حیدر طبا طبائی،لندن، یو کے
انیسوی صدی میں تین ایسی شخصیات یوروپ میں پیدا ہوئیں، جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں انقلاب برپا کردیا۔ یہ شخصیات ہیں، کارل مارکس، چارلس ڈارون اور سگمنڈ فرائڈ۔ ان ہستیوں کے پیدا کردہ انقلاب کا اثر پورے کرۂ ارض پر پھیلتا چلا گیا۔ سارا معاشرہ ان تینوں کے انقلاب کے پیغام کو سمجھ چکا تھا۔ ان کی افکار و نظریات اور دریافتوں سے متاثر ہوچکا تھا۔ خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں نے عقائد کی دنیا میں زلزلہ بپا کردیا۔ مغرب میں مسیحی کلیسا نے بھر پور مخالفت کی۔ ایک اہم بات یہ تھی کہ کلیساؤں کی نن کے سروں پر سے اسکارف اتار دیا گیا، جو آج تک قائم ہے۔
اس دفعہ ٹوری حکومت نے نئی چال یہ چلی ہے کہ مسلم خواتین سے ان کا برقع چھین لیا جائے۔ ٹوری کی چیئرپرسن و وفاقی وزیر سعیدہ وارثی نے واضح لفظوں میں یہ کہہ دیا ہے کہ حکومت برقع پر پابندی کی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک آزادیٔ اظہار کو اہمیت دیتا ہے اور ہم عبادت کی آزادی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ لیبر پارٹی کے لوگوں نے جواب میں کہا کہ یہ ووٹ کی سیاست ہے، ورنہ فرانس اور یوروپ کے چند دوسرے ممالک میں یہ پابندی عاید ہوچکی ہے۔
ایک دوسری رپورٹ میں ٹونی بلیئر کی کابینہ کی ایک سابق وزیر مس سیلی کیبل نے عراقی جنگ انکوائری کمیشن کو ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ بلیئر کو جنگی منصوبہ بندی نہیں آتی تھی، ان کی تباہ کن پالیسی کی وجہ سے لاکھوں جانیں گئیں۔انہوں نے کہا کہ برطانوی افسران کو عربی زبان نہیں آتی تھی، اس سے اور بھی بے گناہ قتل ہوئے۔ برطانوی میڈیکل سپلائی میں رکاوٹیں آئیں۔ مالیاتی نظام پر تشویش کا آغاز ہوا۔ عراق میں سب سے پہلے بین الاقوامی ترقی کے فنڈ سے 2010تک تین سو ملین پاؤنڈ بے وجہ خرچ ہوچکے ہیں۔ ایک حکومتی آرڈر کے تحت ٹوری حکومت نے برطانوی پولس سے بغیر وارنٹ کے سرچ کرنے کا حق چھین لیا ہے۔اب برطانیہ میں پولس بلا جواز اسٹاپ اینڈ سرچ کی قطعی اجازت نہیں رکھتی ہے۔ وزیر داخلہ مس تھریسامے نے کہا ہے کہ لوگوں کے گھروں میںد اخل ہو کر تلاشی اب ختم کی جاتی ہے۔ اب اسکاٹ لینڈ یارڈ کا کریک ڈاؤن ختم ہوا۔ ایک دوسرے حکم کے تحت یوروپین کورٹ آف ہیومین رائٹس نے ان چار افراد کو امریکہ کے حوالے کرنے سے منع کردیا ہے ، جن میں ایک مصری پیش امام ابو حمزہ اور تین پاکستانی شامل ہیں۔ یہ سب برطانوی جیل میں ہیں اور امریکہ کو دہشت گردی میں مطلوب ہیں۔ اب امریکی حکومت برطانیہ سے کچھ بھی کہے ، وہ یہاں کی عدالت کے سامنے بیکار ہوگا۔ گزشتہ 7جولائی کو 5سال قبل لندن کی انڈر گراؤنڈ میں ہونے والے دھماکوں کی یاد منائی گئی اور ہائیڈپارک میں 7ستون نصب کر کے ایک یادگار تعمیر کی جارہی ہے۔
ملکہ الزبتھ کناڈا کے قومی دن کے جشن میں شرکت کے بعد نیویارک گئیں اور جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ دنیا کی سلامتی، خوشحالی اور وقار کا احترام یقینی بنائے۔ ملکہ نے 1945سے یو این او کے قیام کے بعد سے اس ادارے کی تعریف کی، اس کے بعد ملکہ 9/11کے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے گراؤنڈ زیرو بھی گئیں۔
اس ہفتے لندن میں 13برطانوی فوجیوں کے جنازے کابل سے لائے گئے۔ یہ فوجی غزنی و کابل میں طالبان کے خلاف آپریشن میں مصروف تھے اور مارے گئے۔ نیٹو کی افواج اور افغان حکام نے اظہار مذمت کرتے ہوئے سخت افسوس ظاہر کیا ہے۔ ان جنازوں کا اثر برطانوی عوام میں سخت برہمی پیدا کردیتا ہے۔
ملک بھر کی سڑکوں پر لگے اسپیڈ کیمروں کی مدد سے سالانہ 65ملین پونڈ کے جرمانے وصول ہورہے ہیں اور انہی کیمروں کی مدد سے سڑکوں کے چوراہوں پر لگی لال بتی کی مدد سے تیز رفتار کاروں و دیگر موٹروں کے ذریعے ضابطوں کی خلاف ورزی پر 87.3ملین پونڈ کا جرمانہ وصول ہوا ہے۔ اس میں ایک سال میں مجموعی طور پر کاروں کے مالکان سے وصول کی گئی رقم 57لاکھ 48ہزار 850ملین شامل ہیں۔
لیکن آئندہ سال برطانوی کمپنیوں کو کار وباری دیوالیہ کی دوسری لہر کا سامنا پڑسکتا ہے۔ بڑی فرمیں بھی اب مالی مشکلات سے دو چار ہیں۔
وزارت داخلہ نے 7/7کے حملوں کے متعلق مسلمانان برطانیہ کے نقطۂ نظر پر مبنی ایک کتاب شائع کی ہے، یہ کتاب محبت، امید اور برداشت کا پیغام دیتی ہے اور بلاوجہ مسلمانوں کو ستانے والوں کے خلاف ہے۔ رابرٹ عبارٹ ایم پی نے کہا ہے کہ اس کتاب کی اشاعت کے بعد ان مبصرین سے سوال کیے جاسکتے ہیں جو ہر واقعہ کے پس منظر میں مسلمانوں کو تعصب کی رنگین عینک سے دیکھتے ہیں۔
ایک نئی اسٹڈی کے مطابق برطانوی عوام کے موڈ میں موسم کا کردار اہم ہوتا ہے۔ اچھا موسم لوگوں کے لیے خوشی کا پیغام لاتا ہے۔ تیز بارش آفتاب کی چمک قوس و قزح سے یہاں کی خواتین بہت خوش ہوتی ہیں، جو لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈ کو ڈیٹ نہیں دے رہی ہوتی ہیں، وہ خوشگوار موسم میں ان کے ہمراہ باہر جانے پر راضی ہوجاتی ہیں۔
خلیج میکسیکو میں امریکی تیل کے اخراج سے برٹش پٹرولیم کو تیل کی قیمت بڑھانا پڑے گی۔ برطانوی پٹرولیم کو سخت مشکل پیش آسکتی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ برٹش پٹرولیم دیوالیہ تک ہوسکتی ہے۔ اس کی وجہ سے ایک ہنگامی منصوبہ پر کام ہورہا ہے۔برطانوی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں بوڑھے لوگوں اور جوانوں کی طلاق زیادہ تر صرف خراٹوں کی وجہ سے ہو رہی ہیں ۔ طلاق کی شرح میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ طلاق جسمانی امراض یا زیادہ شراب نوشی سے لاحق نامردی کی وجہ سے ہوتی ہے، لیکن اس مسئلہ سے سماجی سطح پر تغافل کا عمل نہیں بڑھے گا، لیکن اس پر قابو پانا بھی ممکن نہیں۔ ایک طلاق شدہ جوڑا پھر سے شادی کرلیتا ہے یا ہمراہ زندگی گزارتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here