مہاراشٹر میں ایک اور زمین گھوٹالہ

Share Article

پروین مہاجن 

مہاراشٹر میں گھوٹالوں کا دور رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ گھوٹالوں کے معاملے میں ریاستی حکومت کسی بھی صورت میں مرکزی حکومت سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی ہے۔ آدرش سوسائٹی گھوٹالے کے بعد پھر ایک بڑا زمین گھوٹالہ سامنے آیا ہے، مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (مہاڈا) کی زمین کو کوڑیوں کے دام پر لیڈروں کو بانٹنے کا۔ جب مہاڈا نے اپنی زمینوں کی حالت پر عبوری جانچ کرائی تو اس زمینی بندر بانٹ کا خلاصہ ہوا۔ لیڈروں نے اپنے سماجی اور تعلیمی اداروں کے نام پر آسانی سے ان زمینوں پر قبضہ کر لیا۔ اب ان زمینوں کا استعمال سماجی یا تعلیمی مقاصد کے طور پر نہیں، بلکہ کاروباری طور پر کیا جا رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ گھروں کی تعمیر کے لیے مخصوص مہاڈا کی زمین کو لیڈروں میں تقسیم کرنے کا کام انہی لیڈروں کے وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے انجام پایا، جن کا نام پہلے سے ہی آدرش سوسائٹی گھوٹالے میں بار بار آ رہا ہے، یعنی مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ مرکزی وزیر ولاس راؤ دیش مکھ اور سشیل کمار شنڈے۔
ممبئی میں آج لوگوں کو رہنے کے لیے گھر نہیں مل رہا ہے۔ عام لوگوں کے لیے رہائشی گھر تعمیر کراکے سستی قیمتوں پر مہیا کرانے کے مقصد سے مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی تشکیل کی گئی تھی، لیکن مہاڈا اس مقصد کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ آج اس کے ذریعے بنائے گئے گھروں کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ مہاڈا کا کاروبار بھی ایک کارپوریٹ کمپنی جیسا ہو گیا ہے۔ اس میں مہاڈا کا کوئی قصور نہیں ہے، بلکہ سارا قصور برسر اقتدار لیڈروں کا ہے جو مہاڈا کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہتے ہیں۔ مہاڈا کی عبوری رپورٹ کے مطابق، تقریباً 20 ہیکٹیئر زمین کو سال 1999 سے 2003 کے درمیان لیڈروں اور ان کے اداروں کو سرکار کی ذیلی کمیٹی کی معرفت بانٹ دیا گیا۔ مزیدار بات یہ ہے کہ یہ پورا کاروبار ان لیڈروں کے دورِ حکومت میں کیا گیا، جن کا نام بار بار زمین گھوٹالوں میں آتا رہا ہے، یعنی ولاس راؤ دیش مکھ اور سشیل کمار شنڈے کی حکومت کے دوران مہاڈا کی ریزرو زمین کا بٹوارہ سارے قاعدے قانون کو طاق پر رکھ کر کیا گیا۔ جن لیڈروں کو مہاڈا کی زمین سستی قیمتوں پر دے کر فائدہ پہنچایا گیا، ان میں کانگریس کے ایم ایل اے مدھوکر چوہان، کانگریس ایم پی پریہ دت، سابق لیبر منسٹر اور این سی پی لیڈر نواب ملک، وزیر برائے دیہی ترقی اور این سی پی لیڈر جینت پاٹل، سماجوادی پارٹی کے لیڈر ابو عاصم اعظمی وغیرہ شامل ہیں۔ کانگریس کے سبھاش چوہان، اجیت ساونت اور سماجوادی پارٹی کے لیڈر ابو اعظمی کی شراکت داری میں جوہو میں زمین تقسیم کی گئی۔ پریہ دت کے نرگس ٹرسٹ کو اسپتال کے لیے اوشیوارا علاقے میں 10 ہزار مربع میٹر زمین دی گئی۔ سال 2007 کے دسمبر ماہ میں اس زمین کی رعایتی شرح پر قیمت 21 کروڑ روپے تھی، لیکن ٹرسٹ کی درخواست اور اپیل پر یہ قیمت گھٹا کر صرف 11 کروڑ روپے کر دی گئی۔ اس کے علاوہ نواب ملک کی بیگم اور بہن کی رکنیت والے رہبر فاؤنڈیشن کو سستی شرح پر مہاڈا کی زمین تقسیم کی گئی۔ مدھوکر چوہان کے رائے گڑھ ملٹری اسکول کو بھی سستی قیمت پر زمین دی گئی۔ جینت پاٹل کے گورے گاؤں ایجوکیشن سوسائٹی کو سارے قاعدے قانون طاق پر رکھ کر مہاڈا کی زمین فراہم کی گئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سرکار کی ذیلی کمیٹی کے نواب ملک اور جینت پاٹل رکن تھے تو چوہان مہاراشٹر ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے صدر تھے۔ مطلب یہ کہ آپسی تال میل سے ان لیڈروں نے مہاڈا کی زمین کا بٹوارہ کر لیا۔ یہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا نہیں تو اور کیا ہے؟
ایک دوسرے معاملے میں مدھیہ پردیش متر چیری ٹیبل ٹرسٹ کو بھی 6 ہزار 32 مربع میٹر زمین رعایتی شرح پر 40 لاکھ روپے میں گورے گاؤں علاقے میں دیے جانے کا ذکر رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ ٹرسٹ کو یہ زمین اسکول اور کھیل کے میدان کے لیے دی گئی تھی، لیکن اس نے اس زمین کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اس کا ایک حصہ پرائیویٹ کمپنی کو کاروباری استعمال کے لیے کرایے پر دے دیا ہے۔ اس سے متر چیری ٹیبل ٹرسٹ سالانہ ڈھائی کروڑ روپے کا منافع کما رہا ہے۔ اس سلسلے میں ممبئی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی جا چکی ہے ، جس پر عدالتی کارروائی کے لیے غور کیا جا رہا ہے۔ زمین کی تقسیم سے متعلق سرکاری پالیسی کے مطابق، ریئل اسٹیٹ ڈیولپر کو کوئی بھی سرکاری زمین تقسیم نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس کے باوجود مہاڈا کی ایک ہزار مربع میٹر زمین کا الاٹمنٹ بلیو اسٹار ریئلٹرس کو اندھیری علاقے میں کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی دِنشا ٹینپیکش بلڈر کو بھی ورسووا میں ایک ہزار مربع میٹر زمین دی گئی۔ اسی طرح سب سے زیادہ 4 ہیکٹیئر زمین ورسووا میں تھری ایم جم خانہ پرائیویٹ لمیٹڈ کو میگروو علاقہ سے ملحق دی گئی۔
جب ولاس راؤ دیش مکھ سے ان زمینوں کے بٹوارے کے سلسلے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں کچھ بھی یاد نہیں ہے، کیوں کہ یہ معاملہ کافی پرانا ہے اور وہ مہاڈا کے صدر سے کہیں گے کہ رپورٹ کی ایک کاپی انہیں بھجوا دیں۔ یہاں پر قابل ذکر ہے کہ جب فلم ساز سبھاش گھئی کے ادارہ کو زمین دیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا، تب بھی ولاس راؤ دیش مکھ نے یہی کہا تھا کہ یہ معاملہ بہت پرانا ہے اور اس کے بارے میں انہیں کچھ بھی یاد نہیں ہے۔ مگر بعد میں سپریم کورٹ نے ولاس راؤ دیش مکھ پر، سبھاش گھئی کے ادارہ کو زمین دیے جانے کے معاملے میں، اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنے کا قصوروار ٹھہرایا تھا۔ سشیل کمار شنڈے تو اپنی میٹھی مسکان بکھیر کر بازو بچا کر نکلنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھتے ہیں، جب کہ ان کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے مہاڈا کی زمین کے 15 ٹکڑوں کی تقسیم کی گئی تھی۔ لیکن وہ اس سلسلے میں کچھ بھی کہنے کو تیار نہیں ہیں۔
یہ ریاست کے عوام کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طرف مہاڈا زمین کی کمی کے باعث گھروں کی تعمیر نہیں کر پا رہا ہے، تو دوسری طرف مہاڈا کے ذریعے جو گھر تعمیر کرائے جاتے ہیں، ان کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ عام آدمی اس کو خرید نہیں سکتا۔ عام ممبئی کر گھر کا خواب آنکھوں میں سجائے بوڑھا ہو جاتا ہے اور اپنی پوری زندگی جھونپڑ پٹی یا فٹ پاتھ پر رہ کر گزارنے کو مجبور ہو جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد اب مہاڈا کے افسران کا کہنا ہے کہ مہاڈا کی جن زمینوں پر لیڈروں، ان کے اداروں یا دیگر لوگوں کا قبضہ ہے، ان کی اب ضرورت محسوس ہو رہی ہے، کیوں کہ مہاڈا کے ذریعے بنوائی گئی عمارتوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زمین کی کمی کو دیکھتے ہوئے اب لگتا ہے کہ مہاڈا کے مکانوں کے لیے نکالی گئی لاٹری کی یہ آخری قسط ہوگی، اسی لیے شہریوں کی مانگ کو دیکھتے ہوئے مذکورہ زمین مہاڈا کو واپس کی جانی چاہیے۔ مگر کیا لیڈروں کے قبضے میں گئی زمین کو واپس حاصل کرنا آسان ہے؟ نیتا، بلڈر یا کسی بااثر ادارہ کا اگر کسی سرکاری زمین پر قبضہ ہو جاتا ہے، تو وہ اسے آسانی سے نہیں چھوڑتا ہے۔ اس کے لیے وہ اوپر سے نیچے تک سارے سیاسی و قانونی داؤ پیچ لگا دیتا ہے۔ اسی لیے عدالتی کارروائی میں سالوں لگ جاتے ہیں۔ پھر یہ معاملہ تو حکومت کے تحت ہی کیا گیا ہے، لہٰذا وہ بھی اس میں اپنا فائدہ دیکھے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قانونی لڑائی لڑی گئی، تب بھی مذکورہ زمین کئی سال تک مہاڈا کو واپس نہیں ملنے والی ہے۔ تب تک ہزاروں شہریوں کو اپنے گھر کا خواب پورا ہونے کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *