لندن نامہ

Share Article

حیدر طبا طبائی ،لندن ، یو کے
یونان اور البانیہ کے سفر کے بعد جب لندن آیا تو پھر میری بالیں پر اٹھا شور قیامت۔ یہ شور انگریز نسل پرستوں کی جانب سے لندن سے پچاس میل کی دوری پر واقع شہر سیٹر میں اٹھا اور شان سے اٹھا۔ یہاں تک انگلش ڈیفنس لیگ کے مظاہرے میں تشدد بھڑک اٹھا۔ متعصب انگریزوں نے پولس پر ، صحافیوں پر ، پاکستانیوں پر دھواں بم برسا دئے۔ پھر بھی گولی نہیں چلی اور پولس کی جانب سے صورتحال کنٹرول کر لی گئی۔ نو اکتوبر کو صبح دس بجے یہ گورے ایک پارک میں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایشیائی نژاد افریقی اور عرب نژاد افراد کو برطانیہ بدر کر دیا جائے۔ شہرسیٹر کی تاریخ میں پچاسی سال سے اتنا بڑا آپریشن نہیں ہوا تھا۔ مظاہرین سے نمٹنے کے لئے 12مختلف فورس کی شکل میں چودہ سو پولس والے شہر بھر میں گشت کر رہے تھے۔ دوسری جانب پاکستانیوں کی جانب سے بنائی گئی ’’یونائٹ اگینسٹ فاشزم لیگ‘‘ نے بھی مظاہرہ کیا۔ دونوں جانب سے ایک ایک ہزار سے زیادہ مرد و زن شریک مظاہرہ تھے کہ یکایک انگریزوں نے دھواں بم پھینکنا شروع کر دئے ۔ اس سے افرا تفری مچ گئی۔ پولس نے دھکا مکی کر کے انگریزوں کے مجمع سے کئی افراد کو گرفتارکر لیا۔ یہ لوگ گھریلو ساخت کے میزائل بھی بنا کر لائے تھے۔ جو پولس نے ضبط کر لئے۔ بڑی ہڑدنگ کے بعد شہر میں شانتی کی دیوی نمودار ہوئی۔ اب سیٹر سے تھوڑا اور آگے بڑھیں مانچسٹر میں سڑک پر عابد علی بیرسٹر نے ایک عوامی عدالت لگائی ہوئی تھی۔ وہ خود جج تھے ۔ملزم کے کٹہرے میں پرویز مشرف کا پتلا جو لکڑی کا بنا ہوا تھا کھڑا تھا۔ عوامی وکیل اور پرویز مشرف کے وکیل میں جرح ہوئی ۔ آخری فیصلہ یہ سنایا گیا کہ پرویز مشرف کو تختہ دار پر لٹکایا جائے ۔ پھر اسی کاٹ کے مشرف کو پھانسی ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد اصلی مشرف نمودار ہوئے۔ جبکہ ان کے طرفداروں اور مخالفین کے فلک شگاف نعرے بلند ہو رہے تھے۔ وہ کار سے سخت پہرے میں اترے اور اس ہال میں چلے گئے جہاں جلسہ ہو رہا تھا۔ ان کی تقریر کا محور داخلی خلفشار تھا۔ 9اکتوبر کو مانچسٹر بھی غل غپاڑے سے گھرا ہوا تھا۔
لندن سے تھوڑی دور بیڈ فورڈ شائیر جہاں پاکستان کی گھنی آبادی ہے۔ دو پاکستانی گروپ آپس میں لڑ پڑے ۔ آخر کار ایک شخص کو ہلاک کر دیا گیا۔ جس کی عمر چالیس سال بتائی جاتی ہے۔ پولس نے اس سلسلہ میں کئی افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
گزشتہ روز لندن شہر کی دو بندرگاہوں پر چھاپے مارے گئے۔ ایک تو وسط شہر میں واقع بندر گاہ چنیل ٹنل ہے۔ جہاں سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے جہاز روانہ ہوتے تھے اور ابھی تک اس مردہ کمپنی کا بورڈ آویزاں ہے۔ دوسرا چھاپہ ڈور کی بندرگاہ پر پڑا جہاں سے دھڑلے سے منی لانڈرنگ ہو رہی ہے۔ پولس کو منیجر سیٹ پر رکھے کریئر بیگ سے 43ہزار اور37ہزار برٹش پونڈ برآمد ہوئے۔ ایک 29سالہ انگریز شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ مواد مخدرجب برطانیہ وارد ہوتا ہے تو نقد پونڈ میں فروخت ہوتا ہے۔اگر آپ نے اپنے برٹش بینک کے اکائونٹ میں تین ہزار پونڈ سے زیادہ کی رقم جمع کروائی تب فوراً برطانوی انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ آپ سے سوال کر ے گا کہ یہ تین ہزار پونڈ آپ کو کہاں سے ملے اور زیادہ رقم خود بینک قبول نہیں کرے گا جب تک آپ کیش وائوچر نہ لے جائیں۔ دکانداروں کے اکائونٹ الگ ہوتے ہیں۔ان کو بھی کیش وائوچر پیش کرنا پڑتے ہیں، جو ان پر لگنے والے انکم ٹیکس کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں آپ جتنی رقم جمع کروادیں بینک قبول کر لے گا۔ بعد میں ہو سکتا ہے کہ انفورسمنٹ والے آپ سے انکوائری کریں۔ برٹش طریقہ کار زیادہ بہتر ہے۔ لوگ کالی کمائی کے پونڈ لے کر فرانس یا جرمنی چلے جاتے ہیں، جہاں سے سونے کے  بسکٹ خرید کر لندن لا کر فروخت کر دیتے ہیں یا پھر وہاں کے بینکوں میں جمع کروا کر رقم لندن تبادلہ کروا لیتے ہیں۔
ڈیوڈ کیمرون نے ملکہ عالیہ کو محل اور اپنے سفری اخراجات کم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس پر برطانوی اخباروں نے لکھا ہے کہ کیمرون خود بھی ملکۂ برطانیہ کے عزیز دار ہیں پھر بھی کڑے ناقد ہیں۔
ایک نیا قانونی بل نافذ العمل ہو گیا ہے جس کے تحت خانگی تشدد میں قا تل اب سخت سزا سے بچ سکیں گے۔ بس کوئی میاں یا بیوی یہ ثابت کر دے کہ شریک زندگی خراب تھا۔ اس لئے قتل کر دیا تو عمر قید سے بھی کم سزا ملے گی۔
سعودی عرب کے شاہی خاندان کے ایک رکن شہزادہ عبد العزیز بن ناصر السعود پر لندن کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ پہلی پیشی پر بتایا گیا کہ ملزم نے ایک خوبصورت لڑکے کو اس لئے ملازم رکھا کہ وہ اس سے اپنی جنسی پیاس بھی بجھا سکے۔دونوں لندن کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں مقیم تھے کہ ملازم جو بیس سال کا تھا اس کی لاش ملی۔ اسی شام سی سی ٹی وی نے ظاہر کیا تھا کہ کیمرے میں جانے سے پہلے شہزادے نے ملازم کو ہنٹ میں خوب مارا پیٹا تھا اور صبح اس کی لاش ملی۔ اگلی پیشی پر فیصلہ سنایا جائے گا۔ برطانوی و غیر ملکی قیدوں پر تشدد کے خلاف مساوات اور حقوق انسانی کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ جرم ثابت ہونے پر بھی قیدی کو مارا پیٹا نہیں جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں یو این او سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ بار کلے بینک نے عجیب و غریب اعلان یہ کیا کہ جیل میں قیدیوں سے کام لیا جاتا ہے اور اجرت کے طور پر جو رقم ان کو ملتی ہے، وہ آزادی حاصل ہونے پر ہزاروں پونڈ کی شکل میں دی جاتی ہے۔ اب بار کلے بینک والے جیل کے اندر برانچ کھولیں گے تاکہ قیدی اپنی محنت کی کمائی جمع کرے اور اس کو سود ملے۔ جب وہ آزاد ہوگا تو اس کی رقم زیادہ ہو جائے گی۔ اس بات کی اجازت حکومت نے دے دی ہے۔
ٹرینڈ یونین نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمتوں سے خواتین کی تعداد کیوں کم کی جا رہی ہے۔ بہانہ یہ ہے کہ وہ چھٹی زیادہ لیتی ہیں۔ ٹرینڈ یونین کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت کو خواتین کا خیال رکھنا چاہئے۔
لندن انڈر گرائونڈ کا ایک پاکستانی نژاد ڈرائیور امیر علی گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاری اس کی بیوی کی شکایت پر عمل میں آئی۔ اس نے اپنی بیوی کو خط لکھا کہ آج شام کی فلائٹ سے میں اسلام آباد جا رہا ہوں۔ جہاں سے کابل جا کر جہاد کروں گا۔ جہاد اللہ کی راہ میں مجھ پر واجب ہے۔ امیر علی کے دو بچے ہیں، جن کی عمریں 4سال اور3سال کی ہیں۔ اس نے گرفتاری کے وقت بھی یہ بیان دیا کہ جب رہا ہوں گا تب جا کر جہاد کروں گا۔
لندن میں سردی بہت پڑ رہی ہے۔ رات بھر ہیٹنگ جلانا پڑتی ہے۔ تمام خوبصورت پرندے گرم ممالک کی جانب پرواز کر چکے ہیں۔ اب سر شام سے کہرے کے بادل چھائے رہتے ہیں۔ ورنہ گرمیوں میں اترتی شام ، بسیروں کی طرف لوٹتے پرندوں، متنوع رنگ لہراتے پانی پر ان کا عکس اور درختوں کے گہرے سائے میں اپنے اپنے آشیانوں میں چلے جاتے تھے۔ اب میرا آنگن بھی رنگ برنگی خوبصورت چڑیوں سے خالی ہے۔ ان پرندوں کے لئے دو مچان بنا کر دانہ اور پانی ڈال کر میں سفر پر گیا تھا۔ آیا تو دانے کا ایک دانہ بھی کم نہ تھا۔ کسی نے خوب کہا ہے ؎
جن درختوں پر پرندوں کے بیسرے نہیں ہوتے
دراز جتنے بھی ہوں وہ معتبر نہیں ہوتے

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *