارپوریٹ فرینڈلی پالیسیز بنتی رہیں۔ بیچ بیچ میں عوام کو آر ٹی آئی اور منریگا جیسا لالی پاپ تھمایا جاتا رہا، لیکن کل ملا کر ان 24 برسوں میں ملک کی 25 فیصد سے زیادہ ریاستیں مائووادیوں کے مسئلے سے دوچار ہوگئیں، کسان پہلے سے زیادہ خود کشی کرنے لگے۔
تو سوال یہ ہے کہ ان سب سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے یا نہیں ؟ہر دور میں راستے سامنے آتے رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس راستے پر جانے کی ہمت کوئی کر پاتا ہے یا نہیں۔موجودہ دور میں بھی خاص کر پچھلے دو تین سالوں میں ملک کے اندر ایک نئی سیاسی بیداری آئی ہے۔نئے طور طریقے،نئی باتیں ، نئی بحث روز جنم لے رہی ہے۔ کیا اچھا ہے، کیا برا ہے، اسے آخر کار عوام کو ہی طے کرنا ہے۔ لیکن سب سے ضروری ہے کہ نئی سوچ نئی بات ، نئے نظریے پر بحث ہو۔ گاندھی واد ی سماجی کارکن انا ہزارے نے اپنا 17 نکاتی پروگرام جب پیش کیا اور اسے ملک کی سبھی سیاسی پارٹیوں کو بھیجا، تب کسی بھی سیاسی پارٹی نے س کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا ، سوائے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے۔ انا ہزارے آخر کیا کہہ رہے ہیں؟انا ہزارے کی بات کو سمجھنے کے لئے آپ کو کوئی بہت بڑا ماہر اقتصادیات ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی آپ کو اقتصادیات کی جانکاری کی ضرورت ہے۔وہ سیدھی بات کہہ رہے ہیں کہ بد عنوانی کو ختم کرنے کے لئے ہر سطح پر شفافیت لائی جائے گی۔ سیاسی فیصلوں میں بھی عوام کو جاننے کا حق ہوگا کہ یہ فیصلہ کیوں لیا جارہاہے۔ گائوں کو چیف ایڈمنسٹریٹیو اکائی بنایا جائے گا اور گرام سبھا کو زیادہ حق دیا جائے گا۔ ہر گائوں میں سیلف سپورٹنگ اور سیلف سسٹینڈ گرامین اکونومک اسکیم کو لاگوکیا جائے گا۔ تحویل اراضی قانون میں کسانوں کے حق کے لئے بدلائو لایا جائے گا تاکہ کسانوں کی زمین کو کوئی چھین نہ سکے۔ معدنیات کی نجی کاری پر روک لگائی جائے۔تاکہ کوئی پرائیویٹ کمپنی ملک کے وسائل کو نہ لوٹ سکے۔ گائوں گائوں تک ہیلتھ سروسز کی سہولت پہنچ سکے،اس کے لئے ہیلتھ سروسز میں بڑی تبدیلی لائی جائے گی۔تعلیم کی نئی پالیسی نافذ ہوگی اور تعلیم کو روزگار سے جوڑا جائے گا۔
اب اس طرح کے پروگرام سے بھلا کسے انکار ہوسکتاہے؟لیکن اس ملک کی بد قسمتی دیکھئے کہ جو سیاسی پارٹیاں کل تک انا ہزارے میں دوسرے گاندھی کی شبیہ دیکھتی تھیں،آج ان کے خط کا جواب تک نہیں دیتیں۔ اکیلی ممتا بنرجی نے عوامی سطح پر یہ قبول کیا ہے کہ وہ انا ہزارے کے 17 نکاتی پروگرام سے متفق ہیں اور اگر وہ اقتدار میں آتی ہیں تو اسے ترجیحی بنیاد پر نافذ کریں گی۔ اب عوام کے دل میں یہ سوال آسکتا ہے کہ اس ایجنڈے کو لاگو کرنے کے لئے تو اقتدار میں آنا پڑے گا؟کیا ممتا بنرجی وزیر اعظم بن سکتی ہیں؟اس سوال سے بھی بڑا ایک اور سوال ہے کہ آخر کیوں نہیں اس ملک میں ممتا بنرجی جیسی لیڈر کو وزیر اعظم بننا چاہئے؟اور یہ کیا واقعی اتنا مشکل ہے جتنا ابھی سمجھا جارہا ہے۔
اس سے پہلے تھوڑا یہ جانتے ہیں کہ گزشتہ تین برسوں میںممتا بنرجی نے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے اپنی ریاست میں کیا کیا کام کیے ہیں۔ 34 سالوں کی کمیونسٹ حکومت کو اکھاڑنے والی ممتا بنرجی جب مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ بنیں تو انہیں وراثت میں ایک ایسی ریاست ملی تھی جس کا سب کچھ لٹ چکا تھا۔قرض کے بوجھ سے دبی ریاست کو پٹری پر لانے کے لئے ممتا بنرجی وزیر اعلیٰ بننے کے 6 مہینے کے اندر 56 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری ا ور ڈھائی لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کر چکی تھیں۔ دہائیوں پرانے گورکھا لینڈ مسئلے کو سلجھانے میں وہ کامیاب رہیں۔جنگل محل کا مسئلہ آج ویسا نہیں ہے جیسا تین سال پہلے تھا۔ پلاننگ کمیشن نے گزشتہ سال مغربی بنگال کے پچھڑے علاقوں کی ترقی کے لئے 8750 کروڑ روپے کا اضافی پیکج دیا۔ یہ پیکج نکسلواد سے متاثرہ علاقوں کے لئے ہے، جس میں جنگل محل بھی شامل ہے۔ اسی علاقے میں مغربی مدنا پور ، پرولیا اور بانکوڑا ٓتے ہیں۔ اپنی ڈھائی سالہ حکومت میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال میں ترقی کے ڈھیروں کام کیے۔ قومی میڈیا میں بھلے ہی اس بات کا چرچا نہ ہو، لیکن یہ سچ ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی دنوں بعد ممتا بنرجی نے ریاست کے نکسل متاثرہ جنگل محل کا دورہ کیا۔ یہاں انہوں نے مائووادیوں کے لئے ترقیاتی اسکیم چلائیں۔ ممتا کی ہی پہل سے متاثر ہوکر کئی بڑے نکسلی لیڈران تشدد کا راستہ چھوڑ کر سماج کی مین اسٹریم میں آگئے۔ مغربی بنگال میں اقلیتی ووٹروں کی تعداد تقریباً 30فیصد ہے۔ان ووٹروں نے اسمبلی انتخاب میں ترنمول کانگریس کو بھرپور حمایت دی ۔اقتدار سنبھالنے کے بعد ممتا بنرجی نے اقلیتی ترقیات کے لیے کئی بڑی اسکیمیں بنائیں، جن کا پورا فائدہ مسلم طبقے کو ملا۔مدارس کے معلمین ،مساجد کے اماموں کی تنخواہیں بڑھائیں۔عالیہ یونیورسٹی کے لئے 60 بیگھہ زمین دی۔ سادگی اور ایمانداری کے معاملے میں بھی ممتا کے آگے ابھی ملک کا کوئی لیڈر نہیں ٹکتا۔ 40 سال کے سیاسی کیریئر کے بعد بھی اگر کوئی وزیر اعلیٰ اپنے گھر کی لا ل کھپریل اینٹ نہیں بدلوا پائے، تو اسے ایمانداری کے کس درجے میں رکھا جائے؟
سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں متبادل کی کمی ہے۔کیا اس ملک کے پاس مودی اور راہل کے علاوہ اور کوئی متبادل نہیں ہے۔ دراصل متبادل کی کمی بناوٹی ہے۔جان بوجھ کر یہ صورت حال بنائی گئی ہے تاکہ عوام مجبور ہوکر سانپ یا بچھو میں سے کسی ایک کو چن لیں۔لیکن اس بار کے پارلیمانی انتخابات متبادل میں کمی کی صورت حال کو بدلنے والے ہیں۔ایسے میں ممتا بنرجی اگر اس ملک کی وزیر اعظم کے عہدے کے لئے ایک امیدوار کے طور پر سامنے آتی ہیں اور انا ہزارے ان کی حمایت کرتے ہیں تو اس میں غلط کیا ہے؟ وہ بھی تب جب ممتا بنرجی پوری ایمانداری سے انا ہزارے کے17 نکاتی پروگرام کو نافذ کرنے کی بات کہہ رہی ہیں۔ 1996 کا تجربہ بتاتا ہے کہ سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ یہ امکانات سے بھرا ہوا ہے۔ دیو گوڑا اور گجرال وزیر اعظم بن سکتے ہیں ۔ایسے میں اگر یہ امید کی جائے کہ ممتا بنرجی بھی اس ملک کی وزیر اعظم بن سکتی ہیں تو اس میں حیرانی نہیں ہونی چاہئے۔ ایسی صورت حال کے لئے بس اتنی ضرورت ہے کہ انہیں مغربی بنگال میں 30 یا 35 سے زیادہ سیٹیں مل جائیں اور کچھ سیٹیں شمالی و مشرقی شمال ہندوستان میں مل جائیں۔ ایسی حالت میں وہ کانگریس اور بی جے پی کے بعد ان کی تیسری سب سے بڑی پارٹی ہوسکتی ہے۔ مودی کی تمام کوششوں کے بعد بھی ان کی سیاسی شبیہ ایسی نہیں بن سکی ہے کہ انتخاب کے بعدساری پارٹیاں ان کے آگے جھک جائیں گی۔دوسری اہم بات جس کا تعلق تکنیک سے ہے کہ سوشل سائٹرس کے زبردست استعمال سے مودی اور ان کے حامیوں نے ملک میں ایک غیر یقینی ماحول پیدا کر دیا ہے۔ جس گجرات کو لے کر مودی پورے ملک میں گھوم رہے ہیں، اس کی اصلیت نہ تو میڈیا سامنے لاتا ہے اور نہ ہی باقی سیاسی پارٹیاں۔
گجرات کی ترقی کی کہانی پر بھی ذرا نظر ڈالیں۔یہاں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 45 فیصد بچے قلت غذا کے شکار ہیں۔ 70 فیصد بچے خون میں کمی سے متاثر ہیں۔ 30 لاکھ سے زیادہ بی پی ایل خاندان ہیں ۔ 30فیصدخاندانوں کو صاف پانی نہیں ملتا۔ 10 سالوں میں 489 کسانوں نے خود کشی کی۔یہ اعدادو شمار کسی غیر سرکاری اداروں کے نہیں بلکہ خود سرکاری دستاویزوں میں درج ہیں۔ یہ اعدا دو شمار کسی غیر سرکاری تنظیم کے نہیں بلکہ آر ٹی آئی قانون کے استعمال سے سامنے آئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مودی ملک بھر میں گھوم کر گجرات کے کسانوں کی کامیابی کی کہانی سناتے نہیں تھکتے، آخر ان کی ہی ریاست میں کسان خود کشی کیوں کر رہے ہیں؟گجرات کے پرائمری اسکولوں میں لڑکیوں کے لئے بیت الخلاء تک نہیں۔ آر بی آئی کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 2000 سے 2011 کے درمیان گجرات میں محض 7.2 بلین ڈالر کا ہی ایف ڈی آئی آیا ، جبکہ اس کے مقابلے مہاراشٹر میں 45.8 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ یہ بات کم ہی لوگوں کو پتہ ہوگی کہ گجرات میں کسان اپنی زمین کے لئے تحریک چلا رہے ہیں۔ سرکار کے اسپیشل انوسٹمنٹ ریجن کے خلاف درجنوں گائوں کے لوگ سڑک پر ہیں۔
یہ ایک ایسا سچ ہے جس پر بات کرنے سے پرہیز کیا جاتاہے۔ لیکن یہ پبلک ہے اور پبلک بھارت نرمان، انڈیا شائننگ اور وائبریٹ گجرات کا سچ جانتی ہے۔ایسا ماننے میں گریز نہیں ہونا چاہئے ۔ایسے میں یہ پارلیمانی انتخابات سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کی خواہشوں سے زیادہ اس ملک کے عوام کے لئے اہم ہے۔فیصلہ عوام کو کرنا ہے اور یہ امید کی جانی چاہئے کہ عوام جوش و جذبہ میں آکر اپنا فیصلہ نہیں لیںگے۔ کیونکہ اس بار عوام کے پاس متبادل کا فقدان نہیں ہے۔

ملک کی ترقی کا بلیو پرنٹ ہے انا کا 17 نکاتی پروگرام
اس ملک کے آدمی کو کیا چاہیے، روٹی، کپڑا، مکان اور عزت کے ساتھ زندگی جینے کا حق۔ ہماری موجودہ اقتصادی پالیسی کی وجہ سے ملک کے کروڑوں لوگوں کو روٹی، کپڑا اور مکان تک نصیب نہیں ہے۔ ایسے میں انّا ہزارے کے 17نکاتی پروگرام پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے، جو اس ملک کی سماجی، اقتصادی ترقی کے لیے بننے والی ایک نئی اقتصادی پالیسی کی بنیاد بن سکتا ہے۔واضح ہو کہ ممتا بنر جی نے انّا کے اس 17نکاتی پروگرام کو اپنانے اور نافذ کرنے کے لیے حامی بھر لی ہے۔ ظاہر ہے، اب وقت آگیا ہیکہ ان سترہ نکات پرگفتگو کی جائے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ ان نکات کا اس ملک میں نافذ ہونا کیوں ضروری ہے۔
انّا کے مطابق بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے ہر سطح پر نہ صرف سرکار کے کام میں شفافیت لائی جائے گی، بلکہ پالیسی کے معاملے میں بھی عوام کو جاننے کا حق حاصل ہوگا کہ یہ فیصلہ کیوں لیا جا رہا ہے۔ملک اور بیرونِ ملک کی حفاظت کے معاملے کو چھوڑ کر سرکار کے ہر فیصلے کی فائل کو 2سال کے بعد عام کر دیا جائے گا۔
انتخابی عمل میں وسیع تر اصلاحات کا بلا تاخیر قانون لایا جائے گا، تاکہ بدعنوان اورمجرم عوامی نمائندے نہیں بن سکیں۔
گاؤں کے بارے میں انّا کہتے ہیں کہ گاؤں کو اہم انتظامی یونٹ بنایا جائے گا اور گرام سبھا کو زیادہ اختیارات دیے جائیں گے۔ ہر ایک گاؤں میں سیلف سپورٹنگ اور سیلف سسٹینڈ دیہی معیشت منصوبہ کو نافذ کیا جائے گا۔ گرام سبھاؤں کو ہی خاص طور سے تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر کے فروغ کی ذمہ داری دی جائے گی۔ پورے ضلع میں گرام سبھائیں آپس میں مل کر اکونومک کمبنیشن اور تال میل سے بے روزگاری کے مکمل خاتمے اور سو فیصد روزگار پیدا کرنے کی ذمہ دارہوں گی۔ ضلع سے باہر کوئی بھی بے روزگار نہیں جائے گا۔ گاؤں، بلاک اور ضلع سطح پر مارکیٹنگ یونٹ کا قیام ہوگا، تاکہ کسانوں کی فصل مناسب داموں پر بازار میں بھیجی جا سکے۔ مقامی وسائل کی بنیاد پر ترقی اور صنعت کاری کا نیا ڈھانچہ تیار کیا جائے گا۔
تحویل اراضی قانون میں کسانوں کے مفاد کے لیے تبدیلی لائی جائے گی، تاکہ کسانوں کی زمین کوئی نہ چھین سکے۔ اس کے ساتھ ہی کسانوں کے لیے نئی قرض پالیسی وضع کی جائے گی۔ نیا فاریسٹ ایکٹ بنایا جائے گا۔ جنگل میں رہنے والوں اور آدیواسیوں کا حق انھیں لوٹایا جائے گا۔ ہم ایسی پالیسی بنائیں گے کہ جسسے جنگلات کا کٹنا بند ہو جا ئے گا۔ قومی وسائل کے استعمال پرنیا قانون بنایا جائے گا۔ معدنیات کی نجکاری پر پوری طرح روک لگائی جائے گی، تاکہ کوئی نجی کمپنی ملک کے وسائل کو نہ لوٹ سکے۔ سبھی کو پانی مل سکے، اس کے لیے جل سرپنچ اور پانی کی تقسیم کی نئی اسکیم نافذ کی جائے گی۔ گاؤں گاؤں تک ہیلتھ سروس پہنچ سکے، اس کے لیے ہیلتھ سروسز میں وسیع تبدیلی لائی جائے گی۔
تعلیم کی نئی پالیسی نافذ ہوگی۔تعلیم کو روزگار سے جوڑا جائے گا۔ مقامی خام مال کی بنیاد پر ہراسکول او رکالج کے ساتھ ایک انڈسٹری تیار کی جائے گی۔ مثال کے طور پر ندیوں کے کنارے سارے اسکول اور کالج کو دودھ اور دودھ سیبننے والی اشیاء کی صنعتوں سے جوڑ دیا جائے گا۔ ان اسکول و کالج میں تیار کیا گیا سامان کوالٹی کنٹرول کی بنیاد پر سرکار خریدے گی۔ اسکول، کالج کے آس پاس پانچ سے دس کلو میٹر کے علاقے میں سبھی کو خواندہ بنانے کی ذمہ داری ان اسکول و کالج کے طلبہ کو دی جائے گی۔
غیر ملکی بینکوں میں جمع کالے دھن کو نیشنل پراپرٹی ڈکلیئر کر کے اسے واپس لایا جائے گا۔ ملاوٹ کے خلاف سخت قانون لایا جائے گا اور ملاوٹ کرنے والوں کو عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ مہنگائی پر روک لگائیں گے اور مہنگائی کو کم بھی کریں گے، کیونکہ مہنگائی کے سبب بدعنوانی اور غلط پلاننگ ہوتی ہے۔ ڈیزل، پیٹرول اور رسوئی گیس کی قیمت طے کرنے کا حق واپس سرکار کے پاس لایا جائے گا۔
ملک میں نئی ٹیکس پالیسی بنائی جائے گی۔ عوام کو لوٹنے والے ٹیکس نظام پر روک لگائی جائے گی۔ ملک میں نئی توانائی پالیسی نافذ ہوگی۔ ہم بڑے پیمانے پر ایسی ٹیکنالوجی لائیں گے،جس سے کہ ہر گاؤں اور ہر شہر میں کم سے کم 20گھنٹے بجلی کی سپلائی یقینی ہو سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here