بنگال میں ممتا کی سیاست

Share Article

بمل رائے
ملکمیں ماؤنوازوں کے خلاف چل رہی جنگ کو بنگال کی سیاسی ہلچل نے کافی الجھادیا ہے۔ آدیواسیوں اور حقوق انسانی کے بڑے بڑے علم برداروں کا چہرہ بے نقاب ہورہا ہے۔ بنگال میں ہورہی اس ہلچل کا خمیازہ ملک کے دوسرے حصوں کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ بہار کے لکھی سرائے میں بہار پولس کے جوانوں کو یرغمال بنانے کا جوواقعہ پیش آیا، اس کاچسکا نکسلیوں کو بنگال میں ملی کامیابی سے لگا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ سال 20اکتوبر کو ماؤنوازوں نے سانکرائل تھانے کے او سی اتیندرناتھ دت کو یرغمال بنالیا تھا اور اس کے عوض حکومت کو 20خاتون نکسلیوں کو ضمانت پر رہا کرنا پڑا تھا۔
آج کی تاریخ میں ماؤنوازوں کی سیاست کرنے کے معاملے میں بنگال، خصوصاً اس کی ممکنہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سب سے آگے ہیں۔ بنگال میں سیکورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائی تو جاری ہی ہے، اپنے حامیوں کے لگاتار قتل کی وجہ سے سی پی آئی (ایم) کے کیڈروں کو بھی ماؤنوازوں سے براہ راست لوہا لیناپڑ رہا ہے۔ اب ممتا اسے سی پی ایم کا کیمپ کہہ رہی ہیں اور مرکزی حکومت کی اہم اتحادی ہونے کی وجہ سے وزیر داخلہ پی چدمبرم بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ اب یہ بات پوشیدہ نہیں رہ گئی ہے کہ ممتا پوری طرح ماؤنوازوں کے ساتھ ہیں اور انہیں کی بنیاد پر مغربی مدنی پور، بانکوڑہ اور پرولیا اضلاع کے جنگل محل میں اپنی جڑ اور زمین کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ ممتا سی پی ایم کیڈروں کے پاس رکھے گئے ہتھیارو ںکی برآمدگی کی مانگ کررہی ہیں، لیکن دراصل ان ہتھیاروں کے بنیاد پر ہی سی پی ایم ایک طرح سے سیکورٹی فورسز کی مدد کرنے کے ساتھ ہی نکسل سے متاثرہ علاقوں میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔3ستمبر کو لال گڑھ کے پیراکاٹا میں صحافیوں پر ہوئے سی پی ایم کیڈروں کے حملے پر بیان جاری کرتے ہوئے ممتا نے ایک بار پھر سیکورٹی فورسز کی مہم روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دھرم پور سے بھاگے لوگوں کی گھر واپسی کا موازنہ نندی گرام مداخلت سے کیا۔ خیال رہے کہ ماؤنوازوں کے مظالم سے تنگ آکر دھرم پور کے لوگ بھاگ کر کئی مہینوں سے کیمپوں میں رہ رہے تھے۔
ممتا کا لال گڑھ میں اجلاس کرنا، اسٹیج سے آندھرا پردیش میں مارے گئے ماؤ نواز لیڈر آزاد کے قتل کی جانچ کا مطالبہ کرنااورگیانیشوری ٹرین حادثے کو کسی بڑے واقعے سے جوڑنا، ماؤنوازوں کے نام پر سیاست نہیںتو اور کیا ہے؟ دوسرے درجے کی سیاسی کہانی میں ڈرامہ ، حساسیت، بے حیائی یا نظریاتی فحاشی سب کچھ ہے۔ ترنمول کے رکن پارلیمنٹ دہلی میں گلے میں پوسٹر لگاکر مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے کیڈروں کے کیمپ کو تباہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور ان میں تصویریں ہوتی ہیں۔ دانتے واڑہ کے نکسلیوں کی کئی تصویریں تو گوگل سے نکسل سرچ کرنے کے بعد پہلے صفحہ پر نظر آجاتی ہیں۔ پی چدمبرم کی جانب سے اس معاملے پر پریس کانفرنس کے دوران تذکرے کو ممتا اپنی بڑی کامیابی مانتی ہیں اور اگلے روز ریاست میں صدر راج کے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہیں۔بالآخر، بایاں محاذ کے چیئر مین بمان بوس کو وضاحت کرنی پڑتی ہے کہ وہ کیمپ ماؤنوازوں کے مظالم سے تنگ آکر اپنا گھربار چھوڑنے والے لوگوں کے لئے بنائے گئے ہیں۔خیال رہے کہ پارلیمانی الیکشن کے بعد سے نکسلیوں نے 225سی پی آئی (ایم) کے کیڈروں کا خون کیا ہے۔ ممتا یہ بھی بھول گئیں کہ نکسلیوں کے خلاف سلگ رہے گاؤں والوں کے جذبات کو بھی ان کی ان حرکتوں سے کتنی ٹھیس پہنچے گی۔
یہی نہیں،2ستمبر کو ترنمول کی کور کمیٹی کی میٹنگ میں ممتا کیمپ کے معاملے کو اہم ایجنڈا بناتی ہیں اور نئے پولس ڈائرکٹر جنرل سے ملنے کا پروگرام طے کرتی ہیں۔ ممتا کو معلوم ہے کہ جنگل محل میں سی پی آئی( ایم) کے 93کیمپ چل رہے ہیں۔ وہ 6ستمبر کو کیش پور مہم، 9کو دھرم پور سے لال گڑھ کا سفر،19کو نانور اور 25کو سنگور چلو مہم کا بھی پروگرام بناتی ہیں۔ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ممتا کے ان پروگرامس میں نکسل متاثرہ علاقے اور جماعتی تشدد سے متاثرہ علاقے بھی آتے ہیں۔ سابقہ تجربات یہی بتاتے ہیں کہ جب جب ممتا کے دورے ہوئے ہیں، زیادہ تر علاقوں میں پرتشدد واقعات ہوئے ہیں اور امن وسکون غارت ہوا ہے۔خیر، یہ سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے کہ تحریک چلانے کے اپنے آئینی حق کے بہانے وہ آئندہ اسمبلی انتخابات تک بنگال میں ہنگامہ کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں۔
ترنمول کی چیف ممتا کے مصروف پروگرامس کی طرز پر بنگال میں ریل حادثات و لوٹ مار کی واردات بھی حسب معمول جاری ہیں۔ وزیر ریل ہونے کے ناطے انہیں فکر مند ہونا چاہئے، لیکن ایک بار جھنجھلاکر انہوں نے کہہ بھی دیا کہ ان کا گھر بنگال ہے، دلّی نہیں۔ اب جن لوگوں نے یہ بیان سنا ہے، انہیں کچھ نہیں کہنا چاہئے۔ لیکن ایک نظر تو ڈال ہی لیں۔سال رواں کی 28مئی کو ماؤنوازوں کے ذریعہ کی گئی توڑپھوڑ کی وجہ سے پٹری سے اتری گیانیشوری ایکسپریس کے 148مسافر ہلاک ہوئے تو19جولائی کو بیر بھوم ضلع کے سائتھیا میں اتربنگ ایکسپریس، ونانچل ایکسپریس سے جاٹکرائی اور66افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔30اگست کو باروئی پاڑہ میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے راجدھانی ایکسپریس کا انجن ہی پٹری سے اترکر چلنے لگا۔ صرف حادثات ہی نہیں، بلکہ لوٹ مار کے واقعات نے بھی ریلوے کو سرخیوںمیں رکھا ہے۔2اگست کو بنگال۔ جھارکھنڈ سرحد پر بارول۔ ہائوڑہ جن شتابدی ایکسپریس کے تین اے سی کاروں میں لوٹ مار کی گئی۔6اگست کو دلّی جارہی لال قلعہ ایکسپریس میں بہار کے ونشی پور اور بھلوئی کے درمیان مسافروں کو اپنے سامان اور نقدی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ابھی حال ہی میں 3ستمبر کو گورکھپور جارہی موریہ ایکسپریس کو بنگال کے کلٹی میں لوٹ لیا گیا۔ اس میں بنگال اور بہار کے باہر ہوئے حادثات اور لوٹ مار کے واقعات شامل نہیں ہیں۔ اس طرح ممتا کی اپنی ریاست میں حادثات اور جرائم جس رفتار سے بڑھ رہے ہیں، اس سے ایک وزیر ریل کے طور پر ممتا کی ناکامی صاف جھلکتی ہے۔
آندھرا میں ماؤنوازآزاد کی ہلاکت کے معاملے کی جانچ کا مطالبہ کرکے ممتا نے مرکز کو بھی مشکل میں ڈال دیا، لیکن ان کے بچاؤ میں پرنب مکھرجی آگے آتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ترنمول کی سربراہ ہونے کے ناطے انہیں اپنی آزادنہ رائے رکھنے کی آزادی ہے۔ واضح رہے کہ چدمبرم نے اپناموقف بالکل صاف رکھا ہے، اس لئے لیپا پوتی کے لئے پرنب مکھرجی کو محاذ سنبھالنا پڑا۔ پرنب نے جو کہا، اسے چدمبرم کے حوالے سے نہیں کہلوایا جاسکتا تھا۔ کانگریس کے لئے ممتا اہم ہو سکتی ہیں، لیکن جس حکومت کے سربراہ نکسلیوں کو قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہوں، اس کی حکومت کی ایک وزیر اگر اتنا الگ تھلگ سوچ رکھتی ہیں تو فرق کیسے نہیں پڑے گا؟ اسی سال 28مئی کو گیانیشوری ٹرین کو پٹری سے اتار کر 148 لوگوں کا قتل کرنے والے نکسلیوں کے تئیںاس قدرپیار، کیا شرمناک نہیں ہے؟ ریلوے کو بھگوان بھروسے چھوڑ کر بنگال کی سیاست میں پوری طرح غرق ہوجانے والی ممتا یہ کیسی سیاست کررہی ہیں؟ ایک خاتون ہونے کے ناطے 148خاندان کے دکھ درد کو وہ اتنی جلدی کیسے بھلا سکتی ہیں؟ لیکن نہیں، ممتا کو آئندہ سال ملنے والی وزیر اعلیٰ کی کرسی نظر آ رہی ہے اورانہوں نے اس کے لئے اخلاق کی تمام حدیں پار کرلی ہیں۔ گزشتہ27اگست کو گیانیشوری معاملے کا ایک مشتبہ ملزم اوماکانت مہتو مڈبھیڑ میں مارا جاتا ہے اور ممتا اس پر شک ہی نہیں کرسکتیں، بلکہ دن دہاڑے بیان جاری کرتی ہیں کہ بایاں محاذ نے اس کا قتل ثبوتوں کو مٹانے کے لئے کیا ہے۔ اس تعلق سے ایک ویڈیو فوٹیج بھی دکھائی جاتی ہے کہ اس کا قتل سی پی( ایم) کیڈروں نے کیا ہے، لیکن اخیر میں اس کی تصدیق نہیں ہوپاتی ہے۔
سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ بنگال میں یہ سب اس وقت ہورہا ہے، جب ماؤنوازوں کے پاؤں اکھڑرہے ہیں۔ رادھانگر کی خواتین نے جو بگل بجایا تھا ، اس کی گونج نئے نئے علاقوں تک پہنچ رہی ہے۔ رادھانگر میں ہی لوگوں نے ماؤنواز کالو مہتو کو پکڑ کر سیکورٹی فورس کے حوالے کردیا۔ ماؤنواز خودسپردگی کرنے لگے ہیں۔ بیل پہاڑی کے ماؤنواز کیڈر بھیرو مہتو نے حال ہی میں خودسپردگی کی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ ماؤنوازوں کے تئیں نرم رویہ اپنارہے نتیش کمار جیسے لیڈروں کے حشر سے بھی سبق لیناچاہئے، جن کے دامن پر بھی لکھی سرائے یرغمال واقعہ کا داغ لگ گیا۔ اب اس میں کوئی شک نہیں کہ ماؤنوازوں کا حقوق انسانی سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان کا تو بس ایک ہی نظریہ ہے ، اور وہ ہے خون خرابہ ، جس سے ایک اجتماعی سیاسی ایجنڈے کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *