پہلا پرواسی دیوس، اکھلیش کی پہل پر سرمایہ کاری کے کئی راستے کھلے میک اِن یوپی سے کامیاب ہوگا میک انڈیا

Share Article

دین بندھو کبیر
p-3میک اِن یوپی مہم میں ایک ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے اعلان کے ساتھ سال 2016 کی شروعات ہوئی۔ ذریعہ بنا اترپردیش میںپہلی بار منعقد ہوا ’اترپردیش پرواسی بھارتیہ دیوس‘ ۔چار اور پانچ جنوری کوآگرہ میںمنعقد ’اترپردیش پرواسی دیوس‘ میں شریک غیر مقیم ہندوستانیوں کی تقریباً ایک درجن بین الاقوامی اور قومی تنظیموں کے ساتھ اترپردیش سرکار کا معاہدہ(ایم او یو) ہوا۔پرواسی دیوس کا افتتاح کرتے ہوئے ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے سیاسی پیغام اچھالا کہ میک انڈیا تبھی کامیاب ہوپائے گا، جب میک انڈیا اِن یوپی میںکامیاب ہوگا۔ افتتاحیسیشن میں ہی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے غیر مقیم ہندوستانی یوسف علی نے لکھنو¿ میںایک ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کااعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر 16 غیر مقیم ہندوستانیوں کو ان کے قابل ذکر تعاون کے لےے اترپردیش رتن ایوارڈ سے نوازا۔
آگرہ کے آئی ٹی سی مغل ہوٹل میںمنعقد پہلے اتر پردیش پرواسی دیوس کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں رہ رہے اتر پردیش کے غیر مقیم ہندوستانیوں سے ایک مخصوص فورم کے ذریعہ مثبت تعلق بنائے رکھنے کے مقصد سے سماجوادی سرکار نے آگرہ میں پہلے اتر پردیش پرواسی بھارتیہ دیوس کا انعقاد کیا ہے۔ ریاستی سرکار غیر مقیم ہندوستانیوں اور ان کے مادر وطن کے بیچ تعلقات کو اور مضبوط کرنے کے لےے مصروف ہے، جس سے ریاست کی ترقی میں جذباتی طورپران کی حصہ داری یقینی بنائی جاسکے۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ پرواسی دیوس کا باقاعدگی سے انعقاد ہوا کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے پرواسی دیوس کے اجلاس میں آئے نمائندوں کااستقبال کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کی ترقی کے سفر میں حصہ لینے او رمثبت تعاون دینے کے لےے ریاستی سرکار غیر مقیم ہندوستانیوں سے اپیل کرتی ہے۔ غیر مقیم ہندوستانیوں کے مسائل کے حل کے لےے ریاستی سرکار کا این آر آئی محکمہ اور اس کی ویب سائٹ غیر مقیم ہندوستانیوں اور ان کے مادر وطن کے بیچ کی دوریوں کو کم کرنے میںپل کا کام کرے گی۔
اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے ہندوسانی تارک وطن یوسف علی ایم اے نے لکھنو¿ میں ایک ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس سے تقریباً تین ہزار بے روزگار نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ اترپردیش سے جڑے 16 این آر آئی/پی آئی او کو مختلف شعبوں میں ان کے قابل ذکر تعاون کے لےے اترپردیش رتن ایوارڈ سے نوازا گیا، جن میںالکا بھٹناگر، اشوک رام سرن، ڈاکٹر اے اے خان، واسودیو پانڈے، فرینک ایف اسلام، کنول ریکھی، ڈاکٹر خالد حمید، ڈاکٹر کرشن کمار،ندیم اختر ترین، ڈاکٹر نندنی ٹنڈن، ڈاکٹر راجن پرساد،پروفیسر راجیش چندر،ڈاکٹر راجندر تیواری، ڈاکٹر شری ناتھ سنگھ، سمن کپور او رطلعت ایف حسن شامل ہیں۔
اترپردیش پرواسی دیوس کے افتتاحی سیشن میں تارکین وطن ہندوستانیوں کے بین الاقوامی اور قومی تنظیموں کے ساتھ 13 ایم او یو پر دستخط ہوئے۔ ان میں فجی کی ساو¿تھ پیسفک یونیورسٹی، کناڈا کے ٹورنٹو کی انڈو کنیڈین چیمبر آف کامرس ، شارجہ کی انڈین ٹریڈ ایگزیبیشن سینٹر، دبئی کی انڈین بزنس کونسل،کناڈا کی یوپیکا ، ندیم تریم ایجوکیشن سوسائٹی، پینورما انڈیا، انڈیا ایسو سی ایشن آف جاپان، نارتھ امریکہ کی اتر پردیش ایسوسی ایشن، ڈبلیو ٹی سی نوئیڈا ڈیولپمنٹ کمپنی، ایچ ڈی ایف سی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک اور گلوبل آرگنائزیشن آف پیپل آف انڈین اوریجن وغیرہ خاص طور سے شامل ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے غیر مقیم ہندوستانیوںاور کئی بزنس گروپوں کے نمائندوںکو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کی سرمایہ کاری پالیسیاں، اچھے ٹریفک کے وسائل، بڑھتی ہوئی توانائی کاکردگی او ر سماجی خدمات یقینی طور پر دوسری ریاستوں کے مقابلے میںبہتر ہےں۔ سرکار اترپردیش کو ترقی پسند اور خوشحال بنانے کے لےے عہد کامل کےے ہوئے ہے او راس لےے کئی نئی اسکیمیں اور پروجیکٹس شروع کئے گئے ہیں۔ جس میں انڈسٹریل انفراسٹرکچر کی ترقی کے لےے آئی ٹی پارک، میگا فوڈ پارک، لاجسٹک ہب، پلاسٹک سٹی، بایو ٹیک انڈسٹریل پارک اور انٹی گریٹڈ انڈسٹریل ٹاو¿ن شپ قائم کی جارہی ہیں۔ آگرہ سے لکھنو¿ کے بیچ بن رہے 302 کلو میٹر لمبے ایکسپریس وے کے لےے بغیر کسی رکاوٹ کے زمین کا بندوبست کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آگرہ لکھنو¿ ایکسپریس وے کے لےے زمین مالکوںکی رضامندی سے پورے دس ضلعوں میںکل 3059ہیکٹیئر زمین کا انتظام کیا گیا ہے۔ لکھنو¿ میںعالمی سطح کی فوری طوری پر سستی ٹرانسپورٹ دینے کے لےے قریب بارہ ہزار کروڑ کی لاگت والی میٹرو ریل کا تیز رفتاری سے تعمیر ی کام چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے دیگر شہروں الہ آباد، میرٹھ،کانپور اور وارانسی میں بھی میٹرو تیار کرنے کے منصوبے پر کام چل رہا ہے۔ لکھنو¿ میںآئی ٹی سٹی کاقیام، اناو¿ میںٹرانس گنگا ہائی ٹیک سٹی، لکھنو¿ میں بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم کا قیام، پوری ریاست کی سڑکوںکے ساتھ ساتھ ریاست میںانفراسٹرکچر سہولیات جیسے پلوں، آر او بی،فلائی اووروںکا تعمیر ی کام بھی بہت تیز ی سے چل رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ دوہرایا کہ میک انڈیا تبھی کامیاب ہوپائے گا، جب میک اِن یوپی کامیاب ہوگا، کیونکہ اتر پردیش نہ صرف ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے، بلکہ یہ ہندوستان کا سب سے بڑا بازار بھی ہے۔ غیر مقیم ہندوستانیوں کے اترپردیش آنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے فراہم مواقع کا کامیابی کے ساتھ فائدہ اٹھانے اور اترپردیش کی ترقی کے سفر میںصنعتی ترقی کے لےے ریاستی سرکارعالمی سطح کی انفراسٹرکچر سہولیات ڈیولپ کررہی ہے۔ ریاست میںنئے بجلی گھروںکے قیام کے لےے بھی کام ہورہا ہے۔بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لےے تمامتر کوششیںکی جارہی ہیں ۔ روایتی صنعتو ں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔سرکار نے قنوج کی روایتی عطر صنعت کو بین الاقوامی سطح پر پہنچانے کے لےے عطر کلسٹر بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج سے سیکڑوں سال پہلے برطانیہ حکومت کے دوران ہندوستان سے بڑی تعداد میں مزدوروں کوسوری نام، فجی، ٹرنیڈاڈ اینڈٹوبیگو ، ماریشس جیسے ملکو ں میںلے جایا گیا تھا،جن میںاترپردیش کے بھی بہت لوگ تھے۔ ریاستی سرکار نے یہ انعقاد ان ہی لوگوںکو پھر سے اپنی جڑوں کی طرف متوجہ کرنے کے لےے کیا ہے۔ اس کے ذریعہ تارکین وطن کو اپنی جڑوں سے جڑنے، اپنی مٹی کی خوشبو کو پہچاننے کے ساتھ ساتھ اس ریاست کی ترقی میںتعاون دینے کا بھی موقع ملے گا۔
ریاست کے چیف سکریٹری آلوک رنجن نے شریک این آر آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آبادی کے نقطہ نظر سے اترپردیش پروڈکٹس کی کھپت کے لےے ایک بہت بڑا بازار ہے اور غیر مقیم ہندوستانیوںکی سرمایہ کاری کے لےے اترپردیش ایک بہترین ریاست ہے۔ این آر آئی محکمہ کے پرنسپل سکریٹری سنجیو سرن نے پروگرام میں آئے شرکاءکا شکریہ ادا کیا اور سرکار کی طرف سے انھیںمکمل تعاون کا بھروسہ دلایا۔ پرواسی دیوس پر اترپردیش کی اقتصادی صلاحیت اور حصولیابیوں کو ظاہر کرنے والی ایگزیبیشن کا انعقاد بھی کیاگیا۔ اتر پردیش پرواسی دیوس کے دوران مختلف سیشنوں میںصنعت سے جڑے کئی اہم صنعت کاروں اور کاروباریوں کو خطاب کے لےے مدعو کیا گیا، جن میںوشال سکّا (انفوسس)، سبھاش چندر (ذی گروپ)فرانسس (صدر ٹیما)، جوینسیو میزٹو (سی ای او آئیکیا)۔ آر ایس سودھی (ایم ڈی امول ڈیری)، کشور بیانی (سی ای اوفیوچر گروپ)، روی جے پوریا، ڈاکٹر اے کے چوہان، ڈاکٹر نریش تریہن، ڈاکٹر پروشوتم لال (میٹرو ہاسپٹل)، ڈاکٹر سوربھ شریواستو، لارڈ خالد حامد، مظفر علی، سنجے خان (فلم ساز) سمیت دیگر کئی قومی او ربین الاقوامی ہستیاںشامل تھیں ۔ اس موقع پر ریاست کے کاروباری اینڈ اسکلس ڈیولپمنٹ منسٹر ابھیشیک مشر، جیل وزیر بلونت سنگھ رامو والیا کے علاوہ این آر آئی ایسو سی ایشن کے صدر اشوک رام سرن اور یو اے ای کے غیر مقیم ہندوستانی یوسف علی نے بھی خطاب کیا ۔ افتتاحی سیشن میں رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو، انفارمیشن محکمہ کے پرنسپل سکریٹری ، ٹورزم ڈائریکٹر اور سی ای او یو پی ڈا نونیت سہگل ، این آر آئی محکمہ کے اسپیشل سکریٹری کنچن ور ما، انفارمیشن ڈائریکٹر آشوتوش نرنجن، منڈل کمشنر پردیپ بھٹناگر، ڈی آئی جی لکشمی سنگھ، ڈی ایم پنکج کمار، ایس ایس پیڈا پریتندر سنگھ،فکّی کے صدر ہرش نورتن سمیت کناڈا ، جاپان، امریکہ، جرمنی،سنگاپور، فجی او ر متحدہ عرب امارات او رمشرقی وسطیٰ کے تقریباً 250 غیر مقیم ہندوستانیوںکے ساتھ ساتھ فکّی نئی دہلی، ادیوگ بندھو لکھنو¿ اور ٹورزم، کلچرل، یو پی ایس آر ایل ایم، انڈسٹری، انفارمیشن، ایجوکیشن او رمیڈیکل جیسے کئی محکموںکے افسران موجود تھے۔
ثقافتی ورثہ سنوارنے کی بھی پہل ساتھ ساتھ
پہلے اترپردیش پرواسی دیوس کے موقع پر آگرہ آئے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ثقافتی ورثہ سنوارنے کی پہل کو آگے بڑھاتے ہوئے آگرہ میںمغل میوزیم،تاج اورینٹیشن سینٹر، آگرہ کیفے اسٹریٹ او رآگرہ ہیریٹج سینٹر پروجیکٹس کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔
وزیر اعلیٰ نے دنیا بھر میںمشہور تاج محل کے آس پاس بین الاقوامی سیاحتی سطح کی سہولیات کی توسیع کے لےے 438 کروڑ روپے کی لاگت کے چار پروجیکٹوںکا سنگ بنیاد رکھا۔ ان میں 141.89 کروڑ ورپے کی لاگت کا مغل میوزیم پروجیکٹ 231.85 کروڑ روپے کی لاگت سے تاج اورینٹیشن سینٹر ، 35 کروڑ روپے کی لاگت سے آگرہ کیفے اسٹریٹ او ر30 کروڑ روپے کی لاگت سے بن رہے آگرہ ہیریٹج سینٹر کے پروجیکٹ شامل ہیں۔اکھلیش یادو نے کہا کہ ان پروجیکٹ©س سے ریاست کی وراثتوں کوسنوارنے کا موقع ملے گا او راس سے نوجوانوں کو روزگار بھی حاصل ہوگا۔ آگرہ سمیت پوری ریاست میں ٹورزم کے بے پناہ امکانا ت موجود ہیں، جنھیںریاستی سرکار تیار کرنے کے پوری کوشش کررہی ہے۔ ہندوستان کودنیا میںتاج محل کے ملک کی شکل میں دیکھا جاتا ہے او ریہ مغلیہ دور کے فن تعمیر کا نایاب نمونہ ہے۔ آگرہ میںایسی ہی کئی مغلیہ دور کی یادگاریںہیں،جو اپنی تاریخی اہمیت اورخوبصورت فن تعمیر کے سبب سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اس موقع پر ریاستی سرکار کے وزیر برائے سیاحت اوم پرکاش سنگھ ، کھیل اور نوجوانوںکی بہبود کے وزیرمملکت رام سکل گوجر،ووکیشنل ایجوکیشن اینڈاسکل ڈیولپمنٹ کے ریاستی وزیر ابھیشیک مشرا،سابق مرکزی وزیر رام جی لال سمن، رکن اسمبلی راجہ مہندر ارمدن سنگھ، چیف سکریٹری آلوک رنجن،پرنسپل سکریٹری این آر آئی سنجیو سرن، انفارمیشن ڈائریکٹر آشوتوش نرنجن سمیت کئی اعلیٰ افسر ان موجود تھے۔
تارکین وطن نے سمجھی ا میدوں کی ریاست
پرواسی دیوس میںشریک ہونے آئے نمائندوںنے اترپردیش کو امیدوں کی ریاست کے طور پر سمجھا۔ ریاستی سرکار کے نمائندوںکے ساتھ چھ سیشنوںمیںالگ الگ موضوع پر غیر مقیم ہندوستانیوں نے اپنے مسائل سامنے رکھے اور ان کے حل کی تجاویز سنیں۔ ریاست کے پرنسپل سکریٹری آف انفارمیشن، ٹورزم اور صدر فلم برادر نونیت سہگل نے کہا کہ ریاستی سرکار کاروباریوںکی مدد کے لےے لگاتار کام کررہی ہے۔ ریاست میںفلم سازی کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔ فلم سازوں کی مدد کے لےے فلم برادر س کا قیام کیا گیاہے، جہاں سنگل ونڈو سسٹم لاگو کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت کو فروغ دینے کے لےے ایکو ٹورزم پالیسی لاگو کی گئی ہے۔ اترپردیش میںسرمایہ کاری اور ترقی کے مختلف مسئلوںپر غیر مقیم ہندوستانیوںکے ساتھ مشہور فلم کار مظفر علی،آسٹریلیا سے آئے فلم کار ڈاکٹر ستیش چندر رائے، اٹلی سے آئے رانی سائمن، فلم ساز راہل مترا ، گلوکار انوپ جلوٹا، فلم کار سدھیر مشر ، امریکہ میںاترپردیش کی کلچرل ایمبیسڈر الکا بھٹناگر،میرا علی، آپٹمس انفراکام لمیٹڈ کے ایم ڈی رویندر جتشی۔ کامن ویلتھ کے اسپیشل نمائندے اور بینک آف بڑودہ کے بورڈ ممبر نیوزی لینڈ، ڈاکٹر راجندر پرساد،صنعت کار این آر آئی سنجے گپتا، گرینائٹ ہل کیپٹل پارٹنرس، یو ایس اے کے ڈاکٹر اے اے حسن، سلیکان ویلی، کیلی فورنیا سے آئیں ڈاکٹر نندنی ٹنڈن، یونیورسٹی آف ساو¿تھ پیسفک، فجی کے وائس چانسلر پروفیسر راجیش چندرا اور آگرہ کے آبائی باشندے اے آئی اے کے سابق چیئر مین ڈاکٹر پیوش اگروال سمیت کئی ہستیوںنے صلاح و مشورے میںحصہ لیا۔
اگلے سال آئیںگے گرمٹیا کانفرنس میں
تارکین وطن کانفرنس میں آئے نمائندوںنے سرکار کے اعلان پر کہا کہ اگلے سال وہ گرمٹیا کانفرنس میںضرور آئیںگے اور یوپی میں اپنی اپنی جڑیںتلاش کریں گے۔ گرمٹیا قانون ختم ہوئے تقریباًسو سال ہوگئے،لیکن دنیا کے کئی ملکوں میںبسے مزدوروں کے آباو¿ اجداد کی کسی نے خبر نہ لی۔ ہندوستان سے مزدوروں کو انگریز فجی، سوری نام، ماریشس او رافریقہ کے بعض شہروںمیںلے گئے تھے۔اترپردیش ان گرمٹیا مزدوروں کے نسلوں کا دوست بن کر سامنے آرہا ہے۔سرکار اگلے سال انٹر نیشنل گرمٹیا ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر گرمٹیا کانفرنس کرنے جارہی ہے۔ این آر آئی کانفرنس میںآسٹریلیا سے آئے ایسوسی ایشن کے صدر ستیش رائے کہتے ہیںکہ گرمٹ قانون کے ختم ہونے کے سوسال پورے ہونے پر وہ یوپی میں دنیا بھر سے گرمٹ کمیونٹی کے لوگوں کو اکٹھا کریںگے، تاکہ انھیںبھی اپنے مادر وطن کے بارے میںپتہ چل سکے۔ کئی خاندان تو سو سا ل پورے ہونے کے بعد بھی اب تک ہندوستان نہیں آئے،کچھ کے رشتے یوپی کے کئی ضلعوںسے ہے۔ پچاس لاکھ سے زیادہ گرمٹ کمیونٹی کے لوگ بیرونی ممالک میںبسے ہیں۔کئی کے آباو¿ اجداد غیر ملکوںمیںہی ختم ہوگئے، ان کا آج تک ہندو رواج کےمطابق آخری رسوم تک ادا نہیںہوسکیں۔ آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ویسٹرن سڈنی سے گرمٹیا پر ریسرچ کرچکے ستیش رائے کے پرکھے 1859 میں غلاموںکی طرح فجی بھیجے گئے تھے۔ ان کے ساتھ یوپی کے بلرام پور او رآس پاس کے قریب60 ہزار لوگ بھی تھے۔ پانی کے جہاز میںٹھونس کر بھیجے گئے زیادہ تر لوگ تین مہینے کا سفر برداشت نہیںکرسکے اور راستے میںہی مرگئے۔ ستیش کہتے ہیں کہ ہماری تو پوری جنریشن ہی انگریزوںنے ختم کردی۔آزادی کے بعد حکومت ہند نے بھی ہماری خبر نہیں لی، یہ اجتماعی قتل عام تھا،جس کے لےے برطانیہ کو گرمٹ کمیونٹی سے معافی مانگنی چاہےے۔مہاتما گاندھی کی کوششوں سے قریب 25 ہزار لوگ 1916 میںواپس لوٹے، باقی کو لوٹنے نہیں دیا گیا۔ اب وہ فیس بک،ٹیوٹر،یو ٹیوب او رفلموں کے ذریعہ گرمٹیا کی کہانی دکھا رہے ہیں ۔ ستیش کے آباو¿ اجداد بلرام پور کے تھے۔فجی،پھر لندن سے آسٹریلیا میںبس گئے ستیش نے 1994 سے اپنی جڑوںکو تلاش کرنا شروع کیا،جو 2004 ،میںبلرام پور کے اترولہ میںجاکر ختم ہوئی۔ انھوںنے کئی ڈاکیومینٹری بنائی ہیں۔ اب وہ گرمٹیا پر فلم بنانا چاہتے ہیں ۔ اس کے لےے بالی ووڈ میںکئی لوگوںسے بات چل رہی ہے۔ وہ چاہتے ہیںکہ باقی گرمٹیا بھی اپنی جڑیںیوپی آکر تلاش کریں ،سرکار بھی ان کی مدد کرے۔ وہ کئی بھوج پوری فلمیںبنا چکے ہیں۔ معلوم ہو کہ گرمٹیا کو انگریز 1828 میںکنٹریکٹ لیبر کے طور پر لے گئے تھے۔پانی کے جہازوںسے ان پڑھ ہندوستانیوںکو انگوٹھے کا نشان لگواکر ایک ایگریمنٹ تیار کرایا گیاتھا۔ وہ مزدور خود کوگرمٹ یا جہازی کہنے لگے تھے۔انھیںماریشس، ٹوبیگو، گیانا ااور جنوبی افریقہ کے ملکوںمیںگنے کی کھیتی کے لےے لے جایا گیا تھا۔
یوپی آئیں، فلم بنائیں،میوزک سنیں او ر لذیذ کھاناکھائیں
اترپردیش سرکار نے ریاست میںسرمایہ کاری کے لےے مختلف دروازے کھولے ہیں۔ اترپردیش آکر فلمیںبنانے ،موسیقی پر کام کرنے اور لذیذ کھانے کے لکھنوی ہنر کو فروغ دینے کے تمام راستے کھولے جارہے ہیں۔ فلم بنانے کے لےے یوپی بہتر جگہ بنتی جارہی ہے۔ یہاںکی ثقافت اور دستکاری کو فروغ دینے اور فلم ٹورزم کو فروغ دینے کے لےے ٹھوس کام کیا گیا ہے۔ سرکار کی فلم پالیسی قابل ستائش ہے۔ فلم بنانے کے لےے دی جارہی سبسڈی دیگر ریاستوںکے لےے مثال ہے۔ فلم ساز مظفر علی نے کہا کہ یوپی کی اپنی خاص پہچان ہے۔ اٹلی سے آئے ڈیزائنر رانی سمن نے کہا کہ یوپی میں فلم انڈسٹری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہاں موجود بہترین فنون کی بین الاقوامی سطح پر مارکیٹنگ کی جانی چاہےے۔ یوپی میںبنی فلم بلیٹ راجہ کے پروڈیوسر راہل مترا نے کہا کہ فلم ٹورزم کا سب سے زیادہ فائدہ یوپی کو مل سکتا ہے۔مسان فلم کے ڈائریکٹر نیرج نے کہا کہ یہاں کے لذیذ کھانے کو ہی فروغ دے کر یوپی میں ٹورزم کو کافی بڑھایا جاسکتا ہے۔ یوپی میںفلموںکے علاوہ میوزک او رفوڈ فیسٹول کو بھی کاروباری کلیور دیا جارہا ہے۔جلد ہی لکھنو¿ میںاودھی فوڈ فیسٹول کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔ انوپ جلوٹا اور این آر آئی الکا بھٹناگر میوزک انسٹی ٹیوٹ سے لوگوں کے دلوں کو بدلنے کی تیاری میںہیں، تو مظفر علی، سدھیر مشرا اور نیرج گھائیوان جیسے ڈائریکٹر یوپی کو اپنی فلموںکے ذریعہ بہتر ڈھنگ سے پیش کررہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *