لندن نامہ

Share Article

حیدر طبا طبائی، لندن، یو کے
ٹونی بلیئر اس قسم کے سیاسی بھجنگ ہیں جس کا زہر رال کی طرح سے ہر وقت ٹپکتا رہتا ہے۔ لوگوں سے رقم اینٹھنے کے لئے انھوں نے اپنی یادداشت پر مبنی ایک کتاب شائع کی ہے،جس کی اشاعت کے وقت انھوں نے فرمایاکہ ان مسلمانوں سے بھی بچنا چاہئے جو دہشت گردی کی حمایت نہ کریں، لیکن مسلمانوں کے تحفظ میں بیان دیتے ہوں۔دراصل ہر انسان نے جو صفات اپنے اسلاف سے ورثہ میں پائی ہیں اور عقائد کے جو آثار ان کے قلوب میں متمکن ہیں وہ اتنے کافی ہیں کہ ان کے لئے تھوڑی تنبیہ اور ایک ذرا سا اشارہ ہی بہت ہے۔ جس کے نتیجہ میں وہ شیروں کی طرح بپھریں گے۔ جو کچھ کھو چکے ہیں، اسے پالیں گے جو موجود ہے اس کی حفاظت کریں گے اور اللہ کی نظروں میں سرخرو ہوں گے یا اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا ورثہ ان کو اسلاف سے ملا ہو وہ وبا بن کر مکاری کریں گے اور وقت پڑنے پر دم دبا کر بھاگیں گے ۔ ٹونی بلیئر نے لندن میں اپنی کتاب کی رسم اجرا میں کہا کہ انتہا پسندی اسلام اورپوری دنیا کے لئے خطرہ ہے۔ انتہا پسند مسلمان اپنے کاز کے لئے کیمیائی ، حیاتیائی یا ایٹمی اسلحے کے استعمال سمیت جو کچھ کریں سب کو جائز سمجھتے ہیں( یاد رہے یہ تمام باتیں اسرائیلی60سال سے کر رہے ہیں اور امریکہ ان کی سر پر ستی کر رہا ہے)۔دوسرے دن آیئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں جب سابق برطانوی وزیر اعظم ٹی وی پر انٹر ویو کے لئے گئے تو پہلے سے وہاں کئی ہزار مرداور خواتین پلے کارڈ اٹھائے ہوئے کھڑے تھے۔جن پر لکھا تھا ’’وار کرمنل بلیئر گو بیک‘‘۔
اس مظاہرے میں ’’آئرش اینٹی وار موومنٹ‘‘ کے ہزار سے زیادہ مہم جو آرٹی اے اسٹیٹ ٹیلی ویژن ہیڈ کوارٹر کے گیٹ کے سامنے جمع ہو کر بلیئر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ جب بلیئر ایک کار میں ٹی وی کی عمارت پر آئے تو یہ نعرے فلک شگاف ہو گئے کہ کرمنل بلیئر، بلیئر گو بیک ۔ ان کی کار پر پلاسٹک کی بوتلیں ، انڈے اور جوتے برسائے گئے ،لیکن جارج بش کے دوست بلیئر پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ باکمال بے غیرتی سے ہنستا رہا۔
حکومت برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ عالمی سطح پر رشوت خوری اور فراڈ کی روک تھام کے لئے فنڈ فراہم کرے گا۔ ان اقدام کی روک تھام کے لئے پہلی قسط کے طور پر برطانوی حکومت کے ڈھائی لاکھ پائونڈ سے تشکیل پانے والی اینٹی کرپشن اکیڈمی ہے جس کا قیام آسٹریلیا کی دارالسلطنت وینا میں ہے ۔یہ اکادمی کرپشن کی روک تھام میں تربیت اور تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا اینٹی کرپشن سینٹر ہوگا اور اس کی توجہ کرپشن و کرمنالائزیشن کی روک تھام، بین الاقوامی سطح پر تعاون اور املاک کی بازیابی پر مبنی ہوگی۔
ٹیکس میں فراڈ دنیا بھر میں رسم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ برطانیہ میں ٹیکس کے حکام نے چھ بلین افراد کو ٹیکس کے واجبات کو غلط مالیت جمع کروانے کا مرتکب پایا ہے اور دو بلین پونڈ کی وصولی کے لئے ٹیکس دہندگان کو خطوط بھیج دئے گئے ہیں۔ 1.4ملین افراد کو 1500پونڈ ادا کرنے ہیں ۔4.3ملین افراد کو زیادہ ٹیکس ادا کروانے کی پاداش میں اوسطاً1.4ملین پونڈ کی ری بیٹ ملے گی۔
گزشتہ چار ستمبر کو مجاز اکادمی لندن کا جلسہ حیدر طبا طبائی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مجاز اکادمی کی جنرل سکریٹری سدھا شرما نے اعلان کیا کہ ہم حکومت ہند سے درخواست کرتے ہیں کہ عالمی شہرت یافتہ محقق نقاد اور دانشور محترم ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کو برطانیہ میں ہندوستان کا ہائی کمشنر بنا کر بھیجا جائے ۔ برطانیہ میں پاکستان و ہندوستان کے لوگوں میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ بہت مقبول ہیں اور ان کی بات توجہ سے سنی جاتی ہے۔وہ ہندوستانی حکومت کے کامیاب ترین سفارتکار ہوں گے ۔ ان کی ہر بات کھری ہوتی ہے۔ وہ سچے انسان ہیں، وہ لاگ لپیٹ کی باتیں نہیں کرتے ہیں۔ ہر پاکستانی ان کی جتنی عزت کرتا ہے اتنی کسی ہندوستانی کی نہیں کرتا۔ اس لئے ہند وپاک دوستی کے لئے ایسے قابل اور دانشمند انسان کو یہ عہدہ سپرد کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں مجاز اکادمی لندن کی جانب سے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور وزیر خارجہ پرنب مکھر جی کو جو خطوط ارسال کئے گئے ہیں، ان کا انگریزی کا متن ابراہیم رضوی صاحب نے سامعین کو تالیوں کی گونج میں پڑھ کر سنایا۔
لندن میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے خلاف روایتی رشوت خوری کے الزام کے بعد جب یہ ٹیم ہوٹل آئی تو عوام نے جوتے، ٹماٹر اور انڈوں کی بارش کر دی ۔ پاکستان کرکٹرس گو بیک کے نعرے لگے۔ اس پر پولس نے مداخلت کی تو ایک پاکستانی بنام ارشد جاوید کو گرفتار کر لیا ۔ بعد میںاسے  چھوڑ دیا گیا۔ ایک خاتون پاکستانی نے کہا کہ ہم لوگ روزے میں پاکستان کی کامیابی کے لئے دعائیں مانگتے ہیں اور تم نے رشوت کھا کر میچ ہرا دیا یہ ہماری عبادت کا مذاق اڑایا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتہ برطانوی میوزیم میں اس وقت بھگدڑ مچ گئی ،جب اچانک کسی نے ہلکی زہریلی گیس چھوڑ دی جس سے لوگوں کی آنکھوں اور گلوں میں تکلیف شروع ہو گئی۔ وزیٹر کی بھگدڑ سے میوزیم فوراًخالی کرالیا گیا۔ اس وقت وہاں آٹھ ہزار تماشائی موجود تھے۔
برطانوی لوگوں میں سب سے زیادہ شوق بیرون ملک جا کر چھٹیاں گزارنے کا ہوتا ہے۔ ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 28فیصد لوگ چھٹیاں گزارنے کے لئے قرضدار ہو جاتے ہیں۔ برطانوی لوگ انہی ممالک میں جاتے ہیں جہاں کا ویزہ نہ لینا پڑے اور امن و امان ہو۔
ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں دانشورانہ اور خوشحال زندگی کی شروعات 55سال عمر کے بعدہوتی ہے ۔ مشکل ترین دن لوگوں کو 45سے 55سال کے درمیانی عشرے میں پیش آتے ہیں۔ اس سے پہلے سیر تفریح و عیاشی کے ایام ہوتے ہیں یا پھر 55برس کے بعد زندگی کے محرکات میں اعتدال آ جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دولت بھی سکون عطا نہیں کرتی ہے بلکہ اکثر لوگوں کا سکون ان کی دولت چھین لیتی ہے۔
ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں شراب نوشی میں بہت کمی آ چکی ہے اور اب برطانیہ کو قوم بلا نوش نہیں کہا جا سکتا ہے، کیونکہ 2004سے 2005تک 13فیصد لوگوں نے ذیابطیس یا دوسری بیماریوں کی وجہ سے ترک شراب کردی۔ امسال مزید چھ فیصد لوگ شراب کم پیتے ہیں۔ اس سال19 فیصد لوگ شراب چھوڑ چکے ہیں۔ کہتے ہیں کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ شراب کی ایجاد امیر خسرو بادشاہ کے وقت ہوئی۔ جب وہ جاڑوں میں باغ میں ٹہل رہا تھا،تو چند بلبلیں اور کبوتر سڑے گلے انگوروں کا عرق پی کر مست پڑے تھے۔ بادشاہ نے انگوروں کا عرق ایک خمرے میں بھروا کر رکھوا دیا۔ ایک سال کے بعد ایک خوبصور ت کنیز کو پلوایا تو وہ مست ہو اٹھی اور کپڑے اتار کر رقص کرنے لگی، جس سے شراب کا علم ہوا پھر عرق انگور کو پرانا کرکے کشید کیا جاتا اور عرق گلاب ملا کر بادشاہوں کو دیا جاتا۔ اب یہ شراب جب یوروپ آئی تو برطانیہ، فرانس ، اسپین ، اٹلی وغیرہ قیمت میں اضافے کئے گئے اور بلین پونڈ شراب فروخت کر کے حاصل کئے جاتے ہے۔ میں نے اسکاٹ لینڈ کے سمندر میں لاکھوں ڈرم ڈوبے ہوئے دیکھے جو پچاس سال بعد یادس سال بعد نکالے جاتے ہیں اور میخواروں کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ اب اس شراب سے کوئی انکار کرے تو روح جگر مرادآبادی پکار اٹھے گی؟
اے محتسب نہ پھینک ارے محتسب نہ پھینک
ظالم شراب ہے، ارے ظالم شراب ہے

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *