لندن نامہ

Share Article

حیدر طبا طبائی، لندن ، یو کے
چمن میں رنگ و بو نے اس قدر دھوکے دئے مجھ کو
کہ میں نے ذوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی
دھوکے کھانے اور ذوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دینے میں کوئی ہمارا ثانی نہیں ہے۔ برسوں ہماری ننگی پیٹھ پر غلام سمجھ کر نو آباد یاتی نظام کے کوڑے برسانے والوں کے ظلم سے ہمارا عضوعضو دکھتا رہا۔لہو رستا رہا زخموں سے۔ نڈھال ہونے کے بعد جب آزادی ملی تو ماضی کی تاریخ کو کسی سیلن زدہ اندھیری کوٹھری میں پھینک دیا اور ہم لوگ انگلستان چلے آئے جہاں مسلمان حرام گوشت کھاتے رہے ، بیچنے والے بھی حرام فروش تھے اور آج بھی جو حلال گوشت برطانیہ، یوروپ ، امریکہ اورکناڈا میں ملتا ہے وہ حلال نہیں ہوتا۔ اب یہ ہوتا ہے کہ جانور کوبے ہوش کر کے ذبح کیا جاتا ہے۔ بے ہوشی کا عرصہ صرف پانچ سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ اس پانچ سیکنڈ کی معمولی بے ہوشی میں اسے ذبح کر دیا جاتا ہے۔ جس سے سارا خون جانور کے بدن کے اندر رہ جاتا ہے۔ اب برطانیہ کی فارم ویلفیئر اینیمل کونسل نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ جھوٹاذبح کرنا بند کیا جائے اور حلال گوشت پر پابندی عائد کر دی جائے۔
اب دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔مرغ کا گوشت سراسر حرام ہوتا ہے۔ ایک مشین میں مرغ کی ٹانگیں و چونچ باندھ دی جاتی ہیں۔ مشین میں ایک چھری فٹ ہوتی ہے ۔ مشین چلتے ہی مرغ چھری پر پہنچ جاتا ہے اور کٹ جاتا ہے ۔ چھری پر انگریزی میں کلمۂ توحید لکھا ہوتا ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ :
گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے
سردی لگی تو خود کو دو بارہ پہن لیا
برطانیہ تو آگئے لیکن خواتین کو مارنا یا مارڈالنے کی عادت نہیں گئی۔ گزشتہ روز بریڈ فورڈ میں ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی 25سالہ خوبصورت بیوی کو لڑائی میں ہتھوڑی کھینچ کر ماری تو اس نے وہیں دم توڑ دیا۔ وہ دو بچوں کی ماں تھی اور شوہرکی عمر صرف35سال کی ہے۔ اب وہ جیل میں ہے اور بچے سرکاری نرسری میں۔
ایک خبر کے مطابق برطانیہ میں سب سے زیادہ اموات چاقومارنے سے ہوتی ہیں۔ قتل کی وارداتوں میں چاقو کا استعمال زیادہ ہوتاہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ رواں سال کے درمیان اب تک 14افراد کا قتل چاقو مار کرکیا گیا ہے۔ یہ 14افراد لندن کے تھے، باقی کا شمار نہیں ہواہے۔ بتایا جاتاہے کہ برطانیہ میں40فیصد وارداتوں میں خنجر زنی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود برطانیہ میں چاقو سے مارنے کی شرح یوروپ کے دوسرے ممالک سے کم ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال یوروپ میں پندرہ ہزار افراد کا قتل ہوتا ہے۔ جس میں پچیس فیصد خواتین ہوتی ہیں۔ ان میں چالیس فیصد وارداتوں میں چاقو کا استعمال ہوتا ہے۔ ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صرف کاریں 60کروڑ چلتی ہیں۔ جس میں ٹرک، ویگن اور بسوں کا شمار نہیں ہے۔ دنیا کی آبادی میں ہر سال 62لاکھ افراد کااضافہ ہورہا ہے۔ ہر سال چار کروڑ 79لاکھ نئی کاریں بنائی جاتی ہیں۔ گزشتہ دنوں کار فری ڈے منایا گیا صرف ایک فیصد لوگ پیدل ،بس ،ٹرین یا سائیکل سے چلے۔بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ کے ایندھن سے آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔
اس سال لندن کا مادام تساد میوزیم دیوالی منائے گا۔ جس میں خاص طور سے شرکت کرنے ممبئی سے امیتابھ بچن ، شاہ رخ خان، سلمان خان اور ایشوریہ رائے بچن آ رہے ہیں۔ یہ پروگرام میوزیم کے اندر دئے روشن کر کے رقص و میوزک کے ساتھ 16,17,18اکتوبر کو منعقد ہوگا اور ہندوستانی مٹھائیاں بھی تقسیم ہوں گی۔ عید کے دن تو شہر بھر میںرقص ہوتا ہے۔ اکثر انگریز راستہ چلتے ہوئے کہتے ہیں عید مبارک۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری شعبے میں نو ہزار ملازمین کی تنخواہ وزیر اعظم برطانیہ کی تنخواہ سے زیادہ ہے۔ ڈیوڈ کیمرون کی سالانہ تنخواہ ایک لاکھ بیالیس ہزار 500پائونڈ ہے۔ برطانیہ میں38ہزار افراد ایک لاکھ 75ہزار سالانہ اور ایک ہزار افرادکو دو لاکھ پائونڈ سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔برطانیہ کے نوجوان نائب وزیر اعظم نک کلیگ نے بتایا ہے کہ چائلڈ بینیفٹ سے دستبردار ہوتا ہوں،جو ان کو دو ہزار 450پائونڈ ملتا ہے۔ اس طرح زیادہ تنخواہ پانے والوں کو شاید غیرت آئے۔
برطانوی عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر آپ کو ذہنی دبائو ہے تو آپ کار ڈرائیو نہ کریں ورنہ کئی جانیں جا سکتی ہیں۔ ایک شو ہر جو ہرروز اپنی بیوی سے لڑتا تھا ،اس کی بیوی جب کار سے شاپنگ کرنے نکلی تو تین دوسرے افراد کو مارا اور خود بھی مر گئی۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ذہنی دبائو کار چلانے سے 33فیصد بڑھ جاتا ہے۔اگر آپ کبھی لندن آئیں تو اتوار کے دن کسی گورستان میں جائیں تو چھوٹے چھوٹے بچے اور جو ان بیوائوں کی بھیڑ دیکھیں گے۔ جن کے شوہر عراق یا افغانستان کی جنگ میں مارے گئے ۔ یہی حال ملک بھر کے ہر شہر میں ملے گا۔ اس سلسلے میں فوجیوں کی یونین نے وزیر اعظم، وزیر دفاع اور پرنس چارلس سے کہا ہے کہ وہ بھی کبھی ملک کے ان سورمائوں کی قبروں پر پھول رکھ جائیں۔حالانکہ انہیں یہ بھی کہنا چاہئے تھا کہ یہ سورما اپنے وطن کی حفاظت کے لئے فوج میں بھرتی ہوئے تھے لیکن اپنے وطن سے ہزاروں میل دور جا کر کیوں مارے گئے اور ان کے تابوت واپس آئے!۔
سینٹرل لندن کے علاقے میں گزشتہ روز ایک لڑکی اپنی گرم شال میں لپیٹ کر چند گھنٹے قبل جنم لینے والے اپنے بیٹے کو ایک مکان کی چوکھٹ پر علی الصبح رکھ کر بھاگ گئی۔جب نوزائیدہ نے بھوک سے رونا شروع کیا تو گھر کی مالکن بھاگی ہوئی آئی تونوزائیدہ بچے کو دیکھ کر خود بھی رونے لگی اور فون کر کے پولس کو بلوایا۔ پولس اسے اسپتال لے گئی ۔ بچہ اب صحت مند ہے۔ یہ باتیں برطانیہ بھر میں برابر ہوتی رہتی ہیں۔ یوروپ نے کتنی ترقی کی ہے لیکن یہ باتیں نہیں تھم پاتی ہیں۔
اس قسم کے بھیانک جنسی جرائم میں شاہزادوں سے لے کر وزیر زادگان تجارت پیشہ لوگ اور عمائدین شہر لندن بھی شامل ہیں جو انگریز کالی لڑکیوں سے  منھ کالا کرتے ہیں ان کے بطن سے ایک نئی نسل سرخ و سیاہ پیدا ہوتی ہے، جو لندن بھر میں دیکھی جا سکتی ہے۔

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *