عام انتخابات 2019-: یوپی کی 80 سیٹوں میں سے ان 26 سیٹوں پر کانگریس کی گہری نظر

Share Article

rahul-gandhi-priyanka-gandh

لکھنؤ: لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے کانگریس نے یوپی میں حکمت عملی بنانے کا کام شروع کر دیا ہے کیونکہ کانگریس کو بھی پتہ ہے، کہ اگر اقتدار کی چابی چاہئے تو یوپی فتح کرنا ضروری ہے،ایسے میں یوپی کی 80 لوک سبھا سیٹوں پر کانگریس نے سب سے پہلے ان 26 سیٹوں پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے، جن پر 2009 کے عام انتخابات میں کانگریس کو کامیابی ملی تھی۔ کانگریس کے پاس انتخابات کی تیاریوں کے لئے زیادہ وقت نہیں بچا ہے، اسی وجہ سے اس نے دستیاب سیٹوں پر اپنی طاقت کا تجزیہ کرنی شروع کر دی ہے۔
congress
پارٹی نے یوپی کے لئے کچھ وقت پہلے ہی دو انچارج مقرر کئے ہیں،جن میں پرینکا گاندھی واڈرا کو مشرقی یوپی کی اور جیوتی راؤ سندھیا کو مغربی یوپی کی کمان سونپی گئی ہے۔ ان دونوں کے پاس نتائج دکھانے کے لئے صرف دو ماہ کا وقت بچا ہے، اسی وجہ سے کانگریس ان سیٹوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے جہاں سے اسے جیتنے کی امید ہے۔ امیٹھی، رائے بریلی اور سلطان پور گاندھی خاندان کا گڑھ ہے،منتخب باقی 23 سیٹیں وہ ہیں جن پر کانگریس نے 2009 میں غیر متوقع کامیابی حاصل کی تھی۔ پارٹی نے اپنے زیادہ تر سابق ممبران پارلیمنٹ کو ان نشستوں کا انچارج بنایا ہے جنہیں وہ پہلے جیت چکے ہیں۔

ان 22 نشستوں کے علاوہ کانگریس دوسری سیٹوں پر بھی توجہ دے گی لیکن اسے ان سے کم ہی امید ہے۔ پرینکا گاندھی اور سندھیا گزشتہ ہفتے لکھنؤ پہنچے تھے،جہاں انہوں نے پارٹی کے کارکنوں سے بات چیت کی تھی۔ کانگریس کو ریاست میں اکیلے جانے پر مجبور ہونا پڑا کیونکہ ان کی ساتھی ایس پی اور بی ایس پی نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ ایس پی۔بی ایس پی ریاست میں مل کر الیکشن لڑ رہی ہے۔ وہیں بی جے پی ریاست میں اکیلے دم پر الیکشن لڑے گی، اسی وجہ سے کانگریس کو مجبوراً ریاست میں اکیلے دم پر میدان میں اترنا پڑ رہا ہے۔
یعنی مجموعی طور پرجہاں ایک طرف پرینکا کے کندھے پر بڑا بوجھ ہے وہیں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پرینکا گاندھی اپنے بھائی راہل کی سیاسی مجدھار میں ہچکولے لیتی بیڑہ پار لگاتی ہیں یا پھر اب کی بار پھر مودی سرکار کی حکمت عملی بازی مار جاتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *