مدھیہ پردیش غذائی سپلائی میں ہورہی ہے بدعنوانی

Share Article

پچھلے تقریباً دو برس سے مدھیہ پردیش میں آنگن باڑی کے سینٹروں سے ملنے والے کمپلی منٹری غذائی خوراک کو لے کرتذبذب کی صورت حال بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے غذائی اشیاء کی تقسیم کا نظام متأثر رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں اس کیتقریباً 95 لاکھ مستفدین ہیں جن میں بچے، نوجوان اور حاملہ عورتیں شامل ہیں۔ اس دوران ریاست کے کئی اضلاع میں ٹیک ہوم راشن کا اسٹاک ختم ہونے ، مہینوں تک آنگن باڑیوں میں غذائی اشیاء نہیں پہنچنے کے معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ فوڈ سیکورٹی قانون لاگو ہونے کے بعد سے اب یہ ایک قانونی حق ہے، جس کی وجہ سے آنگن باڑی سینٹروں سے بچوں اور عورتوں کو ملنے والی غذائی اشیاء کو کسی بھی حالت میں روکا نہیں جاسکتاہے۔
دراصل مدھیہ پردیش میں آنگن باڑیوں کے ذریعہ قلت غذائی کے شکار بچوں اور حاملہ عورتوں کو دی جانے والی غذا کے نظام کو لے کر لمبے وقت سے سوال اٹھتے رہے ہیں۔ تقریباً 1200 کروڑ روپے بجٹ والے اس نظام پرتین کمپنیوں ایم پی ایگری نیوٹی فوڈ پرائیویٹ لمیٹیڈ، ایم پی اگروٹانکس لمیٹیڈ اور ایم پی ایگرو فوڈ انڈسٹریز کا قبضہ رہا ہے جبکہ 2004 میں ہی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ آنگن باڑیوں میں غذائی اشیاء لوکل سیلف ہیلف گروپس کے ذریعہ ہی تقسیم کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ اس نظام کو لاگو کرنے کی ذمہ داری چیف سکریٹری اور کوالٹی پرنگرانی کی ذمہ داری گرام سبھائوں کو دی گئی تھی۔ لیکن کمپنیوں کو فائدہ پہچانے کے پھیر میں اس نظام کو لاگو نہیں کیا گیا۔

 

 

 

 

بدعنوانی پر کیگ کی رائے
اس دوران کیگ کے ذریعہ بھی مدھیہ پردیش میں غذائی اشیاء کے نظام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی بات لگاتار اجاگر کی جاتی رہی ہے جس میں 32فیصد بچوں تک غذائی اشیا ء نہ پہنچنے، آنگن باڑی سینٹروں میں بری تعداد میں درج بچوں کے فرضی ہونے اور غذائی اشیاء کی کوالٹی خراب ہونے جیسی سنگین کمیوں کی طرف دھیان دلایا جاتا رہاہے لیکن سرکار کے ذریعہ ہر بار اس پر دھیان نہیں دیا گیا۔
اسی پس منظر میں وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کے ذریعہ 6 ستمبر 2016 کو ریاست میں غذائی اشیاء کا کام کمپنیوں کے بجائے سیلف ہیلپ گروپس کو دیئے جانے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کے ذریعہ 15 دنوں کے اندر نئے نظام تیار کرنے کی بات کہی گئی تھی لیکن ان سب کے باوجود ٹھیکہ لینے والی کمپنیوں ،افسروںاور لیڈروں کی سانٹھ گانٹھ نے نیا راستہ نکال ہی لیا اور پھر تیاری کے نام پر غذائی اشیاء کے پرانے سینٹرلائزڈ سسٹم کو ہی 31دسمبر 2016 تک لاگو رکھنے کا فیصلہ لے لیا گیا جس کے بعد یکم جنوری 2017 سے انٹریم ڈی سینٹرلائزڈ ارینج منٹ لاگو کرنے کا وقت طے کیاگیا۔
لیکن اس دوران غذائی اشیاء کا کام ہیلپ گروپس کو دیئے جانے کے فیصلے کو چیلنج دیتے ہوئے اندور ہائی کورٹ میں ایک عرضی لگائی گئی جس کے بعد غذائی اشیاء سپلائی کرنے والے اداروں کو اسٹے مل گیا۔ کمپنیوں کی پالیسی اس پورے معاملے کو قانونیطور سے الجھائے رکھنے کی رہی جس سے غذائی اشیاء سپلائی کرنے کا کام ان کے ہاتھوں میں بنارہ سکے اور یہ اس میں کامیاب بھی رہیں۔ اس دوران غذائی اشیاء کے پرانے نظام کو بنائے رکھنے میںسرکار کا بھی تعاون انہیں ملتارہا۔ غذائی شیاء کے پرانے نظام کو منسوخ کرکے سرکار کو نئے نظام کی سرگرمی شروع کرنے کو لے کر ستمبر 2017 میں ہائی کورٹ کے ذریعہ حکم بھی دیئے گئے تھے جس کی تعمیل نہیں کی جانے پرکورٹ کے ذریعہ ویمن اینڈ چائلد ڈیولپمنٹ کے چیف سکریٹری ، ایم پی ایگرو کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا جاچکا ہے ۔ اس سال 9مارچ کو اس معاملے کی سنوائی کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی ڈیویژن بینچ نے اس پورے معاملے میں مدھیہ پردیش کے کردار پر تلخ ریمارکس کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکم کے باجود پرائیویٹ کمپنیوں سے غذائی اشیاء لینا یہ ثابت کرتاہے کہ سرکار انہیں فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔
سرکار کا موقف
بہر حال موجودہ صورت حال یہ ہے کہ گزشتہ 25 اپریل کو سنوائی کے دوران ریاستی سرکار کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ شارٹ ٹرم ٹینڈر کے تحت7 کمپنیوں کو غذائی اشیاء سپلائی کا کام دے دیاگیا ہے جو اگلے پانچ مہینوںتک یہ کام کریں گی۔ اس دوران غذائی اشیاء کا نیا نظام لاگو ہونے تک تقسیم جاری رکھنے کے لئے بلائے گئے شارٹ ٹرم ٹینڈر بھی سوالوں کے گھیرے میں آچکا ہے۔ اس کو لے کر مہاراشٹر کی بینک ٹیشور کوآپریٹیو انسٹی ٹیوٹ آف ویمن نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی ہے جسے سپریم کورٹ نے منظور کرتے ہوئے مدھیہ پردیش سرکار کو نوٹس جاری کیا ہے اور موجودہ حیثیت کو بنائے رکھنے کو کہا ہے۔
مدھیہ پردیش کے لئے غذائی اشیا ء ایک ایسا داغ ہے جو پانی کی طرح پیسہ بہا دینے کے بعد بھی نہیں دھلا ہے۔ پچھلے 15-10 سالوں سے مدھیہ پردیش میں غذائی اشیاء کی خوفناک حالت لگاتار سرخیوں میں رہی ہے۔ اس کو لے کر اپوزیشن ریاستی سرکارپر لاپرواہی اور بدعنوانی کا الزام لگا کر گھیرے میں لیتارہا ہے۔
2005-06 میں جاری تیسرے نیشنل ہیلتھ فیملی سروے میں مدھیہ پردیش 60 فیصد بچے کم وزن کے پائے گئے تھے اور اب ایسا نیشنل ہیلتھ فیملی سروے 4 ( این ایف ایچ ایم 2015-16) کے مطابق ،یہاں ابھی بھی 42.8 فیصد غذا ئیت سے محروم ہیں۔سالانہ ہیلتھ سروے 2016 کے مطابق بچوں کی شرح اموات (آئی ایم آر ) کے معاملے میں مدھیہ پردیش سرفہرست ہے۔جہاں 1000 نوزائیدہ میں سے 47 اپنا پہلا جنم دن نہیں منا پاتے ہیں۔

 

 

 

 

 

اصلاحات کی رفتار پرنیشنل ہیلتھ فیملی سروے

انڈیکس 2005-06 2015-16
این ایف ایچ ایس 3 این ایف ایچ ایس 4
کم وزن کے بچے
60
42.8
انتہائی کم غذائیت کے بچے
12.6
9.2
ناٹے بچے
50
42
بچوں میں خون کی کمی
74.1
68.9
عورتوں میں خون کی کمی
56
52.5

ظاہر ہے کہ تمام اسکیموں ، پروگراموں اور بجٹ کے باوجود بدلائو کی رفتار سست ہے۔بی جے پی کے بزرگ لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ بابو لال گور بھی مانتے ہیں کہ سرکار قلت غذائی کو مٹانے کے لئے دھیرے دھیرے کام کر رہی ہے ،ساتھ ہی انہوں نے غذائی اشیاء کے لئے دی جانے والی رقم کو لے کر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ 8روپے میں چائے نہیں آتی، دودھ اور دلیا کہاںسے آئے گا۔ یہ رقم کافی کم ہے، اسے بڑھا کر کم سے کم 20 روپے فی بچہ یومیہ کے حساب سے مقرر کیاجائے ۔
گزشتہ 26 جون کو اسمبلی کے مانسون سیشن میں بابو لال گور کے ذریعہ پوچھے گئے سوال پر ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کے وزیر ارچنا چِٹ نیس نے بتایا ہے کہ مدھیہ پردیش میں انتہائی کم وزن والے بچوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور ریاست میں قلت غذائی سمیت دیگر بیماریوں سے اوسطاً 61 بچے ہر روز موت کے شکار ہو رہے ہیں۔
ستمبر 2016میںقلت غذائی کی صورت حال پر مدھیہ پردیش سرکار نے وہائٹ پیپر لانے کا جو اعلان کیا تھا، اس کا بھی کچھ پتہ نہیں ہے۔ اس کے لئے کمیٹی کی تشکیل کی جاچکی ہے لیکن اس کی ابھی تک ایک بھی میٹنگ نہیں ہو پائی ہے۔
تمام کوششوں کے باوجود مدھیہ پردیش آج بھی بچوں کی اموات کی شرح میں پہلے اور قلت غذائی میں دوسرے نمبر پر بنا ہوا ہے جو کہ سرکار کی لاپرواہی ، نا اہلیت اور یہاں جڑ جمائے بدعنوانی کی حالت کو ظاہر کرتاہے۔ ظاہر ہے میں بدعنوانی کا بڑا کھیل ہے جس کا ذکر عدالت کے ذریعہ اپنی سنوائی اور کیگ کی رپورٹوں میں لگاتار کیا جاتا رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *