سنتوش بھارتیہ
پارلیمانی نظام کی جیسی شکل ہمارے ملک میں ہے، اس کا استعمال ہوشیار لوگ اپنے حق میں جس طرح کرتے ہیں، وہ مطالعہ کے قابل ہے۔ کلاسیکی انداز سے دیکھیں، تو پارلیمانی نظام کا استعمال عوام کے دکھ درد کے ازالہ کے لیے ہونا چاہیے اور ملک میں پھیلے ہوئے کسی بھی طرح کے مسئلے کا حل پارلیمنٹ سے نکلنا چاہیے، لیکن ہماری پارلیمنٹ اس صورتحال سے میلوں دور ہے۔
پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن کو اہم مقام حاصل ہے۔ حالانکہ سچی جمہوریت میں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ عوامی نمائندے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں اور ملک کے ادارے ہونے چاہئیں۔ دوسرے الفاظ میں سچی جمہوریت میں پارلیمنٹ میں بیٹھے سبھی لوگ اقتدار میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی۔ وہاں فیصلہ ایشوز کی بنیاد پر ہونا چاہیے، لیکن ہمارے ملک میں تو اپوزیشن ہے اور اپوزیشن بھی پارلیمانی جمہوریت کا بھر پور مذاق اڑا رہی ہے۔
تقابلی انداز میں دیکھیں، تو پارلیمانی جمہوریت کا استعمال اپنے حق میں کرنے کی قابلیت کانگریس میں زیادہ ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ پارلیمانی جمہوریت کا استعمال پارٹی کے حق میں کیا ہے اور عوام کے مسائل کو بالکل پرے رکھ دیا ہے۔ گزشتہ دس سال اس بات کے گواہ ہیں کہ خواہ جتنی مہنگائی بڑھی ہو، جتنی بے روزگاری بڑھی ہو، عوام کا غصہ سڑک پر پھوٹنے نہیں دیا۔ اگر مہنگائی کے سوا ل کو دیکھیں، تو وزیر اعظم بے شرمی سے کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی جادوئی کی چھڑی نہیں ہے اور پیسہ پیڑ پر نہیں اگتا۔ مہنگائی آزادی کے بعد کے سبھی ریکارڈ توڑ چکی اور اب درد اتنا بڑھ چکا ہے کہ خود ہی دوا ہوگیا ہے۔ کوئی بھی مہنگائی کو لے کر حکومت پر الزام نہیں لگا رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں تو مہنگائی کا ذکر صرف حوالے کے طور پر ہوتا ہے۔ بے روزگاری پر بے حیائی سے جھوٹ بولا جارہا ہے۔ کانگریس یا حکومت کہیں پر بھی بے روزگاری کا حل ڈھونڈتی نظر نہیں آتی۔ حکومت خود ہی نوکریاں ختم کر رہی ہے، لیکن احساس یہی کرارہی ہے کہ وہ نوکریاں بڑھا رہی ہے۔ اور بدعنوانی کا تو کہنا ہی کیا! مہینے کے حساب سے نہیں، ہفتوں کے حساب سے گھوٹالے سامنے آرہے ہیں اور گھوٹالے بھی کروڑوں کے نہیں، لاکھوں کروڑ کے گھوٹالے سامنے آرہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں اس پر کوئی تذکرہ نہیں ہورہا ہے اور نہ ہی بدعنوانی کی انتہا کو پہنچے گھوٹالوں کو لے کر کوئی بائیکاٹ کر رہا ہے۔ جس وزیراعظم کی مدت کار میں سب سے زیادہ گھوٹالے سامنے آئے ہوں، وہ وزیر اعظم ایماندار مانا جارہا ہے۔ جس وزیر اعظم کے اوپر سی بی آئی اور سپریم کورٹ تک نے انگلی اٹھائی ہو، اس وزیر اعظم کو لے کر پارلیمنٹ خاموش ہے، اس کا سارا کریڈٹ کانگریس کو ہی جاتا ہے۔
کانگریس کو اس بات کا بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ اس کی قیادت میں چلنے والی حکومت کے پلاننگ کمیشن نے نہایت بدتمیزی کے ساتھ شہروں میں 32 اور گاؤوں میں 27 روپے کی آمدنی کو زندگی جینے کے لائق مانا ہے اور اس کے دو ترجمان 12 روپے اور 5 روپے میں دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں بھر پیٹ کھانا ملنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن ہماری پارلیمنٹ میں اسے لے کر کوئی ہلچل نہیں ہوتی۔ کانگریس نے عوام کو ملے ایک واحد ہتھیار ’حق اطلاع‘ یا آر ٹی آئی کو اپنے حساب سے موڑ لیا۔ حکومت مجرموں کو پارلیمنٹ کا راستہ دکھانے پر آمادہ ہے۔ کسانوں کے مفادات کو بلڈروں کے ہاتھوں بیچ دیا گیا، لیکن پارلیمنٹ میں کوئی ہلچل نہیں ہے۔
پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے نام پر بھارتیہ جنتا پارٹی سے شروع ہو کر ایک رکن پارلیمنٹ کی ممبر شپ رکھنے والی پارٹی تک تقریباً 20 پارٹیاں ہیں، مگر سب ارکان پارلیمنٹ خاموش ہیں۔ زیادہ تر پارٹیاں ریاستوں میں کہیں کہیں حکومت کی قیادت کر رہی ہیں یا حکومت میں شامل ہیں۔ جو یہاں کانگریس کر رہی ہے، یہ پارٹیاں ریاستوں میں کر رہی ہیں۔ اس لیے پارلیمنٹ میں وہ جان بوجھ کر آواز نہیں اٹھا رہی ہیں۔ ایک لائن کا تجزیہ ہے کہ یہ ساری پارٹیاں پارلیمانی نظام کا استعمال صرف عوام کو دھوکہ دینے اور انھیں ورغلانے کے لیے کرتی ہیں۔ بدعنوانی، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ان میں ’بقائے باہمی‘ کے اصول پر سمجھوتہ ہو چکا ہے۔ اس سمجھوتے نے ملک کے عوام کو مایوسی کے جنگل میں بھٹکنے پر مجبور کردیا ہے۔ مایوسی کا یہ جنگل کئی راستے دکھا رہا ہے۔ ملک کی سبھی سرحدی ریاستیں مایوسی کے اس تہوار میں نکسلیوں کو ابھرنے اور پھیلنے کا من چاہا میدان فراہم کرا رہی ہیں۔ ملک کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ نکسلیوں کے حلقۂ اثر میں ہے۔ اس حصے میں نہ سڑک ہے، نہ روزگار ہے، نہ روٹی ہے اور نہ ہی عزت ہے۔ جن سڑکوں کا پیسہ حکومت سے جڑے لوگوں نے ہڑپ لیا، آج ان جگہوں پر جانے میں نیم فوجی دستے گھبراتے ہیں۔ بھولے بھٹکے جب کہیں یہ نیم فوجی دستے ان علاقوں میں جاتے ہیں اور جب ان کے اوپر نکسلیوں کے حملے ہوتے ہیں، توان حملوں کی خبر بھی کئی دنوں بعد لوگوں تک پہنچ پاتی ہے۔ ملک کے ایک تہائی حصے سے زیادہ عوام بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کے مسائل کی وجہ سے نکسلیوں کی خاموش حمایت کر رہے ہیں۔
اس کا سیدھا مطلب ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کا استعمال ساری سیاسی پارٹیاں عوام کے خلاف اس حد تک کر رہی ہیں کہ انھوں نے متبادل کے طور پرجان بوجھ کر نکسل ازم کو سامنے کھڑا کردیا ہے اور ان کی اس بیوقوفی کا فائدہ نکسلی اصولی طور پر اٹھا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پارلیمانی جمہوریت کبھی بھی غریب کے ساتھ نہیں کھڑی ہوسکتی۔ ان سب میں گاندھی غائب ہوچکے ہیں، کیونکہ گاندھی کا نام لینے والے خود گاندھی میں یقین نہیں کرتے۔ اس لیے انھوں نے گاندھی کے خیالات کا مقام پبلک مقامات پر لگی ہوئی مورتیوں میں مان لیا ہے۔
اب یہیں بیچ میں بھٹکتے ہوئے انّا ہزارے آجاتے ہیں۔ انّا ہزارے نے اعلان کیا ہے کہ وہ دوسری آزادی کی لڑائی لڑیں گے۔ دوسری آزادی کی لڑائی کا مطلب پارلیمنٹ سے ساری سیاسی پارٹیوں کو نکال پھینکیں گے۔ انّا ہزارے جہاں ایک طرف پارلیمانی جمہوریت کو سیاسی جماعتوں کی آلودگی سے آزاد کرنا چاہتے ہیں، وہیں وہ صاف لفظوں میں یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر عوام کو اعتماد میں لے کر ترقی کا کام شروع نہیں ہوا، تو یہ ملک نکسلیوں کے اصول کو سنجیدگی سے اپنا لے گا۔
جس طرح ہماری پارلیمانی جمہوریت نے ہندوستان کے ہر طبقے کے لوگوں کو تکلیف دی ہے، مایوسی دی ہے، جس کے نتیجے میں ابھرنے والا غصہ تشدد کے رد عمل کو جنم دے سکتا تھا، لیکن انّا ہزارے کی وجہ سے ابھی بھی لوگوں کا عقیدہ عدم تشدد میں ہے اور شاید اسی لیے سیاسی جماعتوں کے لوگ اور بدعنوان سرکاری افسر تشدد کا شکار نہیں ہو رہے ہیں۔ وہ چل پھر رہے ہیں اور ریسٹورنٹ میں کھانا کھارہے ہیں اور سنیما بھی دیکھ رہے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں انّا کو ناکام ثابت کرنا چاہتی ہیں، لیکن نکسلی انّا کی تحریک میں ایک بڑا امکان دیکھ رہے ہیں۔ انھیںکلی طور پر یقین ہے کہ سیاسی جماعتیں انّا کو ناکام کریں گی ہی، جس سے بڑے پیمانے پر مایوسی پھیلے گی اور اس وقت عوام ان کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے۔
پارلیمانی جمہوریت کو آلودہ کرنے اور اس کا استعمال کر نے میں، جہاں کانگریس کو مہارت حاصل ہے، وہیں پارلیمنٹ میں بیٹھی سیاسی جماعتوں کو اپنے رنگ میں رنگ لینا کانگریس کی سب سے بڑی حصولیابی ہے، اس لیے غیر متنازعہ طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کا اپنے حق میں استعمال کرنا اور پارلیمانی جمہوریت کو عوام کے تعلق سے غیر متعلق کردینا اس ملک میں ایک نئے مہابھارت کا رول تیار کر رہا ہے، جس میں ایک طرف کانگریس کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت پارلیمنٹ میں موجود سبھی پارٹیاں ہوں گی اور دوسری طرف انّا ہزارے کی قیادت میں ہندوستان کے عوام اور عوام کے مفادات کے لیے لڑنے والے نکسلیوں سمیت تمام تنظیمیں ہوں گی۔ ایسے میں مہابھارت کے آثار صاف نظر آرہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here