میدان چھوڑ کر بھاگنے والے امیدوار

Share Article

شاہد نعیم

ملک میں لوک سبھا انتخابات 2014 جاری ہیں۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنی جانب سے مضبوط ترین امیدوار اتار کر دلّی پر قبضہ جمانے کے لیے اپنی پوری طاقت جھونک رکھی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں کا انتخابی میدان چھوڑ کر بھاگنے کا سلسلہ بھی لگاتار جاری ہے اور یہ شاید انتخابی تاریخ کا پہلا موقع ہے جب اتنی بڑی تعداد میں امیدوار میدان سے پیٹھ دکھاکر بھاگ رہے ہیں اور اپنی اپنی پارٹی کے حوصلے پست کر رہے ہیں۔

p-4انتخابات اسمبلی کے ہوں یا پارلیمنٹ کے، سیاسی پارٹیوں کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے لوگ سفارش اور دولت کے ڈھیر لگا دیتے ہیں، تب کہیں جا کر الیکشن لڑنے کا پروانہ حاصل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہر انتخاب میں سیاسی پارٹیوں کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے مارا ماری ہوتی ہے اور جب یہ ٹکٹ مل جاتا ہے تو امیدوار ہوا میں اڑنے لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسے اعلیٰ ایوان میں پہنچنے کاپاس مل گیا ہے۔ اس کے اندر ایک نیا جوش اور جذبہ بھر جاتا ہے، لیکن شاید یہ ملک کا پہلا انتخاب ہے، جس میں کچھ امیدواروں نے اپنے حریفوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرکے انتخابی میدان مارنے کی بجائے الٹا میدان چھوڑ کر ہی بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی اور اپنے ٹکٹ سیاسی پارٹیوں کولوٹانے کے لیے دوڑ لگادی۔ ذرا غور توکیجیے کہ لوک سبھا انتخابات 2014 ابھی پایۂ تکمیل کو بھی نہیں پہنچے ہیں اور اب تک دو درجن سے زیادہ امیدوار اپنے ٹکٹ لوٹا چکے ہیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ کئی امیدواروں نے پرچہ نامزدگی بھرنے کی تاریخ نکلنے کے بعد اپنے ٹکٹ واپس کیے، جس کی وجہ سے پارٹی کوان امیدواروں کی جگہ اس حلقہ میں اپنے دوسرے امیدوار اتارنے کا موقع بھی میسر نہ ہوسکا۔
انتخابات کو درمیان میں چھوڑ کر بھاگنے والے سب سے زیادہ 20 امیدوار، پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار حصہ لینے والی نئی نویلی جماعت عام آدمی پارٹی کے ہیں۔ اس کے بعد کانگریس کے 4 امیدوار، سماجوادی پارٹی، جے ڈی یو اور قومی ایکتا دل کا ایک ایک امیدوار شامل ہے۔ ان میں سے کچھ ایسے امیدوار بھی ہیں ، جوایک خاص حکمت عملی کے تحت میدان سے ہٹنے کے باوجود واہ واہی لوٹ رہے ہیں اور اس طرح وہ انتخابی میدان میں نہ ہوتے ہوئے بھی میدان میں قائم ہیں۔
عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کی میدان چھوڑ کر بھاگنے کی شروعات چنڈی گڑھ سے ہوئی۔ عام آدمی پارٹی نے سویتا بھٹی کو چنڈی گڑھ سے امیدوار بنایا تھا، لیکن سویتا بھٹی نے پارٹی کارکنوں کا سپورٹ نہ ملنے کا الزام لگا کر راہِ فرار اختیار کرلی۔ اس کے بعد تو جیسے عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی میدان سے پاؤں اکھڑ گئے اور ایک کے بعد ایک پارٹی کے امیدوار میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوار دہلی سے مہندر سنگھ، اتر پردیش کے جالون سے ابھیلاش جاٹو، لکھیم پور کھیری سے الیاس اعظمی، فیض آباد سے اقبال مصطفیٰ، مرادآباد سے خالد پرویز، ایٹہ سے دلیپ یادو، آگرہ سے رویندر سنگھ، فرخ آباد سے مکل ترپاٹھی، رابرٹس گنج سے رام دھیان بھارتی، فتح پور سیکری سے مہاویر سنگھ، امبیڈکر نگر سے کرم ویر، رائے بریلی سے فخرالدین، مرزاپور سے سشیل رتناکر، اجمیر (راجستھان) سے اجے سومانی، کراکاٹ (بہار) سے غلام کندانم، کندھمال (اڑیسہ) سے نریندر موہنتی، باردولی (گجرات) سے ٹھکور بھائی گامی، جالندھر (پنجاب) سے راجیش پدم اپنے نام واپس لے کر انتخابی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ ان میں سے اتر پردیش کے رابرٹس گنج، فتح پور سیکری اور امبیڈکر نگر کے امیدوار مؤثر انداز میں کیمپین نہ چلانے کے سبب میدان چھوڑ کر بھاگے، جبکہ بہار کے کراکاٹ حلقہ کے امیدوار کو ان پر اغوا کا مقدمہ درج ہونے کے سبب میدان سے ہٹالیا گیا۔ اڑیسہ کے کندھمال حلقہ کے امیدوار نریندر موہنتی کے بارے میں پارٹی کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کے خلاف 28 مجرمانہ معاملوں کے علاوہ ایک مرڈر کیس بھی درج ہے، تو اسے الیکشن ریس سے ہٹالیا گیا۔ لیکن، افسوسناک بات یہ رہی کہ ان امیدواروں کے مجرمانہ معاملوں کے بارے میں جب پارٹی کو علم ہوا، تب تک پرچہ نامزدگی بھرنے کی تاریخ نکل چکی تھی، اس وجہ سے عام آدمی پارٹی ان پارلیمانی حلقوں میں اپنے دوسرے امیدوار میدان میں نہ اتار سکی۔ ان کے علاوہ اجمیر پارلیمانی حلقہ سے بھی اپنا امیدوار اتارنے میں پارٹی ناکام رہی، کیونکہ یہاں کے امیدوار اجے سومانی نے پرچہ نامزدگی واپس لینے کے آخری دن ہی میدان چھوڑنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجہ میں عام آدمی پارٹی اجمیر میں بھی اپنا امیدوار اتارنے سے محروم رہ گئی۔
عام آدمی پارٹی کے 20 امیدواروں کے میدان چھوڑنے سے یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ اتنے زیادہ امیدوار اس پارٹی سے کیوں مایوس ہوئے اور آخر ایسی کیا وجہ بنی کہ امیدواروں کے پاؤں اکھڑتے ہی چلے گئے اور وہ اپنے سیاسی حریفوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے میدان سے بھاگنے میں ہی اپنی عافیت سمجھنے لگے؟ کیا پارٹی امیدواروں کا سلیکشن صحیح طور پر نہیں کرپائی یا پارٹی کے کارکنوں کا سپورٹ نہ ملنے یا پیسے کی کمی کے سبب امیدوار ناراض ہوکر میدان سے باہر ہوتے گئے؟ اس سلسلے میں پارٹی کے ترجمان دلیپ پانڈے کہتے ہیں کہ ’’جن جگہوں پر ہم نے دیکھا کہ امیدوار پِک نہیں کر پارہے ہیں، وہاں ہم نے خود ہی اپنے امیدوار بدلے ہیں، جبکہ کچھ مقامات پر امیدوار خود ہی میدان چھوڑ کر بھاگے ہیں۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ سبھی جگہ طے کی گئی پروسس کو فالو کرتے ہوئے کنڈیڈیٹ طے کیے گئے تھے، جبکہ اس سلسلے میں ’پولیٹکل افیئرس کمیٹی‘ (پی اے سی) کے ممبر الیاس اعظمی کا کہنا ہے کہ پارٹی میں پی اے سی محض دکھاوے کی رہ گئی ہے، اس وجہ سے کئی ایسے لوگوں کو بھی کنڈیڈیٹ ڈکلیئر کر دیا گیا، جن کے نام پی اے سی میں ڈسکس تک نہیں ہوئے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے کئی لوگوں کے ہاتھ میں ٹکٹ تھمادیے گئے، جو پارٹی کے ممبر بھی نہیں تھے۔
انتخابی میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں میں کانگریسی امیدوار بھی پیچھے نہیں رہے ہیں۔ بھنڈ (مدھیہ پردیش) سے کانگریس نے 1975 بیچ کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ڈاکٹر بھاگیرتھ پرساد کو ٹکٹ دیا، لیکن وہ کانگریس کے انتخابی میدان سے بھاگ نکلے اور بی جے پی جوائن کر لی۔ اسی طرح کانگریس نے گوتم بدھ نگر سے رمیش چندر تومر کوٹکٹ دیا تھا، لیکن وہ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے پرستار نکلے اور ’مودی لہر‘ پر سوار ہو کر انتخابی میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے اور بی جے پی میں شا مل ہوگئے۔ رمیش چندر تومر نے پارٹی کو ایسے وقت پر دھوکہ دیا، جب وہ اس کا متبادل امیدوار تک بھی میدان میں نہیں اتار سکی اور اس طرح کانگریس گوتم بدھ نگر (یو پی) میں اپنا امیدوار کھڑا کرنے میں ناکام رہ گئی۔ وڑودرہ (گجرات) سے کانگریس نے پرائمری پروسیس کے تحت نریندر راوت کو ٹکٹ دیا، لیکن جب نریندر مودی نے وڑودرہ سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، تونریندر راوت اخلاقی طور پر انتخابی میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے، تاکہ پارٹی نریندر مودی کی ٹکر کا کنڈیڈیٹ میدان میں اتار سکے۔ اسی طرح بستی (یو پی) کے امیدوار بھی ایک مقدمہ میں مطلوب ہونے کے باعث انتخابی میدان سے خودہی باہر ہوگئے۔

لوک سبھا انتخابات 2014 کا سب سے دلچسپ مقابلہ وارانسی میں ہونے والا ہے۔ پوری دنیا کی نظریں اس سیٹ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ یہاںبھارتیہ جنتا پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی، عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال، سماجوادی پارٹی کے کیلاش چورسیا، بہو جن سماج پارٹی کے وجے پرکاش جیسوال اور کانگریس کی جانب سے اجے رائے میدان میں ہیں۔ قومی ایکتا دل کے مختار انصاری کا ماننا ہے کہ اگر سیکولر ووٹ متحد ہو جائیں، تو نریندر مودی کو وارانسی میں کڑی ٹکر دی جاسکتی ہے، اسی مقصد کے تحت انھوں نے انتخابی میدان سے ہٹنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سیکولر پارٹیاں ان کی قربانی کا کس طرح احترام کرتی ہیں۔

سماجوادی پارٹی بھی ٹکٹ واپسی کے زخم سے محفوظ نہ رہ سکی۔ یقینا پارٹی کو اس وقت زور کا جھٹکا لگا ہوگا، جب اس کے امیدوار راجو سر یواستو ملک میں نریندر مودی کی لہر ہونے کا اعلان کرکے سماجوادی پارٹی کو چھوڑ بھاگے اور بھارتیہ جنتا پارٹی جوائن کرلی۔ سماجوادی پارٹی نے راجو سریواستو کانام کانپور پارلیمانی سیٹ سے بہت دنوں پہلے ڈکلیئر کر دیا تھا، لیکن عین وقت پر راجو میدان چھوڑ بھاگے اور پارٹی کانپور میں ایک جمے جمائے کنڈیڈیٹ سے محروم رہ گئی۔
ٹکٹ واپس کرنے کے معاملے میں جنتا دل متحدہ (جے ڈی یو) بھی اچھوتی نہیں رہی۔ کشن گنج پارلیمانی حلقہ کے جے ڈی یو امیدوار اختر الایمان کے انتخابی میدان سے ہٹنے سے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سکتہ میں رہ گئے، سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ اختر الایمان کشن گنج میں بڑی مضبوطی کے ساتھ الیکشن لڑ رہے تھے۔ ان کے سامنے کانگریس کے مولانا اسرار الحق قاسمی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دلیپ کمار جیسوال میدان میں تھے، لیکن اختر الایمان کو جب یہ محسوس ہوا کہ ان کے میدان میں رہنے سے مسلم ووٹ منتشر ہو جائیں گے اور اس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ہوجائے گا، تو وہ انتخابی میدان قوم کے حوالے کر گئے۔ لیکن اخترالایمان میدان میں نہ ہوتے ہوئے بھی میدان میں قائم ہیں۔ ٹھیک اسی طرح کی صورتحال قومی ایکتا دل کے امیدوار مختار انصاری کی ہے۔ وارانسی میں سیکولر ووٹوں کو تقسیم سے بچانے اور نریندر مودی کو ہرانے کے لیے مختار انصاری اپنی امیدواری قربان کر نے کو تیار ہیں۔
دراصل، لوک سبھا انتخابات 2014 کا سب سے دلچسپ مقابلہ وارانسی میں ہونے والا ہے۔ پوری دنیا کی نظریں اس سیٹ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ یہاںبھارتیہ جنتا پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی، عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال، سماجوادی پارٹی کے کیلاش چورسیا، بہو جن سماج پارٹی کے وجے پرکاش جیسوال اور کانگریس کی جانب سے اجے رائے میدان میں ہیں۔ قومی ایکتا دل کے مختار انصاری کا ماننا ہے کہ اگر سیکولر ووٹ متحد ہو جائیں، تو نریندر مودی کو وارانسی میں کڑی ٹکر دی جاسکتی ہے، اسی مقصد کے تحت انھوں نے انتخابی میدان سے ہٹنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سیکولر پارٹیاں ان کی قربانی کا کس طرح احترام کرتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *