وسیم احمد 
p-8مالدیپ میںتقریباً دو برس سے جاری سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے جو بحران تھا، سابق صدر مامون عبد القیوم کے سوتیلے بھائی عبد اللہ یامین کی واضح جیت کے بعد اس بحرانی صورت حال سے باہر نکلنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں ۔ مالدیپ کا حالیہ الیکشن انتہائی تذبذب اور کشمکش والا تھا۔لہٰذا ماہرین کے لئے اندزہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ الیکشن کے بعد اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ویسے پہلے مرحلے کے نتائج کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ بات کہی جارہی تھی کہ اس مرتبہ بھی محمد نشید کی فتح ہو سکتی ہے، مگر جب رزلٹ آیا تو انہیں صرف ایک لاکھ 5 ہزار 181 ووٹ یعنی 48.61 فیصد اور ان کے حریف 54 سالہ عبد اللہ یامین کو ایک لاکھ 11 ہزار 203 ووٹ یعنی 51.39 فیصد ووٹوں نے سب کو چونکا دیا۔ اس مرتبہ جزیرۂ مالدیپ کے کل دو لاکھ 40 ہزار ووٹروں میں سے 91.41 ووٹرس نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
اس مرتبہ کے انتخاب کو انتہائی حساس سمجھا جارہا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ نتائج سے پہلے یہ اندازہ کرنا مشکل ہورہا تھا کہ جیت کس کی ہوگی۔ اگرچہ کچھ سیاسی مبصرین نشید کی جیت کی باتیں کرتے تھے مگر حقیقت میں وہ بھی تذبذب کے ہی شکار تھے کیونکہ پہلے مرحلہ میں شکست خوردہ قاسم ابراہیم کے حامی کے رخ کا صحیح اندازہ کرنا مشکل ہورہا تھا ،مگر نتائج کے بعد اندازہ ہوا کہ انہوں نے اپنا ووٹ عبد اللہ یامین کے حق میں دے دیا ہے۔اس مرتبہ اس شبہے کا اظہار بھی کیا جارہا تھا کہ ہارنے والا امیدوار الیکشن کی شفافیت کو قبول نہ کرے اور ملک میں برسوں سے جاری سیاسی تعطل ایک مرتبہ پھر بر قرار رہ جائے اس لئے اس مرتبہ پولنگ کا جائزہ لینے کے لئے غیر ملکی مبصرین مالدیپ میں موجو دتھے اور یہی وجہ ہے کہ محمد نشید نے اپنی شکست قبول کرتے ہوئے عبد اللہ یامین کو حکومت بنانے کا راستہ صاف کردیا۔
مالدیپ کا الیکشن ہندوستان کے لئے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان کثیر جہتی تعلقات ہیں۔ایک طرف دونوں کے بیچ تہذیبی و ثقافتی یگانگت ہے تو وہیں دونوں کے سفارتی تعلقات بھی بہت گہرے ہیں۔1965 میں مالدیپ آزاد ہوا اور 1972 میں ہندوستان نے مالدیپ میں چارج ڈی افیرز سطح کے مشن کا آغاز کیا اور 1980 میں باضابطہ ہائی کمیشنر مقرر کیا۔باضابطہ سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد تو جیسے دونوں کے رشتے میں پر لگ گئے ،دونوں طرف کے اعلیٰ سطحی وفد کے آنے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نے مالدیپ کا سفر کیا تو مالدیپ کے مامون عبد القیوم نے ہندوستان کا کئی دورہ کیا۔ان کے بعد جب محمد نشید صدر بنے تو انہوں نے اپنا سب سے پہلا غیر ملکی دورہ دسمبر 2008 میں ہندوستان کا ہی کیا۔اس کے بعد تو وہ متعدد بار ہندوستان آئے۔دونوں ملکوں کے بیچ مضبوط اور کثیر جہتی رشتوں کی وجہ سے ہی مالدیپ نے کئی موقعوں پر ہندوستان کی کھل کر حمایت کی۔چنانچہ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے غیر مستقل رکن بننے کا معاملہ ہو یا غیر وابستہ ممالک کی تحریک یا سارک کا معاملہ یا پھر کملیش شرما کو کامن ویلتھ میں سکریٹری جنرل کی حیثیت سے امیدوار بنانے کا معاملہ ہو،مالدیپ نے ہر موقع پر ہندوستان کی حمایت کی۔ اسی طرح ہندوستان نے مالدیپ کے لئے ہمیشہ ایک اچھے دوست ملک کا کردار نبھایا اور اسی دوستی کی وجہ سے اقوام متحدہ میں مالدیپ کی امیدواری برائے 2019-20 کے لئے ہندوستان نے اس کی حمایت کی ہے ۔
دونوں کے درمیان تجارتی رشتے کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ ہندوستان نے 2009-10 میں مالدیپ کو 378.49 کروڑ روپے کی اشیاء بر آمد کرائی جبکہ مالدیپ سے 17.07 کروڑ روپے کی درآمدات کی۔اس طرح دونوں ملکوں کے بیچ صرف ایک مالی سال کے اندر 395.57 کروڑ کی تجارت ہوئی۔یہ ان پروجیکٹوں کے علاوہ ہیں جو ہندوستان مالدیپ کے اندر ہائوسنگ اور تعمیراتی مد میں خرچ کرتا ہے۔
پی پی ایم (Progressive Party of Maldives) کی بینر تلے الیکشن میں حصہ لینے والے عبد اللہ یامین کی کامیابی کو مالدیپ کی سیاسی استحکام کے لئے مثبت نقطہ نظر سے دیکھا جارہا ہے۔انہوں نے حلف برداری کے بعد پریس کو خطاب کرتے ہوئے اس بات پر خاص طور پر زور دیا کہ وہ ملک کی کرنسی کی گراوٹ کو دور کریں گے،سیاحت کو فروغ دیں گے اور پڑوس ملکوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائیںگے۔ ان کے ان عزائم کو دیکھتے ہوئے سمجھا جاسکتا ہے کہ جس تعلق کو ملک کے سابق سربراہوں نے قائم کیا تھا اور ہندوستان کے ساتھ تجارتی و تعمیری رشتوں کو مضبوط کیا تھا اس کو نئے صدر مزید مضبوط بنائیں گے ۔گزشتہ کچھ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور دیگر چیزوں میں جو گہرائی آئی ہے ،اس کو لے کر ہندوستان بھی کافی سنجیدہ ہے اور وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یامین کو مبارکبادی کے جو خط لکھے ہیں اس میں اس بات کا خاص طور پر تذکرہ کیا ہے کہ ان کا ملک ماضی کی طرح مالدیپ کو تعاون دینے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔
مالدیپ کے ساتھ ہندوستان کے بہتر تعلقات کے باجود صدر وحید کے دور میں ہندوستان کی بہ نسبت مالدیپ کا جھکائو چین کی طرف زیادہ رہا اور اسی جھکائو کا نتیجہ تھا کہ گزشتہ سال چینی وزیر دفاع لیانگ گو آنگ لی کے مالدیپ دورے کے بعد مالدیپ حکومت نے ہندوستان کے ایک بڑے کنٹریکٹ کو منسوخ کرکے چینی کمپنی کو دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔دراصل یہ معاہدہ محمد نشید کے دور میں 2010 میں مالدیپ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی مرمت اور اس کے انتظامات کے لیے ہندوستانی کمپنی جی ایم آر کے ساتھ 50 کروڑ ڈالر کا ہوا تھا لیکن اس معاہدے کو محمد وحید کی حکومت نے منسوخ کر دیا تھا۔حکومت کے اس اقدام کے خلاف کمپنی جی ایم آر نے معاہدے کے تحت مالدیپ کی حکومت کے فیصلے کو سنگا پور کی عدالت میں چیلنج کیا تھا اور سنگا پور کی عدالت نے حکومت کے فیصلے پر حکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔لیکن اس حکم امتناعی کے باوجود مالدیپ کے صدر محمد وحید کا کہنا تھا کہ ہندوستانی کمپنی جی ایم آر کے ساتھ معاہدہ کی منسوخی کا فیصلہ واپس نہیں لیا جائیگا۔دوسری طرف چین نے محمد نشید کی حکومت کے خاتمے کے بعد مالدیپ میں اپنا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھانا شروع کردیا تھا اور اسی اثرو رسوخ کا نتیجہ تھا کہ چین نے گزشتہ سال مالدیپ میں اپنا پہلا سفارت خانہ ایک بڑی عمارت میں کھول کر اس تعلق کو مزید مضبوط کرنے کے راستے ہموار کرلیے ۔ اس کے علاوہ مالدیپ جہاں دنیا بھر سے سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں ،سیاحوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سیاسی بحران سے پہلے وہاں 6 سے 8 لاکھ سیاح ہر سال یوروپ اور دوسرے ملکوں سے آتے تھے جس سے ملک کو بڑا اقتصادی فائدہ ملتا تھا لیکن سیاسی بحران شروع ہونے کے بعد اس میں تیزی سے کمی آتی گئی ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ محمد وحید کے دور میں چینی سیاحوں کے مالدیپ آنے کا اوسط تقریبا 40 فیصد بڑھ گیا جس سے صاف سمجھا جاسکتا ہے کہ ان کے دورمیں مالدیپ کا رشتہ ہندوستان کی بہ نسبت چین کے ساتھ گہرا ہوتا جارہا تھا ۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایک دوست ملک میں چین کے اثر ورسوخ کا بڑھنا ہندوستان کے لئے تشویش کا باعث ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب جبکہ یامین کی حکومت قائم ہوئی ہے اور وہ مامون عبد القیوم کے سوتیلے بھائی ہیں اور مامون عبد القیوم کے 30 سالہ دور میں ہندوستان کے تعلقات مالدیپ کے ستھ بہت ہی بہتر تھے تو امید کی جاتی ہے کہ ان کے بھائی عبد اللہ یامین کے دور میں بھی پھر وہی تعلقات بحال ہوںگے اور ہندوستان کے ساتھ جو تجارتی اور روایتی رشتہ رہا ہے اس میںمزید مضبوطی آئے گی۔ یامین کے دور میں ہندوستان سے رشتے مزید مضبوط ہونے کے امکانات اس لئے بھی روشن ہیں کہ الیکشن سے پہلے یامین ہندوستان آچکے ہیں اور یہاں کے لیڈروں سے ملاقات کرچکے ہیں ، جس سے یہ سمجھا جارہاہے کہ ان کی خارجہ پالیسی میں ہندوستان کو خاص اہمیت دی جائے گی۔
مالدیپ اس وقت شدید اقتصادی بحران کی گرفت میں ہے اور اس گرفت سے باہر آنے کے لئے جہاں اسے پڑوسی ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی ضرورت ہے ، وہیں ہندوستان جس سے اس کے کثیر جہتی تجارتی رشتے ہیں سے قربت بنائے رکھنے میں ہی بھلائی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here