کثیر سونے والا ملک مالی :انتخابات کے بعد امکانات و اندیشے

Share Article

اسے ستم ظریقی نہیں تو اور کیا کہا جائے کہ دنیا میں جس ملک میں سب سے زیادہ سونا پایا جاتا ہے وہ مغربی افریقہ کاسب سے بڑا ملک مالی ہے لیکن اس کے باوجود اس کا شمار غریب ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں ابھی حال میں صدارتی انتخابات ہوئے۔آئیے وسیم احمد کی تجزیاتی رپورٹ میں اس کا جائزہ لیتے ہیںکہ صدارتی انتخابات کے بعد ملک کے مستقبل کے لحاظ سے کیا امکانات و اندیشے ہیں؟   

p-8bجمہوریہ مالی مغربی افریقہ کا ایک ایسا غریب ملک ہے جہاں کی 90 فیصد آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔1992 کے ایک ریفرنڈم کے مطابق یہاں ہر پانچ سال پر الیکشن ہوتا ہے اور صدر کو جزوی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔مغربی افریقہ کا یہ سب سے بڑا ملک ہے جس کی کل آبادی 14.5 ملین ہے ،جن میں 80 فیصد آبادی کا ذریعۂ آمدنی ماہی گیری اور زراعت ہے۔یہاں زیر زمین سونے کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کے لوگ انتہائی غربت اور اقتصادی تنگی کا سامنا کررہے ہیں کیونکہ ان سونوں پر یورپین ممالک کی اجارہ داری ہے۔ اقتصادی تنگدستی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے یہ ملک خانہ جنگی کی زد میں ہے۔اس کے علاوہ شمالی خطے میں علیحدگی پسندوں کی وجہ سے بھی اس کی ترقی پر قدغن لگا ہوا ہے ۔
مالی میں اگست کے دوسرے ہفتہ میں جو صدارتی الیکشن ہوا ہے ۔اس میں ابراہیم بوبکار کیتاکی 77.6فیصد سے کامیابی کو جمہوریہ مالی کے لئے نیک شگون کے طور پر دیکھا جارہا ہے،کیونکہ انہوں نے الیکشن سے پہلے ملک کی اقتصادی صورت حال میں بہتری لانے کے لئے غیر ملکی سرمایا کاروں کو راغب کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ساتھ ہی ملک میں پائے جانے والے سونوں کے کنٹریکٹ کے قیمت کو بڑھانے کی بھی بات کی ہے۔عام طور پر مالین سونے کا کنٹریکٹ یورپین کمپنیوں کو نہایت ہی سستی قیمت پر دے دیا جاتا ہے۔چنانچہ گزشتہ سال 10.6 بلین کے پراجیکٹ کو صرف 1.2 بلین کے کنٹریکٹ پر دے دیا گیا ۔ظاہر ہے اس کا نقصان قومی خزانے کو ہوتا ہے اور بھگتنا پڑتا ہے عام آدمی کو،جس میں سدھار لانے کا وعدہ نئے صدر نے کیا ہے ۔اپنے ان وعدوں کی وجہ سے انہیں اس انتخاب میں بہترین کامیابی ملی ہے۔ اب جبکہ وہ اس الیکشن میں کامیاب ہوچکے ہیں تو ان کے سامنے سب سے اہم مسئلہ ہے شمالی مالی میں علاحدگی پسند تنظیم ’نیشنل موومنٹ فار دی لبریشن آف ازاواڈ( NMLA) سے نمٹنا۔ یہ مسئلہ اہم اس لئے بھی ہے کہ انہوں نے سال رواں کے ماہِ جون میں علاحدگی پسند گروپ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا کہ اگر وہ اس الیکشن میں جیت جاتے ہیں تو 60 دنوں کے اندر بات چیت کے ذریعہان کے مسئلے کا حل نکالیں گے۔اب جبکہ وہ الیکشن جیت چکے ہیں تو انہیں اس گروپ کو مطمئن کرنا ہوگا ورنہ علیحدگی پسندگروپ ایک مرتبہ پھر شمالی خطے میں تشدد آمیز قدم اٹھاسکتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کے لئے ٹوریک Group Tuareg کو بھی مطمئن کرنا ہوگا۔یہ ایک اسلام پسند گروپ ہے جو 2012 میں سامنے آیا ۔اس گروپ کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ اس کا تار القاعدہ سے جڑا ہوا ہے۔اس گروپ نے گزشتہ سال شمالی خطے میں کچھ علاقوں پر قبضہ کرکے اسلامی قانون بھی نافذ کردیا تھا لیکن فرانس نے مداخلت کرکے سال رواں کے ماہِ جنوری میں اس علاقے کو ان سے آزاد کرالیا۔
نئے صدر کے سامنے اس کے علاوہ بھی کچھ مسئلے ہیں ۔مثلاً 2 لاکھ مالین رفیوجیوں کا مسئلہ۔ یہ رفیوجی موریتانیہ، نائجر اور برکینا میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور وہ وطن لوٹنا نہیں چاہتے ہیں۔کیونکہ انہیں یہ خوف ہے کہ اگروہ وطن واپس گئے تو علیحدگی پسند ہونے کے جرم میں انہیں سزا دی جاسکتی ہے ،مگر بیرونی سطح پر مالی پر یہ دبائو ہے کہ وہ اپنے ان دو لاکھ رفیوجیوں کو ملک واپس لائے۔اس کے علاوہ گزشتہ دہائی میں خانہ جنگی کے دوران تقریباً 5 لاکھ مالین ملک سے باہر چلے گئے، ان کے بارے میں بھی کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔
بہر کیف یہ وہ مسائل ہیں جن کا سامنا نو منتخب صدر کیتا کو کرنا ہوگا اوران مسائل کو انتہائی دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھحل کرنا ہوگا۔ ویسے کیتا کے پاس طویل سیاسی تجربے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے تجربات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان تمام مسائل کو بحسن وخوبی انجام دیںگے۔
کیتا اس سے قبل 1994سے 2000 تک ملک میں وزیر اعظم کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔2002سے 2007 تک نیشنل اسمبلی آف مالی کے صدر بھی رہے ہیں۔2001 میں انہوں نے ایک پولیٹیکل پارٹی Rally for Mali(RPM)نام سے تشکیل دی تھی اور اسی پارٹی کے ذریعہ وہ 2013 کے الیکشن میں کامیاب ہوئے ہیں۔
اس مرتبہ انہوں نے اپنے اتحادی پارٹیوں کے ساتھ مل کر نیشنل اسمبلی کے 160 سیٹوں میں سے 113 پر جیت حاصل کی ہے ،جس کو ایک تاریخی جیت کہا جارہاہے البتہ اپوزیشن نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور بڑے پیمانے پر ووٹوں میں ہیر پھیر کیا گیا ہے۔ لیکن امریکہ نے اس الیکشن کو صاف شفاف کہا اور یوروپین یونین مانیٹرنگ ٹیمنے بھی الیکشن میں کسی بھی طرح کے بڑے ہیر پھیر سے انکار کیا ہے ۔اس کے بعد اپوزیشن لیڈر صومالیہ سیس نے ان کی جیت پر مبارکباد پیش کی ہے۔
ان کی جیت کے بعد اب اس 4 بلین ڈالر کو مالی کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کا راستہ کھل جائے گا جس کے خرچ پر ملک میں عدم استحکام کی وجہ سے پابندی عائد کردی گئی تھی۔ یہ رقم گزشتہ سال مالی کو عالمی برادری کی طرف سے فراہم کی گئی تھی تاکہ وہاں ترقیاتی منصوبوں پر عمل ہوسکے ۔اس رقم سے کیتا اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کا سہارا لے کر ملک میں بڑا کام کرسکیںگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *