انتخابات سے پہلے پی ایم مودی کی بایوپک پرالیکشن کمیشن نے بھیجا نوٹس، 30 تک جواب مانگا

Share Article

modi-biopic

وزیر اعظم نریندر مودی کی زندگی پر بن رہی فلم ’پی ایم نریندر مودی‘ کے پروڈیوسر کو الیکشن کمیشن نے نوٹس بھیجا ہے۔ کانگریس سمیت کچھ پارٹیوں نے الیکشن کمیشن سے فلم کے خلاف شکایت کی تھی۔اب الیکشن کمیشن نے اسی کے تحت فلم کے پروڈیوسر سے جواب مانگا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کا مطالبہ ہے کہ فلم کی ریلیز انتخابات تک ٹال دیا جائے۔ آپ کو بتا دیں کہ فلم ریلیز ہونے کی تاریخ 5 اپریل ہے۔ پہلے مرحلے کے لئے 11 اپریل کو پولنگ ہونی ہے۔

الیکشن کمیشن نے فلم کے پروڈیوسر کو نوٹس بھیج کر 30 مارچ تک جواب مانگا ہے کہ کیا یہ فلم انتخابی ضابطہ اخلاق کے دائرے میں نہیں آتی۔

دہلی کے چیف الیکشن آفس کے مطابق یہ فلم اصولی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ پانچ اپریل کو ریلیز ہو رہی اس فلم ’پی ایم نریندر مودی‘کے اشتہارات کی اشاعت کے لئے پروڈکشن ہاؤس، میوزک کمپنی اور دو اخباروں کو 20 مارچ کو نوٹس جاری کیے تھے۔ فلم بنانے والوں کو اس بارے میں 30 مارچ تک جواب دینے کو کہا گیا ہے۔ اس فلم میں کو۔پروڈیوسر کے طور پر سندیپ سنگھ بھی ہیں جبکہ نیشنل ایوارڈ ونر امنگ کمار فلم کا ڈائریکشن کر رہے ہیں، جنہوں نے میریکوم اور سربجیت نام کی دومشہور فلمیں بنائی ہیں۔

دہلی چیف الیکٹورل آفیسر رنبیر سنگھ کے مطابق یہ فلم کی تشہیر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ بغیر میڈیا سرٹیفکیشن اینڈ مانٹرنگ کمیٹی کی تصدیق کے بغیرسیاست سے جڑے کوئی اشتہارات میڈیا یا سوشل میڈیا میں نہیں دیے جا سکتے۔

 

 

 

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *