محور کی تلاش میں مسلم ووٹ

Share Article

عاقل زیاد، پٹنہ
p-5bہندوستان میں عام انتخابات کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں، تو مسلم ووٹ کی اہمیت سے انکار کرنا مشکل ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کی حریص نظریں ہمیشہ مسلم ووٹ کی بندر بانٹ میں لگی رہی ہیں، لیکن ان کی تمام کوششوں کے باوجود مسلم ووٹ نے ہمیشہ ملک کے مستقبل کو دھیان میں رکھ کر اپنا فیصلہ ملک وقوم کے مفاد میں دیا ہے۔ ایک زمانہ تھا، جب مسلمانوں کے ووٹ سے ملک کی تقدیر وابستہ تھی اور اس کا فائدہ کانگریس کو ملتا رہا، مگر دسمبر 1992 کے بعد مسلم ووٹ لا مرکزیت کا شکار ہوگیا اور اس کی حالت بھی ایسی ہوئی کہ جوتیوں میں دال بٹنے لگی۔ اس کے بعد سیاست دانوں نے ووٹ کو مذہب سے جوڑنے کی پالیسی پر اپنی حکمت عملی کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس حال میں بھی ملک کے مسلمانوں نے سنجیدگی کا دامن نہیں چھوڑا، البتہ مسلم ووٹ پر علاقائیت کا رنگ غالب آگیا۔ بہار میں اس کی زندہ مثال اس طرح دیکھنے میں آئی کہ آر جے ڈی کی حمایت میں تمام مسلم برادری متحد ہوگئی اور لالو پرساد کو بہار کا ہیرو بنا دیا۔ پھر جب قوم جے ڈی یو کی حمایت میں آئی، تو 2002 کے پہلے مرحلہ میں نسبتاً کم، لیکن دسرے دور 2007 کے انتخاب میں نتیش کمار کو اکثریت دلا دی۔ ان سب باتوں سے الگ، موجودہ حالات میں مسلم رائے دہندگان آج واقعی شش وپنج میں مبتلا ہیں اور اس کی بنیادی وجہ بھی ہے۔
حالانکہ ابھی بہار میں عام انتخابات کو کم سے کم ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ درکار ہے، لیکن لوک سبھا انتخابات کی دھمک محسوس کرکے این ڈی اے کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی ہیں۔ دوسری طرف حکمراں جماعت یا حزبِ اختلاف کے بھی اقوال و اعمال کو انتخاب کی تیاریوں کی جانب ایک قدم تصور کیا جانے لگا ہے۔ ’ترقی کے نام پر سیاست نہیں ‘ یہی وہ فلسفہ ہے، جس میں سیاست چھپی ہے، بلکہ یہی نعرہ سیاست کا اصل موضوع بھی ہے۔ آخر ترقی کے نام سے کسے اعتراض ہوگا اور کیوں؟ اندھا چاہے دو آنکھ۔ دہلی میں میٹرو ریل کی توسیع کا کریڈٹ کسے ملا؟ عوام کو کچھ نہیں چاہیے، بس ترقی ہے تو روزگار ہے اور اگر ترقی کے نام پر صرف نعرے ہوں، تو سبز باغ میں جینے والے عوام بھی باغ دکھانے والی سیاسی جماعت کو ہانکنے اور ہنکانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہی سب لالو کے 15 سالہ دورِ اقتدار میں بھی سامنے آیا تھا، جو اس وقت نتیش حکومت میں دیکھنے کو آرہا ہے۔ فرق ہے تو یہ کہ، تب صرف زبانی جمع خرچ پر کام چلتا تھا اور اب نعروں پر کام چل رہا ہے۔ گزشتہ دورِ اقتدار میں مرکز سے ملنے والا منصوبہ جاتی فنڈ اس لیے واپس ہوجاتا تھا کہ اس میں ریاست کا فیصد تناسب شامل نہیں ہو پاتا تھا۔ موجودہ اقتدار کو مرکز سے جو کچھ ملا، غنیمت سمجھ کر اسے استعمال کرنے میں سرگرمی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اسے دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ جے ڈی یو نے ترقیات کے سارے دروازے مرکز کی دہلیز سے گزر کر طے کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہار میں سڑک، پل، فلائی اوور یا بنیادی تعلیم، صحت وغیرہ کے نظام میں تھوڑی تبدیلی دیکھی جارہی ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ یہ سب مرکز اسپانسرڈ ہیں، مگر اس کا سہرا نتیش حکومت کے سر بندھ رہا ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال ہے کہ آنے والے انتخاب کے لیے جے ڈی یو یا آر جے ڈی کے سامنے ایشوز کیا ہیں۔ جے ڈی یو نے عوام کو ترقی کا سبق پڑھانا شروع کردیا ہے اور جہاں کہیں موقع ملتا ہے، تقریباً ہر سیوا یاترا میں وزیراعلیٰ اپنے اس بیان کو دہراتے پھر رہے ہیںکہ ’ترقی کے نام پر سیاست نہیں‘۔ لیکن آر جے ڈی کے پاس فی الحال کوئی ایشو نہیں ہے اور وہ بدعنوانی، جرائم، پولس مظالم، افسر شاہی وغیرہ کے خلاف کھڑے ہونے کے دعووں تک محدود ہے۔ کانٹریکٹ اساتذہ کو مستقل کرنے کا دعویٰ ممکن ہے لالو پرساد کے لیے سود مند ثابت ہو، تاہم چند ہزار اساتذہ اور ان سے منسلک ان کے اہل خانہ کے ووٹ سے آر جے ڈی کو کتنا فائدہ ہوگا، اس کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ ’ایم وائی‘ فارمولہ میں بھی جان نہیں ہے، کیوںکہ ’ایم‘ (مسلم) کی بے بسی اور ’وائی‘ (یادو) کی دلیری نے لالو راج کی سچائی کو روشن کردیا ہے۔ ایسے میں آنے والے انتخاب کے لیے بہار کے عوام کس جانب قدم بڑھائیں گے، یہ ایک واقعی الجھن ہے۔ خصوصاً مسلم رائے دہندگان کیا رخ اختیار کریںگے، یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ یہ سوال بھی ووٹروں کو منتشر کرنے میں اہم رول نبھا سکتا ہے کہ موجودہ این ڈی اے اتحاد میں شامل جے ڈی یو کے مکھیا، وزیراعظم کے امیدوار پر اپنا رخ واضح نہیں کررہے ہیں، جب کہ دوسری جانب بی جے پی کے قومی نائب صدر و ممبر راجیہ سبھا، پربھات جھا نے دوٹوک کہہ دیا کہ این ڈی اے اتحاد کو قائم رکھنے میں بی جے پی سے زیادہ ذمہ داری بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی ہے، کیوںکہ نتیش کمار این ڈی اے کے بڑے لیڈر ہیں، تو نریندر مودی ملک کے سب سے چہیتے رہنما ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ سوال ابھی پیدا ہوا ہے، بلکہ یہی وہ سوال ہے، جو اُن کے لیے گلے کی ہڈی ہے اور جس پر اب سے پہلے بھی بی جے پی اور جے ڈی یوآمنے سامنے آچکے ہیں، یہاں تک کہ وزیراعلیٰ بہار کو بھی این ڈی اے اتحاد کو اور مضبوط بنائے رکھنے سے متعلق بیانات دینے پڑتے ہیں۔ ایسے میں تجزیہ کاروں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں کہ آخر بات کیا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ نتیش کمار نہ صرف ایک سیاست داں ہیں، بلکہ وہ ایک اسکالر بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اہم فیصلوں کی گھڑی میں خاموشی کو ہی ترجیح دیتے ہیں یا پھر بہت نپے تلے انداز میں لب کشائی کرتے ہیں۔ اب ریاست کے عوام کو یہ تو دیکھنا ہی پڑے گا کہ وہ خاموشی یا مختصر گوئی سے کب تک کام چلاتے رہیں گے۔ ظاہر ہے، وہ دن دور نہیں، جب نتیش کمار کو کچھ نہ کچھ جواب دینا پڑے گا۔ اس وقت عوام میں ان کی صحیح تصویر اجاگر ہوگی اور اس کے بعد انہیں اپنی اصلیت کا اندازہ ہوپائے گا۔ ان کے جواب سے ان کی حلیف پارٹی خوش ہوتی ہے، تو مسلمانوں کو مایوسی کا منھ دیکھنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس وزیراعلیٰ نے اگر مسلمانوں سے محبت کا اظہار کیا، تو بی جے پی کے عتاب میں گھر سکتے ہیں۔
گویا آنے والا انتخاب ایک بار پھر بہار کے مسلمانوں کے لیے امتحان جیسا ہوگا اور اسے بہت سنجیدگی سے قائد کے انتخاب کا فیصلہ لینا ہوگا۔ دراصل، یہی وہ کمزور پہلو ہے، جس پر سب کی نگاہیں لگی ہیں۔ سی پی آئی، عام آدمی پارٹی، ایل جے پی یا کانگریس، تقریباً سبھی پارٹیوں میں خوشی محسوس کیا جانا غیر منطقی نہیں کہ بے سمتی کا شکار مسلم ووٹ اس کے حق میں ہو۔ ممکن ہے آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے ٹکرائو سے کانگریس کو کچھ فائدہ ملے ۔ وجہ بھی صاف ہے کہ مسلمان شروع سے ہی کانگریس کے کھونٹے سے بندھے بکرے کی مثال رہے ہیں۔ بابری مسجد اور رام مندر تنازعہ کے بعد نہ صرف بہار، بلکہ ہندوستان بھر میں سیاسی منظرنامہ میں جو تبدیلی آئی، اس کی وجہ سے آج بھی مسلم ووٹ اپنے محور سے بھٹک کر علاقائیت میں تقسیم ہوتا رہا۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے، تو مرکز سے لے کر ریاستوں میں بھی حکومت سازی کے لیے کسی ایک سیاسی جماعت کو اکثریت میں آنے کی روایت ہی بدل گئی۔ ظاہر ہے، اس کی ذمہ دار خود کانگریس ہی ہے۔ موجودہ وقت میں کانگریس کی مقبولیت میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے، تو اس کا اثر بہار کی سیات پر بھی پڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *