رب العالمین ،رب المسلمین سے زیادہ طاقتور ہے

Share Article

اسد مفتی
سعودی عرب کے 70علماء بشمول امام کعبۃ اللہ نے ٹیلی فون پر ’’ہیلو‘‘ کہنے کو حرام قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے فتویٰ دیا ہے کہ انگریزی زبان میں ’’ہیل‘‘ جہنم کو کہتے ہیں اور ہیلو کے معنیٰ جہنمی بنتا ہے، اس لئے کسی بھی شخص کو جہنمی کہنا حرام ہے۔ اس سلسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سروے اور تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ انگریز (انگریز سے علماء حضرات کی مراد یورپین ہے) جب خود بھی فون کرتے ہیں یا وصول کرتے ہیں تو ’’ہائے، Ya ، Hi ہیلو، واؤ‘‘ استعمال کرتے ہیں، اسی طرح مسلمانوں میں بھی ’’ ہائے، ہیلو‘‘ کا رواج پڑ گیا ہے، وہ بھی کافروں کی نقل میں یہی کچھ کہتے ہیں۔ امام کعبہ اور 70 علمائے کرام نے ہیلو کہنے سے مسلمانوں کو سختی سے منع کیا ہے۔
ادھر پاکستان میں جامعہ نعیمیہ کے ترجمان محمد ضیاء الحق نقشبندی کے مطابق دارالافتاء جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور کے جید عالم دین علامہ مفتی محمد عمران حنفی قادری (جو اتفاق سے امام کعبہ نہیں ہیں)نے موبائل، ٹیلی فون یا کسی کو مخاطب کرنے یا متوجہ کرنے کے لئے ’’ ہیلو‘‘ (Hello)کہنا جائز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لفظ لغت کے مطابق دوسرے کو متوجہ کرنے ، پکارنے اور خوش آمدید کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے کہ اس لفظ کی وضع ہی دوسرے کو متوجہ کرنے، پکارنے اورسلام کرنے کے لئے ہوتی ہے اور جن مفتیان کرام نے لفظ ’’ہیلو‘‘ کے استعمال کو حرام کہا ہے، ان کا فتویٰ تحقیقی اعتبار سے شرعاً درست نہیں ہے۔ لفظ ہیلو یہود ونصاریٰ سے ہماری طرف آیا ہے اور یہ دونوں مذہب جنت وجہنم پر اعتقاد رکھتے ہیں اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ (یہودی و عیسائی) ایک دوسرے کو دوزخی یا جہنمی کہہ کر پکاریں؟ تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ ’’ ہیلو‘‘ کا استعمال کرسکتے ہیں، اس کے کہنے پر کوئی شرعی ممانعت نہیں۔
میرے حساب سے امت یا ملت اسلامیہ یا مسلمان یا جیسا بھی آپ کہہ لیں، ایک ایسا مریض ہے، جو عطائیوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔ ہر نیم حکیم اپنے الٹے سیدھے نسخے مریض پر آزماتا ہے اور اس بات پر مصر ہے کہ خلفائے راشدین اسی کے مطب سے دوا لیتے تھے اور اسی کے نسخے سے مریض کو شفا نصیب ہوگی۔ جب کہ مریض کا حال یہ ہے کہ ’’ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘۔ آج اس مریض ملت اسلامیہ کے دینی، سماجی، اخلاقی، ثقافتی، روحانی اور سیاسی امراض اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ اس ملت کو بلا خوف و تردید جاں بلب مریض سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ اس سے پہلے کہ میں اگلے واقعہ کا ذکر کروں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے معروف عالم دین ڈاکٹر اسرار مرحوم نے اپنی تحریر’’ عالم اسلام کی اقتصادی اور سیاسی صورت حال‘‘ میں انکشاف کیا ہے کہ ’’مسلمان عورت کا گاڑی ڈرائیو کرنا یہودیوں کی سازش ہے‘‘۔
آج کے مسلمانوں کی راہنمائی کرنے والے ملاؤں، مولویوں اور نام نہاد علمائے کرام کی اکثریت ساتویں اور آٹھویں صدی کی اسلامی ریاست کو مثالی سمجھتی ہے اور ان کا یقین ہے کہ ان روایات کی بحالی ہی دنیا پر اسلام کو غلبہ دلانے کا واحد راستہ ہے۔ اس کی مثال حال ہی میں ملیشیا نے پیش کی ہے۔ ملیشیا کی سلانگر ریاست میں غیرمسلموں سے کہا گیا ہے کہ وہ 35 اسلامی لفظوں اور اصطلاحوں کے استعمال سے گریز کریں۔کافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان اسلامی لفظوں اور اصطلاحوں کو حوالے کے طور پر بھی استعمال نہ کریں۔ جن اسلامی نام اور اصطلاحوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، ان میں لفظ ’’ اللہ‘‘ بھی شامل ہے۔ غیر مسلموں اور کافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان اسلامی ناموں، اصطلاحوں اور لفظوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کے دوران تحریری طور پر یا زبانی طور پر بھی استعمال نہ کریں۔ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر سلانگری شرعی فوجداری ترمیمی قانون 1995کے تحت 30,000رنگٹ (ایک رنگٹ لگ بھگ بیس روپے کے برابر ہے) جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دوسال قید یا دونوں سزائیں (اللہ کا نام لینے پر) ایک ساتھ دی جاسکتی ہیں۔ آپ کی معلومات اور دلچسپی کے لئے یہ بھی بتاتا چلوں کہ جن اسلامی ناموں اور اصطلاحوں کے غیر مسلموں اور کافروں کی جانب سے استعمال پر امتناع عائد کیا گیا ہے، ان میں حسب ذیل نام شامل ہیں ’’ اللہ، الٰہی، فرمان، رسول، صلوٰۃ، مبلغ، مفتی، امام، کعبہ، قبلہ، حاجی وغیرہ۔ سلانگر کے اسلامی مذہبی امور کے ڈاکٹر محمد منادی نے کہا ہے کہ 35اسلامی ناموں اور اصطلاحوں کو سوائے تبلیغ اسلام کے کسی دوسرے مذاہب کی تبلیغ کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ غیر اسلامی فروغ فرنٹ ایکٹ کے تحت یہ امتناع عائد کیا گیا ہے۔ یہ پابندی ایک ایسے وقت پر لگائی گئی ہے، جب کہ ملیشیا کے طول وعرض میں مذہبی کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، جب سے ملیشیائی ہائی کورٹ نے عیسائیوں کو لفظ اللہ کے استعمال کی اجازت دی ہے، اس وقت سے زبردست مذہبی کشیدگی پیداہوگئی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد آٹھ چرچوں کو آگ لگانے اور حملوں کے واقعات ہوچکے ہیں۔ ان واقعات سے قبل ملیشیا کی وزارت داخلہ نے وضاحت جاری کی تھی کہ ملیشیا میں صرف مسلمان ہی لفظ ’’اللہ‘‘ کا استعمال کرسکتے ہیں۔ جب کہ میرے حساب سے مقدس لفظ ’’اللہ‘‘ ساری دنیا کو متحد کرنے والا ایک لفظ ہے، لیکن یہی لفظ ملیشیا میں وجہ نزاع بن گیا ہے۔ ملیشیا میں اسلام ایک غالب مذہب ہے۔ یہ جھگڑا ملیشیا میں اس وقت شروع ہوا جب صباح اور سراواک ریاستوں کے عیسائیوں نے اپنی خبروں کے بلیٹن میں لفظ ’’اللہ‘‘ شروع کیا۔ اس کے فوراً بعد چند مذہبی راہنماؤں نے اس لفظ پر اعتراض کیا کہ لفظ ’’اللہ‘‘ صرف مسلمان ہی استعمال کرسکتے ہیں۔ملیشیا ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ عیسائی بھی اللہ کا لفظ استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ جھگڑا جاری ہے، بلکہ شدت اختیار کرگیا۔ مسلمانوں نے اپنی ہی عدالت کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد گرجاگھروں پر حملوں کے واقعات پیش آئے۔ اس گڑبڑ اور ہنگاموں کے بعد وزارت داخلہ نے عیسائیوں کے اس لٹریچر کو ضبط کرلیا، جس میں لفظ ’’ اللہ‘‘ کا استعمال کیا گیا تھا۔ ملیشیا کے ماہرتعلیم مسلم عالم ڈاکٹر چندر مظفر نے کہا ہے کہ لفظ اللہ کے استعمال کو نہیں روکا جاسکتا، لیکن بے جا مقاصد کے لئے لفظ اللہ کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ڈاکٹر مظفر نے بتایا کہ سکھوں کی مقدس کتاب ’’گروگرنتھ صاحب‘‘ میں 28مرتبہ لفظ اللہ کا استعمال ہوا ہے۔ اس کے خلاف کسی مسلمان نے احتجاج نہیں کیا، جب عیسائیوں نے لفظ اللہ کو استعمال کیا تو ہنگامے اور اعتراضات شروع ہوگئے۔ کہتے ہیں، جب ہلاکو خان بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے منزلوں پہ منزلیں مارتا چلا آرہا تھا تو دین اسلام کے کبیر وصغیر مذہبی علماء، مفتیان شریعت اور امہ کے راہنما اس سوال پر دست وگریباں تھے۔ دوران نماز ’’آمین‘‘ اونچے سروں میں کہنی چاہئے کہ دبی زبان سے؟ ایک مکتبہ فکر اسی فکر میں غلطاں تھا کہ احرام کی حالت میں جوں اور مچھر مارنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں ہے تو کیسے بچاجائے اور ارتکاب کرے تو اس پر کیا واجب ہو گا؟ دوسرا مکتبہ فکر اس بحث ومباحثہ میں مشغول تھاکہ وضو کرتے ہوئے دائیں پاؤں پر زور دینا چاہئے کہ بائیں پاؤں پر ؟ تیسرا اس بات پر عقل کے گھوڑے دوڑا رہا تھا کہ سوئی کے ناکے سے فرشتہ گزر سکتا ہے یا نہیں؟ چوتھا اس مباحثہ میں دور کی کوڑی لارہا تھا کہ جس وضو میں مسواک کی جائے، اس سے پڑھی جانے والی نماز کا ثواب بغیر مسواک کئے ہوئے وضو کی نماز سے 70درجہ زیادہ ہوتا ہے یا50درجہ؟اسی طرح دوسرے کئی فرقے اس بحث میں مصروف تھے کہ حضرت امام حسین جب کربلا میں آئے تو انہوں نے سبز کپڑے پہن رکھے تھے یا سیاہ؟ یا یہ کہ قبلہ کا رخ کرکے وضو کرنا واحب ہے یا مستحب؟
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ دبے، کچلے اور ستائے ہوئے لوگوں کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف کبھی متحد نہیں ہوپاتے اور ان کا حد درجہ شاطر اور چالاک دشمن ان کی صفوں میں انتشارپیدا کرکے انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
آگے جبینِ شوق تجھے اختیار ہے
یہ دیرہے، یہ کعبہ ہے، یہ کوئے یار ہے

Share Article

One thought on “رب العالمین ،رب المسلمین سے زیادہ طاقتور ہے

  • June 23, 2011 at 10:41 pm
    Permalink

    اسد مفتی تمہیں اتنا بھی پتا نہیں کہ ،رب العالمین ،رب المسلمین سے مراد وہی ایک خدا ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *