اصلاح معاشرہ اور دارالقضاء کے قیام سلسلے میں مجلس اتحاد ملت کی میٹنگ منعقد

Share Article
Majlis-Ittihad-e-Millat-Meeting
مجلس اتحاد ملت کے دفتر پر اصلاح معاشرہ کے عنوان سے اہم میٹنگ کا انعقادعمل میں آیا جس میں اس بات پر غور وخوض کیا گیا کہ کس طرح امت کے ہر فرد کو دین سے جوڑا جائے اور اصلاح کی تدابیر اختیار کی جائیں تاکہ ہر مسلمان اپنے عائلی مسائل شریعت اسلام کی روشنی میں حل کرسکیں اور رہبران امت سے جوڑ کر مسائل دینیہ کو سیکھ سکیں۔ میٹنگ میں تمام شرکاء نے اپنی اپنی قیمتی آراء سے نوازا، اس موقع پر مجلس کے صدر مولانا طارق قاسمی نے کہا کہ امت میں بگاڑ اور گمراہی کے اسباب کو اُجاگر کیا اور مسلمانوں کے ذاتی مسائل میں حکومت کی بے جا مداخلت کے بھی اسباب بیان کرتے ہوئے کہاکہ جیسے کہ حکومت شریعت اسلامیہ میں روز بروز مداخلت کررہی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مسلمانوں کو دین اسلام وقرآن وسنت سے قریب کیا جائے تاکہ ہر مسلمان اپنی زندگی دیندارانہ طرز پر گزارے جس کے لئے۔ انہوں نے جگہ جگہ ، دارالقضاء قائم کئے جانے پر زور دیا تاکہ مسلمانوں کے اپنے عائلی مسائل دارالقضاء کے ذریعہ علماء امت سے حل کراسکیں اور خود کو رسوا ہونے سے بچا سکیں۔
مجلس کے ناظم عمومی حافظ اطہر عثمانی نے کہا کہ جوں جوں حکومت شریعت اسلامیہ میں دخل اندازی کررہی ہے ایسا معلوم ہورہا ہے کہ مسلمانوں کا دائرۂ حیات تنگ ہوتا جارہاہے اس لئے ایسے نازک موقع پر ہمیں دین سے نابلد اپنے مسلمانوں بھائیوں کی فکر کرنی ہے اور حتی المقدور دین سے جوڑنا اور قرآن وسنت کی تعلیم کو عام کرنا ہے اور یہ ہمارا فرض منصبی اور ذمہ داری ہے۔ میٹنگ کی صدارت کررہے سید عقیل حسین میاں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اس کے لئے ہمیں چھوٹی چھوٹی یونٹیں تشکیل کرنی چاہئیں اور ہفتہ واری یا پندرہ یوم میں ایک بار محلوں کے اعتبار سے اصلاح معاشرہ کے عنوان سے میٹنگ کی جائیں اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ شریعت سے آشنا کرایاجائے۔ انہو ں نے کہا کہ موجودہ حالات بے شک باعث فکر ہے اور جتنا جلدی اسے بدل دیا جائے معاشرے کے لئے اتنا ہی ضروری ہے ۔ میٹنگ کی صدارت سید عقیل حسین میاں نے کی ،نظامت کے فرائض مولانا حسان غانم نے انجام دی۔ اس موقع پر مفتی احمد گوڑ، حافظ تصور حسین، فہیم عثمانی، قاضی فرحان، سعود عثمانی، سید اکرم کاظمی، تسلیم قریشی، راحل عثمانی، خرم قادری، اسرائیل گوڑ،کلیم رضا، ماسٹر اسعد وغیرہ موجود رہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *