ٹوٹ جائے گا بہار میں مہاگٹھ بندھن! اکیلے الیکشن لڑے گی کانگریس، خود راہل کر سکتے ہیں اعلان

Share Article

mahagathbandhan-in-bihar

دہلی: بہار میں لوک سبھا انتخابات سے پہلے کانگریس مہاگٹھ بندھن کو بڑا جھٹکا دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ آج کانگریس بہار میں الگ ہونے کا اعلان کر سکتی ہے۔ اس وقت کانگریس صدر راہل گاندھی کے گھر کانگریسی لیڈروں کی میٹنگ چل رہی ہے، جس کے بعد اس بات کا اعلان ہو سکتا ہے کہ بہار میں کانگریس اکیلے الیکشن لڑے گی۔

بہار میں سیٹوں کی تقسیم پر آر جے ڈی۔کانگریس کے درمیان بات نہیں بن پائی ہے۔ کانگریس لیڈروں نے صاف کر دیا ہے کہ بہار میں مسلسل آر جے ڈی، کانگریس کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ان کے پاس کئی بڑے امیدوار ہیں جو جیتنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ آرجے ڈی نے ایک پلاننگ کے تحت ان کی کئی بڑی نشستیں چھین کر دوسری پارٹیوں کو دے دیا ہے، جبکہ وہاں گزشتہ الیکشن میں کانگریس دوسرے نمبر تھی اور وہاں کانگریس کی بڑی عوامی حمایت بھی ہے۔

کانگریس کا مطالبہ ہے کہ ان 11 سیٹوں میں دربھنگہ، کٹیہار، پورنیہ، مدھوبنی اور شیوہر بھی دیا جائے، لیکن آر جے ڈی نہیں مانی اور انہیں کئی سیٹ پر پھنسا کر رکھا گیا۔

اب بہار کی جو سیاسی صورتحال ہے اس کے حساب سے مہاگٹھ بندھن کا بہار میں ٹوٹنا طے ہے۔ دہلی میں مسلسل میٹنگ کا دور چل رہا ہے، لیکن کانگریس اور آر جے ڈی دونوں خیمہ اپنے اپنے حساب سے چالیس سیٹوں پر لڑنے کی تیاری کرنے میں لگ گیا ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ آر جے ڈی چاہتی ہے کہ کانگریس آٹھ سیٹوں پر لڑے اور اپنے کوٹے کی تین سیٹ ہندوستانی عوام مورچہ کو دے، جبکہ کانگریس گیارہ سیٹ پر لڑنا چاہتی ہے، اس کے پاس ان سیٹوں کے لئے قدآور دعویدار بھی ہیں۔ آر جے ڈی کا کہنا ہے کہ کانگریس قومی پارٹی ہے اور بہار میں اس کے ساتھیوں کو زیادہ سیٹ پر لڑانا چاہئے، اس دلیل کے ساتھ آر جے ڈی اکیس سیٹ چاہ رہی ہے۔ آر جے ڈی کا فارمولا خود 21، کانگریس 8، کشواہا 5، ہم 3 اور باقی بچی تین سیٹ وی آئی پی اور لیفٹ کو دینے کی ہے۔

آر جے ڈی اور کانگریس میں جن سیٹوں کو لے کر تنازع ہے ان میں دربھنگہ کی سیٹ اہم ہے۔ دربھنگہ پر آر جے ڈی عبدالباری صدیقی کو لڑانا چاہتی ہے، جبکہ کانگریس کیرتی آزاد کو اتارنا چاہتی ہے۔ مدھوبنی میں کانگریس شکیل احمد کو تو آر جے ڈی اس سیٹ پر وی آئی پی پارٹی کو لڑانا چاہتی ہے۔

اسی طرح کشواہا موتیہاری میں مادھو آنند کو چاہتے ہیں تو کانگریس اکھلیش سنگھ کی بیوی کو انتخابی میدان میں اتارنا چاہتی ہے۔ والمیکی نگر میں کانگریس پورن ماسی رام کو لڑانا چاہتا ہے، جبکہ کشواہا اپنے رشتہ دار کو۔ کٹیہار اور کشن گنج سیٹ میں سے کوئی ایک بھی آر جے ڈی چاہتی ہے، جبکہ دونوں کانگریس کی سیٹنگ ہے اور یہی وجہ ہے کہ مہاگٹھ بندھن ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ اصل میں یہ جتنے بھی لوگ یا سیٹ ہیں وہ ووٹ بینک کو متاثر کرتے ہیں۔

کیرتی آزاد کے ذریعے کانگریس میتھلی برہمن کو جوڑنا چاہ رہی ہے، یہ کانگریس کا روایتی ووٹر رہا ہے۔ ریاستی صدر مدن موہن جھا بھی اسی ذات کے ہیں ، کٹیہار، کشن گنج، دربھنگہ اور مدھوبنی میں مسلم اچھی تعداد میں ہیں۔ آر جے ڈی یہ پیغام نہیں دینا چاہ رہی کہ مسلم کانگریس کی طرف مڑے، جبکہ کانگریس کی کوشش مسلم اور اعلیٰ ذات کے ذریعے بہار میں واپسی کی ہے۔

اب اتحاد ٹوٹ جاتا ہے تو کانگریس بیس سیٹوں پر لڑ سکتی ہے، اس صورت حال میں کشواہا کو آر جے ڈی کے ساتھ رہنے پر مجبور ہونا پڑے گا، جبکہ مانجھی کے پاس کوئی مجبوری نہیں ہے، وہ کسی طرف گھس سکتے ہیں۔ لیفٹ کانگریس کے ساتھ جا سکتی ہے، پپو یادو بھی ساتھ ہوں گے۔

ذرائع کی مانیں تو کانگریس نے بہار میں جو گیارہ سیٹ نشان زد کی ہے اس میں کشن گنج سے زاہد الرحمن، کٹیہار سے طارق انور، سپول رنجیت رنجن، اورنگ آباد نکھل سنگھ، پورنیہ اودے سنگھ، شیوہر لولی آنند، دربھنگہ کیرتی آزاد، مدھوبنی شکیل احمد، والمیکی نگر پورن ماسی رام، سہسرام میرا کمار، سمستی پور اشوک رام شامل ہیں۔ آر جے ڈی نے جھارکھنڈ میں بھی اتحاد کی ہوا نکال دی ہے۔ آر جے ڈی پلامو اور چترا پر لڑنے جا رہی ہے، چاہے اتحاد ہو یا نہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *