مہاراشٹر میں کانگریس و این سی پی اتحاد کا چل چلائو

Share Article

شاہد نعیم
p-5bمہاراشٹر کو کانگریس کاناقابل تسخیر قلعہ کہا جاتا ہے۔ برسوں سے یہاں کی ریاستی اسمبلی میں کانگریس اور اس کی کوکھ سے نکلی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی مخلوط سرکارقائم ہے۔ پارلیمانی انتخابات سے قبل ریاستی سرکار کو گمان تھا کہ خواہ کتنے بھی نامساعد حالات ہوں، کتنی بھی تیز و تند مخالف ہوائیں چلیں، اس کا اور اس سے نکلی این سی پی کا مشترکہ قلعہ اتنا مضبوط ہے کہ کوئی بھی آندھی اور طوفان اس پر شگاف تک نہیں ڈالسکے گا، لیکن جب پارلیمانی انتخابات 2014 کے نتائج سامنے آئے، تو کانگریس کا یہ مضبوط قلعہبے جان ہوگیا، اس کے بڑے بڑے قد آور لیڈر یو پی اے مخالف لہر یا پھر مودی لہر میں غرقاب ہوگئے ۔غور تو کیجئے کہ مہاراشٹر کی 48پارلیمانی سیٹوں میں سے کانگریس 2اور این سی پی 4سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی۔ گویا مہاراشٹر میں یو پی اے محض 6سیٹوں پر سمٹ گیا اور باقی 42سیٹوں پر این ڈی اے (بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا) قابض ہوگیا۔
مہاراشٹر کی تاریخ پر نظر ڈالیں ، تو یہاں کانگریس کی بالا دستی ہمیشہ قائم رہی ہے۔ ماضی میں کانگریس نے یہاں عبدالرحمان انتولے جیسی بھاری بھرکم شخصیت کی شکل میں ایک مسلم وزیر اعلیٰ دینے کا شرف بھی حاصل کیا ہے۔ آزادی سے اب تک صرف دو بار اس ریاست کی کمان کانگریس کے ہاتھ سے نکلی ہے، ایک بار تو 18جولائی 1978سے 17فروری80تک پروگریسو ڈیموکریٹک فرنٹ یہاں کے اقتدار پر قابض رہااور سابق کانگریسی لیڈر اور موجودہ سپریمو شرد پوار 580دن یہاں کے وزیر اعلیٰ رہے۔ دوسری بار 1995-99 میں شیو سینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی اتحاد کی حکومت قائم ہوئی۔ اس حکومت میں 14مارچ 1995سے 31جنوری 1999تک شیو سینا کے منوہر جوشی اور یکم فروری سے 17اکتوبر 1999تک شیو سینا کے نارائن رانے وزیر اعلیٰ رہے۔ اس کے بعد15برس سے یعنی 18اکتوبر 1999سے آج تک مہاراشٹر میں کانگریس اور این سی پی کی ملی جلی سرکار قائم ہے۔ حالانکہ اس دوران وزیر اعلیٰ بدلے ہیں، لیکن تخت و تاج کانگریس کے قبضہ میں ہی رہا ہے۔ 18اکتوبر 1999سے 16جنوری 2003تک کانگریس کے ولاس راؤ دیشمکھ وزیر اعلیٰ رہے اور 18جنوری 2003سے 30اکتوبر 2004تک سشیل کمار شندے کو مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بننے کا شرف حاصل ہوا۔اگلے ٹرم میں ولاس راؤ دیشمکھ کو پھر سے مہاراشٹر کاوزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ اس کے بعد 8دسمبر 2008سے 9نومبر2010تک اشوک چوان وزیر اعلیٰ رہے۔11نومبر 2010کو مہاراشٹر کی قیادت پھر بدلی اور پرتھوی راج چوان کو چیف منسٹر بنایا گیا، جو آج تک مہاراشٹر کی گدّی سنبھالے ہوئے ہیں۔
حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا شیو سینا کے علاوہ آر ایس پی، آر پی آئی اور کسان سنگٹھن سے اتحاد رہا ، جس کے نتیجے میں این ڈی اے 42سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوا۔ اس میں بی جے پی کی 23، شیو سینا کی 18اور سوابھیمانی پکش کی 1سیٹ شامل ہے، جبکہ کانگریس کو2اور این سی پی کو 4سیٹ ملی ہیں۔ ووٹ فیصد کے لحاظ سے مہاراشٹر میں بی جے پی کو 27.3فیصد، شیو سینا کو20.6فیصد، کانگریس کو18.1فیصد، این سی پی کو 16فیصد، آزاد امیدوار کو 3.3فیصد، بی ایس پی کو 2.6فیصد، ایس ڈبلیو پی کو2.3فیصد، عام آدمی پارٹی کو 2.2فیصد اور ایم این ایس کو 1.5فیصد ووٹ ملے۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس الیکشن میں کانگریس کے دیورا ملندمرلی، پریہ دت اور سنجے نروپم جیسے قد آور لیڈر بھی اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ اسی طرح وادی نرمدا تحریک کی روح رواں میدھا پاٹیکرو دیگر بڑے بڑے سماجی کارکنان عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر اس ریاست میں ہار گئے، جہاں دہلی میں 49دن کی اروند کجریوال حکومت کے دوران بجلی سبسڈی دے کر قیمت کم کردینے کے فیصلے سے حکومت مہاراشٹر بھی متاثر ہو کر اسی طرح کا فیصلہ لینے پر مجبور ہو گئی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں عام آدمی پارٹی کچھ گل کھلائے گی۔
حالیہ لوک سبھا کے نتائج نے کانگریس کی نیند اڑادی ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ اپنے سیاسی وجود کو کس طرح بچائے۔ مرکز میں تو وہ اپوزیشن کا رول نبھانے لائق تک نہیں رہی ہے اور اب مہاراشٹر میںریاستی اسمبلی انتخابات ہونے کے دن قریب آگئے ہیں اورموجودہ صورتحال یہ ہے کہ پارلیمانی انتخاب میں اپنی حکومت ہوتے ہوئے بھی وہ حاشیہ پر آگئی ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاستی انتخابات کے پیش نظر ابھی سے اپنی بساط بچھانی شروع کردی ہے۔ اس نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے مہاراشٹر کے 6 ارکان پارلیمنٹ نتن گڈکری، گوپی ناتھ منڈے، راؤصاحب دانوے، اننت گنگا رام گیتے، پرکاش جاوڈیکر اور پیوش گوئل کو مرکزی وزارت کے قلمدان سپرد کر دیے ہیں، اس میںایک وزارت شیوسینا کے بھی سپرد کی گئی ہے۔ایسے نامساعد حالات میںکانگریس مہاراشٹر پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکے گی،یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔علاوہ ازیں اس حقیقت کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ شیو سینا جو کہ بی جے پی کی 23سیٹوں کے مقابلے میں 18سیٹیں لائی ہے، وہاں علاقائی سطح پر کافی اثر رکھتی ہے اور اب تو یہ بھی ریاست مہاراشٹر میں اقتدار پر اپنی نظر جمائے ہوئے ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں کانگریس اور این سی پی کو کسی طرح بھی مرکز کے بعد مہاراشٹر میں بے دخل کر دینا چاہتی ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب انتخابی نتائج سے قبل ٹیلی ویژن چینلوں پر ایگزٹ پولز کے سروے پر بحث چل رہی تھی، تب شیو سینا کے ایگزیکیوٹو اودھو ٹھاکرے جو کہ ان دنوں لندن میں تعطیل پر تھے، انھوں نے خوشی سے جھومتے ہوئے بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کو مبارکباد دی اور 7منٹ کی گفتگو میں مرکز کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر میں بھی مضبوط مشترکہ حکومت کا خواب دیکھا۔ تب مودی نے اودھو ٹھاکرے کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ’’ہم ساتھ ہیں۔‘‘ ظاہر سی بات ہے کہ ان دنوں ایگزٹ پولز سے شیو سینا قیادت کیحوصلہ افزائی ہوئی تھی او رپھر ایگزٹ پولز کے سروے کے مطابق نتائج نے اس کی قیادت کو مزید اعتماد عطاکیا تھا۔ اس میں دورائے نہیں کہ ریاست مہاراشٹر میں اودھو ٹھاکرے کی حکمت عملی اور نریندر مودی کی لہر نے اپنا جادو چلایا۔ کہا جاتا ہے کہ اس بار کے پارلیمانی انتخابات میں شیو سینا کے اودھو ٹھاکرے نے خصوصی حکمت عملی بنائی تھی۔ شیو سینا نے کل 20پارلیمانی حلقوں میں انتخابات لڑے اور وہاں اسمبلی حلقہ کے اعتبار سے الگ الگ آبزرورس مقرر کیے۔سب سے خاص بات یہ تھی کہ یہ سب کے سب آبزرورس مقامی حلقے کے ہی افراد تھے۔ ایسا اس لیے کیا گیا تھا کہ اس سے متعلقہ اسمبلی حلقہ کا انچارج شیو سینا کے ضلعی یونٹ سربراہ کے رابطہ میں رہے اور پھر پارلیمانی انتخاب میں اپنے امیدوار کی جیت کو یقینی بنائے۔ شیو سیناکو آج ریاست میں جو بھی مقام حاصل ہے،اس کا سہرا سیدھے آنجہانی بالا صاحب ٹھاکرے کو جاتا ہے، جن کے بعد اودھو ٹھاکرے نے ان کی وراثت سنبھالی۔
غور طلب بات یہ ہے کہ شیو سینا اور بی جے پی نے ریاست میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اپنی انتخابی سرگرمیاں شروع کر بھی دی ہیں۔ دونوں کے درمیان سیٹوں کا بٹوارہ بھی ہو چکا ہے، جس کے مطابق شیو سینا اس ریاست میں 171اور بی جے پی 117سیٹوں پر انتخابات لڑے گی۔ اودھو کو اپنی تیاری کے سبب یقین ہے کہ وہ 80سیٹوں پرفتح کا پرچم لہرا سکتے ہیں۔ دراصل لوک سبھا انتخابات لڑتے وقت اسمبلی انتخابات کی تیاری کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شیو سینا اپنی تیاری کو اب حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست مہاراشٹر میں کانگریس اور این سی پی کا اب چل چلاؤکا وقت آگیا ہے اور شیو سینا و بی جے پی کی آمد آمد ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *