بی جے پی کو نہیں رہا لیڈروں پربھروسہ، کرکٹر اور بالی وڈ اسٹارس پر لگایا داؤ

Share Article

akshay-gautam

نئی دہلی: لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر سیاسی جماعتوں نے کمر کس لی ہے۔انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔عالم یہ ہے کہ ایک سیٹ سے کئی امیدوار اپنی دعویداری پیش کر رہے ہیں۔ایسے میں بی جے پی کے سامنے دہلی کی سات لوک سبھا سیٹوں کو لے کر گھمسان دیکھنے کو مل رہا ہے۔جس کے حلکے لئے بی جے پی کچھ کھلاڑیوں اور بالی ووڈ اداکاروں کو بھی دہلی سے لوک سبھا انتخابات لڑواسکتی ہے۔ان چہروں میں اکشے کمار سے لے کر کرکٹر گوتم گمبھیر کا نام بھی شامل ہے۔اگرچہ بی جے پی کی جانب سے ابھی تک اس کی رسمی طورپر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
bjp
آئندہ لوک سبھا انتخابات کو لے کر بی جے پی کی طرف سے کرائے گئے سروے میں سامنے آیا ہے کہ 2019 کا عام انتخابات میں بھی پی ایم نریندر مودی کے نام پر ووٹ پڑیں گے۔ ایسے میں دہلی کی سات لوک سبھا سیٹوں پر کوئی بھی امیدوار ہو تو اس کا بیڑا پار ہو جائے گا۔ امیدواری کے چلتے ٹکراؤکہا جا رہا ہے کہ اگر امیدواری کو لے کر ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو پارٹی کسی بڑے چہرے پر داؤ کھیل سکتی ہے۔حالانکہ پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ پارٹی ہائی کمان کا فیصلہ ان کے لئے آخری فیصلہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹکراؤ کی صورتحال پیداہونے پر مشرقی دہلی کے حلقے سے ممبر پارلیمنٹ مہیش گری کی سیٹ سے بی جے پی کسی سیلیبریٹی کو اتار سکتی ہے۔ تو وہیں نئی دہلی سیٹ سے ایم پی میناکشی لیکھی کی سیٹ کیلئے کرکٹر گوتم گمبھیر کا نام سرخیوں میں ہے۔

جبکہ چاندنی چوک سیٹ سے اکشے کمار کے الیکشن لڑنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تو وہیں جنوبی دہلی سے موجودہ ایم پی رمیش بدھوڑی کی سیٹ پر برہم سنگھ تنور، رام ویر سنگھ بدھوڑی بھی اپنی دعویداری پیش کر رہے ہیں۔ مغربی دہلی سے ممبر پارلیمنٹ پرویش ورما کی جگہ سبھاش آریہ، ایم ایس سرسا اور کنولجیت سہراوت نے بھی اپنی دعویداری پیش کی ہے۔اس کے ساتھ ہی دہلی کی شمال مشرق لوک سبھا سیٹ پر روندر گپتا، جے بھگوان گوئل اور موہن سنگھ بشٹ نے تال ٹھونکی ہے۔ اس سیٹ سے منوج تیواری موجودہ لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *