اروند ورما
اس سال جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، ان میں گجرات کی طرح بی جے پی کا ایک اور ماڈل صوبہ، مدھیہ پردیش بھی ہے۔ یہاں کانگریس ان انتخابات کے دوران بی جے پی کی شیو راج حکومت کو جیت کی ہیٹرک بنانے سے روکنا تو چاہتی ہے، لیکن جن دلت، آدیواسیوں، پچھڑوں اور مسلمانوں کے مجموعی ووٹوں کو حاصل کرنے کی امید لے کر کانگریس اپنے اس ارادے میں کامیاب ہونا چاہتی ہے، وہ اس سے دور ہے۔ ان طبقوں کے درمیان بی جے پی پہلے ہی جم کر سیندھ ماری کر چکی ہے۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن اور اس کے بعد ہوئے تمام ضمنی انتخابات کے نتائج سے یہ ثابت ہو چکا ہے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی اصلی طاقت کہلانے والے دلتوں اور آدیواسیوں کے بڑے طبقے کو تو بی جے پی بہت پہلے ہی اپنی جانب کھینچ چکی ہے۔ مسلم ووٹوں کی اکثریت والے مہیشور، ککشی، سون کچھ اور جابیرا جیسے اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں بھی کانگریس امیدوار کے مقابلے بی جے پی کے امیدوار جیت درج کرا چکے ہیں۔ اتنا سب ہوتے ہوئے، خاص کر ایسے وقت میں، جب کہ صوبائی اسمبلی الیکشن ہی نہیں، اس کے ٹھیک بعد آئندہ لوک سبھا کے اہم انتخابات بھی سر پر ہیں، کانگریس اس صورتِ حال کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے، کیوں کہ دلتوں، آدیواسیوں، پچھڑوں اور اس کے بعد اب صوبے میں مسلمانوں کے لیے بھی کانگریس کی طرف سے کوئی ٹھوس پہل نہیں کی جا رہی ہے۔

 اُلٹا پتہ یہ چلا کہ ودیشا علاقائی کانفرنس کے دوران اسلم شیر خان کی پارٹی کے تئیں وفاداری پر سوالیہ نشان لگاتی ہوئی تقریباً 70 صفحات کی کتاب نما شکایت ان کے مخالفین کے ذریعے پیش کی گئی۔ کانگریس کی ودیشا کانفرنس میں پارٹی کے ایک واحد مسلم ایم پی عارف عقیل سمیت کئی دیگر ممبرانِ اسمبلی کی اسٹیج پر موجودگی تو رہی، لیکن صوبائی کانگریس کمیٹی کے اراکین کی پندرہ دنوں تک چلنے والی تیاریوں اور دو لاکھ کانگریسی کارکنوں اور حامیوں کو اس دوران جمع کرنے کا ان کا دعویٰ 10 ہزار کی عدد سے بھی بہت نیچے رہ کر ہی سمٹ گیا۔

17 فروری کو صوبائی انچارج بی کے ہری پرساد سمیت کانگریس پارٹی کے کئی اہم لیڈروں کے ذریعے ودیشا ضلع میں پارٹی کی علاقائی کانفرنس میں بی جے پی کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکنے کا دم بھرا جا رہا تھا۔ اسی دوران راجدھانی بھوپال کے اقبال میدان میں سابق مرکزی وزیر اور اولمپین ہاکی کھلاڑی رہے کانگریسی لیڈر اسلم شیر خان کی قیادت میں اقلیتوں، دلتوں اور پچھڑے طبقہ کے کوئی تین ہزار سے بھی زیادہ نمائندوں کی موجودگی میں ’کانگریس کے کارکنوں جاگو – کانگریس بچاؤ‘ ریلی چل رہی تھی، لیکن کانگریس کی طرف سے اسے کوئی توجہ تک نہیں ملی۔ اُلٹا پتہ یہ چلا کہ ودیشا علاقائی کانفرنس کے دوران اسلم شیر خان کی پارٹی کے تئیں وفاداری پر سوالیہ نشان لگاتی ہوئی تقریباً 70 صفحات کی کتاب نما شکایت ان کے مخالفین کے ذریعے پیش کی گئی۔ کانگریس کی ودیشا کانفرنس میں پارٹی کے ایک واحد مسلم ایم پی عارف عقیل سمیت کئی دیگر ممبرانِ اسمبلی کی اسٹیج پر موجودگی تو رہی، لیکن صوبائی کانگریس کمیٹی کے اراکین کی پندرہ دنوں تک چلنے والی تیاریوں اور دو لاکھ کانگریسی کارکنوں اور حامیوں کو اس دوران جمع کرنے کا ان کا دعویٰ 10 ہزار کی عدد سے بھی بہت نیچے رہ کر ہی سمٹ گیا۔
اُدھر، اسلم شیر خان کے اقبال میدان، بھوپال میں ودیشا علاقائی کانفرنس کے متوازی منعقد ہونے والی ’کارکنوں جاگو – کانگریس بچاؤ‘ ریلی میں امید سے زیادہ نمائندوں کا پہنچنا کئی طرح کے اشارے دے گیا۔ ان میں سب سے اہم یہ کہ صوبے میں دلتوں، پچھڑوں کے ساتھ مسلمانوں کا بڑا نمائندہ طبقہ صوبائی کانگریس کی موجودہ نظرانداز کرنے والی پالیسی سے زبردست غم و غصے کا شکار ہے اور وقت رہتے اس کی ناراضگی پر اگر دھیان دے کر ضروری قدم نہیں اٹھائے گئے، تو اس کا خمیازہ کانگریس کو اگلے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں بھگتنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اسلم اس سلسلے میں پہلے بھی کئی بار اپنے ڈھنگ سے آواز اٹھا چکے ہیں، مگر اس کی کہیں کوئی سنوائی نہیں ہوئی، البتہ اسلم شیر خان کے تلخ لہجوں کو کانگریس مخالف بتاتے ہوئے ان کے خلاف شکایتوں کے پلندے اور پرچے بازی لگاتار چل رہی ہے، جب کہ اسلم نے اپنی ریلی میں کانگریس سے کسی قسم کی بغاوت سے پوری طرح پرہیز کرتے ہوئے، پارٹی کے اندر رہ کر ہی جدو جہد کرنے اور اس میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے ساتھ آگے بھی جوڑتے جانے کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ مئی مہینہ میں اس سے بھی بڑی ریلی کرنے کا اعلان کیا۔ اسلم کا ماننا ہے کہ نرم ہندوتوا کی راہ پر چلنے کی وجہ سے نہ تو مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی میں مسلمانوں کو واجب اہمیت دی گئی، نہ ہی انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران اس برادری کے نمائندوں کو ان کے تناسب کے مطابق جگہ دی جاتی ہے۔ اس صورتِ حال سے پیدا ہونے والی بے چینی کو پارٹی میں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور اسے دور کرنے کے لیے ضروری قدم اٹھائے جانے چاہئیں، ورنہ آئندہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بھوپال کی اس ریلی میں پچھڑوں، دلتوں، آدیواسیوں سمیت خاص طور پر مسلمانوں کو کانگریس میں نظر انداز کیے جانے کا جو درد بیان ہو رہا تھا، وہ ٹھیک اسی دوران پارٹی کے متعدد سینئر لیڈروں کی موجودگی میں منعقد ہونے والی ودیشا علاقائی کانفرنس کے اسٹیج پر بھی کھلے طور پر ابھر کر سامنے آیا، جب کہ اس کانفرنس میں بھوپال سے بڑی تعداد میں اپنے حامیوں کو لے کر پہنچنے والے بھوپال نارتھ اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے ایک واحد مسلم ایم پی عارف عقیل پہلے تو مناسب اہمیت نہ ملنے سے اسٹیج کی بجائے نیچے کارکنوں کے درمیان دیر تک بیٹھے رہے۔ ان کا تیور دیکھتے ہوئے صوبائی انچارج بی کے ہری پرساد نے پہلے انہیں اپنے بازو میں بٹھایا اور پھر بات چیت کے ذریعے ان کے غصے کو نرم کرنے کی بہت دیر تک کوشش کی۔ اس کے باوجود اس علاقائی کانفرنس میں بھی اقلیتوں کو تنظیم کی سطح پر نظر انداز کیے جانے کا مدعا اچھا خاصا گونجا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here