مدھیہ پردیش:افراتفری اور بد انتظامی کا مہاکمبھ

Share Article

سورین شرما
p-103333مدھیہ پردیش حکومت نے اجین میںشروع ہوئے سنہستھ پر کروڑوں روپے خرچ تو کر دےے، لیکن پہلے شاہی اسنان کے دن ہی بھاری مایوسی ہاتھ لگی۔کہاںسرکار تشہیر کررہی تھی کہ کروڑوں لوگ سنہستھ میں پہنچیںگے اور کہاں پہلے شاہی اسنان میںاعداد وشما رپانچ لاکھ کو بھی نہیںچھو سکے۔ انتظامیہ اور سرکارنے اپنی پوری طاقت اجین میںجھونک دی ، لیکن پھر بھی انتظام چاق و چوبند نہیںہوسکا۔ سادھوو¿ں سے لے کر آنے والے عقیدت مندوں تک میںبھی بے اطمینانی دیکھنے کو مل رہی ہے او رتو اور جن دکانداروں نے موٹی رقم خرچ کرکے دکانیں لگائی ہیں،ان کے دل میںبھی اس بات کا خوف ہے کہ کہیں اس بارسار ا میلہ فلاپ نہ ہوجائے۔
سنہستھ شروع ہونے سے پہلے ہی اجین میں بھاری بد انتظامی کی خبریںسامنے آرہی تھیں،لیکن سرکارنے اپنی تشہیر کے دم پر انھیں دبادیا ۔ جیسے ہی کمبھ شروع ہوا،پھر سے پرتیںکھلنے لگیں۔ سرکار کی طرف سے اجین میںکوئی کور کسر نہیںچھوڑی گئی تھی، اس کے بعد بھی انتظامات کے نام پر وہاں سب سے زیادہ ٹوائلٹ دکھائی دے رہے تھے۔ ان میںبھی پانی کی سپلائی کارپوریشن نہیں کرپا رہی تھی۔ سڑکیں بنانے کا دعویٰ تو بہت کیا گیا تھا، لیکن کچھ پُلوںکو چھوڑ کراجین میں کوئی بھی نئی سڑک نہیں دکھائی دی۔ پرانی سڑکوں کی ہی لیپا پوتی کردی گئی او ر میلہ علاقے میں مٹی ڈال کر سڑکیں بنادی گئیں،جن میںشروعاتی دور میںکیچڑ ہونے لگی۔ پورے میلہ علاقے میں ٹوائلٹ اور پولیس ملازمین کے علاوہ کچھ دکھائی ہی نہیںدے رہا تھا اور ایک بار میلہ گھومنے والوں کے کپڑوں پر دھول کی پرت چڑھتی دکھائی دی۔شام کے بعد تو آدھے راستے بندکردےے جاتے۔ ڈیوٹی پر تعینات پولیس والوں میں زیادہ تر باہر کے ہونے کی وجہ سے وہاں آنے والوں کو وہ راستہ نہیںبتاپارہے تھے۔ اکثر لوگ پولیس انتظام سے ہی خفا نظر آرہے تھے۔ رام گھاٹ علاقہ، انتظامیہ کے افسران کی موج مستی کا مقام بنا ہوا تھا۔ سادھوو¿ں کے لےے تو پورا کمبھ بھرا ہے،لیکن اس کا صحیح لطف انتظامی افسران اوران کے متعلقین و رشتہ دار ہی اٹھارہے تھے۔ عام شخص کوتو بھٹکناہی پڑ رہا تھا۔کوئی رام گھاٹ میںاسنان کرنا چاہتا تھا،تو اسے بھوکی ماتا مندر علاقہ میںبھیج دیا جاتا تھا۔ وی آئی پی گاڑیوںکے علاوہ کسی کو کوئی سہولت نہیں تھی۔ اور انچارج وزیر بھوپندرسنگھ اپنی لال بتی جلاکر سائرن بجاتے ہوئے گھومنے کے علاوہ کچھ نہیںکرپارہے تھے۔ ان کے پاس کسی مسئلے کا حل نہیںتھا۔ ان کے ذمے شاید سادھو سنتوں کے پنڈالوںمیںفیتہ کاٹنے کے علاوہ جیسے کوئی کام نہیںتھا۔سہولتوںاو رانتظامات کی بات کرنے پر وہ افسروںکی طرف اشارہ کر دیتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتے سنے گئے کہ اب اتنابڑا میلہ ہے، تو کچھ بے انتظامی ہونا تو فطری ہے۔
جیسا کہ سنہستھ کی تیاری سے پہلے یہ توقع کی جارہی تھی کہ پچھلے سنہستھ کی طرح اس سنہستھ میں سادھوو¿ں او رانتظامیہ کے بیچ کوئی نہ کوئی ٹکراو¿ ہوگا،وہ صورت حال سنہستھ کے کچھ ہی دنوںبعد سامنے آگئی اور یہ صاف ہوگیا کہ انتظامی افسران اور سادھوو¿ں میںانتظامات کو لے کرابھی بھی ٹکراو¿ قائم ہے اور اس کو لے کر سادھوو¿ں میںغصہ پایاجاتا ہے۔ جہاںایک طرف سرکار سنہستھ میںسیکورٹی کے پختہ انتظامات ہونے کا دعویٰ کررہی تھی، اس کا وہ دعویٰ بھی کچھ ہی دنوں میںہواہوائی ثابت ہوتا نظر آرہا ہے۔ کہنے کو تو سرکار اور انتظامیہ نے سنہستھ کی حفاظت کے لےے پوری ریاست سے بلائے گئے تقریباً 25 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار اور افسران مامورکےے ہیں، لیکن اس کے باوجو د سیکورٹی کی حالت یہ ہے کہ عوام کی تو بات چھوڑےے، سادھو سنتوں کے ڈیرے میںبھی سیکورٹی کا پختہ انتظام نہیں ہے اورسنہستھ میںجہاںپولیس سیکورٹی کے نام پر سرگرم دکھائی دے رہی ہے، تو وہیںچورلٹیرے بھی سادھوو¿ں کے ڈیرے سے لوٹ اور چوری کرنے میںاپنے ہاتھ کی صفائی دکھا رہے ہیں۔ سنہستھ کے کچھ ہی دنوں بعدسیکورٹی کی جہاںپول کھلی،تو وہیں پولیس کی سیکورٹی کے نام پر جو خوف کا ماحول سنہستھ علاقہ میں تیار کیا گیا، اس سے سادھو سنتوں میںغصہ پایا جاتا ہے، جس سنہستھ کی حفاظت کے لےے ہزاروں پولیس جوان تعینات کےے گئے، اس کے باوجود گزشتہ دنوںمہنت وجے گری فوجی بابانے ایک چور کو پکڑا، لیکن پولیس نے اسے چھوڑ دیا۔مہنت واسودیوانند گری کے ڈیرے سے ڈیڑھ لاکھ روپے اور مہنت رجنیشانند گری کے پنڈال سے دو لاکھ روپے کی چوری ہونے کی وارداتیں ہوئیں۔ وہیںمہنت نریندر گری کے یہاںسے ساڑھے تین لاکھ روپے غائب ہونے کا واقعہ بتایا گیا۔چوری کی ان وارداتوں کے ساتھ ساتھ ایک پنڈال میںکسی نے جلتا ہوا اخبار ڈال دیا۔ آگ بجھانے میں ورنداون کے بھرت گری کے ہاتھ جل گئے۔ مجموعی طو ر پر ان وارداتوںکو دیکھتے ہوئے یہ صاف ہوگیا کہ سنہستھ میں دکھاوے کے لےے پولیس کا بھلے ہی بندوبست کیا گیا ہو، لیکن میلہ علاقہ میںچور لٹیرے او ربدمعاش سرگرم ہیں،یہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ سنہستھ انتظامیہ نے پہلے شاہی اسنان کے دوران بھاری پولیس فورس تعینات کرکے خوف کا ماحول پیدا کیا تھا، جس کی وجہ سے پہلے شاہی اسنان میں عقیدت مند ڈبکی نہیں لگاسکے۔اس کو لے کر بھی سادھوو¿ںمیںغم وغصہ پایاجاتا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب سنہستھ میںآئے ہوئے سادھو سنتوں کی سیکورٹی اتنی بھاری بھرکم پولیس نہیںکرپارہی ہے، تو میلے میں آنے والے عقیدت مندوں کی کیا حالت ہوگی۔
سنہستھ کے کمبھ میلے میںچوری چکاری اور گاڑیوں کی توڑپھوڑ جیسے واقعات سے سادھو سنت کافی ناراض ہیں۔ سادھوو¿ں کاغصہ اتنا زیادہ ہے کہ دت اکھاڑہ علاقہ میںانھوںنے چکا جام بھی کردیا اور پولیس والوںکو دوڑا دوڑاکر پیٹا۔سادھوو¿ںنے اس دوران تلوار بھالے ہوا میںلہرائے۔ جونا اکھاڑے سے جڑے سادھوو¿ں کے ڈیرے میںشرارتی عناصر نے لگاتار کئی واقعات کو انجام دیا ۔ اسی دوران ایک سادھو کی کار پر گولی چلائی گئی او ر انتظامیہ انکار کرتا رہا۔ سنہستھ کے دوران دت اکھاڑے میںواقع گنگا گری کے آشرم کے سنت تپسوی گری پرایک نوجوان نے تلوار سے حملہ کردیا۔واقعہ کے بعد زخمی سنت کوضلع اسپتال لایا گیا۔ حالت بگڑنے پر انھیں اندور ریفر کردیا گیا۔ جانکاری کے مطابق بھوکی ماتا مندر کے پاس گجرات کے مہندر گری کا آشرم ہے۔ اتوار کی صبح گیارہ بجے مہندر گری کے چیلے تپسوی گری پر نامعلوم ملزم نے تلوار سے وار کردیا۔ پنڈال میںتین چار سیوا دار موجود تھے، جبکہ واقعہ کے وقت مہندر گری پاس کے ہی پنڈال میں گئے ہوئے تھے۔حملے کے بعد تپسوی کوخون کی الٹی ہوئی۔ فور ی طور پر سیوادار وہاں پہنچے، تو گری خون میںشرابور تھے۔ گلے میںشدید چوٹ آنے کی وجہ سے وہ کچھ بول بھی نہیں سکے،صرف اشارے سے کسی مونچھ والے کا ذکر انھوں نے کیا۔ اس واقعہ سے سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب سنہستھ کے موقع پر اجین میںایک بڑا اسپتال تیار کیا گیا اور جس کو لے کر تمام قسم کے دعوے کےے گئے،تو زخمی سادھو کے علا ج کے لےے اجین سے اندور کیوںریفر کیا گیا؟ سنہستھ کی تشہیر کولے کر سرکار سب سے زیادہ سرگرم اور مستعد رہی ہے،لیکن سنہستھ کے انتظامات کو لے کر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب صحافیوںنے ہی میڈیاسینٹر کے باہر دھرنا دے دیا۔ پہلے تو پبلک رلیشن ڈپارٹمنٹ سے بھوپال کے صحافی ہی ناراض تھے، کیونکہ سنہستھ کے پاس بنانے کو لے کر مبینہ طور پر تعصب کیا گیا۔اس کے بعد اجین میںجو میڈیا سینٹر بنایا گیا،وہ کس کے لےے تھا،یہ سمجھ میںنہیںآیا۔وہاںمیڈیا والوںکوکوئی اہمیت نہیں دی جارہی تھی۔ اطلاعات دینے کے لےے کوئی افسر ہر وقت موجود نہیںرہتا تھا، میڈیاکے جو لوگ وہاںپہنچے،ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، تو صحافیوںمیںغصہ بڑھ گیا۔ بہت سے صحافی میڈیا سینٹر کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ بعد میںکچھ افسران نے سمجھا بجھاکر انھیںپُرسکون کیا۔ لیکن ابھی بھی میڈیاکے لوگوں میںسرکار اور انتظامیہ کے خلاف ناراضگی ہے۔
ہائی ٹیک سنہستھ کا یہ حال
ہائی ٹیک کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کا دور اقتدارطرح طرح کے پیرامیٹر قائم کرنے کا دور رہا ہے۔ ویاپم اور ڈیمیٹ گھوٹالہ اسی حکومت کی دین ہے۔ بدعنوان افسروں کو تحفظ دینے کا معاملہ ہو یا ریاست میںغیر قانونی کاروبار اور غیرقانونی کھدائی کرنے والے لوگوں کو تحفظ دینے کا معاملہ، سب میں مدھیہ پردیش سرکار معروف رہی ہے۔ ٹھیک اسی طرح سنہستھ کمبھ بھی افراتفری اور بدانتظامی کے شیطانی دائرے میںپھنس گیا ہے۔ سنہستھ مہا کمبھ میلہ اس بار (2016)میں بالکل نئے کلیور کے ساتھ ہائی ٹیک اور ایکو فرینڈلی سسٹم کے طور پر مشتہر ہوکر تو آیا،لیکن حقیقت میں یہ کچھ اور ہی نکلا۔
22 اپریل کو اس کی شروعات پہلے شاہی اسنان کے ساتھ ہوئی۔ جیسی کہ توقع کی جارہی تھی کہ اس پہلے شاہی اسنان میںتقریباً ایک لاکھ عقیدت مند اور مذہبی لوگ شریک ہوں گے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور یہ شاہی اسنان پوری طرح سے عقیدت مندوں اور مذہبی لوگوں کے نقطہ نظر سے ناکام رہا۔ اس کے پیچھے کیا وجہ ہے ، یہ سرکار اور میلہ انتظامیہ جانے، لیکن غوروفکر کاموضوع یہ ہے کہ جس سنہستھ کی تیاری کے لےے کروڑوںروپے تشہیر میںپھونک دےے گئے، کروڑوں روپے کے عارضی اور مستقل تعمیری کام کرائے گئے، آسمان سے لے کر زمین تک سنہستھ کی تشہیراس طرح کی گئی کہ گویاکوئی شاندار کوآپریٹ منعقد ہورہا ہو،لیکن وقت آنے پر سب فش ہوگیا۔ اس تشہیر کے پیچھے بتایا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے اسٹریٹجسٹس کا سنہستھ کے بہانے وزیر اعلیٰ شیوراج کو مودی کے مقابلے بین الاقوامی سطح پر قائم کرنے کا تصور کام کررہا تھا۔ تشہیر میںتو شیوراج سرکار کامیاب رہی،لیکن آستھا اور روایتوں کے مطابق ایک مذہبی انعقاد کے طور پر سنہستھ عام لوگوں کونہیںکھینچ پایا۔اب بھیڑ جٹانے کی الگ سے کوشش کی جارہی ہے۔
انعقاد میں سرکار کے ذریعہ جس طرح سے پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا اور جس طر ح کے تعمیراتی کام اور انتظاما ت کا سرکاری بیورا آیا، اس نے سنہستھ کی بدعنوانی کے مہاکمبھ کی طرف بھی اشارہ کیا۔سرکار نے سادھو سنتوں کوبھی خوش کرنے یا بدانتظامی سے چشم پوشی کرنے کے لےے انھیںان کے عہدے کے مطابق دان دکشنا پہلے ہی دے دی۔ ظاہر ہے یہ دکشنا بھی کروڑوں میںہی ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *