لندن میں اردو سے محبت رکھنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے

Share Article

اقبال مرزا صاحب کا تعلق کشمیر محلہ لکھنؤ سے ہے۔تقریباً دو سو سال پہلے ان کے اجداد خیرآباد میں رہتے تھے۔انہیں عوام میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ 1857 میں بیگم محل ان کے یہاں تین دنوں تک مہمان رہیں۔چونکہ ان کا خاندان محب وطن اور قوم پرست ہونے میں مشہور تھا ، جس کی پاداش میں ان کے خاندان کے زیادہ ترلوگ مارے گئے۔ البتہ جو بچ گئے ان میں سے کچھ تو حیدرآباد جاکر آباد ہوگئے اورپھر وہاں سے وہ لوگ بھی لکھنؤ ہی آگئے۔ اس طرح مرزا صاحب کا پورا خاندان لکھنوی ہوگیا۔ وہ خود لکھنؤ سے کراچی چلے گئے،وہیں ان کی شادی ہوئی اور پھر شادی کے بعد لندن میں مقیم ہوگئے۔ آج وہ اپنے تین بچے اور اہلیہ کے ساتھ وہیں مقیم ہیں۔ چونکہ ادب سے دلچسپی ان کی سرشت میں شامل تھی ۔ لہٰذا لندن کے انگریزی ماحول میں رہ کر بھی انہوں نے ادبی سرگرمیوں کو ترک نہیں کیا۔وہ نہ صرف ایک اچھے رائٹر ہیں بلکہ بہترین شاعر اور ادیب بھی ہیں اور ایک ماہ نامہ ’صدا‘ کے نام سے نکال کر اردو ادب کی دیار غیر میں بے پناہ خدمت کررہے ہیں۔ ان کے ساتھ ’چوتھی دنیا ‘کے سینئر سب ایڈیٹر وسیم احمد اور فیض احمد سے ہوئے ایک انٹرویو کا اقتباس قارئین کی خدمت میں پیش ہے

آپ ہندوستان سے لندن کب گئے اور ترکِ وطن کے اسباب کیا ہیں؟
میں لکھنؤ سے پہلے کراچی گیا۔ وہاں کچھ دنوں قیام کے بعد میری وہیں شادی ہوگئی اور شادی کے بعد ’پرنٹنگ کالج‘ لندن میں تعلیم حاصل کرنے لئے 1963 میں گیا۔ شروع میں میرا ارادہ وہاں سکونت اختیار کرنے کا نہیں تھا مگر دھیرے دھیرے وہاں کا ماحول اور زندگی گزارنے کا منظم طریقہ میرے دل ودماغ پر چھا گیا۔ وہاں کے لوگوںمیں ڈسپلن، ایک دوسرے کا احترام،لاء اینڈ آرڈر کی پاسداری اور صفائی و ستھرائی کا مزاج تھا ۔ یہ وہ چیزیں تھیں جنھوں نے میرے دل و دماغ پر گہرا اثر کیا اور میں نے سوچا کہ زندگی تو کہیں بھی گزارنی ہی ہے، تو پھر کیوں نہ لندن میں ہی گزاری جائے، جہاں ایک بہترین لائف اسٹائل مل سکتا ہے۔اس زمانے میں نیشلٹی وغیرہ کا بھی زیادہ مسئلہ نہیں تھا لہٰذا مجھے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے میں زیادہ دشواری نہیں ہوئی۔اس کے بعد میں نے اپنی بیوی کو بھی وہیں بلا لیا۔میرے بچے وہیں پیدا ہوئے ہیں۔ پرنٹنگ پریس میں ڈپلومہ کرنے کے بعد میںنے وہیں ایک انگریزی ڈیلی نیوز پیپر ’’ میرر‘‘ میں نوکری کرلی۔10برس تک اس میںملازمت کرنے کے بعد جب وہ پیپر بند ہوگیا تو میں نے پریس اور ڈیولپنگ کا اپنا کام شروع کردیا ، پلاٹ خرید کر فلیٹ بناتا اور بیچتا تھا۔
آپ اردو کے آدمی ہیں،تو کیا آپ کو لندن میں اردو کا ماحول ملتا ہے؟
بھئی! پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ وہاں کا لائف اسٹائل مجھے دل کو بھا گیا،ایسے میں اگر ہمیں اس ماحول کو پانا تھاتو کچھ کھونا بھی پڑتااور میں ذہنی طور پر اس کے لئے تیار تھا۔چنانچہ اردو کا جو ماحول ہند و پاک میں ہے اور یہ زبان جو میری تسکین کا ایک بہترین ذریعہ ہے ،وہ ماحول تو وہاں نہیں ملا مگر اس کمی کی وہاں کے لائف اسٹائل یعنی منظم زندگی نے بھرپائی کردی۔
اپنے ادب کو وہاں کس طرح زندہ رکھے ہوئے ہیں؟
جس وقت ہم لندن گئے تھے،اس وقت وہاں اردو کا ماحول بہت زیادہ نہیں تھا،لیکن میرا اس زبان سے ایک گہرا رشتہ ہے لہٰذا میں اور مجھ جیسے دوسرے اردو کے شیدائی ہفتہ اور اتوار کے دن چھوٹی چھوٹی محفلیں منعقد کرتے تھے اور اس میں اپنے اشعار پیش کرکے اپنے لئے روحانی تسکین حاصل کرتے تھے۔لیکن اب وہاں ہند وپاک سے ترکِ وطن کرکے جانے والوں کی تعداد بہت ہوچکی ہے لہٰذا ہفتہ اور اتوار کے علاوہ بھی محفلیں منعقد ہوتی ہیں اور ان محفلوں میں لوگوں کی اچھی خاصی تعداد جمع ہوتی ہے،جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لندن میں اردو سے محبت رکھنے والوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ا ن محفلوں میں بسا اوقات ایسا ماحول بن جاتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم لندن میں ہیں یا ہند وپاک کی کسی ادبی محفل میں۔
نئی نسل میں اردو کس حد تک باقی ہے؟
نئی نسل میں اردو سے دلچسپی کم پائی جارہی ہے۔نوجوان نسل انگریزی پر زیادہ دھیان دیتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ انہیں ادبی محفلوں میں دلچسپی کم ہوتی ہے ۔نئی نسل اپنی باتوں کو جس طرح سے انگریزی میں بیان کرسکتی ہے ،اردو میں اس طرح سے بیان کرنے کی قدرت اس میں نہیں ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے اسکول سے لے کر کھیل کے میدان تک ہر جگہ انگریزی ماحول سے سابقہ پڑتا ہے جبکہ اردو بولنے کا ماحول صرف گھروں کے اندر تک ہی محدود ہے ۔اس کا لازمی اثر یہ پڑرہا ہے کہ وہ اردو سے رسمی طور پر ہی منسلک ہیں۔
اس طرح تو اردو دھیرے دھیرے ختم ہوجائے گی پھر آپ لوگوں کی طرف سے اردو کو زندہ رکھنے کے لئے کیا سرگرمیاں ہیں؟
جو پرانی نسل کے لوگ ہیں،ان میں اس بات کو لے کر فکر ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو مسجدیں ہیں وہاں بچوں کو اردو کی تعلیم دی جاتی ہے،اس کے علاوہ گھر میں بھی لوگ اپنے بچوں کو اردو پڑھاتے ہیں تاکہ انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو کا بھی شعور ان میں باقی رہے۔اس کے علاوہ بچوں کو اردو ڈرامے اور فلمیں بھی دیکھنے کا موقع دیا جاتا ہے تاکہ اس زبان سے ان کی دلچسپی برقرار رہے ۔
اس سے تو ایسا ہی لگتاہے کہ لندن میں اردو ادب کی زندگی زیادہ نہیں رہ گئی ہے؟
میرے خیال میں اردو ادب کی زندگی ہندو پاک میں بھی زیادہ نہیں رہ گئی ہے۔جو ادب ہمیں اپنے بچپن میں یہاں ملتا تھا ،وہ تو اب یہاں بھی نہیں نظر آتا،ایسے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں بھی ادب کی زندگی بہت زیادہ نہیں ہے۔
لیکن یہاں اردو پڑھانے،اردو کو زندہ رکھنے کے لئے کئی ادارے متحرک ہیں اور نئی نسل میں بھی اردو کا رجحان ہے۔
صحیح ہے! لیکن وہی بات کہ’ کچھ دو کچھ لو‘۔اگر لائف اسٹائل چاہئے تو اس کے بدلے کہیں نہ کہیں کچھ دینا پڑے گا۔لندن میں اس لائف اسٹائل کو پانے کے لیے اردو سے دلچسپی ہونے کے باوجود کسی نہ کسی حد تک اس کی قربانی دینی پڑتی ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم نے اردو کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ جہاں تک ممکن ہے اردو کو زندہ رکھنے کے لئے محفلیں، سمینار منعقد کئے جاتے ہیں۔ادبی تنظیموں کی طرف سے بچوں میں اردو بیداری لانے کی مہم چلائی جاتی ہے۔لیکن جو بھی سمینار ، مشاعرہ یا محفل ہوتی ہے ،اس کے اخراجات خود برداشت کرنے پڑتے ہیں۔گورنمنٹ کی طرف سے کوئی تعاون نہیں ملتا۔
ابھی آپ نے مشاعرے کا ذکر کیا۔ہندو پاک میں تحت اللفظ سے زیادہ ترنم کو داد ملتی ہے۔ لندن میں مشاعرے کا معیار کیا ہے؟
وہاںترنم سے زیادہ معیاری اشعار کو پسندکیا جاتا ہے۔ یوں تو لوگ ترنم کو بھی شوق سے سنتے ہیں مگر جن شعراء کے اشعار معیاری ہوتے ہیں ان کو زیادہ داد ملتی ہیں۔کیونکہ سننے والے زیادہ تر پرانے لوگ ہیں۔ وہ شعر کے معیار کو سمجھتے ہیںاور معیاری اشعار سے خوب محظوظ ہوتے ہیں۔
کیا نئی نسل میں سے کوئی شاعر نکل کر سامنے آیا ہے؟
نئی نسل میں کئی شاعر ہیں لیکن وہ سب کے سب انگریزی میں شاعری کرتے ہیں۔اردو میں بس ُتک بندی کی حد تک ہیں،البتہ کئی ایک ایسے ہیںجو انگریزی میں اچھی شاعری کر رہے ہیں۔
ہمارے یہاں مشاعروں میںاشعار کا موضوع زیادہ تر عشق و معشو ق ہوتا ہے،اس سلسلے میں لندن کے مشاعروں کا مزاج کیا ہے؟
لندن میں زیادہ تر شعراء سماجی، ثقافتی اور گھریلومسائل کو اپنے اشعار کا موضوع بناتے ہیں،مطلب یہ ہے کہ حالات حاضرہ پر زیادہ لکھا جاتا ہے۔
آپ نے شاعری کب شروع کی اور کس ماحول میں ؟
میری شاعری لگ بھگ 94 میں شروع ہوئی۔دراصل جب یہاں سے لوگ لندن جاتے تھے تو ان کے مزاج میں لاء اینڈ آرڈر کی پاسداری نہیں ہوتی تھی،نہ ہی ان میں سماجی پہلو کی پرکھ اور اخلاق ہوتا تھا ، جو لندن کے ماحول سے ہم آہنگ ہو۔ان کو دیکھ کر ہی میں نے اپنا پہلا شعر کہا تھا، وہ یہ تھا:
بدل سکے نہ شب و روز ان کی فطرت کو
گلوں پہ خار تھے لیکن وہ خار خار رہے
اس دور کے مشاعروں سے ادب کی خدمت ہورہی ہے؟
ادب کی خدمت ہو یا نہ ہو لیکن دل کی بھڑاس تو نکل ہی جاتی ہے۔ان مشاعروںمیں ایک بات تو ہے کہ یہاں ہر طرح کی بات جو ہم دنیا میں دیکھتے ہیں ،انہیں بے تکلف بیان کردیتے ہیں۔ان بیانوں سے بچوں کو حالات حاضرہ کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور ان میں حوصلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
لندن میں اردو صحافت کا ماحول کیسا ہے؟
وہاں کئی لوگ ہیں جن کو صحافت سے بڑی دلچسپی ہے۔ خود میں بھی ایک رسالہ’’ صدا‘‘ نام سے نکالتا ہوں۔اس کے علاوہ کئی اور بھی لوگ ہیں جن کو صحافت میں بڑی دلچسپی ہے ، جیسے منظر صاحب وغیرہ بھی رسالہ نکالتے ہیں ۔ابھی تین یا چار اردو کے رسالے لندن میں شائع ہورہے ہیں۔ جن سے وہاں کے لوگوں میںاردو صحافت سے دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔
اردو اخبار پڑھنے والوں کی تعدادکتنی ہے؟
بہت کم ہے۔اخبارات مارکیٹ میں کم بکتے ہیں البتہ وہاں ممبر شپ کا رواج زیادہ ہے۔جو اخبار اسٹالوں پر جاتے ہیں ،زیادہ تر واپس آجاتے ہیں۔
ہندوستان اور پاکستان کے ادبی گروتھ میں آپ کوکچھ فرق نظر آتاہے؟
پاکستان کا ادب اس وقت سہما ہوا ،ڈرا ہوا ہے۔کیوںکہ وہاں کا ادیب دبائو میں رہتا ہے،خوفزدہ رہتا ہے کہ کب کوئی آئے اور لوٹ کر ،گولی مار کر چلا جائے ۔ اس لئے وہ اپنے اندر کی بات نہیں کہہ پاتا ہے۔ دراصل ایک ادیب کو ،تخلیق کار کو یاشاعر و صحافی کو آزاد ماحول ملنا چاہئے ۔اگر وہ کسی دبائو میں ہے تو وہ اپنی تخلیق میں وہ جِلا نہیں لا پاتا ہے جو ہونی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ادبی گروتھ سہما سہما سالگتا ہے جبکہ ہندوستان میں یہ صورت حال نہیں ہے ۔
ہمارے یہاں عام طور پر ایک بات کہی جاتی ہے کہ شاعرات زیادہ تر اپنے اشعار نہیںپڑھتی ہیںاور اکثران کے اشعار دوسروں کے ہوتے ہیں۔
لندن میں بھی ایک دو اس طرح کی شاعرات ہیں۔لیکن صرف شاعرات ہی کیوں ؟کئی ایسے شاعر حضرات بھی ہیں جو دوسروں کے اشعار اپنے نام کر لیتے ہیں اور محفلوں میں پیش کردیتے ہیں۔ان میں سے کئی ایک کو تو میں جانتا بھی ہوں،لہٰذا خواتین کی تخصیص نہیں ہے ،اس مرض میں مرد بھی مبتلا ہیں۔
لندن کے ماحول میں بچوں کو ہندوستانی و مذہبی کلچرپر باقی رکھنا مشکل ہوتاہے ۔آپ نے اپنے بچوں کے لئے کون سا کلچر پسند کیا؟
میرے تین بچے ہیں اور تینوں ہی ماشاء اللہ مذہبی رواداری کے حامل ہیں۔میں ان کے طرزِ زندگی سے بہت مطمئن ہوں۔یہ اللہ کا شکر ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *