مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کا صد سالہ جشن ،نتیش حکومت کو بے نقاب کرے گا

Share Article

اشرف استھانوی 
بہار کی سب سے قدیم اسلامی درسگاہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کا صد سالہ جشن گزشتہ دنوں انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا۔ ملک کے ممتاز علمائ، دانشور، صحافی اور ہزاروں کی تعداد میں آئے مدرسہ کے ابنائے قدیم کے علاوہ کثیر تعداد میں غیر منقسم بہار کے طول و عرض سے آئے عام مسلمان بھی اس تاریخی اور یاد گار موقع کے گواہ بنے۔ یہ جشن اس اعتبار سے بھی انتہائی یاد گار اور تاریخی اہمیت کا حامل مانا جائے گا کہ جشن کے دوران تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ نتیش کمار، وزیر تعلیم پی کے شاہی اور وزیر اقلیتی فلاح شاہد علی خان کو مسلمانوں نے پہلی بار برسر اسٹیج آئینہ دکھانے اور اقلیتی محاذ پر حکومت کی ناکامی کو اجاگر کرنے کا حوصلہ دکھایا اور تعریف و توصیف نیز بے جا قصیدہ خوانی کے خوگر سیاست دانوں سے کھل کر گلہ و شکوہ کیا۔ امیر شریعت مولانا سید نظام الدین اور جمعیۃ علماء کے جنرل سکریٹری اور سابق ممبر پارلیمنٹ مولانا محمود مدنی جیسے مقررین نے تو تعلیم اور مدارس اسلامیہ کی اہمیت اور افادیت پر ہی سارا زور دیا، مگر تقریب میں خانقاہوں کی نمائندگی کر رہے خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں، امارت شرعیہ بہار و جھارکھنڈ کے نائب امیر شریعت اور رحمانی 30 کے روح رواں حضرت مولانا ولی رحمانی نے تو حقائق او راعداد و شمار کی روشنی میں اقلیتی محاذ پر حکومت کی ناکامی او ربے عملی کی تفصیل پیش کرتے ہوئے بر سر اسٹیج ہی حکومت کو گویا ننگا کر دیا اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بغلیں جھانکنے اور دفاعی رویہ اپنانے پر مجبور کر دیا۔ مولانا رحمانی نے بہار کے حق کی بات کرتے ہوئے ادھیکار یاترا او رپھر ادھیکار ریلی کرکے واہ واہی لوٹنے والے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آپ بہار کے حق کی بات کرتے ہیں اور بہار کے لیے خصوصی درجہ کی مانگ کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کا کوئی حق ہی نہیں بنتا ہے۔ بہار خصوصی درجہ کے لیے مقررہ شرائط پوری ہی نہیں کر تا ہے،پھر بھی آپ مرکزی حکومت پر نا انصافی اور حق تلفی کا الزام عائد کرتے ہیں، لیکن اصلی نا انصافی اور حق تلفی آپ خود کر رہے ہیں اور وہ بھی اپنی ہی ریاست کے کروڑوں مسلمانوں کے ساتھ ۔ ہمارا حق آئین سے طے شدہ اور تسلیم شدہ ہے۔ہم کوئی زبردستی کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں۔ ہم وہی حق مانگ کر رہے ہیں جو ہمیں آئین نے دیا ہے۔

صد سالہ جشن کے موقع پر ہی حکومت کی ساتویں سالگرہ بھی منائی جا رہی تھی۔ اس موقع پر حسب روایت رپورٹ کارڈبھی جاری کیا گیا، مگر اس میں بھی مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں تھا اور یہ خلاف توقع بھی نہیں تھا، کیوں کہ جب حکومت مسلمانوں کے لیے کوئی پروگرام ہی نہیں رکھتی ہے تو کار گزاری رپورٹ میں وہ کیسے شامل کر سکتی ہے۔ نتیش حکومت بالعموم اقلیتوں کے سلسلے میں مرکزی فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھاتی ہے اور اسے اس طرح پیش کرتی ہے، جیسے وہ ریاستی حکومت کا پروگرام ہو۔ عام لوگوں کی یہ رائے کہ حکومت بالعموم مرکزی پروگراموں پر اپنا لیبل چسپاں کرکے بازار میں اتارتی ہے اور بھولے بھالے مسلمانوں کو بے وقوف بناتی ہے۔ حکومت نے اپنی پہلی پنج سالہ میعاد کے دوران جو 10 نکاتی اقلیتی فلاحی پروگرام مرتب کیا تھا وہ پوری طرح فلاپ رہا تھا۔

مگر آپ کی حکومت لگاتار مسلمانوں کی حق تلفی کر رہی ہے۔ آپ ہماری تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے تو کچھ کرتے نہیں اور جب ہم خود اقلیتی ادارے قائم کرتے ہیں ، جس کا حق ہمیں آئین نے دیا ہے، تو آپ ہماری راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ آپ انصاف کے ساتھ ترقی کی بات کرتے ہیں، مگر بہار میں مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا ہے۔ ہم نے بہار کے سب سے پسماندہ ضلع کشن گنج میں، جو ملک کے90 مسلم اکثریتی پسماندہ اضلاع میں شامل ہے ، تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے پوٹھیا میں زمین خریدی، جس کی پختہ رسید موجود ہے، مگر ہمیں زمین پر قبضہ نہیں مل رہا ہے۔ آپ قانون کی حکمرا نی کی بات کرتے ہیں، مگر یہاں تو لاقانونیت کا راج ہے۔ عدالت کا فیصلہ ہمارے حق میں ہے، مگر ضلع انتظامیہ ہمیں انصاف دلانے میں ناکام ہے۔ہم متعدد بار کشن گنج ضلع انتظامیہ کے افسران سے مل کر ان سے قانونی مدد طلب کر چکے ہیں، مگروہ صاف انکار کرتے ہیں کہ ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ آپ کیا چاہتے ہیں، ہم آدی باسیوں پر گولی چلادیں؟ نہیں، وہاں کیسے گولی چلے گی ؟ آپ کی گولی تو مسلمانوں پر چلتی ہے۔ کبھی فاربس گنج کے غریب مسلمانوں پر چلے گی تو کبھی مونگیر او ر نوادہ کی مسجد پر، تو کبھی شمس الدین ٹیلر پر۔ آپ نے اے ایم یو کے کشن گنج سنٹر کے لیے زمین مہیا کرائی مگر قبضہ نہیں دلا سکے۔ مولانا ولی رحمانی نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حکومت کے بھروسے نہیں رہنا چاہیے۔ اپنے آئینی حقوق کے حصول کے لیے لگاتار جدو جہد جاری رکھنا چاہیے اور اپنی قسمت آپ سنوارنے کے لیے ٹھوس پہل کرنی چاہیے، ورنہ آپ کے حقوق آئین کی کتاب میں ہی دفن ہو کر رہ جائیں گے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت سے اپنے حق کا تقاضہ نہ کیجئے، مگر اس کے بہلاوے میں آکر آئینی حق کے حصول کی لڑائی کمزور نہ پڑنے دیں۔
ماحول پوری طرح گرم ہو چکا تھا ۔مسلمانوں کا پر سکون مجمع اس سمندر جیسا ساکت نظر آرہا تھا، جو کسی طوفان بلا خیزسے پہلے دکھائی دیتا ہے اور وہ طوفان تب آیا، جب وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے خطاب کرنے کی باری آئی، جیسے ہی وزیر اعلیٰ کی تقریر شروع ہوئی نوجوان مسلم طلبا حکومت کے مبینہ مسلم اردو مخالف رویہ کے خلاف احتجاج کے لیے اٹھ کھڑے ہو گئے اور اچانک سیاہ پرچم بھی لہرانے لگے۔ طلباء اسکولی نصاب سے اردو اور فارسی کو منصوبہ بند سازش کے تحت باہر کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا احتجاج اسٹیج پر موجود وزیر تعلیم پی کے شاہی کے اردو مخالف رویہ کے خلاف بھی تھا۔ اس احتجاج کو تو منتظمین نے تو کسی طرح دبا دیا، لیکن اس کے بعد حکومت کے نمائندوں خصوصاً وزیر اعلیٰ کی حالت قابل رحم ہو گئی تھی۔ ان کے پاس اپنی صفائی میں کچھ کہنے کے لیے بھی شاید کچھ نہیں بچا تھا۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ میں تو صرف آپ لوگوں کی دعاء او رآشیر واد کے لیے آیا ہوں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مدرسہ شمس الہدی ٰکا صد سالہ جشن میری حکومت میں منایا جا رہا ہے او رمجھے اس میں شرکت کا موقع مل رہا ہے۔ اس مدرسہ کی بنیاد جسٹس سید نور الہدیٰ مرحوم نے 1912 میں رکھی تھی۔ اس سال بہار، بنگال سے الگ ہوا تھا، بہار نے اپنا صد سالہ جشن اسی سال22 مارچ کو منایا اور اب مدرسہ شمس الہدیٰ اپنا صد سالہ جشن منا رہا ہے۔میری دعا ہے کہ یہ مدرسہ اسی طرح ترقی کے منازل طے کرتا رہے تاکہ جب 200 سال پورے ہونے پر دوسرا جشن منایا جائے تو پہلے صد سالہ جشن اور اس کے شرکاء کا بھی ذکر ہو۔ اس دوران مدرسہ شمس الہدیٰ میں کچھ ایسا کیا جانا چاہیے، جس کا ذکر بہار ہی نہیں بہار کے باہر بھی لوگ فخر کے ساتھ کریں۔ مدرسہ کی ترقی اور جدید کاری یا معیار تعلیم میں بہتری کے لیے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے، اس سلسلے میں مدرسہ کے پرنسپل مولانا محمد قاسم دانشور وں اور ماہرین تعلیم کی مدد سے ایک جامع منصوبہ تیار کرکے حکومت کے سامنے پیش کریں۔ حکومت اس پرہمدردانہ اور مخلصانہ فیصلہ کرے گی اور جو بھی تعاون ممکن ہوگا ، کرے گی ، کیوں کہ کسی بھی قوم کی ترقی میں تعلیم کا بڑا اہم رول ہے۔ تعلیم کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ اس تاریخی موقع پر مسلمانوں یا کم از کم مدرسہ ایجو کیشن سے وابستہ افراد کو کوئی تحفہ دیں گے اور ان کے دیرینہ مسائل حل کرنے کا اعلان کریں گے، کیوں کہ بہار میں اس وقت مدرسہ ایجو کیشن کا جو نظام قائم ہے وہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی دین ہے۔ بانی مدرسہ جسٹس سید نور الہدیٰ نے جب مدرسہ کے مستقبل کو محفوظ کرنے کی غرض سے اسے تمام اثاثہ جات کے ساتھ حکومت کے سپرد کیا تھا، تو اس کے اگلے ہی سال یعنی 1920 میں مدرسہ کے امتحانات کے انعقاد اور کنٹرول کے لیے مدرسہ ایجو کیشن بورڈ قائم کیا تھا اور آج اسی بورڈ کے تحت ہزاروں ملحقہ مدارس چل رہے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بہار کے تمام ملحقہ مدارس شمس الہدیٰ کی شاخ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور حکومت کے کنٹرول والے مدارس کے تعلیمی نظام کا حصہ ہیں، لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ جہاں دوسرے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے ملازمین چھٹی شرح تنخواہ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، مدارس ملحقہ سے وابستہ ہزاروں اساتذہ اور ملازمین کو تیسری شرح تنخواہ کے مطابق انتہائی قلیل اور ذلت آمیز تنخواہ پر کام کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہیں پنشن اور گریچویٹی کی سہولت بھی نہیں ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ دیگر سرکاری محکموں کے چپراسی بھی تنخواہ اور سہولیات کے معاملے میں مدرسہ کے صدر مدرس سے بھی آگے ہیں۔ ان اساتذہ کو نتیش حکومت نے 7 سال قبل پہلی بار اقتدار سنبھالنے کے بعد انصاف دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر مہنگائی بھتہ میں اضافہ کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوا۔ اس لیے حکومت سے یہ امید کی جا رہی تھی اور اس کے لیے حکومت پر دبائو بھی تھا کہ وہ اس موقع کو یاد گار بنانے کے لیے کوئی خوش کن اعلان کرے گی، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا،جس سے مدارس کے ہزاروں اساتذہ اور ملازمین کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کو بھی مایوسی ہوئی۔ انصاف کے ساتھ ترقی سے متعلق حکومت کے دعویٰ کو اسٹیج سے ہی چیلنج کیے جانے کے باجود وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر صر ف رسمی باتیں کیں اور یہ کہہ کر ساری بلا ٹال دی کہ ہم بولنے میں نہیں کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ لیکن اس کا جواب نہیں مل سکا کہ ان کی 7 سالہ حکومت میں مسلمانوں یا مدرسہ ایجو کیشن سے جڑے لوگوں کو انصاف کیوں نہیں ملا؟ عام مسلمانوں کو روز گار مہیا کرانے کے لیے کوئی ٹھوس کارروائی اب تک کیوں نہیں ہوئی؟ چار سال قبل بہار کے تمام اسکولوں میں اردو یونٹ کے قیام اور اردو اساتذہ کے تقرر کو یقینی بنانے کے سرکاری اعلان پر آج تک عمل کیوں نہیں ہوا؟ حکومت ہر جگہ ٹیچر تو بحال کرنے جا رہی ہے، مگر فارسی ٹیچر بحال کرنے کے سوال پر طویل خاموشی کیوں ہے؟ اسکولی نصاب سے اردو اور فارسی کو کیوں بے دخل کیا جا رہا ہے؟ حکومت اور انتظامیہ مسلمانوں کو انصاف دلانے کے معاملے میں بے بسی کا مظاہرہ کیوں کرتی ہے اور ریاستی پولس مسلمانوں کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے کیوں آگے آجاتی ہے؟
صد سالہ جشن کے موقع پر ہی حکومت کی ساتویں سالگرہ بھی منائی جا رہی تھی۔ اس موقع پر حسب روایت رپورٹ کارڈبھی جاری کیا گیا، مگر اس میں بھی مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں تھا اور یہ خلاف توقع بھی نہیں تھا، کیوں کہ جب حکومت مسلمانوں کے لیے کوئی پروگرام ہی نہیں رکھتی ہے تو کار گزاری رپورٹ میں وہ کیسے شامل کر سکتی ہے۔ نتیش حکومت بالعموم اقلیتوں کے سلسلے میں مرکزی فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھاتی ہے اور اسے اس طرح پیش کرتی ہے، جیسے وہ ریاستی حکومت کا پروگرام ہو۔ عام لوگوں کی یہ رائے کہ حکومت بالعموم مرکزی پروگراموں پر اپنا لیبل چسپاں کرکے بازار میں اتارتی ہے اور بھولے بھالے مسلمانوں کو بے وقوف بناتی ہے۔ حکومت نے اپنی پہلی پنج سالہ میعاد کے دوران جو 10 نکاتی اقلیتی فلاحی پروگرام مرتب کیا تھا وہ پوری طرح فلاپ رہا تھا۔ دوسری میعاد میں ان پروگراموں کا کوئی ذکر تک نہیں ہے، لیکن جب راقم الحروف نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سے سیدھا سوال کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر حیرت زدہ کر دیا کہ وہ سارے پروگرام مکمل ہوگئے، اس لیے اب ان کی ضرورت نہیں ہے۔
اب دیکھنے والی بات یہ رہ گئی ہے کہ مدرسہ شمس الہدیٰ کے پرنسپل کی طرف سے حکومت کے سامنے کون سا منصوبہ پیش کیا جاتا ہے اور اس پر نتیش حکومت کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟ کیوں کہ حکومت وعدے اور اعلان تو بہت کرتی ہے، مگر جب عمل درآمد کا مرحلہ آتا ہے تو اس کا رویہ بڑا مایوس کن ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *