ممتا کی جیت میں مسلم ووٹوں کی حصہ داری

Share Article

وسیم راشد
لیجئے 5 ریاستوں کے انتخابی نتائج آچکے ہیں، اس سے پہلے کہ مختلف ریاستوں میں انتخابی عمل اور عوامی رجحان پر بات کی جائے، سب سے پہلے مبارکباد دیتے ہیں الیکشن کمیشن کو اور اس میں صحیح معنوں میں اگر کوئی قابل مبارک باد ہے تو وہ ہیں چیف الیکشن کمشنر جناب ایس وائی قریشی صاحب۔ بہار کا انتخاب جس طرح پر سکون ہوا اور اس کے بعد 5 ریاستوں کے انتخابات جس طرح بغیر کسی بھی پریشانی اور دنگے فساد کے گزر گئے، وہ اس بات کی علامت ہے کہ اب الیکشن کمیشن ہر ریاست میں وہاں کے عوام کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامات کراتی ہے۔ ان دنوں جب کہ سبھی اخبارات اور چینلز ریاستوں کے نتائج پر بحث و مباحثہ میں لگے ہوئے ہیں، ہماری نظر چیف الیکشن کمشنر کے اس بیان پر بھی گئی، جس میں انتخابات میں پیسوں کے بڑھتے اثر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ قریشی صاحب کے اس بیان کو بہت ہلکے میں نہیں لینا چاہیے کہ انتخابات کے دوران 70 کروڑ روپے قبضے میں لیے گئے، جن میں سے 60 کروڑ صرف تمل ناڈو سے برآمد کیے گئے ہیں۔ قریشی صاحب کے اس بیان میں وہ کڑوی سچائی پوشیدہ ہے، جس کے تحت سبھی پارٹیاں یہ پیسہ پروپیگنڈہ، جلسے جلوس، انتخابی انتظامات، چائے پانی اور ووٹ خریدنے تک کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اگر اسی طرح کی روک لوک سبھا انتخابات میں بھی لگا دی جائے تو یقینا صاف ستھرے انتخابات کی امید کی جاسکتی ہے۔ شروعات کہیں سے تو ہونی ہے۔
چلیے اب بات کرتے ہیں مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی جیت کی تو ممتا بنرجی کو یقینا عوام کا دل جیتنا آتا ہے۔ سوتی ساڑی، پیروں میں ہوائی چپل، معمولی شکل و صورت پر معصومیت لیے عوام کے درمیان گزرتے ہوئے ان کی پریشانیوں میں شامل ممتابنرجی وہ ہردل عزیز شخصیت ہیں، جن کی سادگی، محنت اور جد و جہد نے آج انہیں اتنی بڑی کامیابی سے ہم کنار کیا ہے۔ ہم بنگال کے ایک اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے تو اس کی شہ سرخی پر نظر گئی جو اس طرح تھی’’غرور غارت ممتا لہر پر عوامی جذبات کی سونامی نے سرخوں کا صفایا کردیا‘‘ کہنے کا مقصد یہی ہے کہ بائیں محاذ کی شکست میں ان کی وہ پالیسیاں شامل تھیں، جنہوں نے ان کو بنگال کے عوام سے دور کردیا اور یقینی طور پر اس میں تبدیلی کی لہر بھی اہم ہے، بلکہ خود سی پی آئی ایم کے سینئر قائدین نے مغربی بنگال کے نتائج پر ترنمول کانگریس کے انتخابی نعرے ’’تبدیلی‘‘ کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور عوام کو تبدیلی کی ضرورت تھی، اسے بھی مانا ہے۔ سیتا رام یچوری کے بیان پر جائیں تو انہوں نے بھی یہی کہا ہے کہ وہاں پر جنتا میں پریورتن کی آشا رہی اس کا فائدہ ترنمول کو ملا ہے۔ پولٹ بیورو رکن برندا کرات نے بھی اس بات کو مانا ہے کہ عوام تبدیلی چاہتے تھے۔ برنداکرات نے ایک اچھے لیڈر کی طرح یہ بھی کہا کہ ہم پوری متانت کے ساتھ یہ نتائج قبول کرتے ہیں اور ہم ریاست میں ایک ذمہ دار اپوزیشن کا رول ادا کریںگے۔ برندا کرات کے اس بیان کی صداقت سے انکار نہیں کہ سی پی آی ایم کو 294 میں سے 63 سیٹوں پر ہی چاہے کامیابی ملی ہو، مگر ظاہر ہے وہ ریاست کی ایک ہی مضبوط اپوزیشن ہے۔ سی پی آئی ایم کو اپنی طاقت کو سمجھنا ہوگا اور پھر سے خود کو کھڑا کرنا ہوگا، اگر بی جے پی کی طرح وہ ناکام اپوزیشن ثابت ہوتی ہے تو پھر شاید آئندہ انتخابات میں اتنی سیٹیں بھی نہ مل پائیں۔ ہاں اس ضمن میں سومناتھ چٹرجی کا بیان بہت اہم ہے کہ سی پی آئی ایم عوام سے کٹ گئی ہے، یہی ہار کی اہم وجہ ہے۔ ہمارے خیال میں سومناتھ چٹرجی کے اس بیان میں بہت صداقت ہے۔ کمیونسٹ پارٹی سے ماضی میں لاتعداد غلطیاں ہوئی ہیں، جس کا الیکشن سے پہلے مناسب طریقے سے جائزہ نہیں لیا گیا۔ ا س کے علاوہ بائیں محاذ کے پاس اس وقت قدآور لیڈرس نظر نہیں آتے اور جہاں تک ممتا بنرجی کا تعلق ہے، وہ عوام کے دل سے بہت قریب ہیں۔ 9 اگست 1997 کو گاندھی جی کے بت کے سامنے ترنمول کا یہ چھوٹا سا پودا اب ایک تناور درخت بن گیا ہے۔ ممتابنرجی کی زندگی کی پہلی جیت 1989 کا لوک سبھا کا وہ الیکشن ہے، جس میں انہوں نے سومناتھ چٹرجی کو ہرا دیا تھا، وہ دن ہے اور آج کا دن بنگال کی اس شیرنی نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور ممتا کی جو شبیہ مغربی بنگال میں ابھری وہ ایک سیدھی سادی، عوام کے دل سے قریب، عوام کے لیے کچھ بھی کرگزرنے والی لیڈر کی بن کر ابھری۔ ممتا کی آج کی جیت کو اس واقعہ سے بھی جوڑنا ہوگا، جب وہ 1993 میں ندیا ضلع کی عصمت دری کی شکار لڑکی کو لے کر رائٹرس بلڈنگ چلی گئیں، جہاں چیف منسٹر جیوتی باسو نے ان سے ملنے سے انکار کردیا، تو وہ جیوتی باسو کے گھر کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئیں۔ 23 جولائی کو یہاں ہوئے ہنگامے اور پولس فائرنگ میں 13 نوجوان کانگریسی کارکن مارے گئے اور اس کو لے کر انہوں نے پوری ریاست میں احتجاج کیا۔ اب بھی ترنمول اس دن کو ہر سال شہید دوس کے روپ میں مناتی ہے۔ ممتا کو ظاہر ہے جیوتی باسو جیسے قابل اور سنجیدہ لیڈر کے دور میں چھوٹے چھوٹے ہی مسائل حل کرنے کو ملے، مگر عام آدمی کو یہ لگا کہ ایک یہی لیڈر ہے جو ان کے پکارنے پر ہوائی چپل میں کیچڑ سے لت پت گلیوں میں دوڑتی چلی آتی ہے۔ ممتا ان چھوٹے چھوٹے مسائل اور کاموں کی بدولت اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہیں۔ سنگور میں ٹاٹا کے نینو کار خانہ لگانے کے وقت ممتا کا رویہ اتنا سخت نہیں تھا پر انہیں لگا کہ بہت سارے کسان اپنی زمین نہیں دینا چاہتے اور سرکار انہیں معقول معاوضہ دیے بغیر ہی زمین ہڑپنا چاہتی ہے تو انہوں نے اپنا آندولن تیز کردیا، پھر نندی گرام کے کیمیکل ہب کے لیے زمین کو ہڑپنے کی خبر ملتے ہی جو عوامی اشتعال بھڑکا اور پولس فائرنگ ہوئی، اس کے خلاف ممتا کا آندولن پورے بنگال میں پھیل گیا۔ ممتا نے بنگال کے عوام کا قدم قدم پر ساتھ دیا۔ مرکزی سرکار میںرہتے ہوئے بھی وہ بنگال کے عوام کے ساتھ رہیں۔ ریلوے کی وزیر ہونے پر انہوں نے بنگال کے عوام تک کئی اسکیمیں پہنچائیں اور بنگال کو پورے ہندوستان سے جوڑ دیا۔ آج جو ان کی جیت ہوئی ہے، وہ 30 سال کی کڑی محنت کا نتیجہ ہے۔
اعداد و شمار دیکھیں تو صوبے میں اس بار ایک تو پہلی بار عوام نے نڈر اور بے خوف ہو کر ووٹ دیا۔ اگر پہلے فیز کی بات کریں تو 84.11 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ دوسرے فیز میں بھی 82 فیصد ، تیسرے میں 78.3 فیصد، چوتھے میں 83.68 فیصد، پانچویں میں 83 فیصد اور چھٹے میں 83.55 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ یہ اعداد و شمار کسی بھی ریاست کے بہترین ووٹنگ فیصد کو ظاہر کرتے ہیں اور اس فیصد میں بنگال کے مسلمانوں نے 99 فیصد ترنمول کانگریس کو ووٹ دیا۔ واضح طور پر دو حصوں میں بٹا ہواہے ہندو اکثریت والا مغربی بنگال اور مسلم اکثریت والا مشرقی بنگال ہم سبھی جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی آبادی مسلم اکثریتی مشرقی بنگال پر مبنی ہے، لیکن بنگال کا جو حصہ اس وقت ہندوستان کے اندر ہے، اس میں بھی مسلمانوں کی کل آبادی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 28 فیصدہے، جو تازہ مردم شماری کے بعد 30 فیصد ہوسکتی ہے۔ مسلمان اس وقت زیادہ تر مغربی بنگال کے مشرقی اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں، جس کی سرحد بنگلہ دیش سے منسلک ہے۔ کولکاتا سے جنوب مشرق اور شمال کے دور درازعلاقوں میں جو گھنی آبادی موجود ہے، اس میں مسلمانوں کی کل آبادی 40 فیصد ہے اور یہیں کے مسلمانوں کی مکمل حمایت کی وجہ سے آج ممتابنرجی کو اتنی واضح کامیابی ہاتھ لگی ہے۔ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں 1700 سے زیادہ امیدواروں نے اپنی قسمت آزمائی، جن میں سے 300 سے کچھ کم مسلم امیدوار تھے، سی پی ایم نے 40 سے کچھ زیادہ مسلم امیدواروں کو کھڑا کیا۔ ترنمول نے 39 کو اور کانگریس نے 23 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا۔ جب کہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں سے کل 116 مسلم امیدوار کھڑے ہوئے اور 61 مسلمانوں نے بطور آزاد امیدوار اس انتخاب میں حصہ لیا۔ ترنمول کانگریس نے جس طرح مسلمانوں کو دل کھول کر ٹکٹ دیا۔ مسلمانوں نے بھی دل کھول کر ووٹ دیا اور اس طرح ایک بار پھر مسلم ووٹ کی طاقت نے ممتا کی آندھی میں تیز جھونکے کا کام کیا۔ آج ممتا اپنی جیت کو ماں، ماٹی اور مانش کی جیت کہہ رہی ہیں۔ خود اپنی نظموں میں انہوں نے ماں، ماٹی اور مانش کے لیے اپنی محبت اور ان کے دکھ تکلیف کو لکھا ہے۔ وہ لکھتی ہیں:
’’وقت کی رفتار کے ساتھ تال ملا کر دھرتی آج تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، وقت پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ تب وقت برباد نہ کر کے بنگال میں ایک ایسا طوفان آئے، جس کی تیز لہر میں ساری فضول چیزیں بہہ جائیں، ہر شعبہ میں ترقی نظر آئے اور بنگال کے لوگ فخر سے یہ کہہ سکیں کہ بنگال جو آج سوچتا ہے، اگلے دن ہندوستان وہی سوچتا ہے۔‘‘
آج وہ دن آگیا ہے جب ممتا کی آندھی نے پورے بنگال کو لپیٹ لیا ہے۔ امید اچھی رکھنی چاہیے ہوسکتا ہے یہ لہر سچ میں بنگال کو ماں جیسی ممتا کے سائے میں ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرسکے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *