چین کے صوبہ سنکیانگ میں رہنے والے مسلمان نت نئے مسائل کا سامنا کرتے چلے آرہے ہیں۔یہ تمام مسائل وہاں کی حکومت کی طرف سے پید اکئے جاتے ہیں۔ سنکیانگ ایک مسلم اکثریتی صوبہ ہے ۔ ابھی حال ہی میں حکومت نے مسلمانو ں کی سیاسی ذہنی تربیت کے نام پر ایک تربیتی کیمپ قائم کیا ہے جس میں مسلمانو ں کو ان کے عقائد سے روگردانی کے لئے اکسایا جارہا ہے۔یہی نہیں مختلف بہانوں سے مذہبی امور جیسے روزے ،نماز اور قرآن مجید کی تلاوت پر پابندی لگا نے کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں۔ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے اگر یہ کہا جائے کہ وہاں کے مسلمانوں کے لئے سنکیانگ ایک جیل ہے تو کسی حد تک درست ہے۔
کاشغر میں ایک بڑی جامع مسجد ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ مقامی مسلمانوں کو اس جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لئے الیکٹرانک حفاظتی دروازوں سے گزر نا پڑتا ہے اور جس وقت وہ مسجد میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں، تو ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ان چینی مسلم نمازیوں کے لیے عبادت کی خاطر کاشغر کی مرکزی جامعہ مسجد جاتے ہوئے خاموشی سے میٹل ڈیٹیکٹر دروازوں سے اس طرح گزرنا اب معمول کی بات بن چکی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حکومت کے اس رویے پر مطمئن ہیں۔وہ حکومت کے اس رویے کی وجہ سے سخت نالاں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سنکیانگ چین کا ایسا صوبہ ہے، جس کی سرحدیں ہمسایہ ملک پاکستان سے ملتی ہیں اور جہاں داڑھی رکھنے پر نہ صرف جزوی پابندی عائد ہے بلکہ کسی کو بھی کسی عوامی جگہ پر عبادت کی اجازت نہیں ہے۔اب سنکیانگ میں جگہ جگہ لگے پبلک سائن بورڈ خبردار کرتے ہیں کہ کسی کو بھی کسی عوامی جگہ پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ کوئی بھی شہری 50 برس کی عمر کو پہنچنے سے قبل داڑھی نہیں رکھ سکتا اور مسلمان سرکاری ملازمین کے لیے رمضان میں روزہ رکھنا بھی قانوناً منع ہے۔سنکیانگ کے ایک استاد اور ایک سرکاری اہلکار کے بقول اسکولوں میں طلبا و طالبات کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو بطور مسلمان عربی زبان میں ’السلام علیکم‘ یا ’وعلیکم السلام‘ بھی نہ کہیں۔ اس اہلکار نے بتایاکہ’’حکومت کے خیال میں السلام علیکم کے یہ اسلامی الفاظ بھی علیحدگی پسندی کے مترادف ہیں۔‘‘اے ایف پی کے مطابق چین میں سنکیانگ کی اکثریتی ایغور مسلم آبادی اب اسی طرح کی ’پولیس اسٹیٹ‘ اور ’اوپن ایئر جیل‘ میں زندگی گزار رہی ہے۔
 
 
 
 
کاشغر کی جامع مسجد کے باہر چوک پر برسوں تک ایسا ہوتا رہا ہے کہ ہر سال رمضان یا تہواروں کے موقع پر یہ مسجد نمازیوں سے پوری طرح بھر جاتی تھی۔ایسے موقع پر بہت سے مسلمان عیدالفطر کی نماز ادا کرنے کے لیے اپنی اپنی جائے نماز ساتھ لاتے تھے اور اس چوک میں نمازیوں کی صفوں کی صفیں دیکھنے میں آتی تھیں۔ اب وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ اس سال جب عیدالفطر کے دن ایغور مسلمان نماز کے لیے اس مسجد میں جمع ہوئے توان کی کم تعداد تھی۔اس کم تعداد کے بارے میں اخباروں میں مختلف وجوہات بتائے گئے جن میں سے ایک وجہ یہ تھی کہ حکومت نے کاشغر کے پورے شہر کے ارد گرد ایسی کئی چیک پوسٹیں قائم کر رکھی تھیں، جن کا مقصد مسافر مسلمانوں کو نماز عید کے لیے کاشغر میں داخلے سے روکنا تھا۔چنانچہ حکومت اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی اور مسلمان بہت کم تعداد میں جامعہ مسجد تک پہنچ سکے۔
چین کے ایغور مسلمان اب اس بات کو محسوس کرنے لگے ہیں کہ یہ جگہ مذہب کے لیے اچھی نہیں ہے۔ بیجنگ میں حکومت کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں لگائی جانے والی پابندیاں اور جگہ جگہ پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی کا مقصد علیحدگی پسندانہ تحریکوں اور مسلم انتہا پسندی کو پھیلنے سے روکنا ہے۔ لیکن کئی تجزیہ نگاروں کا دعویٰ ہے کہ چین کا اکثریتی طور پر مسلم آبادی والا صوبہ سنکیانگ اب ایک ’اوپن ایئر جیل‘ میں بدل چکا ہے۔آسٹریلیا کی لا ٹروب یونیورسٹی کے چینی سیکورٹی امور کے ماہر جیمز لائیبولڈ کہتے ہیںکہ ’چینی حکومت وہاں یقینی طور پر ایک ایسی پولیس اسٹیٹ قائم کرتی جا رہی ہے، جس کی کوئی ایک بھی مثال پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی‘۔ سنکیانگ میں سکیورٹی دستوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافے کے ساتھ ساتھ مذہبی پابندیاں عائد کر دینے کا سلسلہ 2009 میں شروع ہوا تھا۔تب سے ان پر کچھ نہ کچھ نئی نئی پابندیاں عائد ہوتی رہتی ہیں اور اسی سلسلہ کی یہ نئی کڑی ہے کہ حکومت نے نمازیوں پر بھی کڑی نظر رکھنا شروع کردیا ہے۔
اس سال مارچ میں چینی صدر شی جن پنگ نے قومی سیکورٹی فورسز کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اس علاقے کے ارد گردایک عظیم فولادی دیوار کھڑی کر دیں۔ چینی صدر نے یہ حکم اس وقت دیا تھا جب ایسے ایغور مسلمانوں نے، جو خود کو شام اور عراق میں موجود دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے ایک ذیلی حصے کے ارکان قرار دیتے تھے، یہ دھمکی دے دی تھی کہ وہ واپس لوٹ کرخون کا دریا بہا دیں گے۔اس کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران چینی حکومت ہزاروں اضافی سیکورٹی اہلکار تعینات کر چکی ہے۔ شہر کے تقریباً ہر کونے میں نئے پولیس اسٹیشن قائم کیے جا چکے ہیں اور ایسے کئی نئے لیکن بہت سخت ضوابط بھی متعارف کرائے جا چکے ہیں، جن کا مقصدشدت پسندی کا خاتمہ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here