ممتا حجاب پہننے تو جائز، نصرت پوجا کرے تو اعتراض: تسلیمہ

Share Article

درگا پوجا میں اپنے شوہر نکھل جین کے ساتھ مل کرپوجا ارچنا کرنے والی ترنمول کی سرخیوں میں چھائی رہنے والی ممبر پارلیمنٹ نصرت جہاں کے خلاف مولویوں کے اعتراضکے بعد مچے تنازعہ میں اب بنگلہ دیش کی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین بھی کود پڑی ہیں۔منگل کو ایک ٹویٹ کے ذریعے انہوں نے پوچھا ہے کہ ممتا بنرجی اگر حجاب پہنتی ہیں تو جائز ہے، لیکن نصرت اگر پوجا کریں تو اس میں کیا برا ہے؟ ۔

تسلیمہ نسرین نے کہا کہ جب ایک غیر مسلم ممتا بنرجی حجاب پہنتی ہیں تو مولانا خوش ہوتے ہیں لیکن جب ایک مسلمان نصرت جہاں پوجا میں شامل ہوتی ہیں تو انہیں دقت ہوتی ہے۔ نسرین نے ٹویٹ کر کہا، ‘جب ایک غیر مسلم ممتا بنرجی حجاب پہنتی ہیں اور دیگر مسلمانوں کی طرح ہی اللہ سے دعا کرتی ہیں، تب مسلم مذہبی رہنما خوش ہوتے ہیں اور اسے سیکولر قدم بتاتے ہیں لیکن جب ایک غیر ہندو نصرت جہاں ایک ہندو کی طرح پوجا میں رقص کرتی ہیں اورپرارتھنا کرتی ہیں ،تو اس سے مولانا ناراض ہو جاتے ہیں اور اسے غیر اسلامی کام بتا دیتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اشٹمی اور نومی کو نصرت جہاں اپنے شوہر نکھل جین کے ساتھ مل کر درگا پوجا گھومنے گئی تھیں۔ اس دوران انہوں نے ڈھول بجایا ، رقص کیا اور پوجا کی ۔ اس پر پر دارالعلوم دیوبند کے مولانا نے کہا کہ نصرت جہاں کو اپنا مذہب تبدیل کرلینا چاہئے۔ مولوی نے کہا، ‘نصرت جہاں نے ایسا پہلی بار نہیں کیا۔ وہ پہلے بھی ایسے پروگراموں میں نظر آتی رہی ہیں۔ اسلام کا جو حکم ہے اس کے مطابق، اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنا حرام ہے۔ مولوی نے کہا،’’انہیں اپنا نام اور مذہب تبدیل لینا چاہئے۔ وہ پہلے ہی غیر مسلم سے شادی کر چکی ہیں۔ اسلام کو ایسے لوگوں کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *