maharashtra-journalist

ممبئی میں ایک صحافی کے قتل کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے، جس سے انتظامی عملے میں کہرام مچ گیا ہے۔
معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ڈائریکٹ میل میگزین ’انڈیا آن باؤبڈ‘ کے گروپ ایڈیٹر نتیا نند پانڈے کی ممبئی سے متصل تھانے ضلع کے بھیونڈی میں لاش برآمد ہوئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ نتیانند پانڈے 15 مارچ سے لاپتہ تھے۔ اہل خانہ نے کشمیرا پولیس اسٹیشن میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی، ایسے میں پولیس کی طریقہ کار بھی سوالوں کے گھیرے میں ہیں کہ آخر پولیس نے وقت رہتے نتیانند کو ڈھونڈنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟


تھانے پولیس کے رابطہ عامہ افسر یوراج کالکوتاگے کے مطابق نتیانند پانڈے کی لاش بھیونڈی تعلقہ کے کھارباؤ گاؤں میں برآمد کی گئی ہے۔ ان کے سر پر چوٹ کے نشانات ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔ حالانکہ ابھی تک پولیس نے نتیانند پانڈے کے قتل کی وجوہات کا انکشاف کیا ہے اور نہ ہی اس معاملے کسی کی گرفتاری ہوئی ہے۔
غور طلب ہے مہاراشٹر میں صحافیوں کے قتل کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے۔ مہاراشٹر میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملے کے مدنظرریاستی حکومت نے صحافی سیکورٹی ایکٹ قانون بھی بنایا ہے، لیکن صحافیوں پر حملے تو چھوڑیے ان کے قتل کے معاملے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعدادو شمار کے مطابق،2015-2017 کے درمیان بھارت میں 142 صحافیوں پر حملے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے 1992 سے 2017 کے درمیان بھارت میں 28 صحافیوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ 2017 میں نہ صرف 11 صحافی مارے گئے، بلکہ 46 پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، 12 کو دھمکی دی گئی اور 27 پولیس کارروائی کا سامنا کر رہے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here