مدھوبنی، بہار : جیل میں بند اس لڑکے کا گناہ کیا ہے؟

Share Article

ششی شیکھر
سونو جھا کی کہانی کو سمجھنے کے لیے پہلے بہار کے مدھوبنی واقعہ کو جاننا ضروری ہے۔ مدھوبنی ضلع کے اریڑ گاؤں کے راجیو کمار جھا کا بیٹا پرشانت جھا ایک دن گھر سے غائب ہوگیا۔ والد نے تھانے میں گم شدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ کچھ ہی دن بعد ایک سر کٹی لاش ملی۔ پرشانت کی فیملی کے مطابق، یہ لاش پرشانت کی تھی۔ اس کے بعد لوگوں کا غصہ بھڑکا اور 12 اکتوبر، 2012 کو مدھوبنی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں جم کر ہنگامہ ہوا۔ تھانہ، کلکٹرئیٹ میں آگ زنی ہوئی، سنگ باری ہوئی، پولس نے فائرنگ کی، گولی باری میں کچھ لوگ مارے بھی گئے، لیکن اس پوری واردات میں ایک نیا موڑ تب آیا، جب پرشانت ایک لڑکی کے ساتھ دہلی کے مہرولی میں پایا گیا۔ یعنی وہ سر کٹی لاش کسی اور کی تھی۔ بہرحال، پرشانت اور اس لڑکی کو پولس کسٹڈی میں بہار لایا گیا۔ ابھی پرشانت ریمانڈ ہوم میں ہے اور لڑکی اپنے گھر۔
لیکن اس کے بعد ایک نئی کہانی شروع ہوتی ہے، جس کا تعلق اریڑ گاؤں کے 17 سالہ لڑکے سونو جھا سے ہے۔ مدھوبنی میں 12 اکتوبر کو بھڑکی آگ، توڑ پھوڑ اور آگ زنی کے معاملے میں پولس نے سینکڑوں نامعلوم افراد اور چند نامزد لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ اس ہنگامہ کے دوران سرکاری ملکیت کو نقصان پہنچا تھا، سرکاری دستاویز جلائے گئے تھے۔ اس کے بعد گرفتاری کا دور شروع ہوا۔ پہلے 60 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد 25 اکتوبر، 2012 کو اریڑ گاؤں میں رات میں پولس پہنچی اور 12 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں 17 سال کے سونو جھا کا نام بھی شامل ہے۔ پولس کے مطابق، اسے 12 اکتوبر کو ہوئی سنگ باری اور آگ زنی کے واقعہ میں شامل ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔ ابھی سونو جھا جیل میں بند ہے۔ سونو جھا کے ساتھ اس کے والد گھن شیام جھا اور ایک بھائی مونو جھا کو بھی پولس نے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ گھن شیام جھا پان کی ایک دکان چلا کر اپنا اور اپنی فیملی کا گزر بسر کرتے ہیں۔

 آئی ٹی بی پی جالندھر کے کمانڈنٹ شری وجے کمار دیسوال نے اپنی دستخط والا ایک رجیکشن سلپ (پرچی) بھی جاری کی، جس میں سلیکشن نہ ہونے کا سبب بھی بتایا گیا ہے۔ اس پرچی پر واضح طور پر 13 اکتوبر کی تاریخ، جگہ کا نام، یعنی جالندھر، سلیکشن نہ ہونے کا سبب اور کمانڈنٹ اور خود سونو جھا کے دستخط ہیں۔ کل ملا کر یہ رجیکشن سلپ پوری طرح سے یہ ثابت کرتی ہے کہ 13 اکتوبر، 2012 کو سونو جھا جالندھر میں آئی ٹی بی پی کا امتحان دینے کے لیے موجود تھا۔

بہرحال، چوتھی دنیا سے بات چیت کرتے ہوئے سونو جھا کے ایک رشتہ دار سنتوش کمار جھا (سونو جھا کے بہنوئی) بتاتے ہیں کہ سونو جھا کو جس آگ زنی کے واقعہ میں شامل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، اصل میں سونو اس دن شہر میں تھا ہی نہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سونو جھا بے قصور ہے اور وہ 10 اکتوبر سے لے کر 13 اکتوبر تک کے درمیان شہر کیا، بہار سے ہی باہر تھا۔
چوتھی دنیا کے پاس موجود دستاویز کے مطابق، سونو جھا 13 اکتوبر کو ایک امتحان کے لیے پنجاب کے جالندھر میں موجود تھا۔ سونو کو انڈو – تبت بارڈر پولس (آئی ٹی بی پی) کے فزیکل ٹیسٹ کے لیے لیٹر بھیجا گیا تھا۔ 10 اکتوبر کو سونو جھا نے شہید ایکسپریس سے انڈو – تبت بارڈر پولس کا امتحان دینے کے لے مدھوبنی سے ٹرین پکڑی۔ اس کے ٹرین ٹکٹ کا پی این آر نمبر ہے 660-9879001، ٹکٹ کا نمبر ہے 66844694، کوچ نمبر ایس – 5 اور سیٹ نمبر ہے 36۔
سونو جھا 13 اکتوبر کو انڈو – تبت بارڈر پولس کے فزیکل ٹیسٹ میں شامل بھی ہوا، لیکن وہ فزیکل ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے ضروری لمبائی کی شرط کو پورا نہیں کر پایا۔ اس کی وجہ سے اس کا سلیکشن نہیں ہو پایا۔ اس سلسلے میں آئی ٹی بی پی جالندھر کے کمانڈنٹ شری وجے کمار دیسوال نے اپنی دستخط والا ایک رجیکشن سلپ (پرچی) بھی جاری کی، جس میں سلیکشن نہ ہونے کا سبب بھی بتایا گیا ہے۔ اس پرچی پر واضح طور پر 13 اکتوبر کی تاریخ، جگہ کا نام، یعنی جالندھر، سلیکشن نہ ہونے کا سبب اور کمانڈنٹ اور خود سونو جھا کے دستخط ہیں۔ کل ملا کر یہ رجیکشن سلپ پوری طرح سے یہ ثابت کرتی ہے کہ 13 اکتوبر، 2012 کو سونو جھا جالندھر میں آئی ٹی بی پی کا امتحان دینے کے لیے موجود تھا۔
اس کے علاوہ سونو جھا کے بہنوئی سنتوش جھا بتاتے ہیں کہ جالندھر جاتے وقت سونو اپنے ساتھ ایک موبائل (جس کا نمبر ہے 9534952424) بھی لے گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر 10 سے لے کر 15 اکتوبر، 2012 تک کے درمیان کی کال ڈٹیل نکلوائی جائے، تو اس سے بھی پتہ چل جائے گا کہ سونو جھا ان دنوں کے دوران بہار سے باہر رہا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ مدھوبنی سے جالندھر اور جالندھر سے مدھوبنی آنے جانے کا وقت اور تاریخ کی تھی۔
سوال ہے کہ جب اتنے سارے ثبوت سونو جھا کے حق میں جاتے ہیں، تب بھی اسے گرفتار کیوں کیا گیا ہے؟ اور اگر گرفتاری ہو بھی گئی، تو اسے جیل بھیجنے سے پہلے پولس نے ان ثبوتوں پر غور کیوں نہیں کیا۔ اس سلسلے میں سونو کے بہنوئی سنتوش جھا بتاتے ہیں کہ وہ ان ثبوتوں کے ساتھ پولس سے بھی ملے، ایس پی سے بھی ملے۔ اس معاملے میں آئی جی، ریاستی و مرکزی حقوق انسانی کمیشن کو خط بھی لکھے ہیں، لیکن کہیں سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملا اور نہ ہی کوئی یقین دہانی کرائی گئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ پولس والے آئی ٹی بی پی کی رجیکشن سلپ کو ثبوت نہیں مان رہے ہیں۔ پولس کا کہنا ہے کہ ایسی سلپ تو کوئی بھی بنوا سکتا ہے۔ ساتھ ہی، پولس نے ٹرین کے ٹکٹ اور موبائل کی کال ڈٹیل کو بھی ثبوت ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
بہرحال، سوال اٹھتا ہے کہ کیا وزارتِ داخلہ کے تحت آنے والے آئی ٹی بی پی کی دستاویز کو بھی ثبوت نہیں مانا جا سکتا ہے؟ سنتوش جھا بتاتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں آئی ٹی بی پی کے کمانڈنٹ شری وجے کمار دیسوال سے بھی ملے ہیں اور انہوں نے ایک خط لکھ کر مجھے دیا ہے، جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ سونو کمار جھا 13 تاریخ کو جالندھر میں آئی ٹی بی پی کے امتحان کے لیے موجود تھا۔ ظاہر ہے، آئی ٹی بی پی کے ایک کمانڈنٹ کا لکھا خط، جو سونو جھا کی بے گناہی کا شاید سب سے بڑا دستاویز ہوگا، عدالت میں قابل قبول ہو سکتا ہے، لیکن آئی ٹی بی پی کے رجیکشن سلپ کو پولس نے ثبوت ماننے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً 17 سال کا ایک لڑکا پچھلے چار مہینوں سے جیل میں اس گناہ کے لیے بند ہے، جو اس نے نہیں کیا اور اس واقعہ کے وقت وہ اس شہر میں تو کیا، بہار تک میں موجود نہیں تھا۔
اس پورے معاملے میں ایک سوال ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کسی بھی طرح کے تشدد کو جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا، مدھوبنی واقعہ میں جو کچھ ہوا، وہ غلط تھا ۔ آگ زنی کا واقعہ، سنگ باری، سرکاری ملکیت کو نقصان پہنچانا، یہ سب غلط تھا۔ لیکن کیا ایک بے قصور کو گرفتار کرنا صحیح تھا؟ کیا پولس انتظامیہ کے ذریعے ثبوتوں کی اندیکھی کرنا صحیح تھا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *