’’لنچنگ‘‘ہماری روایت نہیں: موہن بھاگوت

Share Article

 

گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں بحث کا موضوع رہے’’ماب لنچنگ‘‘ کے واقعات پر آر ایس ایس نے شدید حملہ کیا ہے۔ ناگپور کے ریشم باغ میں منعقد ہ سنگھ کی وجے دشمی تقریب میں سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت نے ’’لنچنگ‘‘ کو ملک کی روایت کے خلاف بتایا اور ’’لنچنگ‘‘ کو غیر ملکی لفظ قرار دیا۔

وجے دشمی کے موقع پر اپنے خطاب میں سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت نے کہا کہ دنیا میں کئی ایسی طاقتیںہیں جو ہندوستان کو آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ بھارت کا طاقتور بننا ایسی طاقتوں کو راس نہیں آتاہے۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ سماج میں اب تک یکجہتیاور برابری کی صورتحالہماری توقعات کے مطابق نہیں ہے۔ نتیجے کے طور پر ہماری ذات، عقیدہ، زبان، صوبے کے تنوعکو تعصب میں تبدیل کر آپسی تنہائی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ایسی سازشوں کو سمجھ کر ہمیں اس کو منسوخ کرنا ہوگا۔ حکومت اور انتظامیہ میں تعینات افراد کے بیان اور فیصلوں کو توڑ مروڑ کر تشہیر کی جاتی ہے۔ ایسی تمام سرگرمیوں کی مخالفت ہونی چاہیے۔

ڈاکٹر بھاگوت نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں ایک کمیونٹی کے ذریعہ دوسرے کمیونٹی کے افراد پر ہجومی تشدد کی خبریں اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں۔ ایسے واقعات صرف یکطرفہ نہیں ہوئے ہیں۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ کچھ واقعات جان بوجھ کر کروائے گئے ہیں۔ نظم ونسق کے قوانین کو طاق پر رکھ کر ہو رہی پر تشدد وارداتمعاشرے کے باہمی تعلقات کو تباہ کر دیتی ہیں۔ ایسے چلن ہماری روایت کا حصہ نہیں ہو سکتے۔ ملک کے ہر ایک شخص کو قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر چلنا ہوگا۔ معاشرے میں لنچنگ جیسے واقعات نہ ہوں، اس کے لئے سوئم سیوک کوشاں رہتے ہیں۔ ایسے واقعات میں ملوث افراد کی سنگھ کبھی حمایت نہیں کرتا۔ سرسنگھ چالک نے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سماج کو بانٹنے کی وسیع سازش چل رہی ہے۔ ’’لنچنگ‘‘ جیسے الفاظ کے استعمال سے ہندو سماج کو بدنام کرنا اور دیگر حصوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اشتعال انگیز زبان اور کاموں سے سب کو بچنا چاہئے۔ ایسے واقعات کو روکنے کے لئے قانون پر سختی سے عمل ہونا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *